09/09/2026
جان و دِل💘 کا قرار اُن سے ہے
ازقلم✍️: ابو الحقائق مفتی راشد علی قادری رضوی عطاری
(1)جان و دِل کا قرار اُن سے ہے
میرا سارا وقار اُن سے ہے
(2)چین اُن سے قرار اُن سے ہے
میرے دِل کی بہار اُن سے ہے
(3)دو جہاں کی بہار اُن سے ہے
گُلْسِتَاں کا نکھار اُن سے ہے
(4)فضلِ پروردگار اُن سے ہے
رحمتِ بے شمار اُن سے ہے
(5)چُن لیا اُن کو ساری خَلقت میں
کس قدر ربّ کو پیار اُن سے ہے
(6)وَجہِ تخلیقِ خشک و تَر ہیں وہی
کُل جہاں برقرار اُن سے ہے
(7)بزمِ عالَم کے وہ ہیں رُوحِ رواں
نخلِ جاں بار دار اُن سے ہے
(8)اُن کے دَم سے ہے رونقِ عالَم
خُلد کی بھی بہار اُن سے ہے
(9)وہ ہیں عالَم میں ہادیِ اعظم
نورِ حق آشکار اُن سے ہے
(10)وہ نظامِ جہاں کا ہیں محور
دَورِ لیل و نہار اُن سے ہے
(11)اُن کا عاشق غلام مدّت سے
دید کا خواستگار اُن سے ہے
(12)روئے انور کے جلوے دِکھلائیں
عرض یہ بار بار اُن سے ہے
(13)وہ بُلائیں گے اپنے روضے پر
قلب اُمیدوار اُن سے ہے
(14)اُن کی نسبت نے عزتیں بخشیں
یہ مرا افتخار اُن سے ہے
(15)اُن کی سُنّت پہ کر عمل بُرہاں
گر تجھے سچ میں پیار اُن سے ہے
(16)تُو حِصارِ کرم میں ہے بُرہاں
تیرا قائم وقار اُن سے ہے
بروزہفتہ،10صفرالمظفر1448ھ ، مطابق 25 جولائی 2026ء