11/03/2023
ضرور پڑہیں آنکهوں ديکها احوال!!🙏
ابا ساٸیں کے حیاتِ زندگي اور پرده فرمانے کے بعد دو اہم واقعہ،،،
ہماری اسکول گرلس کالج میں دو ٹیچر ہیں ایک کا تعلق اہل تشیع سے اور دوسرے کا تعلق دیوبندی مسلق jui سے ہیں،تقریبن ہماری رشتیداریاں بہی ہیں اور ان کے گہر ہماری فیملی کا آنا جانا بہی ہوتی ہے، لیکن میں ان دونوں کے گہر تقریبن ٣ سال سے نہی گٸ ہوں، وجھ یے ہے کے دونوں کے گہر والوں نیں گچھ ٹاٸم پہلے بابا جانی کی شان میں بے ادبی کی تھی۔۔اہل تشیع والے نیں سوشل میڊيا پر جب کے دوبندی کے ساتھ ان کے گہر م عقیدت مرشد کریم اور مرشد کریم کے علم فیض و ذات مبارک پر کچھ غلط بياني کي ديوبندي نيں ،ہماری ماں بھی میرے ساتھ تہی پہر غسے سے چلی آٸ اپنے گہر یے واقعہ مرشد کريم کے حیاتِ زندگي کا ہے
اور جب مرشد کریم کا بظاہری وسال ہوگیا اس ٹاٸم اپنی گہر م ڈيوٹے سے آکے بچوں کے ساتھ کہانہ کہا رہی تہی،،جب یے خبر سنی تو ہمارے گہر میں کہرام مچ گیا،😢
اہل تشیع!!جب جمعہ مبارک کے دن بابا جانی کا جنازہ النور کا اعلان ہوگیا،اس دن جو ٹیچر ہمارے ساتھ ڈیوٹی کرتی ہے وہ اور اس کے بچے اور ان کا بابا ہمارے گہر آۓ ،،ہمارے مرشد کے بارے میں،، گهر ميں بابا جاني کي بات ہو رہی تہی ،اور بولی کے گہر کو تالا لگا کے سب آۓ ہیں ،تو ہم نیں پوچہی کے آپ کا بہاٸ بھي گھر میں نھی ہے،،تو اس کی بہیں بولی کے وہ قمبر چلا گیا پتا نھی کیوں گیا،،مغرب کے ٹاٸم وہ فیلمی بھی اپنے گہر چلے گۓ،،پیر والے دن وہ لڑکا اور اس کی بہیں ہمارے گہر آۓ ۔چاۓ کا ٹاٸم تہا چاۓ بناٸ اور ساتھ میں بیٹھ کر چاۓ پی رہے تہے ،تو اس لڑکے نیں بولا بھابھی ہم کو معاف کرو ہم نیں کچھ ٹاٸم پہلے غلطے سے آپ کے مرشد کی بے ادبے کی تہی جب یے بات کر رہا تہا تو میں رو رہی تہی،،تو وہ بھی رونے لگا،،اور بتایا کے جمعے والے دن جب ہم ٹریول ایجسی آفس کہولا تو مجہے بلکل سکوں نھی ہو رہا تہا اور تڑپ ہو رہا تہا کلینر کو بولا پیناڈول ٹیبلیٹ لے کر آٶ اس نیں ٹیبلیٹ لا کر دیا وہ کہا لیا پہر بھی سر میں درد بے چینی ہو رہا تہا،دل بولا باہر جاکے واک کروں جب باہر گیا تو حسینی فقیروں کے بس پر نظر پڑہی وہ سب خاموش تہے ،،واپس آفس میں آ کے درود شریف پڑہا لیکن سکون نھی ،اچانک دل میں خیال آیا کے چلو میں بھی آفس بند کر کے جا تا ہوں قمبر شریف اس کی اپنی کار گاڈي ہے اور وہ کراچی سے نکلا وہ بتا رہا تہا کے بہت اسپیڊ سے گاڑي چلایا اور کلینر بھی ساتھ میں تہا،،تو کلینر بولا سر تہوڑا سلو چلو آپ بیمار ہے۔مجہے کچھ پتا نہی چل رہا تہا 1.45 منٹ پر قمبر میں اٹری ہوٸ اور ہم کو آگے جانے کا بلکل جگہ نھی مل سکا،ہم نیں کرکٹ گروٶنڊ ميں گاڑي پارک کي اور دیوبندیوں کی مسجد سے تہوڑا آگے جگہ مل گٸ لیکن کوٸ لاٶڈ اسپيکر کي آواز نهي سنائ دے رہی تہی،،لوگوں کے آواز پر نماز جنازہ پڑہا اور واپس ہوگیا،ہوں ہم کو بہت سکون مل رہا تہا راستے میں آتے آتے،،اور بولا کے آپ بہی دعا۽ کرين کے ساٸیں مجھے معاف کرے آٸیندہ کبھی بے ادبی نھی ہوگی توبھ کرتا ہوں،،لیکن وہ ابھی بھی شیعہ ہے،،لیکن جس نیں حیات زندگی مبارک میں بے ادبی کی اور اس کے جنازہ نماز کے لیۓ کراچي سے روانہ ہوٸا يے ہے ہمارے مرشد کریم کی کشش ،،کراچی سے کیوں گیا قمبر شریف اس کے دل میں کس نیں یے خیال ڈالا،،اپنے مرشد کے عزت کی قسم میں تو رو رہی تہی سن کر😢
دیوبندی،،اس دیوبندی کی فیلمی کچھ کراچی میں ہے اور کچھ نصیرآباد میں ہے،،لیکن وہ دیوبندی اپنا کاروبار کراچی میں کرتا ہے،،جس دن ابا ساٸین کی وسال ہوٸ اس وقت وہ نصیرآباد میں تہے اپنی جگہ کا کام کر وا رہا تہا۔جب واپس کراچی آیا تو ایک شادی کے پروگرام میں ہم بھی تہے اور وہ بھی فیملی کے ساتھ آیا تہا،،اس بیوی جو ہمارے ساتھ ٹیچر ہے اس نیں زبردستي اپنے گہر لے گٸ،،جب بیٹھ کر بات ہو رہی تہی زمانیں کی تو ،،ہم نیں نھی پوچہی وہ خد بتانا شروع ہو گیا،،،اور بولا کے آپ کا مرشد بلکل ولی ہے اس باتى ميں کوٸ شک نھہی میں قسم سے کہتا ہوں کے وہ بہت کامل ولی تہا،،،ہم سمجھي شاید یے مزاق کر رہا ہے ہمارے مرشد کے بارے میں ،،تو ہم نیں بولا بہاٸ آپ اس بات کو چہوڑدو اور کوٸ زمانیں کی بات کرو،،پہر سے بحث شروع ہوگا نھی تو،وہ اٹھ کر ہمارے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا بہیں خدا کی قسم میں مزاق نہی کر رہا سچی میں کہتا ہوں ہم نیں آنکہوں سے سب کچھ دیکہا،،اور اس کا ایک ہی بیٹا ہے جو کے وہ 8 سال کا ہے تو بیٹے کو بلایا اور اس کا قسم کہا کر کہا کے وہ بلکل بہت بڑا ولی ہے ،،بولا کے جنازہ میں تو نھی جاسکہ لیکن بیٹے سے پوچہو جب ہم کراچی واپس آنا سوچا تو دل میں خیال آيا کے اتنا جو لوگ جا رہیں قمبر شریف تو میں بھی ضرور جا کے روضہ انوار کا زيارت تو کروں،،وہ بولا بیٹا شاہد ہے اس سے پوچہو ہم 12.15 منٹ پر زندگی میں پہلی بار گیا اس درگاہ میں،،بولا خدا کی قسم جب قبر پر نظر پڑہی تو کیا دیکہیں جنت ہی جنت،،فقیر بیٹہے تہے کوٸ تلاوت کر رہا تہا تو کوٸ درود شریف پڑہ رہا تہا کسی کا دل اٹہنیں کو نھی کھ رہا تہا،،ہم نیں بھی تلاوت کی اور دعا۽ مانگي،،پہر واپس آگۓ،،،اس دیوبندی سے کچھ ٹاٸم پہلے گہر میں بحث ہوٸا وہ کسی بھہی ولی کو نھی مانتا تہا،،اور ان کے روضہ انوار پے جانے والو کو کہتا تہا شرک کرتے ہیں،،،نھی جاٶ کسی کے پاس،،اب اس پتہر دل دوبندی کو دل میں کیسے خیال آیا کے قبر انوار کا ایک بار زیات ضرور کروں اور بعد ميں کراچی جاٶں گا،،،توبھ کیا ہم سے گستاخی کی معافی مانگی بولا آپ حق پر ہیں،،کبھی ٹاٸم ملے تو ساتھ میں درگاہ شریف چلیں گے اور اس کے جگر گوشہ سے بیت لیں گے انشا۽الله
يے ہے ہمارے مرشد حسین کی کشش اور فیض جو پتهر دل کو بهي پاني کريا۔۔اگر اس بات کے ثبوت چاٸيۓ تو کوٸ بھی فیملی فی میل مجھ سے انباکس میں پوچھ سکتا ہے۔۔۔اور ان کے فیملی کی زبانی بات کرواہوں گی،،،،
طالب دعا۽ کنيزِ مرشد حسین