15/05/2026
ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں 122 گرام سونا National Bank of Pakistan کی کروڑ پکا برانچ میں بطور امانت/گولڈ لون جمع کروایا تھا۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد ہم نے 2021 میں پورا لون کلیئر کر دیا، لیکن اس کے باوجود بینک انتظامیہ ہمیں مسلسل مختلف بہانوں سے تنگ کرتی رہی۔ کبھی نئے کاغذات مانگے گئے، کبھی کہا گیا کل آؤ، کبھی پرسوں آؤ۔
ہم نے عدالت سے 2025 میں سیکسیشن سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے، مگر پھر بھی ہمیں ہمارا حق نہیں دیا گیا۔
جب ہم اپنا سونا واپس لینے کے لیے بینک گئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارا اصل 122 گرام سونا تبدیل کر کے فروخت کیا جا چکا ہے اور ہمیں فیک/جعلی گولڈ دکھایا گیا، جسے ہم نے لینے سے انکار کر دیا۔ اب کروڑ پکا برانچ کے بعض اہلکار ہمیں دباؤ، دھمکیوں اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ ہم خاموش رہیں۔
یہ صرف ہمارے خاندان کے ساتھ ظلم نہیں بلکہ عوام کی امانت کے ساتھ سنگین دھوکہ ہے۔ اگر قومی بینک میں لوگوں کی امانت محفوظ نہیں تو عام شہری کس پر اعتماد کرے؟
ہم Maryam Nawaz وزیراعلیٰ پنجاب، Shehbaz Sharif پرائم منسٹر آف پاکستان، State Bank of Pakistan اور National Bank of Pakistan سے اپیل کرتے ہیں کہ:
* اس معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کی جائے۔
* ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
* ہمارا اصل 122 گرام سونا فوری واپس کیا جائے۔
* ہمیں ہراساں اور بلیک میل کرنے والے عناصر کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
ہمیں انصاف دیا جائے۔