Property SCAM PK

Property SCAM PK This page is created to share property business related fraud and fraudsters. if you were victim of

اسکیم 33 میں غیر قانونی تعمیرات، ایس بی سی اے کی نمائشی کارروائیاںاسکیم 33 میں غیر قانونی تعمیرات، ایس بی سی اے کی نمائش...
18/01/2026

اسکیم 33 میں غیر قانونی تعمیرات، ایس بی سی اے کی نمائشی کارروائیاں

اسکیم 33 میں غیر قانونی تعمیرات، ایس بی سی اے کی نمائشی کارروائیاں
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے علاقے اسکیم 33میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے رہائشی پلاٹس پر کمرشل تعمیرات اور دکانوں کی کنسٹرکشن بھی کی جارہی ہے تاہم متعلقہ محکمےسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے "پک اینڈ چوز" کی بنیاد پر ان تعمیرات کے خلاف محض نمائشی کارروائیاں ہی کی جارہی ہیں اور بااثر افراد کی جانب سے کی جانے والی کنسٹریکشن کی جانب سے آنکھیں بند کرلی گئی ہیں حال ہی میں جمالی پل کے جوار میں گلستان سوسائٹی کے سامنے نان کمرشل پلاٹ پر دکانوں سمیت دیگر کمرشل تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے مکینوں کے مطابق اس کی باقاعدہ تحریری اطلاع بھی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو دی گئی ہے تاہم اس کے باوجود یہ تعمیرات تیزی سے جاری ہیں اور اتھارٹی کی جانب سے تحریری شکایت کے باوجود اسے روکا نہیں جارہااور خاموشی اختیار کی گئی ہے دوسری جانب سیکٹر بی 19اسکیم 33کے پلاٹ رہائشی زمرے میں آتے ہیں یہاں غیر قانونی اور غیر مجاز تعمیرات کی گئی ہیں رہائشی مقاصد کے پلاٹس پر یہ تعمیرات سوسائٹی کے مرکزی دروازے کے سامنے ہونے سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ان تعمیرات پر کارروائی کے باوجود یہ تعمیرات دوبارہ شروع کردی گئیں درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سوسائٹی سے باہر بعض پلاٹ مالکان جن کے پلاٹس رہائشی نوعیت کے ہیں اس کے باوجود وہ ان رہائشی پلاٹس پر کمرشل نوعیت کی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں پلاٹ پر کمرشل گودام قائم ہیں جبکہ ایک پلاٹ پر کمرشل ورکشاپ موجود ہے پلاٹ پر اسٹیٹ ایجنٹ کے طور پر کام ہورہا ہے ہے یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ درخواست دینے کے بعد سوسائٹی انتظامیہ نے بھی اس مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور علاقہ مکین اب ان کمرشل تعمیرات کے رحم و کرم پر ہیں۔


Alert 🚨
11/01/2026

Alert 🚨

In housing societies mai investment na karain 👇
13/10/2025

In housing societies mai investment na karain 👇

04/01/2023

کراچی: زمین ڈاٹ کام نامی مارکیٹنگ کمپنی نے اسکیم نمبر 33میں متنازع اراضی پر اومیگا الماس بلڈرز کے منصوبے میں بنکنگ شروع کرکے معصوم شہریوں کے کروڑوں روپے پھنسادیے اسکیم نمبر 33کے علاقے 21سیکٹر 34-Aمیں واقع دو ایکڑ متنازع اراضی کا کیس سندھ ہائی کورٹ میں زیر التواءہے جبکہ مذکورہ متنازع اراضی پر اس سے قبل ثمینہ ریزیڈینسی اور بعد ازاں گرین اسٹون بلڈرز کے منصوبے مدینہ رائل کاٹیجز کے نام سے تشہیر کی گئی اور اب اسی متنازعہ اراضی پر اومیگا الماس بلڈرز کے منصوبے بلیو اسکائی ریزیڈنسی میں بکنگ جاری ہے جس کی ذمہ داری زمین ڈاٹ کام نامی مارکیٹنگ کمپنی کو دی گئی ہے جس سے شہرت کی حامل مذکورہ مارکیٹنگ کمپنی کی بدنامی کے ساتھ سینکڑوں شہریوں کے کروڑوں روپے ایک ہی متنازعہ اراضی پر تیسری مرتبہ داﺅ پر لگ رہے ہیں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ متنازعہ اراضی کا مالک حضور بخش گبول نامی شخص ہے جو کہ مذکورہ متنازعہ اراضی پر مختلف بلڈرز کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے ذریعے سرمایہ کاری کرواکر ان کی سرمایہ کاری اور عوام الناس کی جمع پونجی لوٹنے میں کمال مہارت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک متنازعہ اراضی پر تیسری مرتبہ جوائنٹ وینچر کے تحت نئے نام سے منصوبہ شروع کرکے ایک اچھی شہرت کی حامل مارکیٹنگ کمپنی کا نام ڈبونے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی وجہ سے مذکورہ کمپنی کی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ معصوم شہری کروڑوں روپے سے محروم ہو جائینگے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ متنازعہ اراضی کامبینہ مالک حضور بخش گبول اس اراضی پر پارٹنر شپ میں منصوبہ تعمیر کرنے کیلئے مختلف ادوار میں بلڈرز سے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرواچکا ہے اور بلڈرز سے منصوبے کی مد میں بھاری رقوم وصول کرنے کے بعد عوام الناس سے بھی بکنگ کے نام پر ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹنے میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں اب تک مذکورہ متنازعہ اراضی پر تین مختلف ناموں سے شروع کئے جانے والے منصوبوں میں بکنگ کی جاچکی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ متنازعہ اراضی پر سب سے پہلے اشتراک سے شروع کئے جانے والے ثمینہ ریزیڈنسی نامی منصوبے کیلئے اس وقت الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذرائعے اشتہاری مہم چلائی گئی جس میں شہریوں نے بھرپور انداز میں بکنگ کرکے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کی کوشش کی اور اس سے پہلے منصوبے میں فلیٹ بک ہونے سے مذکورہ متنازعہ اراضی کے مالک کے دل میں لالچ نے گھر کرلیا جس کے بعد اسی زمین پر کچھ عرصہ بعد دوسرے اور اب تیسرے نام سے منصوبہ شروع کرکے سرے عام بکنگ کی جارہی ہے حالانکہ سندھ ہائی کورٹ میں متنازعہ راضی کے دو مقدمات دائر کئے گئے جن میں مقدمہ نمبر 2009/1524اور 1145/2010شامل ہیں لیکن حضور بخش گبول نے ان مقدمات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا دھندا جاری رکھا اور زمین ڈاٹ کام نامی مشہور مارکیٹنگ کمپنی کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ایک کے بعد دوسرا اور اب تیسرا منصوبہ اسی متنازعہ اراضی پر شروع کرکے ثابت کردیا کہ اس ملک میں فراڈ کرکے معصوم شہریوں کو لوٹنا کتنا آسان ہے جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام الناس کے لٹنے سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ شہریوں کا سرکاری اداروں اور سرکار پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے اور انہیں معلوم نہیں کہ وہ اپنی بربادی کی کس سے فریاد کریں اس لئے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر مذکورہ بکنگ روکنے کیلئے قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

07/11/2021
26/08/2021
SC ORDERED TO DEMOLISH NASLA TOWER.The Supreme Court has ordered the authorities to demolish the Nalsa Tower on Karachi’...
17/06/2021

SC ORDERED TO DEMOLISH NASLA TOWER.

The Supreme Court has ordered the authorities to demolish the Nalsa Tower on Karachi’s Sharae Quaideen.

The top court resumed hearing petitions against encroachments in the city at the Karachi Registry Wednesday.

“Who is the front man responsible for the illegal construction,” Justice Ijaz Ul Ahsan asked the builder’s lawyer, Barrister Salahuddin.

“We have a report prepared by the commissioner of Karachi.”

According to the report, he said, 341 square yards of land had been encroached upon.

Barrister Salahuddin replied that the additional land was leased by the Sindhi Muslim Society.

“Back then the society was not even named, how could it issue the lease,” the judge asked. “You don’t have any additional lease.”

The lawyer defended that the new “triangle plot” constructed in the area has damaged the Sharae Quaideen service lane.

To this, the court asked him to show the lease papers again. “The Karachi Metropolitan Corporation issued the papers to the society and they gave it to us,” Salahuddin replied.

Those who gave you the papers are not authorised to do so, the judge said, adding that this is the reason why Karachi has become a victim of ‘China cutting’.

‘China cutting’ refers to slicing plots from parks and amenity lands, and converting them into residential and commercial properties that are sold off for huge profits.

The court rejected the builder’s request for a review and ruled the building be demolished immediately.

Nasla Tower is located at the intersection of Sharae Faisal and Sharae Quaideen. An apartment in the project roughly costs Rs30 million.

Latest update 2021 – The Sindh Building Control Authority (SBCA) has released a list of legal cooperative housing scheme...
25/05/2021

Latest update 2021 – The Sindh Building Control Authority (SBCA) has released a list of legal cooperative housing schemes. These housing schemes have been verified by the relevant government departments and society offices, and are therefore deemed secure for the public to buy plots in. The safe investment in cooperative housing schemes which are notified by SBCA are as follows:

SBCA Legal & Registered Housing Schemes List 2021

Abuzar Ghaffari CHS
Al-Ashraf CHS
Ali Town CHS
Aligarh Muslim University CHS
All Memon Welfare CHS
All Pakistan Newspaper Employees CHS, Scheme 33
Ancholi CHS
Bilal Housing Enterprises
Business & Professional Executive CHS
Callachi CHS
Central Information CHS
Cornish CHS
Dar-ul-Salam CHS
Dehli Riyan CHS
Diamond City CHS, Scheme 33
Govt Teachers CHS
Gulistan CHS
Gulistan-e-Malir CHSGawaliyar CHS
Gulshan-e-Akbar CHS
Gulshan-e-Iqbal CHS, Scheme 24
Gulshan-e-Malir CHS
Gulshan-e-Malir CHS
Gulshan-e-Maymar CHS
Gulshan-e-Millat Cooperative Housing Society
Hadiabad CHS, KDA Scheme-33
Halari Memon CHS
Hansa CHS
Haroon Bahria PN CHS
Hashimabad CHS
Hussain D Silva CHS, Scheme-4 Surjani Town
Karachi Bar CHS, Scheme 33
Karachi Rajput CHS, Scheme 33
Karachi University Employees CHS
Karim Bhai CHS
KCHS Union CHS, Blocks 3,7 & 8
KDA Scheme No 36 CHS
Khorasan CHS
KMC United Workers CHS, Scheme 33
Korangi Township Sector 32-B CHS
Korangi Township Sector 32-B CHS
Layout plan of Survey No 217B, 217C, 217D Deh Tapo Malir
Layout plan of Survey No 631 Deh Joreji in Bin Qasim Town
Layout plan of Survey Nos 289, 290, 291, 293, 322 to 330, 474, 475 of Deh Mahl
Layout plan of Survey Nos 292, 296, 297, 385, 387, 490 of Deh Mahl
Layout plan of Survey Nos 485, 486 to 498 & 499 of Deh Joreji
Layout plan of Survey Nos 546 & 547 Deh Joreji in Bin Qasim Town
Lucknow CHS
Madras CHS
Makhdoom Bilawal CHS
Malik CHS
Mansoora KDA Scheme 16 (F B Area)
Mashriqui CHS
Meerat CHS
Merchant Navy Officers CHS
Muslim Cutchi Khatri CHS
Naya Nazimabad
New Lyari CHS, Scheme 33
Nipa CHS
North Karachi Township
North Nazimabad CHS, Scheme 2
North Town CHS
Oak Residency CHS
P&T CHS
Pakistan Atomic Energy CHS
Patel Industry Park CHS, Scheme 45
Pillibhit CHS
Pir Elahi Bux Colony
Punjabi Sauadagar Multipurpose CHS
Qureshi CHS
ROK Cooperative Housing Society
Sadaf CHS
Shah Latif Town CHS, Scheme 25 A
Shahnawaz CHS
Shamsi CHS
Sonex Housing CHS
Sonex Housing CHS (Phase-2)
Soomra CHS
State Bank of Pakistan CHS, Scheme 33
Suparco Employees CHS
Works CHS
Zeenatabad CHS

KARACHI APPROVED HOUSING SOCIETIES 65 more Karachi cooperative housing societies get layout plans approvedTotal number o...
25/05/2021

KARACHI APPROVED HOUSING SOCIETIES

65 more Karachi cooperative housing societies get layout plans approved

Total number of approved cooperative societies reaches 146

Updated on: Mar 13, 2021

There are 65 more legal cooperative housing societies in Karachi that you can invest your money in after the Master Plan Department approved their layout plans.
If anyone wants to invest in land in cooperative housing societies, particularly those in Gulshan-e-Maymar, Gulzar-e-Hijri, Malir or Gadap Town, they have to confirm that the society’s layout plan has been approved by the Master Plan Department.
There are over 500 cooperative housing societies on the outskirts of Karachi, but only 146 of them have proper and approved layout plans.
Here are the names of the 65 recently approved cooperative housing societies:

Customs Preventive, Sector 52-A, Scheme-33

Al-Jadeed Residency, Malir

Gulshan-e-Raheem Dad

Allama Usmani CHS Ltd, Sector 11-A, KDA Scheme-33

Works CHS, Block 10 and Block 19, Scheme 24

Shadman Town Survey No 809,854, 855, 856, 574, 500, 382, 383 in Malir

Layout Plan of Survey No 31, 32, 33, 34, Deh Allah Phiahi in Gadap Town

Bihar Colony Sheet No 1, 2, 3 and 4, Lyari Division, KMC

Agra Taj Colony Sheet No 1, 3, 4, 5 and 6 in Lyari Division-KMC

Layout Plan of Sector 11-A and Revised 11-C, North Karachi Township

Millat Garden Survey No 872, 851, 368, 369, 372, 736, 737, 572, 820, 819 and 493 in Malir

Karachi Bar CHS, Sector 25-A, Scheme-33

Mansoora Scheme-16, Block No 3

Pakistan Scientists CHS Ltd Sector-17 A, Scheme 33

Ahsanabad Housing Project on Survey No 498, Deh Digh

Sindhi Muslim Cooperative Housing Society Ltd

Rizvia Cooperative Housing Society Ltd, Sector 34-A, Scheme-33

Sindhi Jamait Cooperative Housing Society Ltd on Survey No 89, Deh Khanto-District East

Govt Secondary School Teachers CHS Sector 19-A/3, Scheme-33

Ezzi City Survey No 83, 333, 334, Deh Joreji in Bin Qasim Town

Bagh-e-Yousuf Survey No 743, 744 and 873

Bagh-e-Hassan Survey No 273

Burhani Garden Survey No 436, 454, 454/1, 457/1 and 571

Burhani Town Survey No 455 and 456, Deh Thano in Malir Town

Tahir Abad Survey No 453 and 571/1, Deh Thano in Malir Town

Tahir Villas Survey No 265, 266 and 267, Deh Thano in Malir Town

Gulshan-e-Surjani Survey No 37, Deh Nagan KDA Scheme-45

Etawah CHS, Sector 52-A, Scheme-33

Dada Bhoy Multipurpose CHS Ltd Survey No 1, Deh Drigh

Rafi Pride-II, Survey No 265/2 and 3, Shah Faisal Town

Rafi Pride-II, Survey No 265/4 and 5, Shah Faisal Town

Mujahid Town, Survey No 114, 115, 117, 119 and 120, Pipri Township

Survey No 41, Deh Drigh, Tapo Malir, Shah Faisal Town

Orangi Township KDA Scheme No 28

North Karachi Town, Sector 7-D (1 to 4) Karachi

Surjani Town, Sector 7-KDA Scheme 41

Lines Area, Sector No 2, KDA Scheme 35

North Karachi Township, Sector No 3 and 5B

Pakistan Bazar Katchi Abadies Orangi Town 11 ½

Arisha CHS, Sector 6/A, Scheme 33

Cotton Export CHS Ltd, Sector 51-A, Scheme 33

State Bank of Pakistan Employees CHS Ltd, Sector 8/A, Scheme 33

Dawood CHS

Kutchi Memon CHS

Metroville-III, Sector 14-A

Katchi Abadies Mominabad Sector 4-F, Sheet No 1

Tahir Garden Survey No 437, 438 & 438/1 Deh Thano, Malir Town

Sindhi Jamait CHS Survey No 90, Deh Khanto-District East

Gulshan-e-Hadeed Phase-I & II Ext: M/s Pakistan Steel Mill Corporation

Gulshan-e-Hadeed Phase: III Ext: M/s Pakistan Steel Mill Corporation

Al-Ahmed Town Survey No 139, 140, 141, 142 in Deh Manghopir

Korangi Township Sector No 31-B and Sector 31-C

Mansoor Nagar, Sheet II, Orangi Township

North Karachi Township, Sector 11-F

Layout Plan of Sector No 10, Scheme-41, Surjani Town

Metroville-I, SITE

New Malir Housing Project Sector 5, MDA Scheme No.1

New Malir Housing Project, Sector 2, MDA Scheme No 1

Rizvia CHS (adjoining Golimar)

Sector No 24-A, Deh Songal, Survey No 19, Scheme -33

Al-Noor Multipurpose CHS, Sector No 54-A

Deh Thoming, Sector No 32, Scheme-33.

Here is a list of the already approved cooperative housing societies:

Abuzar Ghaffari CHS

Al-Ashraf CHS

Ali Town CHS

Aligarh Muslim University CHS

All Memon Welfare CHS

All Pakistan Newspaper Employees CHS, Scheme 33

Ancholi CHS

Bilal Housing Enterprises

Business & Professional Executive CHS

Callachi CHS

Central Information CHS

Cornish CHS

Dar-ul-Salam CHS

Dehli Riyan CHS

Diamond City CHS, Scheme 33

Gawaliyar CHS

Govt Teachers CHS

Gulistan CHS

Gulistan-e-Malir CHS

Gulshan-e-Akbar CHS

Gulshan-e-Iqbal CHS, Scheme 24

Gulshan-e-Malir CHS

Gulshan-e-Malir CHS

Gulshan-e-Maymar CHS

Gulshan-e-Millat Cooperative Housing Society

Hadiabad CHS, KDA Scheme-33

Halari Memon CHS

Hansa CHS

Haroon Bahria PN CHS

Hashimabad CHS

Hussain D Silva CHS, Scheme-4 Surjani Town

Karachi Bar CHS, Scheme 33

Karachi Rajput CHS, Scheme 33

Karachi University Employees CHS

Karim Bhai CHS

KCHS Union CHS, Blocks 3,7 & 8

KDA Scheme No 36 CHS

Khorasan CHS

KMC United Workers CHS, Scheme 33

Korangi Township Sector 32-B CHS

Layout plan of Survey No 217B, 217C, 217D Deh Tapo Malir

Layout plan of Survey No 631 Deh Joreji in Bin Qasim Town

Layout plan of Survey Nos 289, 290, 291, 293, 322 to 330, 474, 475 of Deh Mahl

Layout plan of Survey Nos 292, 296, 297, 385, 387, 490 of Deh Mahl

Layout plan of Survey Nos 485, 486 to 498 & 499 of Deh Joreji

Layout plan of Survey Nos 546 & 547 Deh Joreji in Bin Qasim Town

Lucknow CHS

Madras CHS

Makhdoom Bilawal CHS

Malik CHS

Mansoora KDA Scheme 16 (F B Area)

Mashriqui CHS

Meerat CHS

Merchant Navy Officers CHS

Muslim Cutchi Khatri CHS

Naya Nazimabad

New Lyari CHS, Scheme 33

Nipa CHS

North Karachi Township

North Nazimabad CHS, Scheme 2

North Town CHS

Oak Residency CHS

P&T CHS

Pakistan Atomic Energy CHS

Patel Industry Park CHS, Scheme 45

Pillibhit CHS

Pir Elahi Bux Colony

Punjabi Sauadagar Multipurpose CHS

Qureshi CHS

ROK Cooperative Housing Society

Sadaf CHS

Shah Latif Town CHS, Scheme 25 A

Shahnawaz CHS

Shamsi CHS

Sonex Housing CHS

Sonex Housing CHS (Phase-2)

Soomra CHS

State Bank of Pakistan CHS, Scheme 33

Suparco Employees CHS

Works CHS

Zeenatabad CHS

The layout plan of 81 cooperative housing societies was approved by MPD in January. With the addition of these 65 societies, the number of cooperative housing societies in Karachi with approved layout plans has reached 146.
The process of verifying and approving the layout plans is

22/03/2021

بریکنگ نیوز:
گرفتار گرفتار گرفتار عبدللہ علوی، نصر فیضان، خرم علوی گرفتار۔

کراچی ( اخبارتازہ ترین ۔ 12 مارچ 2021 ء) سندھ ہائیکورٹ نے فراڈ اسٹیٹ بینک اسٹاف ھاوسنگ سوسائٹی اسکیم 45 کے کرپشن ریفرنس میں نامزد 18 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا ، عدالت نے 15 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی، ملزمان میں عبدللہ علوی، نصر فیضان ، خرم علوی ، اعجاز حسین ، اور نظیر شامل بیں ، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کے خلاف نیب کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش کیے گئے۔
شواہد کی روشنی میں ملزمان ضمانت کے حق دار نہیں رہے، عدالت نے ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا نیب کے مطابق ہاوسنگ سوسائٹی کا اسٹیٹ بینک سے کوئی تعلق ہی نہیں ، ملزمان نے جعل سازی سے 125 ایکٹر پر قبضہ کیا، 37 کروڑ سے زائد کا لوگوں سے فراڈ کیا گیا، ناکلاس اور پرائیوٹ اراضی پر قبضے کر کے سوسائٹی بنائی گئی، جبکہ درخواست ضمانت مسترد ہونے پر نیب نے عبدللہ علوی ، خرم علوی اور نصر فیضان سمیت 5 ملزمان کو ھائیکورٹ کے باہر سے ھی گرفتار کرلیا۔
25 مارچ 2021 کو صبح 9 بجے وہ افراد جن کے ساتھ فراڈ سوسائٹی اسٹیٹ بینک اسٹاف اسکیم 45 یا گلشن علوی کے نام سے دھوکا کیا گیا ہے وہ افراد اپنی فائل کی کاپی کے ھمراہ نیب کورٹ جوکہ ہائ کورٹ کے احاتے میں واقع ہے پہنچ کر اپنے ساتھ ہوا فراڈ نیب کے افسر قمر عباس صاحب کو ریکارڈ کراوئیں تاکہ ان کی لوٹی ہوئی رقم کو واپس دلوانے کی کوشش کی جا سکے۔

11/03/2021

پرائم منسٹر ہوم لون سکیم:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر اعظم صاحب نے کم آمدنی والے افراد کو گھر بنانے کیلئے "لو۔کاسٹ ہاؤسنگ فائنانس سکیم" کے تحت قرضہ دینے کی جو سہولت مہیا کی ہے اس کے سیلئینٹ فیچرز اور دلچسپی رکھنے والوں کے اس سلسلے میں جو جو سوالات ہو سکتے ہیں وہ اس تحریر میں مفاد عامہ کیلئے نہایت تفصیل کیساتھ پیش کئے گئے ہیں۔

سب سے پہلے اہلیت کا معاملہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سکیم کے تحت قرضہ حاصل کرنے کیلئے تین طرح کی اہلیت درکار ہے۔

پہلی اہلیت آپ کی ذاتی ہے، دوسری انکم کی ہے اور تیسری اہلیت اس جائیداد کی ہے جو آپ خریدنا چاہیں گے۔

ذاتی اہلیت کی شرائط:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سکیم بنیادی طور پر صرف تنخواہ دار خواتین و حضرات کیلئے ہے جس میں عمر، جنس، ازدواجی حیثیت اور سروس کے دورانیئے کی کوئی قید نہیں۔

تنخواہ دار ملازم خواہ کسی بھی سرکاری، نیم سرکاری ادارے کے ہوں یا کسی پرائیویٹ ادارے، کارخانے یا دفاتر میں کسی بھی گریڈ، کیڈر، یا درجے میں سکلڈ/نان۔سکلڈ لیبر، افسر، اسسٹنٹ، کلرک، پیون یا ڈرائیو سمیت کسی بھی حیثیت میں کام کرتے ہوں، وہ اپلائی کرنے کے مجاز ہیں بشرطیکہ ان کی تنخواہ کم از کم پچیس ہزار روپے ماہانہ یا اس سے زائد ہو۔

یہ تنخواہ متواتر ان کے بینک اکاؤنٹ میں آتی ہو اور اپنے ادارے سے پچھلے ایک سال کی سیلری سلپس اور سیلری سرٹیفکیٹ مہیا کر سکتے ہوں۔

نادرا کے کمپوٹرائزڈ نیشنل شناختی کارڈ ہولڈر ہوں۔

اور ان کے نام پر ایک "ذاتی پلاٹ" کے علاوہ پہلے سے کوئی مکان/دکان/فلیٹ/کارخانہ یا کوئی اور زمینی جائیداد موجود نہ ہو۔

سیلف ایمپلائمنٹ کے شعبوں سے متعلق تعلیم رکھنے والے لوگ جو فی الحال سیلف ایمپلائڈ نہ ہوں یعنی ڈاکٹر یا وکیل جیسے لوگ جو کہیں فل ٹائم جاب کرتے ہوں وہ بھی اس میں شامل ہونے کے اہل ہیں۔

جو لوگ باقی تمام شرائط پر پورا اترتے ہوں لیکن ان کی تنخواہ پچیس ہزار سے کم ہو مگر شرط کے مطابق ڈاکومنٹڈ ہو وہ میاں بیوی، بہن بھائی، والد اور بچے، والدہ اور بچے مشترکہ درخواست گزار بن کے بھی لون لے سکتے ہیں، اس صورت میں ایک فرد اپلیکینٹ ہوگا اور دوسرے co-borrower ہوں گے۔

ممنوعہ ضرورتمند:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بزنس پرسن، سمال بزنس ہولڈر، ٹریڈرز، سپلائرز، ڈاکٹر، وکیل، دکاندار، رکشہ، ٹیکسی، ریڑھی بان، آڑھتی اور دیگر سیلف ایمپلائڈ قسم کے تمام لوگ اس سکیم میں حصہ لینے کے مجاز نہیں ہیں۔

جو لوگ اس سکیم میں ایکبار لون لے چکے ہوں وہ بھی دوبارہ اس کیلئے اہل نہیں ہوں گے۔

انکم کی اہلیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رسک مینجمنٹ کے تحت بینک لونز کی ایک بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ بینک لون کی ماہانہ قسط جتنی بنتی ہو، لون لینے والے کی ماہانہ آمدنی اس قسط سے تین گنا زیادہ ہونی چاہئے، تاکہ وہ ایک تہائی سے قسط چکا دے اور بقیہ دو تہائی سے اپنے گھریلو خرچے اور کنٹیجنسی افئیرز، یعنی خوشی غمی کے معاملات، باآسانی نمٹا سکے۔

یہ اصول کسی بینک کے بروشر میں لکھا ہوا نہیں ملے گا لیکن یہ بینکنگ ریگولیشنز میں سے ہے اسلئے لاگو ہوگا تاہم آپ بینک سے بات چیت کرتے وقت اس نکتے پر بات کر کے مزید گنجائش مانگ سکتے ہیں جو معیاری کیسز میں مل بھی جاتی ہے۔

کچھ بینکوں کی رسک مینجمنٹ اتنی بولڈ ہوتی ہے کہ مورٹگیج۔ایبل پراجیکٹ سٹرانگ اور پارٹی سلجھی ہوئی ہو تو وہ تین کی بجائے دو گنا آمدنی پر بھی لون دے دیتے ہیں لیکن ہر کیس میں اور ہر علاقے میں یہ سہولت نہیں ملتی۔

اس بنیادی فارمولے کے مطابق آپ پچیس ہزار کی انکم پر صرف اتنا لون مانگ سکتے ہیں جس کی قسط آٹھ ہزار کے اندر اندر ہو، یعنی اس انکم پر تقریباً دس لاکھ تک کا لون ملے گا۔

پچاس لاکھ کا لون آپ صرف اس صورت میں مانگ سکتے ہیں جب آپ کی انکم سوا لاکھ کے قریب ہو۔

فرض کریں آپ کی ڈیمانڈ کے مطابق آپ کی انکم کم ہے تو گھر کے دوسرے افراد جن کی سیلری ڈاکومنٹڈ ہے انہیں اپنے ساتھ co-applicant بنا کے بھی اپنی ضرورت کے مطابق لون حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اگر آپ نے کوئی فکسڈ ڈیپازٹ کرا رکھا ہے یا بہبود سرٹیفکیٹ خرید رکھے ہیں تو ان کی آمدنی کا ثبوت بھی اپنی سیلری انکم کیساتھ ملا کے لون کی رقم بڑھوا سکتے ہیں۔

قرضے کی حد اور معیاد:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سکیم میں قرضے کی ابتدائی مقدار دس لاکھ روپے اور انتہائی مقدار پچاس لاکھ روپے ہوگی اور ری۔پیمنٹ کی مدت پانچ سے بیس سال تک رہے گی۔

مکان لینے کے بعد ایک حصہ کرائے پر دیکر یا کوئی بانڈ نکل آئے، یا کوئی بھائی جو باہر ہو اس کی آمدنی آجائے یا گھر کے سارے افراد مل جل کے جلد از جلد قرضہ اتارنا چاہیں تو پانچ سال پورے ہونے کے بعد لون کی بقیہ رقم یکمشت ادا کر سکتے ہیں۔

کسی بھی قسم کا بینک لون جب پانچ سال سے پہلے مکمل واپس کرنا چاہیں تو بینک اس پر پانچ فیصد کے قریب یا کچھ زیادہ early payment penalty لگا سکتا ہے لیکن اس سکیم میں پانچ سال تک لون رکھنے کی پابندی رہے گی، اس مدت کے بعد بغیر پینلٹی کے بھی بقیہ قرضہ پورا واپس کر سکتے ہیں۔

اپنی گنجائش کے مطابق یہ آپ خود بھی طے کر سکتے ہیں کہ کل قرضہ اور انٹرسٹ کی رقم پانچ، دس، پندرہ، بیس یا پانچ سال سے اوپر کتنی مدت میں اتارنا چاہتے ہیں۔

آپ کے لون کی رقم پلس بینک کا مارک۔اپ ملا کے جو رقم بنے گی وہ آپ کی منتخب کردہ مدت پر برابر ماہانہ اقساط میں تقسیم کرکے ہر ماہ ادا کرنی ہو گی، یہ پیمنٹ شیڈول بینک اپنے فارمولے سے بنا کے آپ کو دیدے گا۔

قرضے کی اقسام اور انٹرسٹ ریٹ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت کی اس سکیم کے تحت ہر بینک نے الگ الگ نام سے اپنی پراڈکٹ بنا رکھی ہوگی، جیسے میرا گھر، اپنا گھر، سویٹ ہوم وغیرہ لیکن بنیادی شرائط، پراسس اور شرح منافع سب بینکوں کا تقریباً ایک جیسا ہو گا جو کنوینشنل بینکوں میں انٹرسٹ کی بنیاد پر اور اسلامی بینکوں میں شرکت متناقصہ diminishing musharika کی بنیاد پر دستیاب ہوگا۔

ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ کنوینشنل لون پر بینک اپنا نفع جمع کرکے مجوزہ مدت کی ماہانہ اقساط بنا دیتا ہے جبکہ اسلامی بینک شراکتداری کرتا ہے یعنی آپ نے اور بینک نے مل کر پارٹنرشپ پر ایک مکان خریدا جو آپ نے استعمال کرنا ہے، بینک چونکہ اس کو استعمال نہیں کرے گا لہذا وہ اپنے حصے کے عوض آپ سے ماہانہ کرایہ وصول کرتا رہے گا، جیسے جیسے آپ بینک کا پیسہ واپس کرتے جائیں گے بینک کا حصہ کم اور آپ کا زیادہ ہوتا جائے گا تو اسی حساب سے بینک کا کرایہ بھی کم ہوتا جائے گا۔

ان دونوں اقسام میں ماہانہ قسط برابر رہتی ہے اس طرح کہ شروع میں وہ پرنسپل کم اٹھاتے ہیں اور نفع زیادہ پھر یہ شرح کم ہوتے ہوتے آخر میں پرنسپل زیادہ اور نفع کم اٹھاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر اس کا نتیجہ تقریباً برابر ہی رہتا ہے۔

آپ چاہیں تو کنویشنل بینک سے لے لیں، چاہیں تو اسلامی بینک سے لے لیں اوپر کی رقم تقریباً ایک جیسی ہی ادا کرنی پڑے گی تاہم نظریاتی طور پر عام لون کی نسبت شراکتداری اطمینان بخش چیز ہے۔

بینک کی شرح منافع پہلے پانچ سال میں کل رقم پر پانچ فیصد کے ریٹ سے لاگو ہوگی، اگلے پانچ سال میں بقیہ رقم پر سات فیصد رہے گی اور دس سال میں چونکہ آپ کا آدھا لون ادا ہو چکا ہوگا اسلئے اگلے دس سال کیلئے یا دس سال سے اوپر کی مدت کیلئے بقیہ رقم پر شرح منافع بڑھ کے کائبور+ڈھائی فیصد سرکاری ہاؤسنگ پراجیکٹ سے خریدے ہوئے گھر پہ اور کائبور+چار فیصد غیر سرکاری پراجیکٹ سے خریدے ہوئے گھر پہ لاگو ہو گی۔

پرسنل ایکویٹی اور بینک لون:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں آپ پینتیس لاکھ کا گھر خریدیں گے وہاں تقریباً پندرہ فیصد رقم، یعنی پانچ لاکھ روپے، آپ کو ادا کرنے ہوں گے، بقیہ پچاسی فیصد یعنی تیس لاکھ روپے بینک ادا کرے گا۔

جہاں آپ اسی لاکھ تک کا گھر لیں گے وہاں تیس لاکھ روپے آپ خود دیں گے بقیہ پچاس لاکھ بینک ادا کرے گا جو تقریباً اڑتیس اور باسٹھ فیصد کا ریشو بنتا ہے۔

اس سکیم کے تحت آپ کو مکان کی کل قیمت کا ستر فیصد لون ملے گا اور تیس فیصد آپ نے اپنا حصہ ڈالنا ہے لیکن یہ اڑتیس اور باسٹھ کیوں بن رہا ہے یہ آخر میں ایک فارمولے سے واضح کروں گا جسے سمجھنا نہایت اہم ہے ورنہ لون پراسس کرانے کے بعد پریشانی ہو گی۔

اسی طرح جہاں آپ ایک کروڑ یا ڈیڑھ کروڑ کا مکان خریدنا چاہیں گے وہاں پچاس لاکھ سے اوپر کی رقم آپ کو اپنی جیب سے ہی ادا کرنی ہوگی لیکن پہلے اس بات کی منظوری بینک سے لینی ہوگی کیونکہ یہ سکیم بنیادی طور پر کم آمدنی والے تنخواہ داروں کیلئے لو۔کاسٹ ہاؤسنگ سکیم ہے، ایسا نہ ہو کہ بینکر اپنے لالچ میں منظوری دیدے لیکن مہنگا پراجیکٹ لیکر آپ کہیں آڈٹ اوبجیکشن میں آکے بنیادی اہلیت کی شرط سے ہی خارج نہ ہو جائیں، اس صورت میں لون واپس کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

مختلف رقوم پر ماہانہ اقساط:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپ بیس سال کی مدت کیلئے قرضہ لیتے ہیں تو پہلے پانچ سال میں پانچ فیصد انٹرسٹ ریٹ کیساتھ درج ذیل رقوم پر ماہانہ اقساط یہ بنیں گی۔

لون دس لاکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہانہ قسط 6600
لون بیس لاکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہانہ قسط 13200
لون تیس لاکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہانہ قسط 19800
لون چالیس لاکھ ۔۔۔۔۔۔ ماہانہ قسط 31000
لون پچاس لاکھ ۔۔۔۔۔۔۔ ماہانہ قسط 38800

ان اقساط میں اصل رقم اور کرایہ یا انٹرسٹ دونوں شامل ہیں۔

اگلے پانچ سال میں سات فیصد انٹرسٹ چارج ہوگا لیکن ماہانہ قسط تقریباً اتنی ہی رہے گی کیونکہ اس دوران اصل رقم بھی کافی حد تک کم ہو چکی ہو گی۔

اگلے دس سال میں رعایتی انٹرسٹ ریٹ ختم ہو جائے گا اور کائیبور پلس سٹینڈرڈ ریٹ لگے گا تاہم قسط تھوڑے بہت فرق کیساتھ یہی بنے گی کیونکہ آدھی سے زائد اصل رقم ادا ہو چکی ہوگی۔

یہ ایک محتاط اندازہ ہے، آپ جب اپنی ضرورت کے مطابق لون اور دورانیہ منتخب کرکے بینکر سے پیمنٹ شیڈیول بنوائیں گے تو حتمی اندازہ پھر ہی مل سکے گا تاہم وہ بھی اس تخمینے کے اریب قریب ہی ہوگا۔

جائیداد کی اہلیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سکیم میں آپ 120 گز، 125 گز، 250 گز، 05-مرلہ، 10-مرلہ کے گھر اور ایسے اپارٹمنٹ بھی خرید سکتے ہیں جن کا کورڈ۔ایریا 850 مربع فٹ سے 1100 مربع فٹ تک ہو۔

یہ جائیداد آپ سرکاری ادارے "نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی" NAPHDA سے بھی خرید سکتے ہیں اور کسی پرائیویٹ ڈویلپر کے ہاؤسنگ پراجیکٹ جنہیں اس سکیم میں Non-NAPHDA سنگل یونٹ قرار دیا گیا ہے ان سے بھی خرید سکتے ہیں۔

نان۔نیفڈا پراجیکٹس میں جائیداد خریدنے پر درج ذیل شرائط لاگو ہوں گی۔

آپ بنا بنایا مکان لینا چاہیں تو یہ ایک سال سے پرانا نہیں ہونا چاہئے، بلڈر اس کا کمپلیشن سرٹیفکیٹ مہیا کرے گا جس کی بنا پر اس کی لائف طے ہوگی، جہاں یہ سرٹیفکیٹ متعلقہ علاقے کی یونین کونسل/ٹاؤن کمیٹی/بلدیہ/ میونسپل یا بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جاری کرتی ہو وہاں متعلقہ اتھارٹیز کا کمپلیشن سرٹیفکیٹ ہی لگانا پڑے گا اور اس کیساتھ سائٹ پلان اور منظور شدہ نقشہ بھی دینا ہو گا۔

جو مکان آپ خریدنا چاہتے ہیں وہ پہلے سے کسی کے نام پر رجسٹرڈ نہ ہوا ہو، یعنی ری۔سیل کا مکان قابل قبول نہیں ہوگا، آپ اس کے فرسٹ اونر بننے والے ہوں گے تو ہی اس پر لون جاری ہوگا۔

آپ کے پاس کوئی ذاتی پلاٹ موجود ہے یا آپ اپنا ذاتی پلاٹ خرید کے خود مکان بنانا چاہیں تو یہ پلاٹ بھی آپ سے پہلے کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ نہ ہوا ہو۔

اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ پلاٹ یا مکان آپ کسی ایسے ڈویلپر سے خریدیں گے جس نے ابھی تک کسی کے نام پر ٹرانسفر نہ کرایا ہو اور پہلی بار وہ صرف آپ ہی کو الاٹ اور ٹرانسفر ہو رہا ہو۔

کسی ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی کا پلاٹ یا گھر قابل قبول نہیں جو آپ کے نام پر لیز اور رجسٹر نہ ہو سکے، بعض ہاؤسنگ سوسائٹیز خریدار کو صرف اپنی مینجمنٹ کا رجسٹریشن لیٹر تھما دیتی ہیں، زمین ان کے اپنے نام پہ ہی رہتی ہے لیکن سوسائٹی کے ریکارڈ میں متعلقہ یونٹ کے مالک آپ ہو جاتے ہیں، ایسے مکان یا پلاٹ کی لیگل ورتھ نہیں ہوتی اسلئے یہ سکیم میں شامل نہیں ہو سکے گا۔

کہیں بھی گھر یا پلاٹ خریدتے وقت یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ جو جگہ ڈپٹی کمشنر لینڈ اینڈ ریوینیو کی طرف سے ننانوے سال کی لیز پر نہ ہو اور سب۔رجسٹرار کے آفس میں آپ کے نام پہ رجسٹری نہ ہو سکے، ایسی جائیداد مورٹگیج نہیں ہو سکتی اور ڈیفالٹ کی صورت میں بینک اس کا قبضہ لیکر اپنے پیسے ریکوور نہیں کر سکتا لہذا اس پر کسی بھی بینک سے کسی بھی طرح کا کوئی بھی لون نہیں ملتا، خواہ آپ کے گھر کی مارکیٹ ویلیو اس سوسائٹی میں دس کروڑ ہی کیوں نہ ہو اور آپ حکومتی سکیم کی بجائے کوئی عام سا بزنس لون ہی لینا چاہتے ہوں تو وہ بھی نہیں ملے گا۔

لون پراسسنگ پروسیجر:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپ مقررہ شرائط پر پورا اترتے ہیں تو جس بینک سے آپ کنوینشنل لون یا مشارکہ لینا چاہتے ہوں، ان کے مجوزہ درخواست فارم کیساتھ شناختی کارڈ کی کاپی، سیلری سرٹیفکیٹ، سیلری سلپس، اپنی بینک سٹیٹمنٹ اور این۔ٹی۔این سمیت جو دیگر چیزیں بینک طلب کرے وہ مہیا کر دیں۔

اگر اس برانچ میں آپ کا بینک اکاؤنٹ موجود نہیں تو وہ بینک سب سے پہلے آپ کا اکاؤنٹ کھولے گا، اس پر کچھ ڈاکومینٹیشن چارجز بھی لاگو ہوں گے۔

پھر آپ کی انکم کی ویریفکیشن کرائے گا، آپ کی اہلیت ثابت ہوگئی تو جنتی رقم کا لون منظور ہوگا اس کے مطابق آپ کو مکان تلاش کرنے کی اجازت مل جائے گی، اس موقع پر بھی کچھ پراسیسنگ فیس لاگو ہوتی ہے۔

آپ مجوزہ شرائط کے مطابق مکان یا پلاٹ تلاش کر لیں گے تو اس کے مالک کے اونرشپ ڈاکومنٹس لاکے بینک کو جمع کرائیں گے، بینک وہ کاغذات ایک سروے کمپنی کو بھجوائے گا جو اس جائیداد کی ویلیوایشن کرکے بتائے گی۔

فرض کریں آپ نے جو مکان پسند کیا وہ ستر لاکھ کا ہے، بہت سے لوگ اس کی یہی قیمت لگا رہے ہیں اور آپ یہ رقم دینے کو تیار ہیں تو اصول کے مطابق اس میں سے بینک نے ستر فیصد دینا ہے اور تیس فیصد آپ نے خود دینا ہے تو کمپوزیشن یہ ہوگی کہ تقریباً پچاس لاکھ بینک دے گا اور بیس لاکھ آپ دیں گے۔

لیکن بینک اس کی مالیت ستر لاکھ نہیں مانے گا جب تک کہ سروے کمپنی اس مکان کی مالیت ستر لاکھ نہیں بتاتی۔

فرض کریں سروے کمپنی والا بھی اس کی مالیت ستر لاکھ ہی لکھ دیتا ہے تو اس صورت میں بھی آپ کو ستر لاکھ کا سترفیصد لون نہیں ملے گا بلکہ اس میں سے فورسڈ سیلز ویلیو منہا کرکے نیٹ ویلیو نکالی جائے گی اور اس کا ستر فیصد لون ملے گا۔

فورسڈ سیلز ویلیو کا مطلب ہے کہ اگر برے حالات میں یہ جائیداد بیچنی پڑے تو کتنی قیمت کم کرکے بیچ سکیں گے، یہ شرح عموماً پندرہ سے بیس فیصد تک منہا کی جاتی ہے۔

تو اب حتمی کمپوزیشن یوں بنے گی کہ کل قیمت ستر لاکھ، مائنس بیس فیصد فورسڈ سیلز ویلیو، بقایا بچے چھپن لاکھ کے قریب، اس کا ستر فیصد چالیس لاکھ کے قریب آپ کو لون ملے گا اور بقیہ رقم آپ کو خود ادا کرنی ہوگی۔

یہ وہ فارمولا ہے جس کی وجہ سے ایکویٹی پورشن میں اڑتیس اور باسٹھ کا ریشو بن جاتا تھا۔

یہ بات سمجھنا اسلئے ضروری تھی کہ سب کچھ کر کرا کے جب آپ کو تیس کی بجائے اڑتیس فیصد ڈاؤن پیمنٹ دینی پڑے تو پریشانی نہ ہو، آپ یہ سوچ کر چلیں کہ جو قیمت مالک مکان بتائے گا ایک تو وہ سروے کمپنی کی اسیسمنٹ سے پہلے ہی زیادہ ہوگی پھر سروے کمپنی کی اسیسمنٹ میں سے بھی بیس فیصد ویلیو کم کی جائے گی، پھر جو جواب آئے گا اس کا ستر فیصد لون ملے گا، نتیجۃً یہ سمجھ لیں کہ پینتیس لاکھ تک کے مکان کا بیس فیصد اور اسی لاکھ کے مکان پر چالیس فیصد آپ کو اپنی جیب سے ہی ادا کرنا ہوگا۔

اسی لاکھ سے بھی مہنگا مکان لیں گے تو پچاس لاکھ کے لون سے اوپر کی ساری رقم آپ کو اپنی جیب سے ہی ادا کرنی ہو گی۔

سروے کمپنی کی فیس بھی آپ کو ادا کرنی ہے جو دس سے پندرہ ہزار تک ہو سکتی ہے، پھر جب یہ ٹرانزیکشن مکمل ہو جائے تو مکان آپ کے ہی نام پہ رجسٹری ہوگا لیکن ساتھ ہی بینک کے نام پر مورٹگیج ہو جائے گا یعنی رہن رکھ دیا جائے گا، اس پراسس پر بھی رجسٹری فیس کیساتھ مورٹگیج فیس سب آپ کو ہی ادا کرنی ہو گی۔

مالک مکان کیساتھ سیلز ایگریمنٹ اور رجسٹری کے کاغذات آپ خود کسی وثیقہ نویس یا وکیل سے تیار کرائیں گے، جبکہ مورٹگیج کے کاغذات بینک تیار کرے گا لیکن اسٹیمپ پیپرز کا بل آپ کو ہی دینا ہوگا۔

ان کاغذات میں آٹھ دس صفحات کی ایک مورٹگیج ڈیڈ ہوگی، نیٹ ورتھ سٹیٹمنٹ، بیسک فیکٹ شیٹ، پرسنل گارینٹی، پرومائزری نوٹ اور خدانخواستہ ڈیفالٹ کی صورت میں بینک کو جائیداد بیچنے کی پاور آف اٹارنی دینا شامل ہیں، ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جب کوئی بندہ کسی وجہ سے قسطیں ادا نہ کر سکتا ہو تو وہ بینک کی اجازت سے ازخود بھی بیچ سکتا ہے تاکہ اچھی قیمت حاصل کرسکے ورنہ بینک تو صرف اتنے میں ہی بیچے گا جس میں اس کے اپنے پیسے ریکور ہو جائیں۔

پراسیسنگ فیس:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیس لاگ۔ان ہونے سے رجسٹری اور مورٹگیج تک جو پراسیسنگ اور ڈاکومینٹیشن چارجز آپ کو ادا کرنے پڑیں گے وہ چھوٹے لون پر اندازاً پچاس ہزار اور بڑے لون پر لاکھ روپے تک لگ سکتے ہیں۔

پروفیشنل ریمارکس:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سکیم کی افادیت یہ ہے کہ اس میں پہلی بار کم آمدنی والے تنخواہ داروں کو فوکس کیا گیا ہے جو عام حالات میں ڈاکومنٹیشن کی سختی، اہلیت کے مسائل اور بھاری انٹرسٹ ریٹ کی وجہ سے ہوم لون حاصل نہیں کر سکتے تھے، پھر اس پر انٹرسٹ ریٹ تقریباً پچاس فیصد آف ہے، اور ڈاکومینٹیشن بھی بالکل سادہ ہے۔

دوسری افادیت یہ ہے کہ چھوٹے شہروں اور رورل ایریاز کے کم آمدنی والے ملازمین اس سکیم سے بہت بڑی تعداد میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ وہاں کی ترقی پزیر کالونیوں میں پچیس تیس لاکھ میں بہت اچھا گھر بن جاتا ہے۔

زیرو ایکویٹی پر کہیں بھی کوئی لون نہیں ملتا اسلئے ایکویٹی سائڈ پر جو ڈاؤن پیمنٹ کرنی پڑے گی وہ بالکل نارمل ہے ورنہ قسط کی رقم آپ کی آمدنی میں فٹ نہیں ہو پائے گی۔

تاہم سکیم کا پہلا ڈیمیرٹ یہ ہے کہ اس میں صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے جن کے پاس ڈاؤن پیمنٹ کیلئے بیس سے چالیس فیصد رقم موجود ہو گی جبکہ کم آمدنی والے اور درمیانی آمدنی والے لوگوں کی بڑی اکثریت مہینے کی آخری تاریخوں میں بالکل کنگال ہو جاتی ہے تو ضرورتمندوں کے پاس اتنی رقم کہاں سے آئے گی۔

اس کی بجائے فورسڈ سیلز ویلیو نکالے بغیر ڈاؤن پیمنٹ کی شرح پندرہ فیصد رکھی جاتی تو پھر ایک بڑی اکثریت اس سکیم سے بہرحال فائدہ اٹھا سکتی تھی۔

دوسرا ڈیمیریٹ یہ ہے کہ بڑے شہروں کے کم آمدنی والے طبقات اس سکیم سے قطعاً فائدہ نہیں اٹھا سکتے جہاں اندرون شہر کے ترقی پزیر علاقوں میں بھی نئے مکان کی قیمتیں لگ بھگ ایک کروڑ سے شروع ہوتی ہیں اور اس کیلئے پچاس لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ کرنی پڑے گی۔

ڈسکلیمر نوٹ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک ایجوکیشنل اوورلے یا معلوماتی تحریر ہے جو لیگل ایڈوائز کے مترادف ہرگز نہیں ہے، نہ ہی اس میں پیش کردہ اعدادوشمار اور پرسیجرز کو حتمی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ سب چیزیں بینک ٹو بینک بھی ویری کرتی ہیں اور اس سکیم کی پالیسی جس قدر سامنے آئی ہے اسے مدنظر رکھ کے بتائی گئی ہیں جو ان۔ڈسکلوزڈ پالیسی سے مختلف بھی ہو سکتی ہیں، لہذا حتمی بات وہی ہو گی جو اس سلسلے میں آپ کو بینکر بتائے گا تاہم اس مضمون کی بدولت آپ ان تمام گوشوں کو بینکر کیساتھ اچھی طرح سے ڈسکس کرنے کے قابل ہوں گے جو پلاننگ اور ڈیلنگ کرتے وقت مدنظر رکھنے چاہئیں تاکہ آپ کی پلاننگ اور ہینڈلنگ میں کوئی جھول نہ رہے۔
۔۔۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Property SCAM PK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category