19/05/2021
بیت المقدس یا یروشلم،مسجد الاقصی، قبۃ الصخرہ اور فلسطین کی موجود حالات کے بارے میں ایک مختصر سی تاریخی پس منظر (معلوماتی پوسٹ ہے ضرور پڑھے اور شئیر کرے شکریہ)
تحریر سے پہلے کچھ ضروری نکات اپنے ذہن میں رکھے۔
(1= بیت المقدس
پورے یروشلم شہر کو بیت المقدس کہا جاتا ہے۔
2= الاقصی یا حرم الشریف
وہ جگہ جہاں مسجد الاقصی اور قبۃ الصخرہ قائم ہے ۔
3= سنہری گنبد والی حوبصورت مسجد کو قبۃ الصخرہ (مسجد الاقصیٰ نہیں)
4= مسجد الاقصیٰ
قبۃ الصخرہ کے سامنے ٹیمپل ماؤنٹ کے جنوب میں ایک نقرئی (سلور) گنبد والی عمارت ہے جو بنیادی طور پر مسجد اقصیٰ ہے۔ اسے 'قبلی مسجد' بھی کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں کثیر التعداد لوگ سنہرے گنبد والی حوبصورت مسجد جس کو قبۃ الصخرہ کہتے ہیں کو مسجد الاقصی سمجھتے ہیں اور اس مسجد کی تصویر کے اوپر یا نیچے "مسجد الاقصی" لکھا اور پڑھا جاتا ہے جوکہ غلط ہے۔ قبۃ الصخرہ یا 'ڈوم آف دی راک' اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے ساتویں صدی عیسوی میں تعمیر کرایا تھا۔ بہت سے لوگ اس گنبد کی وجہ سے اسے مسجدِ اقصیٰ سمجھتے ہیں لیکن یہ گنبد مسجد کا نہیں بلکہ اس علاقے میں تعمیر کی گئی مسلمانوں کی پہلی نمایاں یادگار ہے جسے آج یروشلم کی پہچان سمجھا جاتا ہے
اس گنبد پر لکھی تحریر کے مطابق مسلمانوں کے یروشلم فتح کرنے کے 55 برس بعد 691 سے 692 عیسوی کے درمیان اسے تعمیر کیا گیا۔ اس فتح سے قبل یروشلم بازنطینی سلطنت کا حصہ تھا اور یہاں مسیحی آبادی کی اکثریت تھی۔
مختلف ادوار میں اس کی تعمیرِ نو ہوتی رہی۔ سولہویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان سلیمان اوّل نے عمارت کے بیرونی حصے پر ٹائلیں لگوا کر اس کی تزئین و آرائش کرائی۔
بیسویں صدی میں اردن کے ہاشمی شاہی خاندان نے دوبارہ اس کی تزئین و آرائش کی اور گنبد پر سونا چڑھایا۔
اسی احاطے میں قبۃ الصخرہ کے سامنے ٹیمپل ماؤنٹ کے جنوب میں ایک نقرئی (سلور) گنبد والی عمارت ہے جو بنیادی طور پر مسجد اقصیٰ ہے۔ اسے 'قبلی مسجد' بھی کہا جاتا ہے۔ البتہ ہم مسلمانوں کے یہ پوری احاطے کو ہی الاقصیٰ کہتے ہیں
۔ اس سے پہلے اس جگہ پر رومی ٹیمپل "جوپیٹر " تھا جو رومیوں نے یہودیوں کے کعبہ (ٹیمپل سلیمان) کو تہس نہس کرکے اس جگہ کے اوپر اپنا ٹیمپل بنایا تھا۔
دنیا کے جن شہروں کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ان میں سرفہرست یروشلم ہے۔ یہ روئے زمین پرواحد شہر ہے جسے تینوں سماوی مذاہب اسلام، مسیحیت اور یہودیت کے ماننے والے یکساں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہود کا عقیدہ ہے کہ یروشلم ہی وہ مقام ہے جہاں سے تخلیقِ کائنات کی ابتداء ہوئی۔ مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو یہیں مصلوب کیا گیا تھا اور یہیں ان کا سب سے مقدس کلیسا واقع ہے۔ مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق پیغمبر اسلام نے معراج پر جانے سے قبل اسی شہرمیں واقع مسجدِ اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کی تھی۔ یروشلم بنی نوع انسان کو ہدایت و بھلائی کی تبلیغ کرنے والے بےشمار انبیاء اور مصلحین کا مسکن بھی رہا ہے، یہاں ان الوہی وجودوں کی یادگاریں اور آثار موجود ہیں۔
یروشلم
یروشلم کو مختلف قوموں نےاپنے عقیدے اور تہذیب کی بناء پر کئی ناموں سے موسوم کیا ہے۔ یہودی اور مسیحی اسے یروشلم پکارتے ہیں اور یہودی علماء اس نام کو جدالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک حضرت ابراہیم نے اسے جریح (JEREH) کا نام دیا اور شلم کا اضافہ شیلم (SHELM) یا شالم نے کیا جو 2008 قبل مسیح میں یہاں کا حکمران تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق یروشلم دو عبرانی لفظوں ’یرو‘ اور ’شلیم‘ سے مل کر بنا ہے جس کے معنیٰ ’ورثہ امن‘ (The Inheritance Of Peace) کے ہیں۔ کتابِ پیدائش کے مطابق دو چھوٹی بستیاں جیبس (JEBUS) اور سلم (SALAM) ایک ہوئیں تو یروشلم بنا اور انہی بستیوں کے نام سے نئے شہر کا نام بھی مرکب ہو گیا۔ جو بعد میں یروشلم بن گیا۔ کچھ مؤرخین دو سمتی الفاظ یوری (URI) بمعنیٰ شہر اور سلم (SALIM) (دیوتائے امن کا نام) کا مرکب قرار دیتے ہیں اور اسی بناء پر اسے ’دیوتائے امن کا شہر‘ کہتے ہیں۔ مسلمانوں نے اس شہر کو القدس (پاکیزہ شہر)، بیتُ المُقَدَّس (متبرک گھر) اور بیت المَقْدِس (پاک مقام) سے موسوم کیا ہے۔
یروشلم یا بیت المقدس شہر کے اندر موجود الاقصی یا حرم الشریف وہ جگہ جہاں مسجد الاقصی اور قبۃ الصخرہ قائم ہے
قبۃ الصخرہ (ڈوم آف دی راک) کی تاریخ
اب بات آتی ہے "راک "کی جسے "ڈوم آف دی راک" کہا جاتا ہے۔ اسے ڈم آف دی راک اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس عمارت کے اندر ایک بڑا سا پتھر موجود ہے جو مسلمانوں اور یہودیوں کے لیے یکساں مقدس ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پتھر سے براق پر سواری کرکے معراج کا سفر کیا تھا اور یہودیوں کے لیے اس لیے مقدس ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پتھر پر اپنے پیار بیٹے کے گلے پر اللہ تعالی کے حکم سے چھری چلائی تھی ۔ اب معاملہ یہ ہے کہ دونوں مذاہب کو اس پتھر کی مقدس اہمیت پر کوئی انکار نہیں ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمائیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلائی تھی اور یہودیوں کا عقیدہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے گلے پر چھری چلائی تھی۔ باقی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے کوئی بھی مذہب انکاری نہیں ہے۔ اسی وجہ سے اس کو "ڈوم آف دی راک" یعنی "پتھر کے اوپر قبہ"جسے عربی میں قبۃ الصخرہ کہا جاتا ہے۔
یہ دراصل مسجد نہیں تھی بلکہ ایک پتھر کے اوپر بنی ہوئی عمارت تھی جسے مسجد بنادیا گیا ہے اور یہ مسجد الاقصی ہر گز نہیں ہے۔
مسجد الاقصی:
ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ خانہ کعبہ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ مسجد الاقصیٰ کی تعمیر نو کی۔
حضرت اسحاق علیہ السلام كی اولاد بعد میں یہودی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام كی اولاد آگے جا كر مسلمان كہلائے۔
حضرت اسحٰق علیہ السلام نے اپنی زندگی میں مسجد اقصى كا خوب خیال ركھا، آپ سے ایك بیٹا پیدا ہوا جو حضرت یعقوب علیہ السلام كے نام سے جانے جاتے ہیں اور پیغمبر بھى تھے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام كے تیرہ بیٹے تھے، جن میں سے ایك حضرت یوسف علیہ السلام تھے، جنہیں اللہ نے بہت سے فضائل بخشے اور وہ بہت ہی خوب صورت نوجوان تھے۔ اللہ تعالى نے قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ كافی تفصیل سے ذكر كیا ہے
حضرت یوسف علیہ السلام کے ہی زمانے میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد (یعنی کہ بنی اسرائیل) مصر آ کر آباد ہوئے
حضرت یوسف علیہ السلام كے چند سو سالوں بعد اللہ تعالى نے اپنے پیغمبر حضرت موسى علیہ السلام كو مصر میں بھیجا، آپ كو حضرت یعقوب علیہ السلام كی اولاد كو بچانے، اور بنى اسرائىل كى ہداىت كے لیے بھیجا گیا تھا۔
بنى اسرائىل حضرت موسی علیہ السلام کی ساتھ مصر سے واپس فلسطین جانے کی لیے نکلے اور یہ سفر حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں مکمل ہوا۔
حضرت داؤد علیہ السلام نے پھر سے مسجد اقصىٰ کی تعمیر کو شروع كرایا، جو كھنڈرات میں تھى۔حضرت داؤد علیہ السلام اپنی وفات سے قبل یہ كام مكمل نہیں كرپائے اور وفات پا گئے۔ ان كے بیٹے، حضرت سلیمان علیہ السلام، جو كہ خود بھی اللہ كے پیغمبر تھے، انھوں نے مسجد اقصىٰ كی تعمیرکو جاری ركھا اور اس تعمیر كو آپؑ ہی نے مكمل فرمایا۔
عراق كے بادشاہ بخت نصر نے ۵۸۷ قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ كیا اور اس تعمیر كی اینٹ سے اینٹ بجادی، وہ یہودیوں كی عورتوں اور بچوں كو گرفتار كركے اپنے ساتھ بابل لے گیا، اور یہودیوں كے مذہبی صحیفے نذر آتش كركے ایك لاكھ یہودیوں كو قیدی بھی بنالیا۔
پھر كچھ عرصے بعد بخت نصر كی حكومت كو زوال آگیا، اور ایران كے بادشاہ خورس نے بابل كو فتح كركے تمام بنی اسرائیل كو یروشلم واپس جانے كی اجازت دے دی۔
حضرت زكريا عليه السلام کے نام سے منسوب منبر آج بھی مسجد کے احاطے میں موجود ہے
حضرت عيسىٰ عليه السلام اور ان سے متعلق بہت سے اہم مقامات بھی مسجد الاقصیٰ کے ساتھ ساتھ ہی موجود ہیں
جب حضرت عیسى علیہ السلام كو آسمان پر اٹھایا گیا تو اس كے ستر سال گذر جانے كے بعد مسجد اقصىٰ پر روم كے لوگوں نے حملہ كركے بہت تباہی اور بربادی پھیلائی۔
مسجد اقصىٰ كی صرف چار دیواری كھڑی رہ گئى اس كے علاوہ مكمل مسجد منہدم ہوگئى اور یہ بنی اسرائیل پر بہت سخت وقت تھا اور حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہم اجمعین کے وقت تک ایسی ہی رہی۔
حضرت محمد صلى اللہ علیہ وسلم كی وفات كےچھ سال بعد مسلمانوں کا لشکر مختلف ممالک فتح کرتا ہوا یروشلم تک پہنچ گیا۔ اس وقت وہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔ وہ قلعہ بند ہوگئے۔ اور صلح کے لیے یہ شرط رکھی کہ مسلمانوں کے خلیفہ خود آئیں تو وہ انہیں شہر کی چابی حوالے کریں گے۔ چناں چہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ خود یروشلم گئے اور اس وقت وہاں پر قابض عیسائیوں سے معاہدہ كركے یروشلم كو اسلامی حكومت كے ماتحت لے آئے۔
عہد نامہ صلح
یہیں اہل قدس کے نمائندے خلیفۃ المسلمین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صلح کی درخواست کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ درخواست منظور کی اور حسب ذیل عہد نامہ اپنے دستخطوں سے لکھ کر ان کو عطا فرمایا۔
’’اللہ کے بندہ عمر امیر المؤمنین کی طرف سے اہل ایلیا (بیت المقدس) کو یہ امان نامہ دیا جاتا ہے۔ اہل ایلیا کی جان، مال ، گرجوں ، صلیبوں سب کو امان دی جاتی ہے۔ بیماروں ، تندرستوں اور سب مذہب کے لوگوں کو یہ امان شامل ہے۔ وعدہ کیا جاتا ہے کہ نہ ان کے عبادت خانوں پر قبضہ کیا جائے گا نہ انہیں گرایا جائے گا۔ ان کے دینی معاملات میں کوئی مداخلت نہ کی جائے گی اور یوں بھی کسی کو کوئی تکلیف نہ دی جائے گی۔ البتہ ان کے پاس یہودی نہ رہنے پائیں گے۔ اہل ایلیا کا فرض ہے کہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں اور متحارب رومیوں کو اپنے شہر سے خارج کردیں ۔ جو رومی شہر سے نکلے گا اس کی جان و مال سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا۔ حتی کہ وہ اپنے وطن سلامتی کے ساتھ پہنچ جائے۔
اگر اہل ایلیامیں سے کوئی رومیوں کے ساتھ جانا چاہے تو وہ بھی جاسکتا ہے۔ لیکن اگر رومی بھی امن پسندانہ طور پر رہنا چاہیں تو انہیں بھی ان ہی شرائط کے ساتھ رہنے کی اجازت ہے۔ اس امان نامہ کی اللہ اور اس کا رسول اور آپ کے خلفاء اور جملہ مؤمنین ذمہ داری لیتے ہیں۔‘‘
بیت المقدس میں داخلہ: اس عہد نامہ کی تکمیل کے بعد اہل قدس نے شہر کے دروازے کھول دیے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کا قصد کیا۔
بیت المقدس کے سفر کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک ترکی گھوڑا پیش کیا گیا۔ آپ سوار ہوئے تو گھوڑا الیل کرنے لگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتر پڑے اور فرمانے لگے: کم بخت ! تو نے یہ غرور کی چال کہاں سے سیکھی؟ اور اپنے گھوڑے کو منگا کر اسی پر روانہ ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد کبھی آپ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے مسجد اقصی میں حاضری دی۔ اور محراب داؤد میں دو رکعت ’’تحیۃ المسجد‘‘ ادا کی۔
بنو امیہ كے ایك خلیفہ جن كا نام عبد الملك بن مروان تھا، انہوں نے اسی مسجد (جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بنوائی تھی) اس كے اوپر ایك بڑی مسجد تعمیر كروائی، اس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ كی بنائی ہوئی مسجد مكمل اس مسجد كے اندر ہی آگئی جو عبد الملك بن مروان نے تعمیر كروائی تھی۔ ابھی بھی یہی تعمیر قائم ہے، بعد میں مختلف اسلامی بادشاہوں نے اس كی مرمت كا كام جاری ركھا۔
اس كے علاوہ انہوں نے ایك اور نہایت وسیع اور عالی شان عمارت تعمیر كی جس كا نام قبة الصخرة ہے، جو ابھی بھی انہی بنیادوں پر قائم ہے۔ قبة الصخرة كا گنبد سنہری رنگ كا ہے، اور اس كی چار دیواری نیلے اور خوب صورت پتھروں سے منقش ہے۔
سنہ 1099 عیسوی میں عیسائیوں كی مشتركہ فوج جنہیں صلیبی افواج كہا جاتا ہے، انھوں نے یروشلم پر حملہ كیا اور پانچ ہفتوں كی مسلسل جنگ كے بعد یروشلم پر قبضہ كرلیا، اس دوران انہوں نے یروشلم میں كافی خون خرابا كیا اور ستر ہزار مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں كو قتل كیا۔
جب یروشلم پر صلیبی افواج قابض تھیں، مسلمان ہمیشہ متفكر رہتے تھے كہ كس طرح سے یروشلم كو صلیبیوں كے جابرانہ تسلط سے آزاد كرایا جائے، اور پھر سے اسے اپنی تحویل میں واپس لایا جائے، اسی فكر كے ساتھ مسلمان بادشاہ نور الدین رحمة اللہ علیہ نے اقصىٰ كے لیے ایك بہترین منبر بھی بنوایا تھا، تاكہ یروشلم كی آزادی كے موقع پر اسے اقصىٰ میں نصب كیا جائے، تاہم نور الدین بادشاہ اپنے اس مبارك ارادے كی تكمیل سے پہلے اپنی نوعمری میں ہی وفات پاگئے اور یروشلم كو صلیبیوں سے آزاد نہ كراسكے۔
اس كے بعد صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ مسلمانوں كے بادشاہ ہوئے، جو بہت ہی بہادر بادشاہ تھے، انھوں نے پھر سے مسلمانوں كو جمع كیا، اور صلیبی افواج كے خلاف جنگ كی قیادت سنبھالی، سنہ 1187 عیسوی كے سال صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ نے صلیبی افواج كو شكست دی، اور یروشلم كو ایك بارپھر سےآزاد كروالیا۔اور اس كے بعد صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ نے وہ خوب صورت منبر بھى مسجد اقصىٰ میں نصب كروادیا جو نور الدین بادشاہ نے مسجد اقصىٰ كے لیے بنوایا تھا۔ بدقسمتی سے یہ منبر ایك یہودی كے ہاتھوں سنہ 1969 عیسوی میں نذر آتش ہوگیا۔
رواداری:
صلیبیوں نے اپنی فتوحات کے موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ طالمانہ سلوک کیے تھے۔ بیت المقدس جب نصرانیوں نے لیا ہے تو صرف مسجد صخرا میں ستر ہزار مسلمان قتل کیے تھے۔ مگر جب بیت المقدس کو صلاح الدینؒ نے فتح کیا تو عیسائیوں کو معمولی فدیہ لے کر بعزت و احترام نکلنے کا حکم دیا اور ان کے لیے زیارت کی عام اجازت مرحمت کی۔ غرض یہ کہ سلطان نے اپنی فوج کو آرام کرنے کے لیے ان کے وطن واپس کردیا۔ چند ماہ بیت المقدس میں قیام کیا۔ شہر پناہ کی مرمت کرائی۔ خندق کھدوائی، شفاخانہ تعمیر کرایا۔ انتظام شہر امیر عزیز الدین جردیک کے سپرد کرکے شوال 588ھ میں حج کے ارادہ سے دمشق چلا گیا۔
سلطان کے اہل و عیال دمشق میں موجود تھے۔ سارا خاندان نہایت امن و آرام کے ساتھ رہنے سہنے لگا۔ سلطان کو دمشق اس قدر پسند تھا کہ مصر جانے کا خیال بھی نہ کیا۔
وفات
کئی سال سے سلطان کی صحت بگڑ گئی تھی، جہاد کی مساعی میں اس نے کچھ خیال نہ کیا۔ رمضان کے روزے قضا ہوگئے تھے ان کو پورا کرنے لگا جو مزاج کے موافق نہ پڑے۔ طبیب نے روکا کہ صحت کے لیے اس وقت ملتوی کردیجیے۔ سلطان نے کہا: معلوم نہیں آئندہ کیا پیش آئے؟ اور کل روزے پورے کیے۔ جس سے صحت جواب دے گئی۔ وسط صفر 589ھ میں حالت بگڑنے لگی، مرض بڑھ گیا، غشی طاری ہوگئی۔ شیخ ابو جعفر نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ 27 تاریخ دو شنبہ کے دن فجر کے وقت مجاہد اعظم نے جاں بحق تسلیم کی۔
اب آتے ہیں مسجد الاقصیٰ کی طرف
مسجد الاقصی جس کا مطلب ہے "دور کی مسجد" اور یہ ہی معنی قرآن میں بھی ذکر کی گئی ہے۔ اصل میں اس پورے حصے جس میں مسجد الاقصی اور قبۃ الصخرا قائم ہے کو الاقصی کہا جاتا تھا اور پہلے ادوار میں مسجد الاقصی کو "جامع الاقصی" کہا جاتا تھا مگر آخری ترکوں کی عثمانی خلافت نے جامع الاقصی کو "مسجد الاقصی" اور اس پورے حصے/کمپاؤنڈ (الاقصی) کو حرم الشریف کا نام/درجہ دے دیا۔
کچھ مزید تاریخ
اللّٰہ تعالیٰ کے آخری اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج سے پہلے یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر نماز پڑھائی۔ اسلام سے پہلے یہ مقام یہودیوں کے لیے مذہبی اہمیت کا حامل تھا اور ابھی تک ہے۔ جس مقام پر یہ مسجد (اقصیٰ) قائم ہے یہ مقام یہودیوں کے کعبہ کی ایک شناخت تھا۔ اس مقام کو "رائل بیسلیکا" یعنی "شاہی دربار" یا پھر "رائل اسٹوای" یعنی "شاہی بارہ دری" بھی کہا جاتا ہے۔ اس دور میں یہودیوں کے رومی بادشاہ "ہیرڈ دی گریٹ" نے اس عمارت کو یہودیوں کے دوسرے کعبہ (آخری) کی اضافی وسعت(ایکسٹیشن) کے طور پر بنایا تھا۔ اس عمارت سے یہودی کاہن بگل (ہارن) بجاتا تھا جس کے بعد یہودیوں کے مذہبی تہوار شروع ہوجاتے تھے۔جب رومیوں نے یہودیوں کے ہیکل/ٹیمپل کو برباد کردیا تو انہوں نے اس جگہ کو بھی تہس نہس کردیا تھا ۔ اور یہ بھی تاریخ میں مرکوز ہے کہ اس جگہ جہاں مسجد الاقصی ہے پہلے چرچ مریم تھی مگر اس تاریخی حوالے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ مسجد الاقصی ہمارے لیے اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جتنی یہودیوں کے لیے اور ان کے لیے تو ہم سے بھی زیادہ۔ ہمارا تو یہ کعبہ تھا مگر یہ جگہ ان کے لیے اب بھی کعبہ کے اہمیت رکھتی ہے۔ (انشاللہ فتح مسلمانوں کی ہی ہوگی کیونکے اسلام ہی واحد اور سچا دین ہے)
ہولی آف ہولیز یعنی "مقدس سے مقدس تر" یہودیوں کے لیے وہ مقدس مقام ہے جہاں ان کی مذہبی کتابوں کے مطابق "ٹین کمانڈمیسٹس" توریت کی دس تختیاں" جو اللہ تعالی نے کوہ طور پر حضرت موسی علیم السلام کو دی تھی دفن ہیں یا تھیں۔ اور جس جگہ وہ تختیاں دفن تھیں وہ جگہ ٹھیک قبتہ الصخرہ کی بیچ پتھر کے نیچے ہے اور اسی وجہ سے اس مقام کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے یہودیوں کو اس مقام (پورے حرم الشریف) میں داخل ہونے کا حکم نہیں ہے ۔
ماؤنٹ /حرم الشریف (الاقصیٰ)
اس جگہ کو تین ناموں سے پکارا جاتا ہے، مسلمان اسے حرم الشریف یا الاقصیٰ اور یہودی اسے ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے پکارتے ہیں۔ (حالانکہ کچھ مسلمان الاقصی کو ہی بیت المقدس سمجھتے ہیں جو اسلام کے منافی ہے کیونکہ اسلام میں پورے یروشلم شہر کو بیت المقدس کا درجہ دیا گیا ہے)۔الاقصیٰ یہ وہی جگہ ہے جہاں ہزاروں سال پہلے یہودیوں کا ٹیمپل/ہیکل سلیمان یا یوں کہیں کہ ان کا خانہ کعبہ قائم تھا جسے آخری بار رومیوں نے ختم کردیا تھا۔ حرم الشریف (الاقصیٰ) کا حصہ ان کے ہیکل سلیمانی کے اوپر بنا ہے اور ان کو ایک کونے میں چھوٹی سی دیوار ورثے میں دی گئی ہے جسے وہ لوگ ویسٹرن وال یا پھر ویلنگ وال یعنی "دیوار گرہ و زارہ" کہتے ہیں جہاں یہودی اپنی عبادت کے موقع پر اپنے ہیکل سلیمانی کے برباد ہونے کے صدمے میں گرہ وزاری کرتے ہیں۔
یہ سارا حصہ اس وقت یہودیوں کے نزدیک ٹیمپل ماؤنٹ کہلاتا ہے۔ ٹیمپل ماؤنٹ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہودیوں کے کعبہ (ہیکلِ سلیمانی) کی تاریخ کے ساتھ ساتھ منسلک ہے۔ یہاں میں ایک بات عرض کرتی چلوں کہ یہودویوں کو ربینک لاء "ربیوں کی شریعت"کے مطابق ٹیمپل ماؤنٹ یا حرم الشریف کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ کیونکہ ان کی مذہبی کتاب توریت کے مطابق حرم الشریف کے اندر "ہولی آف دی ہولیز" یعنی "مقدس سے مقدس تر" مقام موجود ہے اور وہاں سواء کاہن (ان کے امام ہیکل) کے کوئی اندر داخل نہیں ہوسکتا اس لیے وہاں مذہبی یہودی علماء اپنے مذہبی یہودیوں کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔
ٹیمپل ماؤنٹ جس جگہ قبتہ الصخرہ ہے وہاں ایک مقدس پتھر موجود ہے جس کے بارے میں درج بالا تحریر میں ذکر کرچکی ہوں۔ یہ مقدس پتھر عین ان کے ہیکل/ٹیمپل کے بیچ میں موجود تھا۔ جس کے اوپر اس وقت قتہ الصخرہ یعنی ڈم آف دی راک قائم ہے۔ مگر رومیوں نے اس کے اوپر ایک چرچ بنا رکھی تھی جسے بعد میں اموی خلیفہ عبدالمالک نے مقبرہ قائم کرکے اس کا نام قبتہ الصخرہ رکھ دیا تھا۔
موجودہ دور
یہاں ایک اور بہت خاص بات عرض کرتی جاؤں کہ پوری اسرائیل کے زمیں بشمول یروشلم کے یہودویوں کے زیر سرپرستی یا پھر زیر نگرانی ہے سواء حرم الشریف (قبتہ الصخرہ اور مسجد الاقصی) کے۔ حرم الشریف ( قبۃ الصخرہ اور مسجد الاقصی کی پوری جگہ ) اردن کے قائم کرہ "وقف" کے زیر نگرانی ہے اور اس پر اسرائیل کا کوئی قانون نافظ العمل نہیں ہے سواء سکیورٹی مہیا کرنے کے لیکن اسکے باوجود بھی یہ ظالم لوگ ظلم کرتے ہیں۔
یہاں مسیحیوں اور یہودیوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ لیکن معاہدے کے تحت صرف مسلمان ہی عبادت کر سکتے ہیں۔
تاہم مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے رہنے والوں کو مسجد کے احاطے میں داخل ہونے سے قبل یروشلم کی حدود میں داخلے کے لیے اسرائیل سے اجازت لینا ہوتی ہے
سنہ 1948 جب اسرائیل وجود میں آنے سے لےکر سنہ 1967 کی جنگ جسے عمومی طور پر چھہ دن کی جنگ کہا جاتا ہے تک مشرقی یروشلم بشمول حرم الشریف کےاردن کے زیر سرپرستی تھا،اردن کے سنہ 1967 کی جنگ ہارنے کے بعد پورا یروشلم سواء حرم الشریف کے اسرائیل کے زیر نگرانی آگیا مگر حرم الشریف (قبتہ الصخرہ اور مسجد الاقصی) اردن کے وقف کے زیر نگرانی ہی رہا۔
1918 عیسوی میں سب كچھ تبدیل ہوگیا جب كہ برطانوی حكومت نےیروشلم كو اسلامی حكومت سے چھین كر اپنے قبضے میں لے لیا، اور مكمل فلسطین كو اپنے زیر قبضہ لینا شروع كردیا۔
برطانوی قبضے كے بعد یہودی لوگ دنیا بھر سے یروشلم میں آكر رہائش پذیر ہونا شروع ہوگئے كیوں كہ دنیا بھر میں انہیں ظلم واذیت كاسامنا تھا (اور یہ ظلم وزیادتی آکے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے تھا)
چند سالوں بعد ہزاروں كی تعداد میں یہودی لوگ فلسطین میں داخل ہوئے اور فلسطین میں انہوں نے اپنے لیے جگہیں خریدنا شروع كیے اور فلسطینیوں اچھے لوگ اور شریف لوگ تھے انھوں نے اپنی زمینیں یہودیوں کو فروخت کرنا شروع کئے بعد میں امریکہ برطانیہ سامراجی طاقت کے زریعے فلسطینیوں سے باقی زمینیں پکڑنا اور۔ فلسطینیوں کو اپنے علاقے سے نکلنا شروع کیا ، جب كہ فلسطینی مسلمان جوں كہ اس سرزمین سے پرانا تعلق ركھتےتھے، اور سینكڑوں سالوں سے اس جگہ بسے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے اپنی سر زمین كو چھوڑنے سے انكار كردیا۔
چناں چہ اس معاملے میں لڑائیاں شروع ہو گئیں، كہ فلسطینی حضرات اپنی زمین كو چھوڑنے پر تیار نہیں تھے جب كہ یہودی ان كی زمین كو زور زبردستی ہتھیانا چاہتے تھے، چوں كہ یہودیوں كی فوج مسلمانوں سے بہت زیادہ طاقت ور تھی اس لیے فلسطین كی زیادہ تر زمین پر ان یہودیوں نے قبضہ كرلیا۔
1948میں یہودیوں نے آزاد اسرائیلی ریاست كا اعلان كردیا
1967 میں مزید لڑائیاں ہوئیں اور اس طرح یہودیوں نے مكمل یروشلم كو اپنے قبضہ میں لے لیا۔
یہودیوں كا اس بات پر اصرار ہے كہ تاریخی تناظر میں یروشلم اور مسجد اقصىٰ پر ان ہی كا حق ہے ، اور مسلمانوں كا اس پر كوئى حق نہیں۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں كہ یروشلم سے مسجد اقصىٰ كو منہدم كركے وہاں اپنا عبادت خانہ ہیكل سلیمانی (سولومن ٹیمپل) تعمیر كریں۔ ان كا كہنا ہے كہ ہمارے نبی داؤد اور سلیمان علیہ السلام نے یہاں یہودی عبادت خانہ تعمیر كیا تھا،لہذا آج بھی ہم ہی اس كے زیادہ حق دار ہیں كہ اس جگہ اپنا عبادت خانہ تعمیر كریں. موجودہ عہد میں یہ اپنی عبادات دیوار براق كے پاس كھڑے ہوكر کر تے ہیں۔
ان كی یہ بات تاریخی لحاظ سے بھی غلط ہے۔ :
یہودی فلسطین كے اصل باشندے نہیں ہیں۔-یہودی یروشلم كے باہر سے آكر یروشلم پر قابض ہوئے تھے جو فلسطین پر طاقت سے مسلط ہونے كے بعد كچھ عرصہ فلسطین میں رہے اور اس كے بعد نكال دیے گئے۔
فلسطین میں ان كی موجودگی كا عرصہ نہایت مختصر رہا ہے۔
فلسطین میں حضرت سلیمان علیہ السلام كے زمانے سے لے كر اب تك كبھی خالص یہودی حكومت قائم نہیں ہوئى۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے كوئی یہودی عبادت خانہ یروشلم میں تعمیر نہیں فرمایا تھا، بلكہ آپ اور آپ كے والد حضرت داؤد علیہ السلام نے مل كر اسی مسجد كی تعمیر كی تھی جو حضرت آدم علیہ السلام كے دور میں وہاں تعمیر ہوچكی تھی، جسے بعد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی واپس اس كی بنیادوں پر استوار كیا تھا۔ تو یہ كوئی نئی تعمیر نہیں تھی بلكہ پرانی تعمیر كو دوبارہ كھڑا كیا تھا۔
فلسطین میں یہودیوں كی كبھی اكثریت نہیں رہی۔
جب فلسطین سے یہودیوں كو نكال دیا گیا تو اس میں صرف اس كے اصل باشندے ہی رہ گئے جو شروع سے لے كر آج تك وہیں رہ رہے ہیں۔
سولہ سو سال كی طویل مدت كے دوران فلسطین میں كبھی كوئی یہودی آباد نہیں
اسلامی حکومتیں تقریبا ساتویں صدی سے فلسطین میں رہی۔
آج وہاں سیكڑوں تاریخی عمارات موجود ہیں جو اسلامی طرز تعمیر كا نمونہ ہیں۔
اس لیے تاریخی حقائق سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے كہ یروشلم بیت المقدس اور پورے اسرائیل (اصل میں فلسطین کیونکے اسرائیل نے یہ جگہ فلسطینوں سے پکڑی ہے) پر مسلمانوں ہی كا حق ہے، یہودی لوگ اس پر اپنا حق جو جتلاتے ہیں وہ سراسر دھوكا اور فریب ہے۔ كیوں كہ یروشلم یا بیت المقدس میں حضرت آدم علیہ السلام نے جو مسجد صرف اللہ كی عبادت كے لیے تعمیر كی تھی وہ آج بھی وہاں موجود ہے وہاں صرف اللہ ہی كی عبادت ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے كہ مختلف زمانوں میں یہ مسجد گرتی رہی اور اس كی تعمیر نو ہوتی رہی۔ بس آج تک اسرائیل کوئی نا کوئی بہانہ بنا کر فلسطینیوں پر ظلم کرتے رہتے ہیں جو آج تک جاری ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ فلسطینیوں کو آزادی اور مسلمانوں میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرے آمین
یہ تحریر میں نے (نیلم اعوان) کچھ ترامیم کے ساتھ یہاں پوسٹ کی ہے مواد محتلف آرٹیکل سے لی گئی ہے۔ مقصد بیت المقدس کی کچھ تاریخی پس منظر کے بارے میں بتانا تھا