Voice of World

Voice of World I am a Freelance Photographer am working as a graphic designer and Database editor. like good peoples make friends and company❤🧡

19/08/2025
Thug life Real life😜
27/04/2025

Thug life Real life😜

ایک ساس ڈاکٹر کے پاس گئی اور اس نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کوئی ایسی دوا دیںکہ اس مرتبہ میری بہو کا ب...
11/02/2025

ایک ساس ڈاکٹر کے پاس گئی اور اس نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کوئی ایسی دوا دیں
کہ اس مرتبہ میری بہو کا بیٹا ہی ہو،
دو بیٹیاں پہلے ہیں، اب تو بیٹا ہی ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر نے جواب دیا،
میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوائی نہیں ہے۔
‏ساس نے کہا کہ پھر کسی اور ڈاکٹر کا بتا دیں؟
ڈاکٹر نے کہا کہ آپ نے شاید بات غور سے نہیں سنی، میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے دوائی کا نام نہیں آتا۔ میں نے یہ کہا کہ میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوائی نہیں ہے۔
اس موقع پر لڑکی کا سسر بولا کہ وہ فلاں لیڈی ڈاکٹر تو۔۔۔
‏ڈاکٹر نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ وہ جعلی ڈاکٹر ہوگا، اس طرح کے دعوے جعلی پیر، فقیر، حکیم، وغیرہ کرتے ہیں، سب فراڈ ہے یہ۔
اب لڑکی کے شوہر نے کہا کہ اس کا مطلب ہماری نسل پھر نہیں چلے گی؟
ڈاکٹر نے کہا کہ یہ نسل چلنا کیا ہوتا ہے؟
‏آپ کے جینز کا اگلی نسل میں ٹرانسفر ہونا ہی نسل چلنا ہے نا؟ تو یہ کام تو آپ کی بیٹیاں بھی کر دیں گی، بیٹا کیوں ضروری ہے؟
ویسے آپ بھی عام انسان ہیں۔ آپ کی نسل میں ایسی کیا بات ہے جو بیٹے کے ذریعے ہی لازمی چلنی چاہیے؟
سسر نے کہا کہ میں سمجھا نہیں؟
‏ڈاکٹر نے کہا کہ ساہیوال کی گائیوں کی ایک مخصوص نسل ہے جو دودھ زیادہ دیتی ہے۔ بالفرض اس نسل کی ایک گائے بچ جاتی ہے تو پریشان ہونا چاہیے کہ اس سے آگے نسل نہ چلی تو زیادہ دودھ دینے والی گائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 🐮
طوطوں کی ایک مخصوص قسم باتیں کرتی ہے
‏بالفرض اس نسل کی ایک طوطی بچ جاتی ہے تو فکر ہونی چاہیے کہ اگر یہ بھی مر گئی تو اس نسل کا خاتمہ ہو جائے گا۔🦜
آپ لوگ عام انسان ہیں باقی چھ سات ارب کی طرح آخر آپ لوگوں میں ایسی کون سی خاص بات ہے؟
یہ بات سن کر سسر نے کہا کہ ڈاکٹرصاحب کوئی نام لینے والا بھی تو ہونا چاہیے۔
‏ڈاکٹر نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے پَردادے کا کیا نام ہے؟ اس موقع پر سسر بس اتناکہہ سکا کہ وہ، میں، ہممممم، ہوں وہ۔۔۔۔
ڈاکٹر نے کہا کہ مجھے پتہ ہے آپ کو نام نہیں آتا، آپ کے پردادا کو بھی یہ ٹینشن ہو گی کہ میرا نام کون لے گا اور آج اُس کی اولاد کو اُس کا نام بھی پتہ نہیں.
‏ویسے آپ کے مرنے کے بعد آپ کا نام کوئی لے یا نہ لے۔ آپ کو کیا فرق پڑے گا؟ آپ کا نام لینے سے قبر میں پڑی آپ کی ہڈیوں کو کون سا سرور آئے گا
علامہ اقبال کو گزرے کافی عرصہ ہوگیا، آج بھی نصاب میں ان کا ذکر پڑھایا جاتا ہے۔
گنگا رام کو مرے ہوئے کافی سال ہو گئے لیکن لوگآج بھی گنگا رام ہسپتال کی وجہ سے گنگا رام کو نہیں بھولے۔
ایدھی صاحب مر گئے لیکن نام ابھی بھی زندہ ہے اور رہے گا۔
غوروفکر کیجئے
لہذا بیٹی اور بیٹوں میں ہرگز فرق نہ کریں،
بیٹا اگر نعمت ہے تو بیٹی رحمت ہے.

مرد کی کامیابی کے پیچھے اُنکی ماں کے سِوا کوئی دُوسری عورت نہیں ہو سکتی کیونکہ دُوسری عورت کامیاب مرد ڈھونڈتی ہے✌✌❤❤💯
02/01/2025

مرد کی کامیابی کے پیچھے اُنکی ماں کے سِوا کوئی دُوسری عورت نہیں ہو سکتی کیونکہ دُوسری عورت کامیاب مرد ڈھونڈتی ہے✌✌❤❤💯

صحافی: "آپ نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ ارینا شیک کو کیوں چھوڑا؟" کرسٹیانو رونالڈو: "اس نے ایک بار مجھ سے کہا: 'آپ جہاں بھی ج...
07/12/2024

صحافی: "آپ نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ ارینا شیک کو کیوں چھوڑا؟"

کرسٹیانو رونالڈو: "اس نے ایک بار مجھ سے کہا: 'آپ جہاں بھی جاتے ہیں، کیا آپ اپنی ماں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں؟ آپ کو اپنی ماں اور مجھ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا'۔ اس نے مجھے یقین اور غصے کے ساتھ یہ کہا۔ اس وقت میں نے فیصلہ کیا اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں، میں کسی بھی حالت میں، زمین پر یا زمین سے باہر اپنی ماں کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔

اگر کوئی عورت آپ کی ماں کو قبول نہیں کرتی ہے تو آپ غلط شخص کے ساتھ ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب میں بچپن میں تھا اور کچھ نہیں تھا تو وہاں کون تھا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ میری ماں کو کھانا گھر لانے، کپڑے دھونے، باتھ روم صاف کرنے، باغات اور مکانات مجھے نوٹ بک اور فٹ بال کے جوتے خریدنے کے لیے کیا کرنا پڑا؟

آج میں اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اس کے لیے لڑنا چاہتا ہوں۔ میں جہاں بھی جاؤں وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی۔"
ماں ہمیشہ ماں ہوتی ہے❤️

- کرسٹیانو رونالڈو

جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں...انہیں اسی محبت کے ساتھ بوڑھا ہونے دو جس محبت سے وہ آپ کو جوان ہونے دیتے ہیں... انہیں بولنے...
20/07/2024

جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں...
انہیں اسی محبت کے ساتھ بوڑھا ہونے دو جس محبت سے وہ آپ کو جوان ہونے دیتے ہیں... انہیں بولنے دیں اور بار بار کہانیاں سنانے دیں جس صبر اور دلچسپی کے ساتھ انہوں نے بچپن میں آپ کو سنائی تھیں... انہیں ہارتے ہوۓ بھی جیتنے دو، جیسا کہ انہوں نے کئی بار بچپن میں آپ کو جیتنے دیا ... انہیں اپنے دوستوں سے لطف اندوز ہونے دیں جیسا کہ انہوں نے آپ کو بچپن میں یہ خوشیاں دی تھیں ... انہیں اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ بات چیت سے لطف اندوز ہونے دیں، کیونکہ وہ آپ کو ان میں دیکھتے ہیں ... انہیں ان چیزوں کے درمیان رہنے دیں جو طویل عرصے سے ان کے ساتھ رہی ہیں، کیونکہ جب وہ محسوس کرتے ہیں جب آپ انھیں ان چیزوں سے توڑتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ آپ ان کی زندگی کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں... انہیں غلط ہونے دیں، جیسا کہ آپ کئی بار غلط ہوئے تھے اور انہوں نے آپ کو درست کر کے آپ کو شرمندہ نہیں کیا...
انہیں جینے دیں اور جس راستے پر انہوں نے جانا چھوڑا ہے اس کے آخری حصے میں انہیں خوش کرنے کی کوشش کریں۔ انہیں اپنا ہاتھ دیں، جیسے انہوں نے آپ کو اپنا ہاتھ دیا تھا جب آپ نے اپنا راستہ شروع کیا تھا!
("اپنے ماں اور باپ کی عزت کریں، خدا زمین پر تمہاری عمریں لمبی کرے گا")۔

وہ کیسی عورتیں تھیںجو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولھا جلاتی تھیںجو سِل پر سرخ مرچیں پیس کر سالن پکاتی تھیںصبح سے شام تک مص...
19/07/2024

وہ کیسی عورتیں تھیں
جو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولھا جلاتی تھیں
جو سِل پر سرخ مرچیں پیس کر سالن پکاتی تھیں
صبح سے شام تک مصروف لیکن مسکراتی تھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں

بھری دوپہر میں سر اپنا ڈھک کر ملنے آتی تھیں
جو پنکھے ہاتھ کےجھلتی تھیں اور بس پان کھاتی تھیں
جو دروازے پہ رک کردیر تک رسمیں نبھاتی تھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں

پلنگوں پر نفاست سے دری چادر بچھاتی تھیں
بصد اصرار مہمانوں کو سرہانے بٹھاتی تھیں
اگر گرمی زیادہ ہو تو روح افزا پلاتی تھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں

جو اپنی بیٹیوں کو سویٹر بننا سکھاتی تھیں
سلائی کی مشینوں پر کڑے روزے بتاتی تھیں
بڑی پلیٹوں میں جو افطار کے حصے بناتی تھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں

جوکلمے کاڑھ کر لکڑی کے فریموں میں سجاتی تھیں
دعائیں پھونک کر بچوں کو بستر پر سلا تی تھیں
اور اپنی جا نمازیں موڑ کر تکیہ لگاتی تھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں

کوئی سائل جو دستک دے اسے کھانا کھلا تی تھیں
پڑوسن مانگ لے کچھ باخوشی دیتی دلاتی تھیں
جو رشتوں کو برتنے کے کئی نسخے بتاتی تھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں

محلے میں کوئی مر جائے تو آنسو بہاتی تھیں
کوئی بیمار پڑ جائے تو اس کے پاس جاتی تھیں
کوئی تہوار ہو تو خوب مل جل کر مناتی تھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں

میں جب گھر اپنے جاتی ہوں تو فرصت کے زمانوں میں
انھیں ہی ڈھونڈتی پھرتی ہوں گلیوں اور مکانوں میں
کسی میلاد میں جز دان میں تسبیح دانوں میں
کسی برآمدے کے طاق پر باورچی خانوں میں

مگر اپنا زمانہ ساتھ لے کر کھو گئی ہیں وہ
کسی اک قبر میں ساری کی ساری سو گئی ہیں وہ

طلاقیں کیوں ہوتی ہیں. آپ کمال ملاحظہ کریں گجرانوالہ میں ماسٹرز کی طالبہ نے وین ڈرائیور کے ” چکر ” میں اپنے پڑھے لکھے ، م...
21/06/2024

طلاقیں کیوں ہوتی ہیں.

آپ کمال ملاحظہ کریں گجرانوالہ میں ماسٹرز کی طالبہ نے وین ڈرائیور کے ” چکر ” میں اپنے پڑھے لکھے ، محبت کرنے والے شوہر سے طلاق لے لی ۔
یہ میرے نہیں سیشن کورٹ گجرانوالہ کے الفاظ ہیں ۔
آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق محض 10 مہینوں میں 12913 خلع کے مقدمات تھے ۔ صرف ستمبر کے مہینے میں گجرانوالہ شہر میں 2385 خلع کے مقدمات آئے ۔

آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 5000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 3000 ” لو میرجز ” تھیں ۔

پاکستان کے دوسرے بڑے اور پڑھے لکھے شہر میں روزانہ اوسط 150 طلاقیں رجسٹرڈ ہوتی ہیں ۔

یہ تو دیگ کا صرف ایک دانہ ہے ۔
عرب ممالک میں طلاق و خلع کا اوسط تو کئی یورپی ممالک سے بھی گیا گذرا ہے ۔
اس سے انکار نہیں ہے کہ ان میں سے بہت سارے واقعات میں عام طور پر سسرال والوں کا لڑکی سے رویہ اور شوہر کا بیوی کو کوئی حیثیت نہ دینا بھی اصل وجوہات ہیں لیکن آپ کسی بھی دارالافتاء چلے جائیں ہفتے کی بنیاد پر سینکڑوں خطوط ہیں جو خواتین نہیں مرد حضرات لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہماری بیوی کو کسی اور کے ساتھ ” محبت ” ہوگئی ہے ۔ وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے ۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے یا بچہ بھی ہے ۔ بتائیں کیا کروں

نبی مہربانﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالی کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے “۔

ایک عالم دین نے کیا خوب فرمایا تھا ” یہ قوم اسلام پر مرنے کے لئیے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لئیے تیار نہیں ہے “۔

آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ سے لے کر والناس تک چلے جائیں ۔ آپ کو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملینگی ۔ آپ کو یہ تک نظر نہیں آئیگا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں پتہ چل پائینگی ۔

لیکن نکاح ، طلاق ، خلع ، شادی ، ازدواجی معاملات ، میاں بیوی کے تعلقات ، گھریلو ناچاقی ، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام ۔آپ کو سارا کچھ اللہ تعالی کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائیگا جس کو ہم اور آپ” چوم چوم ” کر رکھتے ہیں ۔

آپ مان لیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے ۔

یاد رکھیں اچھا اور صحت مند گھرانہ کسی اچھے مرد سے نہیں بنتا بلکہ ایک اچھی عورت کی وجہ سے بنتا ہے۔

” جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے “۔

قربانی، ایثار ، احسان، درگذر ، معافی، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں آتے ہیں ۔



خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کیا ہے ۔
الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔
محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔

گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔

سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔

پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ،بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔
یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔

مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔

لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔
بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔
خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لئیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے ۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں۔ قیامت کے دن میزان میں پہلی چیز جو تولی جائیگی وہ شوہر سے بیوی کا اور بیوی سے شوہر کا سلوک ہوگا ۔

یاد رکھیں
مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگی تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔

ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحتمند معاشرہ وجود میں آتا ہے اور یہیں اسلام کی منشاء ہے ۔🌷.

منقول

Address

F8 Markaz Islamabad
Islamabad
44220

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Voice of World:

Share