28/08/2026
ایک اہم سوال، ذرا غور کریں!
ہم اپنی رقم اسلامی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں۔ بینک انہی رقوم کو کاروباری سرگرمیوں میں استعمال کرکے اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں، لیکن اس رقم سے براہِ راست کسی غریب یا ضرورت مند کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
حضرت! اگر آپ کے پاس اضافی رقم ہے اور آپ کو ذاتی طور پر اس کے منافع کی ضرورت نہیں، تو اسے محض کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھنے کے بجائے کسی شرعی اور معتبر منافع والے اکاؤنٹ میں رکھیں، اور جو منافع حاصل ہو اسے غریبوں، مستحقین اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیں۔ یوں آپ کی رقم بھی استعمال ہوگی اور اس کا فائدہ کسی ضرورت مند تک بھی پہنچے گا۔ 🤲
پیسہ صرف جمع رکھنے کے بجائے کسی کے کام آئے—یہی اصل مقصد ہونا چاہیےمستحق یا ضرورت مند تک بھی پہنچ سکے۔
۔
آئیں، اس پیغام کو عام کریں۔ 🤲