Jam Tayyab Zaman

Jam Tayyab Zaman Alhamdulillah ♥️

افسوس! 😢 کھانا آنے انتظار میں لائن میں لگے سینکڑوں مسلمان ہلاک،  یہ سامنے کوئی کچرا نہیں بلکہ لاشوں کا ڈھیر ہے، ان کو اس...
11/06/2026

افسوس! 😢 کھانا آنے انتظار میں لائن میں لگے سینکڑوں مسلمان ہلاک، یہ سامنے کوئی کچرا نہیں بلکہ لاشوں کا ڈھیر ہے، ان کو اس وقت مارا گیا جب یہ کھانا آنے کا انتظار کر رہے تھے، دنیا دیکھتی رہی، انسانیت روتی رہی — اور غزہ جلتا رہا!

غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے لاکھوں فلسطینی شہری بھوک، پیاس اور بے گھری کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ میں امداد کی ترسیل پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ بعد میں ایک امریکی حمایت یافتہ نجی ادارہ "Gaza Humanitarian Foundation (GHF)" نے امداد تقسیم کرنا شروع کی — لیکن اقوامِ متحدہ اور بڑی امدادی تنظیموں نے GHF کے ساتھ تعاون سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کے خیال میں یہ ادارہ اسرائیلی فوجی مقاصد کے تابع بنایا گیا تھا۔ غریب اور بھوکے فلسطینی، جن میں بچے، بوڑھے اور عورتیں شامل تھیں، میلوں پیدل چل کر ان مراکز تک پہنچنے کی کوشش کرتے — کیونکہ زیادہ تر غزہ کے شہریوں کے پاس نقل و حمل کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔

یہ الزام کسی دشمن نے نہیں، بلکہ خود اسرائیلی اخبار "ہاآرتز" نے لگایا — وہ اخبار جو 1918 سے اسرائیل میں شائع ہو رہا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں اور افسروں نے بتایا کہ انہیں اپنے کمانڈروں کے براہِ راست حکم پر ان نہتے فلسطینیوں پر گولیاں چلانے کا حکم دیا گیا جو کھانا لینے کے لیے کھڑے تھے — باوجود اس کے کہ یہ لوگ کسی بھی طرح سے خطرہ نہیں تھے۔ ایک فوجی نے کہا: "جہاں میں تعینات تھا، وہاں ہر روز ایک سے پانچ لوگ مارے جاتے تھے۔ انہیں دشمن فوج کی طرح ٹریٹ کیا جاتا تھا — نہ آنسو گیس، نہ بھیڑ کنٹرول کے کوئی اقدامات۔" ایک سینئر افسر نے کہا کہ یہ IDF کے اخلاقی ضابطوں کا مکمل انہدام ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق 27 مئی سے 31 جولائی 2025 کے درمیان، GHF کے امدادی مراکز کے قریب کھانا لینے کی کوشش میں کم از کم 859 فلسطینی ہلاک ہوئے — اور ان میں سے اکثریت کو اسرائیلی فوج نے قتل کیا۔ ایک واقعے میں اسرائیلی ٹینکوں نے خان یونس میں اقوامِ متحدہ کے قافلے سے کھانا لینے کے لیے کھڑے ہزاروں لوگوں پر دو گولے داغے — کم از کم 59 افراد جاں بحق ہوئے۔ ایک چشم دید گواہ نے کہا: "لوگ اپنے بچوں کے لیے آٹا لینے کے لیے مر رہے ہیں، ٹکڑے ٹکڑے ہو رہے ہیں۔" Human Rights Watch نے اس سب کو سنگین بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم قرار دیا ہے۔

یہ معاملہ صرف غزہ اور اسرائیل کا نہیں — یہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ Human Rights Watch نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فوری طور پر شہری آبادی کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال بند کرے، امداد پر عائد پابندیاں ختم کرے، اور اس ناقص تقسیمی نظام کو معطل کیا جائے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت پہلے سے غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب خود اسرائیلی فوجی اپنے ضمیر کی آواز پر میڈیا سے بات کر رہے ہیں، جب اقوامِ متحدہ گنتی کر رہا ہے، جب Human Rights Watch رپورٹیں لکھ رہا ہے — تو کیا دنیا کے طاقتور ممالک کا محض بیان دینا کافی ہے؟ روٹی مانگنے والوں کو گولیاں ملیں — اور دنیا نے صرف "تشویش" کا اظہار کیا۔ تاریخ کے صفحات پر یہ سوال ہمیشہ لکھا رہے گا: **جب انسانیت مر رہی تھی — تم کہاں تھے؟

29/04/2024

عبادت صرف جآئے نماز پر نہیں ہوتی
یہ میٹھی زبان سے,
اچھے الفآظ
أور خوبصورت رویوں سے بھی ہوتی ہے۔....❤️

Address

Kot Bahadur Shah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jam Tayyab Zaman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Jam Tayyab Zaman:

Shortcuts

Share

Category