Dehlez.com

Dehlez.com Dehlez.com دھلیز۔کام
A Property Marketing Company
Real State Sale Purchase Rent

22/10/2025

انتہائ مناسب قیمت پر پلاٹ براے فوری فروخت۔

سکولوں کالجوں اور چناروں کے مشہور سیاحتی شہر ایبٹ اباد کی مشہور الیاسی مسجد سے اوپر ڈھیری پر 3/5/10/15/20 مرلہ اور کنال کے پلاٹ براے فروخت ھین
بجلی گیس پانی اور روڈ کی سہولت موجود تیزی کے ساتھ ترقی کرتا ہوا علاقہ
پر مرلہ 4 لاکھ روپے

براے رابطہ کال وٹس ایپ
03139888735

کیا ہی لوکیشن ہے اسلام آباد ایئرپورٹ سے 0 کلومیٹر کے فاصلے پر ،  ٹاپ سٹی اور ممتاز سٹی سے آدھے سے بھی آدھے ریٹ اور لوکیش...
19/07/2025

کیا ہی لوکیشن ہے اسلام آباد ایئرپورٹ سے 0 کلومیٹر کے فاصلے پر ، ٹاپ سٹی اور ممتاز سٹی سے آدھے سے بھی آدھے ریٹ اور لوکیشن ان سے کئی گنا بہتر کیپیٹل سمارٹ سٹی نے فیز 3 لانچ کر دیا 4.5 سال کا پیمنٹ پلان اسلام آباد کی بہتر سے بھی بہترین لوکیشن تعارفی قیمت پر لیمیٹد سے پلاٹ دستیاب ہیں انوسٹمنٹ کا بہترین موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں اور پری لانچ ریٹ پر ڈسکاوئنٹ حاصل کریں 10% بکنگ پر 17% ڈسکاوئنٹ اور 15 % بکنگ پر 22 % ڈسکاوئنٹ ابھی حاصل کریں 5 مرلہ ڈسکاوئنٹ کے بعد ٹوٹل قیمت 2،260،000 اور بکنگ 339،500 میں 10 مرلہ 4،480،000 اور بکنگ 672،000 میں اور کنال کا پلاٹ 7،650،000 اور بکنگ 1،147،000 میں کروائیں بکنگ کے لیے ابھی رابطہ کریں کہیں یہ سنہری موقع کھو نا دیںبکنگ اور تفصیلات کے لیے ابھی کال وٹس ایپ پہ رابطہ کریں ☎️
*03139888735*
مارکیٹڈ باے دھلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ۔
.Com
Property Marketing !

Contact Us For BookingCall/WhatsApp : 03139888735
16/07/2025

Contact Us For Booking
Call/WhatsApp : 03139888735

17573 ارب کا وفاقی بجٹ پیش؛  پراپرٹی ریل اسٹیٹ سیکٹر پر ریلیف۔۔۔پراپرٹی ٹیکس میں کمیوفاقی حکومت نے کمرشل جائیدادوں، پلاٹ...
11/06/2025

17573 ارب کا وفاقی بجٹ پیش؛ پراپرٹی ریل اسٹیٹ سیکٹر پر ریلیف۔۔۔
پراپرٹی ٹیکس میں کمی
وفاقی حکومت نے کمرشل جائیدادوں، پلاٹوں اور گھروں کی ٹرانسفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی ہے اور ٹیکس کریڈٹ کا اعلان کیا ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے، ودہولڈنگ ٹیکس 4 فیصد سے کم کرکے اڑھائی فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اسی طرح دوسری سلیب میں 3.5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد، تیسرے سلیب میں 3 فیصد سے کم کر کے ودہولڈنگ ٹیکس 1.5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

نئے بجٹ میں کمرشل جائیدادوں، پلاٹوں اور گھروں کی ٹرانسفر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے، گزشتہ بجٹ میں 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی تھی۔
حکومت نے بجٹ میں 10 مرلہ تک کے گھروں اور دو ہزار مربع فٹ کے فلیٹس پر ٹیکس کریڈٹ کا اعلان کیا ہے، مورگیج فنانسنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نئے بجٹ میں اسلام آباد میں جائیداد کی خریداری پر اسٹاپ پیپر ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دی گئی ہے

02/06/2025

فیصل ٹاؤن فیز 2 اسلام اباد میں آج ہی اپنا ریزیڈنشل اور كمرشل پلاٹ بک کروائیں، یہاں کی ہر سہولت ہے آپ کی منتظر ہے !
✅ ڈیویلپر ،چوہدری عبد المجید صاحب ہے۔
✅ اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے 3 منٹ کی دوری پر ۔
✅ راولپنڈی رنگ روڈ سے 0 منٹ کی دوری پر ۔
✅ موٹروے M 2 سے 0 منٹ کی دوری پر۔
✅ اسلام آباد سرینگر ہائی وے سے 5 منٹ کی دوری پر ۔
✅ ٹھلیاں انٹرچینج سے 0 منٹ کی دوری پر ۔
✅ 5 مرلہ ، 7 مرلہ ، 10 مرلہ ,14 مرلہ ،1 کنال اور 2 کنال کے رہائشی پلاٹس حاصل کرے
مزید تفصیلات کے لئیے ابھی رابطہ کریں
*Dehlez.com Property Marketing* *03139888735*

Dehlez.Com دہلیز.کام Property Marketing By Dehlez Group.The Name Of Trust & Quality...!Call/WhatsApp :00 92 313 9888 735
04/04/2025

Dehlez.Com دہلیز.کام Property Marketing By Dehlez Group.
The Name Of Trust & Quality...!
Call/WhatsApp :
00 92 313 9888 735

ایک دوست کا فون آیا ، کہنے لگا فلاں سوسائٹی میں پلاٹ لینا ہے ۔ میں نے کہا لے لو ۔۔۔کہنے لگا کیا مطلب ؟ میں نے کہا بھائی ...
13/03/2025

ایک دوست کا فون آیا ، کہنے لگا فلاں سوسائٹی میں پلاٹ لینا ہے ۔ میں نے کہا لے لو ۔۔۔کہنے لگا کیا مطلب ؟ میں نے کہا بھائی جب فیصلہ کر چکے ہو تو اس کا ملبہ مجھ پر کیوں ڈالنا چاہ رہے ہو ؟
کہنے لگا : قریشی تمہیں تجربہ ہے اس لیے مشورہ کر رہا ہوں ۔
میں نے سمجھایا : یار مجھ سے کنسلٹنسی لینی ہے تو یہ نہ کہو کہ فلاں جگہ پلاٹ لینا ہے ۔ پہلے کچھ سوالات کے جواب کلیئر کرو ۔ انویسٹمنٹ کتنی ہے تاکہ اس بجٹ کی رینج میں جو بہتر آپشن ہو ہم اسے سرکل کریں ۔ اگر بجٹ کا ایشو نہ ہو تو ڈی ایچ اے سے کم پر بات ہی کیوں کی جائے ؟
تمہارا جو بجٹ ہو گا ہم اس سرکل میں چیک کریں گے کہ اس رینج میں سب سے بہتر کون کون سی سوسائٹیاں ہیں ، پھر اپنی انویسٹمنٹ کو مقصد بتاؤ ؟ رہنے کے لیے پلاٹ لینا ہے تو تمہارے سرکل کے قریب کی سوسائٹیوں کو پہلی آپشن میں رکھیں گے ، تمہارے فیملی مزاج کو دیکھیں گے ، تمہیں درکار سہولیات کو مدنظر رکھیں گے پھر ان کے مطابق کوئی سوسائٹی سرکل کریں گے ، اگر انویسٹمنٹ کے پوائنٹ آف ویو سے لینا ہے تو پھر ایریا سرکل سے نکل کے اچھے منافع پر فوکس کریں گے کہ ایک مخصوص مدت کے بعد کہاں ری سیل میں زیادہ منافع مل سکتا ہے ۔ پھر یہ بات اہم ہے کہ انویسٹمنٹ کتنے عرصہ تک ہولڈ کر سکتے ہو اور کتنے عرصہ بعد بیچ کر رقم باہر نکالنی ہے ، اس کے مطابق مارکیٹ گرتھ کو فوکس کریں گے ۔ ایسے ہی مزید کچھ سوال ہیں ، پہلے مجھے وہ سب سمجھنے دو پھر پی مشورہ دے سکتا ہوں کہ کہاں انویسٹمنٹ کرنا تمہارے لیے بہتر ہے ۔ ایک ہی سوسائٹی میں کم بجٹ اور زیادہ بجٹ کی آپشن یوتی ہیں ۔ ڈیڈ زون اور پرافٹ زون ہوتے ہیں ۔ ڈیلر پرافٹ اور آئندہ یوزر پرافٹ رینج یوتی ہے ۔ ایسے پلاٹ/ فائل ہوتے ہیں جن میں ڈیلر کا منافع اچھا ہوتا ہے اور وہ کسٹمر کو بکنگ پر ہی اچھا خاصا ڈسکاؤنٹ دے دیتا ہے لیکن ان کی لوکیشن ایسی نکلتی ہے کہ ری سیل میں پرافٹ ڈیڈ ہوتا ہے، پرافٹ پر پلاٹ نکالنا مشکل ہوتا ہے ۔ دوسری جانب ایسی بکنگ فائل بھی ہوتی ہیں جن میں ڈیلر کا پرافٹ مارجن نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن لوکیشن ایسی نکلتی ہے کہ ری سیل پرافٹ مارجن بہت اچھا ہوتا ہے ۔ شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم کی اصطلاح انہی کے لیے ہے ۔ ایک پلاٹ کا نمبر 8 ، دوسرے کا تین سو اور تیسرے کا ایک ہزار نکلے تو آپ سمجھ سکتے ہیں ری سیل ویلیو کس کی ابھی ملے گی
پراپرٹی ڈیلر اور بزنس کنسلٹنٹ میں فرق ہوتا ہے ۔ تم نے فلاں سوسائٹی میں ہی پلاٹ لینا ہے تو وہاں کئی ڈیلر موجود ہیں ۔ تم نے رقم ڈوبنے سے بچانی ہے اور منافع کے ساتھ رقم باہر بھی نکالنی ہے تو کنسلٹنٹ سے بات کر لو یا معاملات اس کے ہاتھ میں دے دو کہ وہ اس رقم کو مناسب جگہ انویسٹ کرے یا اس کا پلان بنا کر دے ۔ اسی شہر میں ہمارے دوستوں کو ان کے پلاٹ کے قبضے مل رہے ہیں اور اسی شہر میں لوگ اشتہار بازی سے متاثر ہو کر اپنے کروڑوں روپے ڈبو چکے ہیں ۔ کس وقت ، کس جگہ کتنی انویسٹمنٹ کرنی ہے یہ بہت اہم ہے ۔ یہ پیسے محنت سے ایک عمر لگا کر کمائے جاتے ہیں ۔ ان کا ڈبل ہونا بہت ضروری ہے۔

محمد لیاقت قریشی

پارٹ ٹاہم ارننگ۔پتا ہے مستقل مزاجی کیا ہوتی ہے؟ پتا ہے معجزے کیسے رونما ہوتے ہیں؟جب ایک نوجوان اپنی سیلز مینی کی نوکری ک...
01/01/2025

پارٹ ٹاہم ارننگ۔

پتا ہے مستقل مزاجی کیا ہوتی ہے؟ پتا ہے معجزے
کیسے رونما ہوتے ہیں؟

جب ایک نوجوان اپنی سیلز مینی کی نوکری کے ساتھ ساتھ پراپرٹی رئیل اسٹیٹ کو سیکھنے کی کوشش کرتا ہے، روزانہ شام کو ٹائم نکال کے ہمارے ساتھ آ کے بیٹھتا ہے۔ کام سیکھتا ہے اور اپلائی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک مہینہ گزرتا ہے، دوسرا مہینہ، تیسرا مہینہ، کرتے
کرتے پورا سال گزر جاتا ہے۔

اس پورے سال میں اس نوجوان کے چہرے پہ مایوسی نہیں دیکھی، کبھی کوئی شکوہ نہیں سنا، صرف امید اور یقین کہ ایک دن نتیجہ ضرور نکلے گا۔

اور پھر پتا ہے ایک دن کیا ہوا؟

یہی نوجوان ۔۔۔ ہمارے آفس میں مین آف دی منتھ قرار پایا اور ایک ہی مہینے میں چھ بزنس ڈیلز کلوز کر کے پچھلے پورے سال کی تھکن اتار دی۔
آپ کس انتظار میں ہیں؟

بیچنے کے لیے پراپرٹی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کی شاندار پروڈکٹ آپ کے لیے حاضر ہے۔ سکھانے کے لیے ہم اور ہماری ٹیم آپ کے لیے حاضر ہے۔ خریدار کے طور پر پاکستان کی پچیس کروڑ آبادی آپ کے سامنے ہے۔ مدد کرنے اور معجزات رونما کرنے کے لیے خدائے بزرگ و برتر کی ذات اقدس موجود ہے۔

آخر انتظار کس چیز کا؟؟؟؟

Follow for Joining us in Property Real Estate Business 👇

Dehlez.com ... دہلیز.کام
Property Marketing
For More Details Call/WhatsApp !
03149888000



اسلام علیکم و رحمت اللہ و براکتہکیا کبھی سوچا ہے کہ بینک والے ساری دنیا کو گھر بنانے کے لیے قرض دیتے ہیں مگر خود اپنی بر...
21/11/2024

اسلام علیکم و رحمت اللہ و براکتہ

کیا کبھی سوچا ہے کہ بینک والے ساری دنیا کو گھر بنانے کے لیے قرض دیتے ہیں مگر خود اپنی برانچ کرائے کی جگہ پر کیوں کھولتے ہیں ہم آپ کو بتاتے ہیں کیونکہ رئیل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ آسان نہیں بہت ہی آسان پروفیشنل ٹیم شفاف ڈیلنگ مخلص مشورہ
بہترین کسٹمر سروس انویسٹمنٹ کم یا زیادہ مدت آپشنز صرف اور صرف دہلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ جو نام ہے آپ کے اعتماد کا آپ کا اعتماد ہی ہماری کامیابی ہے
اپنا پیسہ پرپراٹی میں لگائیں ایک روشن کل کی طرف ایک اور قدم اٹھائیں دہلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ کی فخریہ پیشکش رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری صرف پراپرٹیز خریدنے کا نام نہیں ہے اصل کام خریدی ہوئی جائیدادوں کو زیادہ قیمت پر بیچنا ہے ایک احتیاطی اندازے کے مطابق, دنیا کے 90 % ارب پتی افراد رئیل اسٹیٹ کی وجہ سے بنے ہیں آئیے آپ کو یہ طریقہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنا سرمایہ کیسے بڑھاتے ہیں وہ کم قیمت پر پلاٹ یا پراپرٹی خریدتے ہیں اور کسی ایسے شخص یا ادارے سے ہاتھ ملاتے ہیں جو ان کی جائیدادیں یا پلاٹ زیادہ قیمت پر فروخت کریں عام طور پر رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاروں کیلئے جائیدادیں یا پلاٹ خریدنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن اکثر ان کے پیسے پھنس جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس عام لوگوں کو فروخت کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی
یہاں اپ کو دہلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ کی ضرورت ہے ہم آپ کو سستے داموں پراپرٹی خریدنے کی پیشکش کرتے ہیں اور ہم اسے 90 سے 120 دنوں میں زیادہ قیمتوں پر فروخت کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پوری مدت کے دوران آپ کی خریدی گئی پرپراٹی کا قبضہ آپ کے پاس رہے گا محنت ہماری منافع آپ کا پیرمحل میں زرعی اراضی اور کمرشل پراپرٹی کی خریرو فردخت میں مکمل معاونت کسی بھی بھائی کو پراپرٹی کی ضرورت ھے دہلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ کے کسٹمڑ انویسٹر بنیں اور درست وقت پہ درست فیصلہ لیں ھم اور ہماری ٹیم ہمہ وقت اپنے کسٹمرز اور انویسٹرز کے ساتھ کھڑی ہے ہم آپ کی بہترین رہنمائی کیلئے ہر وقت موجود ہیں ہمارا ادارہ آپ کے ساتھ مکمل کوپریٹ کرے گا اور آپکو بہترین لوکیشن پر انویسٹمنٹ کروائے گا.
دہلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ
کال وٹس ایپ :
03149888000

‏زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصطلاحات کیا ہیں؟ اور وراثت کی تقسیم ؟ جانیے اس تحریر میں۔1- موضع ...
25/08/2024

‏زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصطلاحات کیا ہیں؟ اور وراثت کی تقسیم ؟
جانیے اس تحریر میں۔

1- موضع :
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے ۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو۔
4- خسرہ نمبر:
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
5- مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
6- جمعبندی:
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
7- گردوری:
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔
اہم نوٹ: زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔ مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں۔

‏شجرہِ نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟
محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز .......
ہر پاکستانی کسان کے لیے ضروری معلومات کیلئے لنک 👇

🌾🌴🌴🍀🍀🍃🍂🍁🌿🏕🏜🏝

👇👇

وارثت تقسیم کے مطابق اگر کوئی مسلمان مرد وفات ہو جائے اور اس کے بچے نہ ہو تو بیوی کو اس کے جائداد میں 1/4 حصہ ملے گا اور 3/4حصہ باقی قانونی وارثہ میں تقسیم کیا جائے گا اور اگر فوت شدہ کا حقیقی بھائی اس کے وفات کے بعد چند ماہ بعد وفات ہو جائے تو 3/4 میں سے 1/8حصہ اس بھائی کے بیوی کو حاصل ہوگا جبکہ 2/3اس کے بیٹیوں کو حاصل ہوگا آگر اس بیٹا نہ ہو تو 1/3 باقی قانونی وارثہ میں تقسیم کیا جائے گا

مکمل قانون وراثت اردو میں
(جائیداد کی تقسیم)

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.
(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے گا.

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.
(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.
(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.
(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے

اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.
(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا

اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گا.
(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے،

یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.
دعاگو۔ محمد فاروق خلجی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضر رساں نہ ہو.
(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ..
اسلامی قانون میں "عاق" کا کوئی تصور نہیں۔
اگر والدین اولاد کو عاق بھی کردیں تب بھی انکی وفات کے عاق کی گئی اولاد بھی وراثت کی حقدار ھو تی ہے

وارث مقدمات دو قسم کے ہوتے ہیں ان دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔ پہلی، ایسی صورتیں جن میں وارث یہ الزام لگاتا ہے کہ وراثت میں اس کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے اور وراثت کی تبدیلی میں اس کے حصہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اور دوسری وہ صورتیں جن میں ایسا وارث خاموش بیٹھا ہے، طویل عرصے کے اتپریورتن اندراجات کو چیلنج نہیں کرتا ہے۔ کھڑا ہوتا ہے، یا تسلیم کرتا ہے، اور صرف اس وقت آگے آتا ہے جب موضوع کی زمین میں فریق ثالث کے حقوق بنائے گئے ہوں---دوسری قسم کے مقدمات میں کامیابی کے لیے وارث کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ اسے محروم کیے جانے کا علم نہیں تھا، طویل عرصے سے جائیداد کے ریکارڈ کو چیلنج نہ کرنے کی وجوہات، اور خریدار اور بیچنے والے (ظاہر مالک) کے درمیان پیچیدگی ظاہر کریں یا یہ کہ خریدار کو وارث کی دلچسپی کا علم تھا پھر بھی زمین حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھا۔۔

بلوچستان ہائی کورٹ کا وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق تاریخی فیصلہ: ’اگر جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام نکال کر منتقل کی تو یہ عمل کالعدم ہو گا‘

بلوچستان کی ہائی کورٹ نے وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وراثت پہلے تمام شیئر ہولڈرز بشمول خواتین کے نام منتقل کی جائے اور پھر اس کے بعد اس کے انتقال کی کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اگر کوئی بھی جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام چھپا کر یا نکال کر منتقل کی گئی تو انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا اور سول عدالت سے رجوع کیے بغیر یہ سارا عمل پلٹا دیا جائے۔‘

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس کامران ملا خیل پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ ’خواتین کے حقوق کا تحفظ قرآن مجید میں کیا گیا ہے جس سے انکار کسی صورت نہیں کیا جاسکتا لہذا خواتین اپنے متوفی کی میراث میں حقدار ہیں۔‘

عدالت نے یہ حکم بلوچستان کے سینیئر وکیل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر صادر کیا۔

اس درخواست میں یہ کہا گیا تھا کہ وراثت میں خواتین کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سرکاری مدعا علیہان کو یہ حکم جاری کیا جائے کہ مووایبل اور ام مووایبل جائیداد میں خواتین کے حصے کو یقینی بنائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’فیصلے کی طرف جانے سے پہلے یہ بات ہمیں نوٹ کر لینی چاہیے کہ ہم اکیسویں صدی کا حصہ اور تعلیم یافتہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی خواتین شیئر ہولڈرز کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

عدالت نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں اور اسے روکیں۔‘

عدالت کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی خاتون حصہ دار کو اس کے حق سے دستبرداری نامہ، تحفے، دلہن کا تحفہ، نگہداشت الاؤنس، جبر یا کسی بھی ذریعے سے اس کے متوفی وارث کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ان وجوہات یا کسی بھی طرح خاتون وارث کو وراثت سے محروم کیا گیا تو اس کے انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا۔‘
دعاگو۔ محمد فاروق خلجی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
عدالت نے حکم دیا کہ بلوچستان بھر میں کہیں بھی سیٹلمنٹ کا عمل اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک یہ یقینی نہ بنایا جائے کہ خاتون وارثوں کے نام اس میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اگر کسی خاندان میں کوئی خاتون نہیں ہے تو ریونیو حکام متعلقہ تفصیلات میں خاص طور پر اس کا ذکر کریں گے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا کہ سیکریٹری یا سینیئر مم2023 YLR 675
وارثت تقسیم کے مطابق اگر کوئی مسلمان مرد وفات ہو جائے اور اس کے بچے نہ ہو تو بیوی کو اس کے جائداد میں 1/4 حصہ ملے گا اور 3/4حصہ باقی قانونی وارثہ میں تقسیم کیا جائے گا اور اگر فوت شدہ کا حقیقی بھائی اس کے وفات کے بعد چند ماہ بعد وفات ہو جائے تو 3/4 میں سے 1/8حصہ اس بھائی کے بیوی کو حاصل ہوگا جبکہ 2/3اس کے بیٹیوں کو حاصل ہوگا آگر اس بیٹا نہ ہو تو 1/3 باقی قانونی وارثہ میں تقسیم کیا جائے گا.

مکمل قانون وراثت اردو میں
(جائیداد کی تقسیم)

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.
(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.
دعاگو۔ محمد فاروق خلجی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے گا.

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.
(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.
(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.
دعاگو۔ محمد فاروق خلجی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر اور بیوی کو ہی حصہ ملے گا۔

*اچھی زندگی گزارنے کا ایک کلیہ یہ بھی ہے*

کہ جتنے مرضی بڑے عہدے پر پہنچ جائیں مگر کسی کو محسوس نہ ہونے دیں کہ آپ بڑے ہو ، خود کو سادہ اور عام رکھيں ، پرسکون رہیں گے،

*یاد رکھيں کہ آپ کا اَصل سٹیٹس یہی ہے کہ کوئی آپ کے سامنے بیٹھ کر خود کو حقیر نہ سمجھے"...*
🏕🏜🏝🏞🍂🍁🍁🌿🌾🌴🍀🍃💕💞💖

ایسی معلومات بہت ہی مشکل سے ملتی ہے اس لنک کو save کر لو
👇👇👇
کیا آپ اپنے شہر کی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تصویروں کے ساتھ ڈویژن ، ضلع ،تحصیل کونسل ، تو لنک کو وزٹ کرو ۔ انوکھی دلچسپ معلومات 👇👇
💖💕💕💕
آپ کی محبت کا بہت بہت شکریہ 👇👇
فار ڈٹیل کال وٹس ایپ :
دھلیز.کام پراپرٹی مارکیٹنگ
03139888735

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dehlez.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dehlez.com:

Share

Category