13/07/2026
اگر آپ SA گارڈنز میں پلاٹ لینے یا گھر بنانے کا سوچ رہے ہیں، تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے۔ فیصلہ کرنے سے پہلے ذرا یہ حقائق پڑھ لیں
https://www.sagardens.net/
ایس اے گا رڈن کے دو حصے ہیں، فیز 1 اور فیز 2۔ کچھ بلاکTMA سے منظور شدہ ہیں، لیکن جن بلاکس کی ہم بات کر رہے *شیر افغان، بدر بلاک، شیر زمان، پریمیم، سہیل ایکسٹینشن اور فیصل بلاک*—یہ سب غیر قانونی (غیر منظور شدہ) ہیں۔
بجلی:
سوسائٹی کا اپنا کوئی گرڈ اسٹیشن نہیں ہے۔ واپڈا کی ملی بھگت سے غیر منظور شدہ بلاکس میں زرعی میٹروں پر بجلی دی جاتی ہے۔ جیسے ہی کوئی سیاسی بحران آتا ہے، واپڈا والے میٹر اتار لے جاتے ہیں اور ہفتوں بجلی نہیں ہوتی۔
200 یونٹ تک 40 روپے اور اس سے اوپر 65 روپے یونٹ کا ریٹ رہایشیوں سے لیا جاتا ہے۔ وولٹیج کا یہ حال ہے کہ اے سی اور فریج جل جاتے ہیں۔
سوسائٹی کے جو بلاکس اپروو نہیں، وہاں کبھی مستقبل میں گیس بھی آۓ گی اس کا تو سوچنا بھی بیکار ہے۔
پریمیم بلاک کی کچھ زمین 'محکمہ اوقاف' کی ہے، جس پر حکومت نے اگر دوبارہ ایکشن لیا تو پلاٹ لینے والے کہیں کے نہیں رہیں گے۔کچھ مہینے پہلے اس کا گیٹ سڑکیں لائٹ پول تک سرکار توڑ چکی ہے۔
بدر اور شیر افغان سنگل سیکٹر کے بلاکس میں باؤنڈری وال تک نہیں ہے۔ وہاں انسانوں سے زیادہ آوارہ جانور پھرتے ہیں، آئے دن موٹریں اور تاریں چوری ہو جاتی ہیں۔ اور مزے کی بات شیر افغن سنگل سیکٹر میں جس نے مکان بنانا وہ اینٹوں سے پہلے سولر کا بندوبست کرے کیونکہ وہاں بجلی کی سہولت موجود نہی
شیر افغان (ڈبل سیکٹر) جو آٹھ سال پہلے انسٹالمنٹ پلان پر لانچ ہوا چھیالیس ہزار فائل بیچی گئ ۔ 46 ہزار لوگ آج بھی اپنے پلاٹ کے لیے رو رہے ہیں۔سالوں سے قسطیں جمع کروانے کے باوجود قبضہ آج تک نہیں ملا جن لوگوں نے کچھ لوگوں کا گروپ بنا کر شور مچایا انہیں تو کچھ ریفنڈ یا ایڈجسٹمنٹ مل گئی، باقی سب ذلیل ہو رہے ہیں۔
بدر B بھی انسٹالمنٹ پر بیچا گیا بدر بی میں کچا پکا کام کر کے لوگوں کو بیوقوف بنایا گیا لیکن قبضہ پھر بھی غائب ہے۔
شیر عالم بھی انسٹالمنٹ پر بیچا گیا لیکن جب شیر افغن والوں کو آٹھ سال سے قبضہ نہی ملا ان کو تو کیا ملنا
بات کر لی جاۓ ان کی سیکورٹی کی وہ بہت زبردست ہے جو کوئ سوسائٹی کے خلاف بولتا ہے اپنے حق کیلۓ آواز اٹھاتا ہے ان کی سیکورٹی اس کو دھمکی دیتی ہے کہ زبان بند نہ کی تو کاٹ کر بدر سے گزرنے والی نالہ ڈیک میں پھینک دیا جاۓ گا
یہاں کے ڈیلرز کا ایک گینگ ہے۔ جب نیا بلاک لانچ ہوتا ہے تو قیمتیں آسمان پر چڑھا دیتے ہیں، لیکن جب آپ بیچنے جائیں تو یہی ڈیلرز ایسے ریٹ لگاتے ہیں کہ دل کرتا ہے یا اس کو مار دو یا خود کو ۔
*میری مخلصانہ رائے:*
بھائی! اگر آپ یہ سوچ کر پلاٹ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں پیسہ بنے گا، تو ایسا بالکل مت کریں۔ ان غیر منظور شدہ بلاکس میں پلاٹ لینا اپنی جمع پونجی اور سکون کو آگ لگانے کے مترادف ہے۔
*ہوش کے ناخن لیں، اپنی محنت کی کمائی کسی محفوظ جگہ لگائیں!*