07/05/2026
*بریکنگ نیوز*
*سیکشن 7E ٹیکس کالعدم قرار!*
فیڈرل آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 7E کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دے دیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے سیکشن 7E کے تحت کیے گئے تمام اقدامات کو *کالعدم* قرار دے دیا گیا ہے۔
*فیصلے کے اہم نکات*
- *ایف سی سی* نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 7E کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے۔
- سیکشن 7E کی بحالی کے لیے *ایف بی آر کی جانب سے دائر کردہ اپیلیں* مسترد کر دی گئی ہیں۔
- *ایف بی آر* کی جانب سے سیکشن 7E کے تحت کیے گئے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
- سیکشن 7E نے غیر منقولہ جائیدادوں، بشمول غیر استعمال شدہ پلاٹوں پر، *فرضی انکم ٹیکس* عائد کیا تھا۔
- *پی ایچ سی اور بی ایچ سی* نے اسے پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ *آئی ایچ سی اور ایل ایچ سی* نے اسے برقرار رکھا تھا۔ آئینی عدالت نے شہریوں کے حق میں فیصلہ دیا۔
- تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد *30 اپریل* کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔
*ایک تاریخی فیصلہ*
یہ فیصلہ پاکستان بھر میں جائیداد کے مالکان، سرمایہ کاروں اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے انتہائی ضروری ریلیف لایا ہے۔
انصاف، جائیداد کے حقوق اور معاشی ترقی کی جیت!