04/08/2025
سول تعلقہ اسپتال کھپرو کے سابقہ ایم ایسسول تعلقہ اسپتال کھپرو کے سابقہ ایم ایس ڈاکٹر سلیم چوہان پر کڑوروں روپے کی کریپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
ڈاکٹر سلیم چوہان نے اپنے چار سالہ عرصے میں اسپتال کو ریفر سنٹر بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسپتال میں نہ تو مکمل مشینری تھی نہ ہی دوائیں اور نہ ہی مکمل عملہ تھا
اسپتال کی کڑوروں روپے بجٹ ہونے کے باوجود اسپتال میں مریضوں کو کوئی سھولت نہ ملی
اسپتال ریفر سنٹر مشھور رہا لیکن حقیقت میں اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے ناکافی سہولتیں تھیں۔
دوائی الٹراساؤنڈ ایکسرے اور لیبارٹری ٹیسٹیں مریضوں کو باہر سے کروانی پڑی
سابقہ ایم ایس کی بدانتظامی کے باعث اسپتال میں مریضوں کو ضروری سہولتیں نہیں مل رہی تھیں
اسپتال میں دوائی نہیں ملتی تھیں،
اسپتال میں الٹراساؤنڈ ایکسرے کی سہولت نہیں تھی، مریضوں کو باہر سے الٹراساؤنڈ ایکسرے کروانی پڑتی تھی
لیبارٹری ٹیسٹیں باہر سے کروائی جاتی تھی
جبکہ سرکاری دوائی بیچنے کا بھی انکشاف ہوا ہے
ڈیلیوری کیسز حاملا خواتین کو سانگھڑ اور میرپورخاص اور پرائیوٹ اسپتالوں میں بھیجا جاتا تھا
انتظامیہ اور عملے کی غفلت اور نہ مکمل سہولتوں کی وجہ سے کئی معصوم بچے اور خواتین و بزرگ زندگی کی جنگ ہار بیٹھے
سول اسپتال کے جنریٹر اور گاڑیوں کے تیل کو سیاسی لوگوں کی گاڑیوں کے لیے دیا گیا اور بیچنے کا بھی انکشاف ہوا ہے
اور پولیو مہم اور ٹی بی ملیریا فنڈز میں بھی کریپشن کا انکشاف ہوا ہے
کتے اور سانپ کاٹنے کی ویکسین بھی یہاں پر موجود نہیں ہوتی تھی مریضوں ہتھونگو سنٹر ریفر کیا جاتا رہا
جبکہ کڑوروں روپے خرچ کرنے کے جھوٹے بل بنائے گئے
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سابقہ ایم ایس ڈاکٹر سلیم چوہان نے جھوٹے بل بنانے کے لیے اسپتال کے کچھ ڈاکٹروں آفیسروں اور سیاسی بندوں کو اپنے ساتھ ملایا
انہوں نے مل کر جھوٹے بل بنائے اور اسپتال کے فنڈز کو لوٹ لیا
ڈاکٹر سلیم چوہان پر کڑوروں روپے کی کریپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
ڈاکٹر سلیم چوہان نے اپنے چار سالہ عرصے میں اسپتال کو ریفر سنٹر بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسپتال میں نہ تو مکمل مشینری تھی نہ ہی دوائیں اور نہ ہی مکمل عملہ تھا
اسپتال کی کڑوروں روپے بجٹ ہونے کے باوجود اسپتال میں مریضوں کو کوئی سھولت نہ ملی
اسپتال ریفر سنٹر مشھور رہا لیکن حقیقت میں اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے ناکافی سہولتیں تھیں۔
دوائی الٹراساؤنڈ ایکسرے اور لیبارٹری ٹیسٹیں مریضوں کو باہر سے کروانی پڑی
سابقہ ایم ایس کی بدانتظامی کے باعث اسپتال میں مریضوں کو ضروری سہولتیں نہیں مل رہی تھیں
اسپتال میں دوائی نہیں ملتی تھیں،
اسپتال میں الٹراساؤنڈ ایکسرے کی سہولت نہیں تھی، مریضوں کو باہر سے الٹراساؤنڈ ایکسرے کروانی پڑتی تھی
لیبارٹری ٹیسٹیں باہر سے کروائی جاتی تھی
جبکہ سرکاری دوائی بیچنے کا بھی انکشاف ہوا ہے
ڈیلیوری کیسز حاملا خواتین کو سانگھڑ اور میرپورخاص اور پرائیوٹ اسپتالوں میں بھیجا جاتا تھا
انتظامیہ اور عملے کی غفلت اور نہ مکمل سہولتوں کی وجہ سے کئی معصوم بچے اور خواتین و بزرگ زندگی کی جنگ ہار بیٹھے
سول اسپتال کے جنریٹر اور گاڑیوں کے تیل کو سیاسی لوگوں کی گاڑیوں کے لیے دیا گیا اور بیچنے کا بھی انکشاف ہوا ہے
اور پولیو مہم اور ٹی بی ملیریا فنڈز میں بھی کریپشن کا انکشاف ہوا ہے
کتے اور سانپ کاٹنے کی ویکسین بھی یہاں پر موجود نہیں ہوتی تھی مریضوں ہتھونگو سنٹر ریفر کیا جاتا رہا
جبکہ کڑوروں روپے خرچ کرنے کے جھوٹے بل بنائے گئے
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سابقہ ایم ایس ڈاکٹر سلیم چوہان نے جھوٹے بل بنانے کے لیے اسپتال کے کچھ ڈاکٹروں آفیسروں اور سیاسی بندوں کو اپنے ساتھ ملایا
انہوں نے مل کر جھوٹے بل بنائے اور اسپتال کے فنڈز کو لوٹ لیا
کھپرو کی آواز