29/07/2023
برسات کے موسم میں بارش کے بعد عموماََ ایک نبات (جسے آپ سبزی کہ سکتے ہیں) قدرتی طور پر زمین کو پھاڑ کر نکلتی ہے جِسے ہم اپنی زبان میں ” کُھماں“ کہتے ہیں اُردو میں کُھمبی اور انگریزی میں اسے مشروم کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں اِسے من و سلویٰ میں سے شمار کیا گیا ہے اور اس کے پانی کو آنکھوں کی شفاء یابی قرار دیا گیا ہے...!!!!
حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ مبارک میں کھمبیاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کھمبیاں مَنّ میں سے ہیں اور یہ آنکھ کے لے شفاء ہیں...!!!!
(مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۴۱۶۱)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کھمبیاں بہت زیادہ ہوا کرتی تھیں تو بعض صحابہ کرام علیہم الرضوان کہنے لگے کہ یہ زمین کے چیچک ہیں( یعنی جس طرح اِنسان سے بیماری میں چیچک نکلتا ہے گویا یہ بھی زمین کی بیماری میں اس سے نکلتی ہے) اور انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ کھمبی زمین کا چیچک ہے خبردار سنو! یہ زمین کا چیچک نہیں بلکہ مَن و سلویٰ سے ہے اور اس کے پانی میں آنکھوں کے لئے شفاء ہے...!!!!
(شرح مشكل الآثار، ٣٦٧/١٤)
علامہ نوویؒ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ
صحیح اور درست بات یہ ہے کہ اس کا پانی مطلقاً آنکھوں کے لیے شفاء ہے کہ پانی کو نچوڑ کر آنکھوں پر لگایا جائے۔ اپنے زمانے میں، میں نے اور میرے علاوہ لوگوں نے دیکھا کہ وہ ایک نابینا تھے جن کی آ نکھوں کی بینائی چلی گئی تھی انہوں نے اپنے آنکھوں پر کھمبی کا خالص پانی لگایا تو وہ شفایاب ہو گئے اور ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گئی اور وہ شخصیت علامہ شیخ کمال بن عبد اللہ دمشقی علیہ الرحمة تھے، جہنوں نے حدیث پاک پر اعتماد کرتے ہوئے اور حدیث سے تبرک کی نیّت سے کھمبی کا پانی استعمال فرمایا تھا...!!!!
(النووي، شرح النووي على مسلم: ۵/۱۴)