zindagi ki Haqeeqat

zindagi ki Haqeeqat Mera life mera style

05/07/2026
یہ لاہور ہائیکورٹ کا جج جسٹس مسعود عابد نقوی ہے اور یہ کل مؤرخہ 03 جولائی 2026 کو ریٹائر ہوگیا ہےاس نے 12 سال بطور جج کا...
05/07/2026

یہ لاہور ہائیکورٹ کا جج جسٹس مسعود عابد نقوی ہے اور یہ کل مؤرخہ 03 جولائی 2026 کو ریٹائر ہوگیا ہے
اس نے 12 سال بطور جج کام کیا ہے اور 12 سالوں میں اس نے صرف 69 فیصلے دئیے ہیں، اگر ان کی ماہانہ تنخواہ کے حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان کی قوم کو انکا ایک فیصلہ تقریباً 1 کروڑ روپیوں میں پڑا ہے
اب جج صاحب ریٹائر ہوگئے ہیں تو آج سے اِن کو 20 لاکھ روپے پینشن، 150 لیٹر ماہانہ مفت پیٹرول، 800 یونٹ ماہانہ مفت بجلی، پانی کی مفت فراہمی، 800 ماہانہ مفت لوکل کالز، اور ڈرائیور ملے گا، یہ سہولیات جج صاحب کے ساتھ اِن کی قبر میں جانے تک چلیں گی
اب اگر ریٹائرمنٹ کے بعد کسی ٹریبونل کے رکن منتخب ہوگئے تو یہ ساری سہولیات اور مراعات ڈبل ہوجائیں گی
میرے پاکستانیوں برداشت کرو 🤦🧑‍🦲🤲

سیول ہسپتال کوئٹہ کے باہر یہ منظر صرف ایک تصویر نہیں، ایک خاندان پر ٹوٹنے والی قیامت کی خاموش گواہی ہے… 💔ایک خاتون، شوہر...
28/06/2026

سیول ہسپتال کوئٹہ کے باہر یہ منظر صرف ایک تصویر نہیں، ایک خاندان پر ٹوٹنے والی قیامت کی خاموش گواہی ہے… 💔

ایک خاتون، شوہر کے خون سے رنگے کپڑے، دو معصوم بچیاں ساتھ، اور چہرے پر ایسا سناٹا جیسے الفاظ بھی ساتھ چھوڑ گئے ہوں۔ شاید اس لمحے دل میں صرف ایک سوال گونج رہا ہو:
آخر ہمارا قصور کیا تھا؟

کراچی سے خوشیوں، سفر اور یادوں کی امید لے کر نکلنے والا ایک خاندان، واپسی پر ایسا درد لے آیا جس کا تصور بھی مشکل ہے۔ کسی بھی نظریے، کسی بھی اختلاف یا کسی بھی مقصد کے نام پر بے گناہوں کی جان لینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ بچوں کے سامنے ان کے والد کو چھین لینا کوئی بہادری 😭نہیں، صرف ایک انسانی المیہ ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، اہلِ خانہ کو صبر دے، اور ہمارے وطن کو امن، رحم اور انسانیت کی طرف لے جائے۔
سفر میں احتیاط کریں، ایک دوسرے کا خیال رکھیں، اور دعا کریں کہ کسی گھر پر ایسا دن دوبارہ نہ آئے😭۔ 🇵🇰🕊️

ملیشیا میں سال کے 365 دن بارش ہوتی رہتی ہے لیکن ملیشیا کبھی نہیں ڈوبا یہ پاکستان کے ڈفر حکمران ہے جو عوام کو اس بات پر د...
20/08/2025

ملیشیا میں سال کے 365 دن بارش ہوتی رہتی ہے لیکن ملیشیا کبھی نہیں ڈوبا یہ پاکستان کے ڈفر حکمران ہے جو عوام کو اس بات پر دلاسہ دیتے ہیں کہ بارش کا پانی روکنا کسی کے اختیار میں نہیں جب آپکے ملک کا انفراسٹرکچر بہترین ہو گا سڑکوں کو اچھے سے بنایا جائے گا سیورج کا نظام اچھا ہو گا تو سڑک پر پانی کبھی نہیں کھڑا ہو گا ۔۔۔ہاں یہ بات الگ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں صورتحال مختلف ہوتی ہے لیکن کراچی جیسے شہر کو ڈوبتا دیکھ کر کراچی والوں پر ترس کے سوا کچھ نہیں آتا ایک تو وہاں پچھلے 50 سالوں سے بھٹو زندہ ہے جو کسی دوسرے کو آنے نہیں دے رہا

اور پاکستان میں کوئی عام آدمی اپنے نانا کی ذات کا استعمال کرے تو اسے جاہل کہا جاتا ہے کہ ذات تو باپ سے ملتی ہے لیکن کراچی جیسے شہر کی خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ وہاں بلاول زرداری نہیں بلاول بھٹو ہے ❤️

"اگر عورت اپنے مرد کو کماتا دیکھ لے..."اگر ایک عورت، اپنے شوہر کو صبح سویرے بستر چھوڑ کر رزقِ حلال کی تلاش میں نکلتے، گر...
20/08/2025

"اگر عورت اپنے مرد کو کماتا دیکھ لے..."

اگر ایک عورت، اپنے شوہر کو صبح سویرے بستر چھوڑ کر رزقِ حلال کی تلاش میں نکلتے، گرمی، سردی، تھکن، اور ٹریفک جھیلتے، کبھی تنقید، کبھی بے عزتی سہتے، اور شام کو تھکا ہارا لوٹتے دیکھ لے...

اگر وہ اسے اپنے جوتے گھستے، پسینے میں بھیگے کپڑوں میں، خالی جیب کے باوجود بچوں کے لیے مسکراتے، اپنی خواہشات کو مار کر بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرتے دیکھ لے...

تو اگر اس عورت کے اندر انسانیت ہے، محبت ہے، احساس ہے — تو وہ اپنی ساری توجہ بچوں سے زیادہ اپنے شوہر پر دے گی۔

کیوں؟

کیونکہ بچے تو اس کی مامتا کے سائے میں پلتے ہیں، مگر وہ مرد... وہ ایک دن بھی بیمار ہو جائے، کام نہ کرے، تو سارا گھر رک جاتا ہے۔

بیوی اگر سمجھدار ہو تو جانتی ہے کہ اس کے شوہر کی تھکن، خاموشی، اور کبھی کبھی کا غصہ — اصل میں دنیا کے دباؤ، مجبوریوں اور تنہائی کا نتیجہ ہے۔

آج کے دور میں جہاں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، جہاں مرد ایک وقت کی روٹی کے لیے کئی جگہ جھکتا ہے — وہاں عورت کا فرض ہے کہ وہ شوہر کو صرف "پیسہ لانے والی مشین" نہ سمجھے۔

بلکہ وہ اس کا حوصلہ بنے، اس کا سکھ چین بنے۔
جب وہ شام کو گھر آئے، تو بیوی کی مسکراہٹ اس کا سکون ہو، اور بچے اس کی طاقت۔

ایسی عورتیں ہی گھر کو جنت بناتی ہیں۔
ایسی بیویاں ہی مرد کو ٹوٹنے نہیں دیتیں۔

یہ بہت دور کی بات نہیں،یہ 1930 کی بالکل اوریجنل تصویر ہے،جس میں ایک ”گورا“مغربی بنگال کی ایک غریب عورت پر سواری کر رھا ہ...
20/04/2025

یہ بہت دور کی بات نہیں،
یہ 1930 کی بالکل اوریجنل تصویر ہے،
جس میں ایک ”گورا“
مغربی بنگال کی ایک غریب عورت پر سواری کر رھا ہے۔

آج ایسٹ انڈیا کمپنی کے یہ لٹیرے ہمیں ”women rights“ کے سبق پڑھا رہے ہیں۔

20/04/2024

آفسوس کے علاوہ کیا کهسکتے ہے

20/04/2024

Address

Karachi
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when zindagi ki Haqeeqat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to zindagi ki Haqeeqat:

Shortcuts

Share

Category