Aliesenterprises Naval Anchorage Islamabd

Aliesenterprises Naval Anchorage Islamabd Alies Enterprises Naval Anchorage, Islamabad Pakistan Deals in Real estate Residential /commercial
Land and Houses ,Buildings

Alies Enterprises Navalanchorage Islamabad

We are a real estate and builders company operating in Navalanchorage Islamabad
believe in customers satisfaction investing in well organised Pakistan Naval Officers Housing Scheme,to provide a comfortable living place to its Officers and men who dededicated their whole lives in serving and defending this nation and the motherland.,

Major Miraj Ali ( R)
CEO

20/12/2016
22/09/2016

میں یہاں روس کی خفیہ ایجنسی کے ۔جی۔بی کے ایک سابق افسر جو افغانستان میں بہت سے خفیہ آپریشنز میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں سے کئے گئے چند سوالات اور ان کے جوابات آپ سب سے شئیرکرنا چاہوں گا۔(یاد رہے یہ افسر آج بھی دفاعی حلقوں میں ایک مقام رکھتا ہے)
پاکستان اور افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں اس سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ افغانستان میں کامیاب ہو جائے گا؟
کیا امریکہ کی موجودہ پالیسیاں افغانستان کے لئے کامیاب ہیں؟
تو اس کا کہنا تھا ہم نے 10 سال افغانستان میں کام کیا بے شمار اسلحہ اور دولت خرچ کی۔ لیکن ہمیں کسی طور بھی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اب میں امریکہ کی موجودہ پالیسیوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا افغانستان میں وہی پرانا دور یاد آ جاتا ہے۔ میں پورے یقین سے کہ سکتا ہوں امریکہ افغانستان میں کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتا۔ امریکہ وہی غلطیاں دہرا رہا ہے جو ہم نے دہرائیں۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ اس وقت تو پاکستان نے اور آئی ایس آئی نے آپ کے خلاف امریکہ کی مدد کی تھی۔ لیکن آج پاکستان امریکہ کے حق میں ہے۔تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ امریکہ ناکام ہو؟
تو اس کا کہنا تھا بے شک اس میں کچھ شک نہیں کہ آئی۔ایس۔آئی اگر امریکہ کی مدد نہ کرتی تو روس کو افغانستان سے نکالنا ممکن نہیں تھا۔ اور آج بھی امریکہ کے لئے یہی آئی۔ایس۔آئی ہی دردِ سر ہے۔ امریکہ جتنا مرضی زور ڈال لے میں پورے یقین سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ آئی۔ایس۔آئی کسی طور بھی دل سے امریکہ کے لئے کام کرنے کی حامی نہیں بھر سکتی۔ ہمارے دور میں بھی یہی بات تھی آئی۔ایس۔آئی نے کبھی امریکہ سے ڈکٹیشن نہیں لی بلکہ وہ اپنے منصوبے خود بناتی اور اس پر عمل کرتی تھی۔ آئی۔ایس۔آئی ایسی کٹر پاکستانی ایجنسی ہے جو کسی قیمت پر اپنے مفادات کا سودا نہیں کر سکتی۔اور امریکی مفادات اس وقت پاکستانی مفادات سے براہِ راست ٹکرا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں آئی۔ایس۔آئی کے بارے میں کہنا کہ وہ امریکہ کی مدد کرے گی میرے نزدیک سب سے زیادہ مذحقہ خیز بات ہے۔ اور ایسی صورت میں امریکہ کی جیت کے امکان صفر ہو جاتے ہیں۔
امریکہ پاکستان کی آئی۔ایس۔آئی اور ایٹمی اثاثوں کے بارے میں خاصہ فکر مند رہتا ہے۔اس کی کوئی خاص وجہ؟
جہاں تک آئی۔ایس۔آئی سے نالاں ہونے کی بات ہے تو میں پہلے بتا چکا کہ امریکہ آئی۔ایس۔آئی کو اپنے تابع نہیں کر سکتا۔اور جہاں تک میرا واسطہ رہا ہے آئی۔ایس۔آئی حیران کن طور پر انتہائی تیز اور طاقتور تنظیم کے طور پر ہمارے سامنے آئی۔ ہمارے انتہائی کامیاب منصوبوں کو جس طرح اس نے ثبوتاز کیا یہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اور غالبآ اب بھی آئی۔ایس۔آئی امریکہ کے بہت سے منصوبوں کی رکاوٹ بن رہی ہے۔ اور اس کی کامیاب منصوبہ بندی کے سامنے امریکہ اپنے بیشتر منصوبے گنوا چکا ہے۔ اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میرے ذرائع کے مطابق سی۔آئی۔اے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں بہت سے منصوبوں پر کام کر رہی تھی۔اور وہ یقینا اپنے بہت سے منصوبے گنوا چکی ہو گی۔ تبھی آئی۔ایس۔آئی امریکی عتاب کا شکار ہے۔ رہی بات ایٹمی اثاثوں کی تو میرے نزدیک پاکستان کے ایٹمی ہتھیار امریکہ سے زیادہ مضبوط ہاتھوں میں ہیں۔ اس لئے کم ازکم مجھے تشویش نہیں کہ یہ ہتھیار طالبان یا امریکہ میں سے کوئی بھی ہتھیا سکتا ہے۔اور یہ بات امریکہ بھی بخوبی جانتا ہے۔
امریکہ کہتا ہے کہ طالبان پاکستان کے لئے خطرہ ہیں کیا واقعی ایسا ہے؟
ہرگز نہیں طالبان کی جو اصل طاقت ہے وہ افغانستان میں مصروف عمل ہے۔پاکستان کے طالبان ان طالبان کا حصہ نہیں جو افغانستان میں لڑ رہے ہیں۔ پاکستانی طالبان ایک خاص منصوبے کے تحت بنائے گئے ہیں۔تاکہ پاک فوج ان کے خلاف لڑے اور افغانستان میں موجود طالبان انہیں اپنا ہمدرد خیال کر کے امریکہ سے لڑنے کی بجائے اپنی طاقت پاکستانی طالبان کے ساتھ بانٹ لیں۔ اصل میں یہ بھی سی آئی اے کا ہی ایک منصوبہ ہے۔ ہم نے بھی ایسے بہت سے منصوبے بنائے تھے۔ بم دھماکے کروانا لوگوں کو خرید کر ان سے کام لینا۔اب وہی سب سی آئی اے کر رہی ہے۔
آپ کے مطابق پاکستان میں بم دھماکے سی آئی اے کروا رہی ہے۔ جبکہ اس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان اپنے سر لیتی ہے۔
ایسا ہی ہوتا ہے ہم افغانستان میں تھے تو ہم نے بھی ایسے ہی لوگوں سے کام لیا تھا۔ اس وقت ہمارے لئے را نے بہت مفید کام سر انجام دیا۔آج بھی را امریکہ کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے۔آپ کا کیا خیال ہے اتنا دھماکہ خیز مواد کسی جنرل سٹور سے مل جاتا ہے؟۔پاکستان میں کیا یہ بارود کاشت کیا جا رہا ہے؟ ہرگز نہیں اس سارے کام میں ہمیشہ تیسرا ہاتھ ملوث ہوتا ہے۔جو چہرے سامنے ہوتے ہیں وہ ڈمی ہوتے ہیں۔ امریکہ سیاسی طور پر ہر دھماکے کی مزمت کرے گا لیکن اصل میں یہ کام اس کی ہی ایجنسی سر انجام دے رہی ہے۔ ہم بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں اس لئے یہ بات ہمارے لئے قطعآ قابلِ قبول نہیں کہ پاکستانی طالبان جو ابھی کل کی پیداوار ہیں ایسے دھماکے کر سکتے ہیں۔
لیکن امریکہ پاکستان کو اپنا اتحادی کہتا ہے تو پھر کیوں وہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہے؟
پچھلے دنوں میری ایک امریکی فوجی آفیسر سے اس مسئلے پرکھل کر بات ہوئی۔ اور کچھ تعلقات کی بنا پر میں اس سے کچھ باتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد افغانستان میں رہ کر چین پر نظررکھنا ہے۔ اور پاکستان اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔جب تک پاکستان کمزور نہیں ہوتا ہم مستقل بنیادوں پر افغانستان کو اپنا اڈا نہیں بنا سکتے۔ میں نے کہا کہ پاکستانی حکمران تو آپ کے ساتھ ہیں پھر آپ اسے مسائل کا شکار کیوں بنا رہے ہیں؟۔تو اس کا کہنا تھا کہ ہمیں حکمرانوں نہیں سب سے بڑا خطرہ پاک فوج سے ہے۔وہ کسی صورت بھی خطے میں ہماری زیادہ دیر موجودگی برداشت نہیں کرے گی۔ اور یہ فوج اس وقت دنیا کی بہترین فوج ہے جو ہر طرح کے حالات میں آپریشنز سر انجام دے سکتی ہے۔ پاک فوج خطے کی سب سے بڑی قوت ہے جو اسلامی ممالک کے لئے ایک احساس تحفظ اور چین کے لئے قوت کا باعث ہے۔ اور اب یہ فوج 80 کی دہائی سے دو گناہ زیادہ مضبوط اور زیادہ تربیت یافتہ ہے۔ یوں میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو شکست سے دوچار کرنے والی فوج ہمارے سامنے دوگناہ طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ ایسی صورت میں ہمارے پاس واحد راستہ ہے کہ کسی طرح پاک فوج کو اتنا کمزور کر دیا جائے یا تھکا دیا جائے کہ یہ ہمارے منصوبوں میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ اس لئے ہر جانب سے خفیہ منصوبوں کے تحت پاک فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن اس بار ہم پھر ناکام ہوتے نظر آتے ہیں اس لئے مجبورآ ہمیں سیاسی طور پر پاک فوج کی کامیابیوں پر اسے مبارک باد دینی پڑ رہی ہے۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس واقعی ایسی قیمتی اور نایاب طاقت موجود ہے کہ ہر عالمی طاقت کو اس سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔پہلے ہم اس کے ہاتھوں انجام کو پہنچے اور اب امریکہ اسی صورتِ حال سے دوچار ہے۔
اس لئے میں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کہ پاکستان میں کچھ تو ہے کہ دوسری عالمی طاقت اس کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہے۔
(یہ اپنے وقت کی طاقت ور ترین خفیہ ایجنسی کے افسر کے جوابات تھے۔ جو بلاشبہ پاکستان کے لئے ایک اعزاز ہے۔کہ دشمن ہماری صلاحیتوں کا اعتراف کررہا ہے

18/09/2016

ی ۱۹۸۶ء تک کا زمانہ مسقط (عمان) کی فوج میں بطور ایک اکائونٹنٹ گزرا، وہاں ہمارے ساتھ ایک رشید صاحب بھی ہوا کرتے تھے، وہ حافظ آباد کے قریب واقع کسی گائوں کے رہنے والے تھے، وہ وقتاً فوقتاً گائوں کا چکر لگاتے رہتے تھے، وہ اکثر ایک حکیم صاحب کا ذکر کرتے، ان حکیم صاحب کی باتیں کچھ عجیب سی تھیں۔ مجھے بھی آج تک یاد ہیں۔ حکیم صاحب کا گائوں گکھڑ سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔

حکیم صاحب کا بچپن اپنے دادا کی گود میں گزرا تھا، ان کے والد اُن کی پیدائش سے قبل انتقال فرما گئے تھے، دادا نے بچپن ہی سے عبدالحکیم کو یہ سبق پڑھانا شروع کر دیا کہ اللہ کہتا ہے میں نے انسانوں اور جنوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ عبادت میں سے صرف وہ وقت اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا جو اس کے دیے ہوئے رزق کی تلاش کرنے میں لگے گا اور جو وقت انسان کے بس سے باہر ہے جیسے سونا، آرام کرنا، وغیرہ وغیرہ۔

گائوں میں گھر کا کافی بڑا صحن تھا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ گھر کے گرد کوئی چار دیواری بھی نہ تھی۔ گھر میں ایک طرف بڑے بڑے درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔ صبح شام دنیا جہان کی چڑیاں وہاں آ کر جمع ہوجاتیں اور چیں چیں کرکے آسمان سر پر اُٹھا لیتیں۔ صبح فجر ادا کرکے آپ ننھے حکیم کو گود میں لٹا کر ایک چارپائی پر بیٹھ جاتے اور چڑیوں کی آواز سے آواز ملانے کی کوشش کرتے۔ کہا کرتے یہ کہہ رہی ہیں ’’رازق، رازق، تو ہی رازق۔‘‘ گھر میں اکثر کہا کرتے کہ یہ اپنے دل میں دعا مانگ سکتی تھیں جیسے دنیا کے باقی سیکڑوں ہزاروں جانور مانگتے ہیں۔ لیکن انسان کو احساس دلانے کے لیے اللہ نے ان کو بآواز بلند روز کا رزق روز صبح مانگنے کا حکم دیا۔

عبدالحکیم کو سمجھاتے رہتے کہ ہمارے بزرگوں نے اور ہم نے تو خدا سے چڑیوں کی طرح رزق مانگ کر زندگی گزار لی اور بڑے سکھی رہے۔ تم بھی یہ راہ اختیار کرو گے تو زندگی بڑے سکون سے گزر جائے گی۔

شام کو داداجان عصر کی نماز کے بعد پھر چڑیوں کے ساتھی بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے۔ وہ کہا کرتے غور کرو وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ مجھے تو یہی سمجھ آتا ہے کہ کہہ رہی ہوں ’’شکر شکر مولا تیرا شکر‘‘ یعنی تو نے ہماری صبح کی دعائوں کو شرفِ قبولیت بخشا اور ہمیں اتنا رزق دیا کہ ہم کھا بھی نہ سکے۔

عبدالحکیم صاحب کا گکھڑ میں جی ٹی روڈ پر مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ گرمیوں میں ۸ بجے اور سردیوں میں ۹ بجے دکان لازماً کھل جاتی تھی لیکن دکان بند ہونے کا کوئی مقررہ وقت نہیں تھا۔ کہا کرتے تھے جب کھاتہ مکمل ہوگیا، دنیاداری کا وقت ختم ہوگیا۔

رشید بتاتا کہ کھاتے کا بھی بڑا دلچسپ چکر تھا۔ حکیم صاحب صبح بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کے لیے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آ کر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں۔ اُن کے سامنے اُن چیزوں کی قیمت درج کرتے، پھر اُن کا ٹوٹل کرتے۔ پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آ بیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دے گا۔ میں اُسی وقت یہاں سے اُٹھ جائوں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو، کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہو کر واپس اپنے گائوں چلے جاتے۔

ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کے لیے چِٹ کھولی تو وہ چِٹ کو دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ اُن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا، بیٹی کے جہیز کا سامان۔ کچھ دیر سوچتے رہے پھر باقی چیزوں کی قیمت لکھنے کے بعد جہیز کے سامنے لکھا ’’یہ اللہ کا کام ہے اللہ جانے۔‘‘

ایک دو مریض آئے ہوئے تھے۔ اُن کو حکیم صاحب دوائی دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی سی کار اُن کے مطب کے سامنے آ کر رکی۔ حکیم صاحب نے کار یا صاحبِ کار کو کوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ کئی کاروں والے ان کے پاس آتے رہتے تھے۔

دونوں مریض دوائی لے کر چلے گئے۔ وہ سوٹڈبوٹڈ صاحب کار سے باہر نکلے اور سلام کرکے بنچ پر بیٹھ گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے اپنے لیے دوائی لینی ہے تو ادھر سٹول پر آجائیں تاکہ میں آپ کی نبض دیکھ لوں اور اگر کسی مریض کی دوائی لے کر جانی ہے تو بیماری کی کیفیت بیان کریں۔

وہ صاحب کہنے لگے حکیم صاحب میرا خیال ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ لیکن آپ مجھے پہچان بھی کیسے سکتے ہیں؟ کیونکہ میں ۱۵، ۱۶ سال بعد آپ کے مطب میں داخل ہوا ہوں۔ آپ کو گزشتہ ملاقات کا احوال سناتا ہوں پھر آپ کو ساری بات یاد آجائے گی۔ جب میں پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا تو وہ میں خود نہیں آیا تھا۔ خدا مجھے آپ کے پاس لے آیا تھا کیونکہ خدا کو مجھ پر رحم آگیا تھا اور وہ میرا گھر آباد کرنا چاہتا تھا۔ ہوا اس طرح تھا کہ میں لاہور سے میرپور اپنی کار میں اپنے آبائی گھر جا رہا تھا۔ عین آپ کی دکان کے سامنے ہماری کار پنکچر ہو گئی۔

ڈرائیور کار کا پہیہ اتار کر پنکچر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ میں گرمی میں کار کے پاس کھڑا ہوں۔ آپ میرے پاس آئے اور آپ نے مطب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ادھر آ کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔
ڈرائیور نے کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی بھی یہاں آپ کی میز کے پاس کھڑی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی ’’چلیں ناں، مجھے بھوک لگی ہے۔ آپ اُسے کہہ رہے تھے بیٹی تھوڑا صبر کرو ابھی چلتے ہیں۔

میں نے یہ سوچ کر کہ اتنی دیر سے آپ کے پاس بیٹھا ہوں۔ مجھے کوئی دوائی آپ سے خریدنی چاہیے تاکہ آپ میرے بیٹھنے کو زیادہ محسوس نہ کریں۔ میں نے کہا حکیم صاحب میں ۵،۶ سال سے انگلینڈ میں ہوتا ہوں۔ انگلینڈ جانے سے قبل میری شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم ہوں۔ یہاں بھی بہت علاج کیا اور وہاں انگلینڈ میں بھی لیکن ابھی قسمت میں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔

آپ نے کہا میرے بھائی! توبہ استغفار پڑھو۔ خدارا اپنے خدا سے مایوس نہ ہو۔ یاد رکھو! اُس کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں۔ اولاد، مال و اسباب اور غمی خوشی، زندگی موت ہر چیز اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی حکیم یا ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دوا میں شفا ہوتی ہے۔ شفا اگر ہونی ہے تو اللہ کے حکم سے ہونی ہے۔ اولاد دینی ہے تو اُسی نے دینی ہے۔

مجھے یاد ہے آپ باتیں کرتے جا رہے اور ساتھ ساتھ پڑیاں بنا رہے تھے۔ تمام دوائیاں آپ نے ۲ حصوں میں تقسیم کر کے ۲ لفافوں میں ڈالیں۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ میرا نام محمد علی ہے۔ آپ نے ایک لفافہ پر محمدعلی اور دوسرے پر بیگم محمدعلی لکھا۔ پھر دونوں لفافے ایک بڑے لفافہ میں ڈال کر دوائی استعمال کرنے کا طریقہ بتایا۔ میں نے بے دلی سے دوائی لے لی کیونکہ میں تو صرف کچھ رقم آپ کو دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب دوائی لینے کے بعد میں نے پوچھا کتنے پیسے؟ آپ نے کہا بس ٹھیک ہے۔ میں نے زیادہ زور ڈالا، تو آپ نے کہا کہ آج کا کھاتہ بند ہو گیا ہے۔

میں نے کہا مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔ اسی دوران وہاں ایک اور آدمی آچکا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ کھاتہ بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آج کے گھریلو اخراجات کے لیے جتنی رقم حکیم صاحب نے اللہ سے مانگی تھی وہ اللہ نے دے دی ہے۔ مزید رقم وہ نہیں لے سکتے۔ میں کچھ حیران ہوا اور کچھ دل میں شرمندہ ہوا کہ میرے کتنے گھٹیا خیالات تھے اور یہ سادہ سا حکیم کتنا عظیم انسان ہے۔ میں نے جب گھر جا کربیوی کو دوائیاں دکھائیں اور ساری بات بتائی تو بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا وہ انسان نہیں کوئی فرشتہ ہے اور اُس کی دی ہوئی ادویات ہمارے من کی مراد پوری کرنے کا باعث بنیں گی۔ حکیم صاحب آج میرے گھر میں تین پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔

ہم میاں بیوی ہر وقت آپ کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ جب بھی پاکستان چھٹی آیا۔ کار اِدھر روکی لیکن دکان کو بند پایا۔ میں کل دوپہر بھی آیا تھا۔ آپ کا مطب بند تھا۔ ایک آدمی پاس ہی کھڑا ہوا تھا۔ اُس نے کہا کہ اگر آپ کو حکیم صاحب سے ملنا ہے تو آپ صبح ۹ بجے لازماً پہنچ جائیں ورنہ اُن کے ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اس لیے آج میں سویرے سویرے آپ کے پاس آگیا ہوں۔
محمدعلی نے کہا کہ جب ۱۵ سال قبل میں نے یہاں آپ کے مطب میں آپ کی چھوٹی سی بیٹی دیکھی تھی تو میں نے بتایا تھا کہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنی بھانجی یاد آرہی ہے۔

حکیم صاحب ہمارا سارا خاندان انگلینڈ سیٹل ہو چکا ہے۔ صرف ہماری ایک بیوہ بہن اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان میں رہتی ہے۔ ہماری بھانجی کی شادی اس ماہ کی ۲۱ تاریخ کو ہونا تھی۔ اس بھانجی کی شادی کا سارا خرچ میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ ۱۰ دن قبل اسی کار میں اسے میں نے لاہور اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیجا کہ شادی کے لیے اپنی مرضی کی جو چیز چاہے خرید لے۔ اسے لاہور جاتے ہی بخار ہوگیا لیکن اس نے کسی کو نہ بتایا۔ بخار کی گولیاں ڈسپرین وغیرہ کھاتی اور بازاروں میں پھرتی رہی۔ انارکلی میں پھرتے پھرتے اچانک بے ہوش ہو کر گری۔ وہاں سے اسے میوہسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس کو ۱۰۶ ڈگری بخار ہے اور یہ گردن توڑ بخار ہے۔ وہ بے ہوشی کے عالم ہی میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی۔

اُس کے فوت ہوتے ہی نجانے کیوں مجھے اور میری بیوی کو آپ کی بیٹی کا خیال آیا۔ ہم میاں بیوی نے اور ہماری تمام فیملی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی بھانجی کا تمام جہیز کا سامان آپ کے ہاں پہنچا دیں گے۔ شادی جلد ہو تو اس کا بندوبست خود کریں گے اور اگر ابھی کچھ دیر ہے تو تمام اخراجات کے لیے رقم آپ کو نقد پہنچا دیں گے۔ آپ نے ناں نہیں کرنی۔ آپ اپنا گھر دکھا دیں تاکہ سامان کا ٹرک وہاں پہنچایا جا سکے۔

حکیم صاحب حیران و پریشان یوں گویا ہوئے ’’محمدعلی صاحب آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا، میرا اتنا دماغ نہیں ہے۔ میں نے تو آج صبح جب بیوی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چِٹ یہاں آ کر کھول کر دیکھی تو مرچ مسالہ کے بعد جب میں نے یہ الفاظ پڑھے ’’بیٹی کے جہیز کا سامان‘‘ تو آپ کو معلوم ہے میں نے کیا لکھا۔ آپ خود یہ چِٹ ذرا دیکھیں۔ محمدعلی صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ’’بیٹی کے جہیز‘‘ کے سامنے لکھا ہوا تھا ’’یہ کام اللہ کا ہے، اللہ جانے۔‘‘

محمد علی صاحب یقین کریں، آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ بیوی نے چِٹ پر چیز لکھی ہو اور مولا نے اُس کا اسی دن بندوبست نہ کردیا ہو۔ واہ مولا واہ۔ تو عظیم ہے تو کریم ہے۔ آپ کی بھانجی کی وفات کا صدمہ ہے لیکن اُس کی قدرت پر حیران ہوں کہ وہ کس طرح اپنے معجزے دکھاتا ہے۔

حکیم صاحب نے کہا جب سے ہوش سنبھالا ایک ہی سبق پڑھا کہ صبح ورد کرنا ہے ’’رازق، رازق، تو ہی رازق‘‘ اور شام کو ’’شکر، شکر مولا تیرا شکر۔‘‘

Eid Mubarak
06/07/2016

Eid Mubarak

11/05/2016

Phase 9 block E plot 663 DHA Lahore for sale

10/04/2016

SOLD OUT
House 810 street 40 Phase 7 Bahria ,Rawalpindi,
Grey Structure for sale

01/03/2016

O/S phase 6 plot 812 back open Dem 65

Address

NAVAL ANCHORAGE ISLAMABAD
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00
Sunday 09:00 - 20:00

Telephone

+92515159821

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aliesenterprises Naval Anchorage Islamabd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aliesenterprises Naval Anchorage Islamabd:

Share