24/05/2026
کراچی کو روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، لیکن آج کل اس شہر میں کھانے کے نام پر جس طرح لوٹ مار، مہنگائی اور فراڈ ہو رہا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ کہیں باسی کھانا، کہیں غیر معیاری چیزیں، کہیں صرف نام بڑا اور کام صفر۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی انسان ایمانداری، محنت اور صفائی کے ساتھ حلال رزق کما رہا ہو تو اسے سامنے لانا اور سپورٹ کرنا بہت ضروری ہے۔
آج کراچی گزری میں ایک ایسے ہی پیارے اور محنتی بھائی سے ملاقات ہوئی جو پچھلے 17 سال سے اپنی ماں کے ہاتھ کے بنے دال چاول، کوفتے اور چنے فروخت کر رہے ہیں۔ ان کی والدہ ہر روز صبح سویرے اٹھ کر یہ سارا کھانا اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی ہیں، بالکل ویسے جیسے ہم اپنے گھر میں کھاتے ہیں۔ صاف ستھرا، خالص، سادہ اور بہترین ذائقے والا کھانا۔
یہ بھائی روزانہ صبح 7 بجے اپنا چھوٹا سا اسٹال لگاتے ہیں اور پورے دن محنت کر کے اپنے گھر کا خرچہ چلاتے ہیں۔ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ ان کے کھانے میں نہ کوئی ملاوٹ ہے، نہ کوئی جھوٹا دعویٰ، نہ کوئی فراڈ۔ صرف محنت، ایمان داری اور حلال رزق۔
میں نے ان کے دال چاول کی فل پلیٹ کھائی جو صرف 150 روپے کی تھی، اور حقیقت یہ ہے کہ دو بندے آرام سے کھا سکتے ہیں۔ اتنے مہنگے شہر کراچی میں جہاں عام ہوٹل ہزاروں روپے لے رہے ہیں، وہاں ایسے لوگ واقعی قابلِ تعریف ہیں جو کم قیمت میں بہترین اور صاف ستھرا کھانا دے رہے ہیں۔
میرا ماننا ہے کہ کراچی کے بڑے بڑے فوڈ بلاگرز کو صرف مہنگے ریسٹورنٹس ہی نہیں بلکہ ایسے چھوٹے اسٹریٹ فوڈ اسٹالز کو بھی پروموٹ کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہی لوگ اصل میں حلال طریقے سے حلال رزق کما رہے ہیں، بغیر کسی دھوکے کے، بغیر کسی ملاوٹ کے۔ یہ لوگ ہمارے معاشرے کا خوبصورت چہرہ ہیں۔
ایک ماں پچھلے 17 سال سے اپنے بچے کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا رہی ہے تاکہ اس کا بیٹا عزت کے ساتھ روزی کما سکے۔ یہ صرف کھانا نہیں، ایک ماں کی محبت، دعا اور محنت ہے۔
اللہ تعالیٰ اس ماں کے رزق میں برکت عطا فرمائے، ان کے خواب پورے کرے اور ہر محنت کرنے والے انسان کے کاروبار میں خیر و برکت دے۔ آمین ❤️
چھوٹے اسٹریٹ فوڈ والوں کو سپورٹ کریں، کیونکہ اصل ذائقہ اکثر انہی چھوٹے اسٹالز پر ملتا ہے جہاں محنت، محبت اور خلوص شامل ہوتا