29/07/2026
“ ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے”
جون 1948 کے لائف میگزین سے لی گئ کراچی کی ایک تصویر۔
یہ سن 1948 کا کراچی ہے۔ ایک کھلے میدان میں یہ سفید خیمے دراصل ان سرکاری اھل کاروں کے دفتر ہیں جو نوزائیدہ مملکت پاکستان کے دارالحکومت میں قائم اس سیکریٹیریٹ سے پورے ملک کا نظم و نسق سنبھالتے تھے۔ سخت گرمی دھوپ اور ریتیلی ہوائوں کا مقابلہ کرتے ان قابل مہاجر افسران نے کچھ ہی عرصے میں کراچی کو ایک مثالی شہر بنا دیا تھا۔
کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ کاغذات کو نتھی کرنے کے لئے پنیںں تک دستیاب نہ تھیں بلکہ اس مقصد کے لئے کیکر کے لمبے کانٹے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ کوئ افسانہ بیان نہیں کر رہا بلکہ آج بھی سندھ سیکریٹیریٹ اور دیگر دفتروں کے پرانے کباڑخانے یا ریکارڈ میں آپ کو نیچے دبی ایسی فائلیں مل جائیں گی جن کے کاغذات کیکر کے کانٹوں سے نتھی کئے گئے ہیں۔ جمیل الدین عالی لکھتے ہیں کہ ببول کے کانٹے کراچی میں تین آنے سینکڑہ جبکہ گھارو اور ٹھٹھہ میں ایک آنے سینکڑہ تھے۔ وہ اور انکا ایک دوست بزریعہ سائیکل جاتے اور ایک آنے سینکڑہ پر ہر ماہ کانٹے خریدتے تاکہ دو آنے فی سینکڑہ بچائے جاسکیں۔
اسوقت ایک روپے میں چونسٹھ پیسے ہوتے تھے.
یہ تصویر مشہور امریکی جریدے **"لائف" (LIFE Magazine)** کے ایک شمارے کی ہے، جو **1948** میں شائع ہوا تھا (اس پر تاریخ جنوری 2، 1948 درج ہے)۔
اس صفحے پر قیامِ پاکستان کے فوراً بعد کے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، جس کا مرکزی عنوان (Headline) یہ ہے:
**"Despite Lack of Money and Skills Nation Fights to Avoid Collapse"**
*(پیسے اور ہنر کی کمی کے باوجود، قوم دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے لڑ رہی ہے)*
اس مضمون میں درج ذیل اہم شعبوں اور حقائق کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں:
* **پس منظر:**
مضمون کے شروع میں لکھا گیا ہے کہ 15 اگست کو جب پاکستان کو آزادی ملی تو ملک کو شدید مالی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ دارالحکومت کراچی کے حالات اور ملک کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ نوزائیدہ ملک معاشی بحران سے نبرد آزما تھا۔
* **مزدوری اور افرادی قوت (Labor):**
اس وقت کی آبادی تقریباً 7 کروڑ تھی، جس میں سے 80 فیصد کسان تھے۔ بڑے زمیندار اور تاجر زیادہ تر اقلیتوں سے تعلق رکھتے تھے جو ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔ ملک میں ہنر مند تکنیکی ماہرین اور منتظمین کی شدید کمی تھی۔
* **خوراک (Food):**
پاکستان خوراک کے معاملے میں خود کفیل تھا اور گندم و چاول وافر مقدار میں پیدا کرتا تھا، لیکن کچے راستوں اور نقل و حمل کے محدود ذرائع کی وجہ سے خوراک کو دور دراز علاقوں (جیسے سرحد اور بلوچستان) تک پہنچانا ایک بڑا مسئلہ تھا۔
* **خام مال (Raw Materials):**
بنگال کا پٹسن (Jute) پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی فصل تھی، لیکن اس کی پروسیسنگ کے لیے زیادہ تر کارخانے بھارت کے حصے میں آئے تھے۔ ملک میں معدنیات، تیل اور کوئلے کے ذخائر اس وقت غیر ترقی یافتہ حالت میں تھے۔
* **صنعت (Industry):**
صنعتی لحاظ سے ملک کو خود کفیل ہونے کے لیے بہت کام کرنا تھا۔ پورے پاکستان میں فیکٹریوں اور بڑے کارخانوں کا فقدان تھا، اور ٹین کٹن ملیں ہندوستان کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر تھیں۔
* **نقل و حمل (Transportation):**
370,000 مربع میل رقبے پر پھیلے ہوئے اس ملک میں سڑکیں اور ریلوے لائنیں بہت محدود تھیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹرینیں ہجرت کرنے والے مہاجرین کو لا رہی تھیں، جبکہ ایندھن (کوئلے) کی شدید قلت کی وجہ سے ریلوے کا نظام چلانا انتہائی دشوار تھا۔
* **مالیات (Finances):**
تقسیم کے وقت بھارت نے پاکستان کا حصہ بروقت ادا نہیں کیا تھا، اور ملک کی آمدنی کے ذرائع انتہائی محدود تھے جبکہ اخراجات بہت زیادہ تھے۔