25/10/2025
ڈینگی بخار سے یقینی شفا:
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
"اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی (اللہ) شفا دیتا ہے۔"
(سورۃ الشعراء: 80)
ڈینگی بخار ایک جان لیوا بیماری ہے۔ جس پر کنٹرول نہ کیا جائےتو موت بھی ہو سکتی ہے۔
مور خہ 17.10.2025 کو میری وائف کو ڈینگی بخار ہوا پلیٹلیٹس 109 تھے نارمل رینج 150,000 سے لے کر 410,000 ہے شارٹ فارم 150 سے 410 ہے۔ PIMS ہسپتال اسلام آباد کی ڈینگی وارڈ میں ایڈمشن ہوا اور علاج شروع ہو گیا۔ روزانہ 24 گھنٹے ڈرپس جاری رہتیں اور دن میں دو سے تین دفعہ تمام ٹیسٹ دوبارہ رپیٹ repeate ہوتے۔ تمام تر علاج و سر توڑ کوششوں کے باوجود پلیٹلیٹس تیزی سے کم ہوتے گئے اور 4 دن بعد مورخہ 21.10.25 صبح 7 بجے پلیٹلیٹس خطر ناک حد تک گر کر 16 تک آ گئے اس سے اگے موت تھی لہذا 8 بوتل خون کا بندوبست کرنے کا حکم ہوا۔ اور مریضہ نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔
میں نے حکیم طب نبوی میں 4 سالہ ڈپلومہ کیا ہوا ہے لہذاٰ میں نے مریضہ کو پپیتا کھلانا شروع کر دیا۔ 12 گھنٹے بعد شام 7 بجے خون کا بندوبست ہو گیا خون لگانے سے پہلے دوبارہ ٹیسٹ ہوا تو پلیٹلیٹس 16 سے بڑھ کر 31 ہو چکے تھے لہذا خون نہی لگایا گا۔ اگلے دن 22 تاریخ کو پلیٹلیٹس 50 تک بڑھ گئے۔ اور اس سے اگلے دن 23 تاریخ کو 50 سے بڑھ کر 114 یعنی ایک لاکھ چودہ ہزار ہو گئے جو کہ ڈاکٹرز کیلئے بھی انتہائی حیران کن اور نا قابل یقین تھا۔ ہمیں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ یہ سب پپیتا کے کمالات ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قدرتی اشیا میں کتنے طاقتور اور تیز ترین شفا ئی اثرات رکھے ہیں جن کو ہم چھوڑ چکے ہیں اور صرف اور صرف انگریزی ادویات کو ہی حرف آخر سمجھ بیٹھے ہیں۔
مورخہ 20.10.2025 کو مجھے بھی ڈینگی ہوا پلیٹلیٹس 61 پر تھے مجھے ڈینگی وارڈ میں داخل ہونے کا حکم ہوا لیکن میں بوجہ مصرفیات داخل نہ ہوا اور نا ہی میڈیکل کا علاج شروع کیا بلکہ اپنا علاج خود ہی صرف پیپیتا کے پتوں کے قہوہ سے اور پپیتا کے پھل سے شروع کیا۔ اور صرف 3 دن میں ہی مورخہ 23.10.25 کو پلیٹلیٹس 61 سے بڑھ کر 235 یعنی 2لاکھ 35ہزار ہو گئے جب سردی محسوس ہوتی تو قہوہ پیتا اور جب گرمی اور گھبراہٹ ہوتی تو پپیتا کا پھل کھاتا۔ اس سارے پراسیس کے دوران 6دن تک میں اپنی وائف کا 24 گھنٹے اکیلا اٹینڈنٹ بھی تھا اور گھر اور بچوں کی مکمل ڈیوٹی بھی کرتا رہا۔ پراپرٹی کے معاملات کو بھی ڈیل کرتا رہا کچھ کسٹمرز کو پراپرٹی کا وزٹ بھی کروایا اس دوران نہ اچھے سے نیند لے سکا نہ اچھی غذا کھا سکا اور نہ ہی اس کے لئے پر سکون ٹائم ملا۔لیکن اس سارے کے باوجود اللہ کے پیدا کردہ صرف ایک پپیتا کے پھل اور پتوں کے قہوہ نے ہمیں موت کے منہ سے نکال کر مکمل صحت یاب کر دیا۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ۔ تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے۔
اس سارے پراسیس کے دوران جو میں نے محسوس کیا وہ یہ ہے کہ یہ سارا نظام اللہ چلا رہا ہے۔ انسان بے بس ہے۔ اگر اللہ کا فضل اور مہربانی نہ ہو تو ساری دنیا کے انسان مل کر بھی ایک مچھر کے صرف ایک ڈنگ کا بھی مقابلہ نہی کر سکتے اور انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
پپیتہ کے پتوں کا مزاج گرم ہے جبکہ اس کے پھل کا مزاج سرد ہے۔ اگر سردی محسوس ہو تو پتوں کا قہوہ استعمال کریں اور اگر جسم میں شدید گرمی اور گھبراہٹ محسوس ہو تو پھر پھل کا استعمال کریں۔ اگر مزاج کو سمجھے بغیر استعمال کریں گے تو نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ سرد مزاج میں آپ کے جسم میں سردی اور کپکپی محسوس ہو گی اور کمبل اوڑھنے کو دل کرے گا اور چھوٹے پیشاب کا رنگ بھی سفید ہو گا ایسی صورت میں پپیتا کے پتوں کا قہوہ استعمال کریں صرف ایک کپ قہوہ حیران کن رزلٹ دے گا۔ جبکہ گرم مزاج میں آپ کو گرمی اور گھبراہٹ محسوس ہو گی اور پیشاب کا رنگ زرد پیلا ہو گا ایسی صورت میں پپیتا کا پھل استعمال کریں۔