04/07/2023
جب ہم گناہ یا زیادتی کرتے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ بھی ہمیں اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں ؟
جب مالک ہم کو معاف کر دیتا ہے تو ہمیں بھی چاہیے ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﯿﮑﮭﯿﮟ
ﻏﻠﻄﯿﺎﮞ ہم سے بھی ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ
( 34 ) فصلت - الآية 34
اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے
سوچیں کتنی بڑی ضمانت دی ہے اللَّه تبارک و تعالٰی نے،
کیا اس کے بعد بھی ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی سوچ رکھنے میں حق بجانب ہیں؟؟؟
جب کوئی آپ سے برائی کرے تو جواب میں اس سے بدلہ لینے کا نہ سوچیں کیونکہ اللہ کا پیغام ہے کہ نیکی اور بدی ایک جیسی نہیں ہوتی ، اس لئے نیک اور بد بھی ایک جیسے نہیں ہوتے، کسی سے بدلہ لینے کی خواہش میں اس جیسا بننے کی کوشش نہ کریں ، بلکہ بھلائی سے ہی برائی کو ختم کریں۔
اللہ تبارک و تعالٰی ہمیں عفو ودرگز کرنے کی توفیق عطا فرمائے
اور ہمارے ساتھ بھی عفو ودرگز کا معاملہ فرمائے آمین یا رب العالمین۔
نشــــر مکـــرر