19/06/2026
ابلیس کے اندر ایسی کون سی ایک بیماری تھی جس نے اسکی عبادت کو تباہ کر دیا؟
اور کیا وہی بیماری آج بھی ہمارے دلوں میں چھپی ہوئی ہے؟
یہ تحریر شاید آپ کو ابلیس کے بارے میں نہیں، بلکہ اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دے...
القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرةt
آیت نمبر 34
ترجمہ:
پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جُھک جاوٴ، تو سب جُھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔
**ابلیس کا سب سے بڑا گناہ: تکبر**
جب ہم ابلیس کی کہانی پڑھتے ہیں تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس نے صرف ایک حکم کی نافرمانی کی تھی، لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اصل مسئلہ نافرمانی نہیں بلکہ **تکبر** تھا۔
﴿أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ﴾
"اس نے انکار کیا، تکبر کیا، اور کافروں میں شامل ہوگیا۔"
یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: آخر ابلیس کو حضرت آدمؑ سے حسد کس بات پر ہوا؟ نہ آدمؑ کو کوئی خزانہ دیا گیا تھا، نہ کوئی سلطنت، نہ کوئی دنیاوی انعام۔ پھر وہ کون سی چیز تھی جسے ابلیس برداشت نہ کر سکا؟
جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو ایک **امتیاز (Recognition)** عطا فرمایا۔ اللہ نے فرشتوں کے سامنے ان کے علم کو ظاہر کیا، ان کی صلاحیت کو نمایاں کیا، اور انہیں سجدے کے ذریعے ایک خاص مقام عطا کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جسے ابلیس برداشت نہ کر سکا۔
تاریخ کا پہلا حسد دولت پر نہیں تھا، بلکہ **عزت اور پہچان** پر تھا۔
اور اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو آج بھی یہی بیماری زندہ ہے۔ جب کسی ایک شخص کو زیادہ اہمیت ملتی ہے، کسی کو تعریف ملتی ہے، کسی کو کامیابی ملتی ہے، کسی کو عزت ملتی ہے، تو بہت سے لوگ اس کی خوشی میں خوش ہونے کے بجائے اندر ہی اندر بے چین ہونے لگتے ہیں۔
یہی کیفیت بہن بھائیوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، دوستوں میں بھی، کام کی جگہوں پر بھی، اور بعض اوقات دینی حلقوں میں بھی۔
تکبر ہمیشہ زبان پر نہیں آتا۔
قرآن نے ابلیس کے بارے میں "استکبر" کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی تکبر اس کے دل میں تھا۔ وہ اپنے آپ کو آدمؑ سے بہتر سمجھتا تھا، حالانکہ اس نے شاید کبھی یہ دعویٰ کھل کر نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو صرف اپنی زبان نہیں بلکہ اپنے دل کی بھی نگرانی کرنی چاہیے۔
ممکن ہے انسان عاجزی کی باتیں کرے، لیکن دل میں یہ احساس رکھتا ہو کہ "میں دوسروں سے بہتر ہوں۔"
اور یہی وہ بیماری ہے جو انسان کو حق قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔
بعض دفعہ علم حاصل کرنے کے بعد انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب وہ دوسروں سے بہتر ہو گیا ہے۔
کبھی حافظِ قرآن ہونے کا غرور،
کبھی عالم ہونے کا غرور،
کبھی داعی ہونے کا غرور،
کبھی نیکی کرنے کا غرور۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ابلیس کی بیماری دوبارہ جنم لیتی ہے۔
یاد رکھیے!
دین کا علم انسان کو بڑا بنانے کے لیے نہیں آتا، بلکہ جھکانے کے لیے آتا ہے۔
اگر علم کے بعد عاجزی بڑھ رہی ہے تو یہ علم نافع ہے۔
اگر علم کے بعد خود پسندی بڑھ رہی ہے تو خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔
شاید اسی لیے بعض سلف فرمایا کرتے تھے:
"جتنا میرا علم بڑھتا گیا، اتنا ہی مجھے اپنی جہالت کا احساس ہوتا گیا۔"
ابلیس نے اللہ تبارک و تعالی کی بے پناہ عبادت کی، لیکن ایک لمحے کے تکبر نے سب کچھ برباد کر دیا۔
اس لیے انسان کو گناہوں سے جتنا ڈرنا چاہیے، اس سے کہیں زیادہ اپنے دل میں پیدا ہونے والے غرور سے ڈرنا چاہیے۔
کیونکہ گناہ کرنے والا انسان توبہ کر سکتا ہے، لیکن متکبر انسان اکثر یہ سمجھتا ہی نہیں کہ اسے توبہ کی ضرورت ہے۔
اور یہی تکبر کی سب سے خطرناک شکل ہے۔