24/06/2026
عوامی خدمت اور منفی سیاست
ٹنڈوآدم ۔۔۔۔۔موجودہ دور میں سیاست کا مزاج تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی کاموں پر توجہ دینے کے بجائے اکثر سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا اور کردار کشی کی مہمات چلانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ عملی طور پر عوام کی خدمت کرتے ہیں، انہیں بھی تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ٹنڈوآدم کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت اور سابق سینیٹر ملک امام الدین شوقین ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ عوامی خدمت اور علاقے کی ترقی کے لیے وقف کیا۔ انہوں نے شہر میں صنعتی ادارے قائم کیے جن سے سینکڑوں افراد کو براہِ راست اور ہزاروں خاندانوں کو بالواسطہ روزگار حاصل ہوا۔ ان صنعتوں نے نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کیا بلکہ بے روزگاری کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ملک امام الدین شوقین نے صرف روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی سرپرستی میں قائم اسپتالوں اور تعلیمی اداروں نے ہزاروں افراد کو علاج اور تعلیم کی سہولت فراہم کی۔ اس کے علاوہ وہ بیواؤں، یتیموں اور مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کرتے ہیں، غریب بچیوں کی شادیوں کے اخراجات برداشت کرتے ہیں اور ضرورت مندوں میں راشن تقسیم کرتے ہیں۔
سال 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران بھی ملک امام الدین شوقین نے ہزاروں متاثرین کی مدد کی اور کئی ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر کھانے کا انتظام کیا۔ مشکل کی ہر گھڑی میں وہ عوام کے درمیان موجود رہے اور متاثرہ خاندانوں کی بھرپور مدد کی۔
اس کے باوجود حالیہ عرصے میں ان کے خلاف منظم سیاسی مہم جوئی اور تنقید دیکھنے میں آئی۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ضرور ہے، لیکن تنقید کا مقصد تعمیری اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی مخالفت یا کردار کشی۔ معاشرے کو ان افراد کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے جو عملی طور پر عوام کی فلاح، روزگار کی فراہمی، تعلیم کے فروغ اور انسانیت کی خدمت کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
بلاشبہ ملک امام الدین شوقین جیسے دردمند، انسان دوست اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار افراد کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال اور مشعلِ راہ ہیں۔