Atiqa Digital

Atiqa Digital Islamic Scholer’Researcher’Motivational speaker(khteba mubligah)Colum writer

06/08/2025

سمرہ ماشاءاللّٰہ، بہت اہم اور حیاء پر مبنی سوال ہے، جو آج کی مسلمان خواتین کے لیے علمی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے:
سوال:46
"حاملہ عورت کا اندرونی (TV) الٹراساؤنڈ ہوتا ہے، جس میں ایک آلہ (ٹول) اندام نہانی میں داخل کیا جاتا ہے — تو کیا اس سے غسل فرض ہو جاتا ہے؟"
✅ مختصر اور واضح جواب:
نہیں، اس سے غسل فرض نہیں ہوتا۔
📚 تفصیلی وضاحت (علمی اور شرعی انداز میں):
❓ یہ الٹراساؤنڈ کیا ہوتا ہے؟(TVS (Transvaginal Scan ایک میڈیکل طریقہ ہے جس میں:
✓ ایک آلہ (probe) عورت کی شرمگاہ کے ذریعے اندام نہانی میں داخل کیا جاتا ہے
✓ تاکہ رحم (uterus)، بچہ دانی، یا حمل کی ابتدائی حالت کو واضح دیکھا جا سکے
📌 اس دوران کسی قسم کی شہوت، انزال، یا جنسی تعلق نہیں ہوتا — صرف طبی معائنہ ہوتا ہے۔ تو غسل کب فرض ہوتا ہے؟
غسل کے فرض ہونے کی شرعی وجوہات:
| سبب | غسل فرض؟ |
| منی کا انزال (مرد یا عورت) | ✅ ہاں | مرد و عورت کا ج**ع (دونوں شرمگاہیں ملیں، چاہے انزال نہ ہو) | ✅ ہاں | حیض یا نفاس ختم ہو جانا | ✅ ہاں | صرف آلہ (ٹول) داخل ہونا، طبی معائنہ | ❌ نہیں |
🔹 اس لیے TVS کے دوران نہ تو منی خارج ہوتی ہے، نہ شہوت کا عمل ہوتا ہے، اور نہ ہی ج**ع جیسی کیفیت ہوتی ہے — تو غسل فرض نہیں ہوتا۔
📖 دلیل (علمائے اہل حدیث اور جمہور فقہاء کا مؤقف):
✓شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے یہی سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا:
✓"اگر محض طبی معائنے کے لیے آلہ داخل کیا جائے، اور کوئی جنسی لذت یا انزال نہ ہو — تو غسل واجب نہیں۔"
(فتاویٰ نور علی الدرب)
✓فقہاءِ کرام نے بھی واضح کیا ہے:
"صرف کسی چیز کے دخ*ل (داخل ہونے) سے بغیر ج**ع و شہوت کے غسل لازم نہیں ہوتا۔"
🤲 خواتین کے لیے نرم و حکیمانہ بات:
✓ اگر ایسی صورت میں آپ پاکی کے لیے وضو کرنا چاہیں تو یہ اچھی بات ہے، مگر غسل ضروری نہیں
✓اگر کوئی بدنی نجاست (خون وغیرہ) نکلے تو صرف استنجا اور وضو کافی ہے
✨ خلاصۂ :
| سوال | جواب
| TV (اندرونی) الٹراساؤنڈ غسل فرض ہوتا ہے؟ | ❌ نہیں| اگر اس کے ساتھ شہوت یا انزال ہو جائے؟ | ✅ ہاں، تب غسل واجب| صرف آلہ داخل ہونے سے؟ | ❌ غسل فرض نہیں |
🖊️:عتیقہ بشیر

04/08/2025

فاطمہ آپ کا سوال بہت اہم ہے۔
سوال:45
اگر کسی عورت کے پیریڈز کا سائیکل خراب ہو جائے (مثلاً کبھی 7 دن، کبھی 10 دن، کبھی 15 دن) تو:
1. اسے کتنے دن حیض شمار کرنا چاہیے؟
2. کب وہ نماز اور روزہ شروع کرے؟
قرآن، حدیث اور فقہ کی روشنی میں مفصل اور آسان زبان میں
✅ جواب:
📌 شریعت نے حیض کے لیے کم از کم اور زیادہ سے زیادہ دن مقرر کیے ہیں:
| حد | دن
| کم از کم حیض کی مدت | 1 دن (24 گھنٹے) |
| زیادہ سے زیادہ حیض کی مدت | 10 دن (اہلحدیث و جمہور کے نزدیک) |
| 15 دن (احناف کے نزدیک) |
اگر پیریڈز بے ترتیب ہوں تو کیا کریں؟
🟢 صورت 1: پچھلے معمول کے مطابق حیض آتا تھا.
مثلاً: ہر مہینے 6 دن آتا تھا
اب اس مہینے 12 دن خون آ رہا ہے
✅ ایسی عورت "6 دن" کو حیض شمار کرے گی
اور باقی دنوں کو استحاضہ (بیماری کا خون)شمار کرے گی
📌 ان دنوں میں نماز، روزہ، طہارت سب لازم ہے
🔵 صورت 2: کوئی معمول ہی نہیں ہے
مثلاً عورت نئی بالغ ہوئی ہے یا سائیکل ہر مہینے الگ ہوتا ہے
✅ ایسے میں فقہائے اہلحدیث کے مطابق:
✓ جب تک 10 دن سے کم ہو → وہ سارے دن حیض شمار ہوں گے
✓ اگر 10 دن سے زیادہ ہو جائے→ تو 10 دن کو حیض شمار کرو، باقی کو بیماری
📌 احناف کے ہاں یہ حد 15 دن تک ہے.
📖 قرآن سے دلیل:
"وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى..."
(البقرہ: 222)
"آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، فرما دیجیے: وہ گندگی (اذیٰ) ہے..."
🔹 یعنی حیض کی حالت میں عورت کو نماز اور روزہ معاف ہے
🔹 لیکن جب حیض ختم ہو جائے، تو غسل کر کے نماز شروع کرنی ہے
📚حدیث سے رہنمائی:
نبی کریم ﷺ نے استحاضہ کی شکار عورت فاطمہ بنت ابی حبیش سے فرمایا:
"فإذا أقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا أدبرت فاغسلي عنك الدم وصلي"
(صحیح بخاری: 228، مسلم: 333)
"جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب حیض ختم ہو تو غسل کر کے نماز پڑھو۔"
✨ عمل کیسے کریں؟
(خلاصہ)
| حالت :خون 1 دن سے کم
نماز پڑھے ؟ ہاں لازم ہے
غسل؟ نہیں
طہارت ؟استحاضہ
حالت:خون 1-10 دن
نماز پڑھے؟ نہیں حیض ہے۔
غسل؟ ختم پر غسل کرے
طہارت؟ لازم
حالت: خون 10 دن سے زیادہ
نماز پڑھے؟ 10 دن حیض باقی استحاضہ
غسل؟ 10 دن بعد غسل کرے
طہارت؟ نماز و روزہ لازم
🤲 نصیحت:
✓طہارت پر دھیان دینا دین کا حصہ ہے
✓ اگر مسلسل خون آتا ہے تو ڈاکٹری علاج بھی کروائیں
✓اگر شک ہو، تو پچھلا معمول یا زیادہ سے زیادہ حد (10 دن یا 15 دن) کا اصول اپنائیں
🖊️: عتیقہ بشیر

03/08/2025

ماشاءاللّٰہ! اقصیٰ کا سوال بہت معصومانہ مگر دلچسپ ہے، اور ایسی باتیں اکثر بچپن سے ہمیں سنائی جاتی ہیں.
سوال:44
"کیا نیا چاند نکلنے پر بال کاٹنے سے بال لمبے ہوتے ہیں؟
کیا یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟"
محبت بھرے انداز میں اس سوال کا علمی، دینی اور عقلی جواب :
❌ قرآن و حدیث میں ایسی کوئی بات موجود نہیں کہ:
"نیا چاند دیکھ کر یا چاند کی کسی تاریخ پر بال کاٹنے سے بال لمبے ہوتے ہیں"
🔹 یہ ایک ثقافتی یا روایتی بات ہے،
جو بزرگوں یا دیسی اندازِ تجربے پر مبنی ہو سکتی ہے —
مگر یہ شریعت کا حصہ نہیں۔
📖 شریعت کا اصول:
"مَن أحدثَ في أمرِنا هذا ما ليسَ منه فهُو ردٌّ"
(صحیح بخاری و مسلم)
"جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس کا حصہ نہیں، وہ مردود ہے (نامنظور ہے)"
📌 یعنی ایسی باتیں جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہوں،
انہیں دین یا روحانی فائدہ سمجھنا درست نہیں۔
🧠 عقلی جواب بھی دیکھیں:
بال کا لمبا ہونا:
✓جسمانی صحت، غذائیت، ہارمونز، جینیات (genes) اور
✓بالوں کی صفائی، مالش، دھوپ، پانی وغیرہ پر ہوتا ہے۔
چاند کی روشنی یا وقت کا بالوں کی لمبائی سے براہ راست کوئی سائنسی تعلق ثابت نہیں۔
✅ البتہ چاند دیکھ کر کچھ سنتیں ہیں:
🍂جب نیا چاند دیکھیں تو نبی ﷺ یہ دعا پڑھتے:
"اللّٰهم أهلَّه علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، والتوفيق لما تحب وترضى..."(ترمذی: 3451)
📌 چاند کو نیکی، دعا، ہجری مہینے کے آغاز، اور عبادت کا وقت سمجھا گیا ہے — نہ کہ روحانی اثرات کے لیے بال کاٹنے کا وقت۔
خلاصۂ:
| سوال | جواب |
نیا چاند نکلنے پر بال بال کاٹنے سے بال لمبے ہوتے ہیں؟ | ❌ قرآن و حدیث میں ایسی بات نہیں
| یہ بات کہاں سے آئی؟ | عوامی روایت یا ذاتی مشاہدہ |
| دین میں ایسی بات کا درجہ؟ | ❌ بدعت یا ضعیف وہمات میں شمار ہوتا ہے |
| نیا چاند دیکھنے کی سنت؟ | ✅ دعا مانگنا، نیت کی تجدید کرنا
💡 محبت بھرا مشورہ:
ہمیں بچوں اور بچیوں کو دین کا ایسا فہم دینا چاہیے جو
قرآن و سنت کی بنیاد پر ہو — اور توہمات سے پاک ہو۔
🖊️:عتیقہ بشیر

01/08/2025

اقصیٰ آپ نے دین، وقت اور معاشرتی فتنوں پر بہت حساس اور باشعور سوال کیا ہے۔
سوال:43
"کیا ہم نئے سال (اسلامی یا عیسوی) کی خوشی منا سکتے ہیں جبکہ محرم میں ہمیں شہادتوں کا غم بھی معلوم ہے؟"
قرآن، سنت اور فقہ کی روشنی میں محبت، فہم اور دلائل کے ساتھ جواب:
✅ جواب کا خلاصہ:
| سوال | حکم
| نیا سال (اسلامی یا عیسوی) کی "خوشی" منانا جیسے جشن، کیک، مبارک باد، آتشبازی وغیرہ | جائز نہیں (بدعت یا غیر اسلامی تہوار کی مشابہت ہے)
نیا سال آئے تو دعا، نیت کی تجدید، نیکی کی شروعات کرنا | ✅ جائز بلکہ پسندیدہ عمل
محرم میں شہادتوں کے غم کو نظر انداز کر کے جشن منانا ❌احساس سے خالی عمل
📖 1. قرآن کی روشنی میں:
"وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ"
(الفرقان: 72)
"رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو لغوی و باطل تہواروں میں شریک نہیں ہوتے"
📌 اس آیت کی تفسیر میں غیر شرعی، کفریہ یا فاسقانہ تہوار میں شرکت کو ناپسندیدہ اور متقیوں کی ضد بتایا گیا ہے۔
📚 2. حدیث سے رہنمائی:
نبی ﷺ نے فرمایا:
"من تشبَّه بقومٍ فهو منهم"(سنن ابوداؤد: 4031)
"جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے"
🔹 اس سے فقہاء نے واضح کیا کہ غیروں کے مذہبی، تہذیبی یا تہوار والے اندازکو اپنانا حرام یا مکروہ ہو سکتا ہے۔
3. اسلامی نیا سال (محرم) کا
پس منظر:
✓محرم الحرام ہمارے لیے ماتم یا صرف غم کا مہینہ نہیں
✓ یہ ہمیں صبر، قربانی، شہادت، اور ہجرت کی یاد دلاتا ہے
✓ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانی دین کے لیے تھی — نہ کہ نئے سال کے جشن کے لیے
✅ اس لیے اسلامی نیا سال ہمیں اصلاح، توبہ، نئی نیت اور تجدیدِ ایمان کا پیغام دیتا ہے — نہ کہ "Happy New Year" کی رسمیں۔
4. عیسوی نیا سال (31 دسمبر / 1 جنوری)؟
✓ یہ نہ اسلامی تقویم ہے، نہ صحابہ و سلف نے منایا
✓ یہ عیسائی مذہبی تقویم کا حصہ ہے
✓ اس میں جو طرز عمل ہوتا ہے (ڈانس، پارٹیز، گنتی، آتشبازی، کیک) — وہ اسلامی تہذیب سے میل نہیں کھاتا
✅ تو نیا سال کیسے گزاریں؟
1.اللّٰہ کا شکر ادا کریں کہ ایک اور سال ملا
2. نیت کی تجدید کریں: کہ آنے والا سال تقویٰ، عبادت، دین کے لیے ہو
3. دعا پڑھیں:
"اللّٰہم ادخلہ علینا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، ورضوانٍ من الرحمٰن، وجوارٍ من الشیطان"
4. کوئی صدقہ یا نیکی کا عمل کریں
5. اپنے گناہوں پر توبہ کریں، اور اصلاح کا سفر شروع کریں
📌 خلاصۂ کلام:
| عمل | شرعی حکم |
| "Happy New Year" کہنا، کیک کاٹنا، جشن منانا | ❌ غیر شرعی، مشابہتِ کفار
| نیت کی تجدید، دعا، نیکی کی شروعات | ✅ مستحب، اصلاح کی علامت | محرم میں جشن؟ | ❌ ناسمجھی اور شہادتوں کی توہین |
اللہ ہمیں وقت کی قدر اور دین کی فہم عطا فرمائے۔
🖊️:عتیقہ بشیر

28/07/2025

خدیجہ بہت اہم سوال ہے:
سوال42:
اگر عورت حمل (پریگنینٹ)میں ہو تو کیا وہ خلع لے سکتی ہے؟
قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں مکمل اور واضح :
✅ جواب:
جی ہاں! عورت اگر حاملہ ہو تو وہ خلع لے سکتی ہے۔
اسلام میں حالتِ حمل خلع لینے سے رکاوٹ نہیں بنتی۔
📖 دلائل اور شرعی رہنمائی:
1. قرآن مجید:
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ"
(البقرہ: 229)
"اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے، تو عورت جو کچھ دے کر چھٹکارا حاصل کرے، اس میں کوئی گناہ نہیں۔"
📌 اس آیت میں خلع کی اجازت عمومی طور پر دی گئی ہے، حمل یا غیر حمل کی قید نہیں لگائی گئی۔
2. احادیث کی روشنی میں:
خلع کا مشہور واقعہ:
حضرت ثابت بن قیس کی بیوی نے نبی ﷺ سے خلع کی درخواست کی۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "کیا تم اس کا باغ واپس کرو گی؟"
اس نے کہا: جی ہاں۔
نبی ﷺ نے خلع کروا دی۔
(صحیح بخاری: 5273)
📌 اس حدیث میں حمل کا ذکر نہیں، لیکن فقہاء نے اس سے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ خلع ہر وقت ممکن ہے— بشرطیکہ شوہر یا قاضی راضی ہوں۔
اگر عورت حاملہ ہو اور خلع لے لے تو عدت کیا ہوگی؟
جیسا کہ سورہ طلاق میں فرمایا:
"وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ"
(الطلاق: 4)
"حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضعِ حمل (بچے کی پیدائش) تک ہے۔"
🔹 اس لیے خلع کے بعد عدت بچے کی پیدائش تک ہو گی، چاہے ایک دن ہو یا 9 مہینے۔
✅ خلاصہ:
سوال جواب
کیا حاملہ عورت خلع لے سکتی ہے؟
جی ہاں، خلع لے سکتی ہے
کیا شریعت میں اس کی ممانعت ہے؟
نہیں، کوئی ممانعت نہیں
عدت کیا ہو گی؟
بچے کی پیدائش تک
🖊️:عتیقہ بشیر

27/07/2025

اللہ آپ کو جزائے خیر دے ایمن آپ نے مظلوم خواتین کے حق میں ایسا حساس سوال پوچھا، جو آج کے معاشرے کی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔
سوال:41
اگر کوئی لڑکی زبردستی (ریپ)کا شکار ہو جائے تو شریعت میں اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جبکہ ایسے درندے معاشرے میں موجود ہیں جو عزتیں پامال کرتے ہیں، اور لڑکی اکثر خاموشی، شرم یا خوف کے باعث کچھ نہیں کہہ پاتی۔
✅ جواب (قرآن و حدیث کی روشنی میں):
🔴 1. جبری زنا (ریپ) ایک سنگین ظلم اور حد درجے کا گناہ ہے
یہ زنا سے بھی زیادہ سخت جرم ہے کیونکہ:
✓ یہ زبردستی ہے
✓ عزت پر حملہ ہے
✓روح، جسم، اور نفسیات کو توڑ دینے والا ظلم ہے
2. لڑکی (متاثرہ) پر کوئی گناہ نہیں
📖 قرآن فرماتا ہے:
"إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ"
(النحل: 106)
"سوائے اس کے جس پر زبردستی کی جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔"
🔹 اس آیت سے فقہاء نے اصول اخذ کیا کہ:
"جس سے زبردستی گناہ کروایا جائے، اور وہ دل سے راضی نہ ہو، تو وہ گناہگار نہیں۔"
✅ اسی طرح جس لڑکی پر زبردستی زیادتی ہو:
✓ وہ شرعاً پاک دامن ہے
✓اس پر کوئی شرعی حد یا سزا نہیں
✓ بلکہ اس کا دفاع کرنا اور مدد کرنا واجب ہے
📚 3. حدیث سے دلیل:
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
ایک عورت نے زیادتی (جبری زنا) کے بعد شور مچایا، لوگ آئے، مجرم کو پکڑ کر نبی ﷺ کے پاس لائے۔
آپ ﷺ نےلڑکی کو چھوڑ دیا اورمجرم کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔
(سنن ترمذی: 1454)
🔸 اس سے واضح ہوا کہ:
| متاثرہ لڑکی مظلوم ہے |
مجرم | حدِ زنا (سخت سزا) کا مستحق ہے |
⚖️ 4. اگر لڑکی خاموش رہی ہو؟
✓ شریعت میں اعتراف یا گواہی نہ ہو تو حد نہیں لگتی لیکن تعزیری سزا دی جا سکتی ہے
✓لڑکی کو شرمندہ کرنے یا معاشرتی بوجھ ڈالنے کا کوئی شرعی جواز نہیں
💔 5. ایسے حالات میں لڑکی کیا کرے؟
✅ تین اقدامات فوری لازم ہیں:
1. فوراً غسل کرے اور طہارت اختیار کرے (پاکیزگی عبادت کا راستہ کھولتی ہے)
2. کسی بااعتماد شخص یا ادارے کو اطلاع دے (قانونی و شرعی تحفظ کے لیے)
3. دل سے سچی توبہ اور اللہ سے قرب کی کوشش کرے
(اگرچہ وہ گناہگار نہیں، مگر روحانی سکون کے لیے ضروری ہے)
🤲 6. لڑکی کو کیا کہنا چاہیے؟
✓تم گناہگار نہیں، تم مظلوم ہو۔
✓اللّٰہ تمہارے آنسو دیکھتا ہے، اور انصاف کا وعدہ رکھتا ہے۔
✓یہ حادثہ تمہاری عزت نہیں چھین سکتا، بلکہ اللّٰہ کے نزدیک تم اور بلند ہو گئی ہو۔
"إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا"
(الحج: 38)
"بے شک اللہ ایمان والوں کی خود مدد کرتا ہے۔"
✅ خلاصہ:
| نکتہ | حکم
| جبری زیادتی (ریپ) | زنا سے بھی سنگین جرم |
| لڑکی پر گناہ ہے؟ | ❌ نہیں، وہ معصوم و
مظلوم ہے |
| شریعت کا حکم | مجرم پر سخت سزا (حد یا تعزیر) |
| لڑکی کیا کرے؟ | طہارت، حفاظت، اور اللّٰہ سے رجوع |
| معاشرہ کیا کرے؟ | متاثرہ کو سہارا دے، شرمندہ نہ کرے |
یہ درد دل سے سننے اور دین سے سہارا دینے کا وقت ہے، شرمندہ کرنے کا نہیں۔
🖊️: عتیقہ بشیر

26/07/2025

ماشاءاللّٰہ، آپ نے صفائی اور فطری سنتوں سے متعلق اہم سوال کیا ہے:
سوال:40
"زیرِ ناف بال (شرمگاہ کے گرد بال) کتنے دن بعد اتارنے چاہییں؟
کیا پندرہ دن کی حد ہے؟"
قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں تفصیل سے:
✅ جواب:
💠 زیرِ ناف بالوں کو کم از کم چالیس دن کے اندر ضرور صاف کرنا چاہیے۔
پندرہ دن کی بات کوئی فرض یا حد نہیں ہے، بلکہ صفائی کا بہتر معمول ہے۔
📚 حدیث کی روشنی میں:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"الفِطرةُ خمسٌ: الختانُ، والاستحدادُ، وقصُّ الشاربِ، وتقليمُ الأظفارِ، ونتفُ الإبطِ."
(صحیح مسلم: 257)
"فطرت (قدرتی صفائی) کے پانچ کام ہیں: ختنہ، زیر ناف بال مونڈنا (استحداد)، مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا، اور بغل کے بال اکھیڑنا۔"
اور دوسری حدیث میں:
"وقَّتَ لنا رسولُ اللهِ ﷺ في قصِّ الشاربِ، وتقليمِ الأظفارِ، ونتفِ الإبطِ، وحلقِ العانةِ، ألا نتركَ أكثرَ من أربعينَ ليلةً."
(صحیح مسلم: 258)
"نبی ﷺ نے ہمیں مونچھیں، ناخن، بغل اور زیرِ ناف بالوں کے متعلق چالیس راتوں سے زیادہ چھوڑنے کی اجازت نہیں دی۔"
📌 حدیث سے حاصل شدہ اصول:
| عمل | زیادہ سے زیادہ وقفہ |
| |
| زیرِ ناف بال اتارنا | 40 دن سے زیادہ نہ چھوڑنا |
| ناخن کاٹنا | 40 دن |
| بغل کے بال | 40 دن |
| مونچھیں | 40 دن |
❓تو کیا پندرہ دن میں اتارنا ضروری ہے؟
❌ نہیں، پندرہ دن کوئی شرعی حد نہیں ہے۔
✅ لیکن اگر بال زیادہ بڑھنے لگیں یا گندگی محسوس ہو تو پندرہ دن میں صاف کرنا مستحب اور بہتر ہے۔
📌 بعض اہلِ علم کہتے ہیں کہ: "اگر کسی عورت کے بال جلد بڑھ جاتے ہیں یا بدبو آنے لگتی ہے تو وہ ہر 7 یا 15 دن میں صاف کرے —یہ طہارت اور حیا کا حصہ ہے
--عورت کے لیے خاص نصیحت:
✓ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے
✓اگر شوہر کے ساتھ تعلق ہو، یا نماز، یا روزہ — تو صفائی کی اہمیت دوگنی ہو جاتی ہے
✅ خلاصہ:
| سوال | جواب |
| زیرِ ناف بال کتنے دن بعد اتارنے چاہییں؟ | حدیث کے مطابق 40 دن کے اندر لازمی|
| پندرہ دن میں صاف کرنا؟ | ❌ فرض نہیں، ✅ صفائی کے لیے بہتر ہے |
| اگر کوئی 40 دن سے زیادہ چھوڑ دے؟ | ⛔ گناہ ہے، فطرت کے خلاف ہے |
🖊️: عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر

25/07/2025

ماشاءاللّٰہ، آمنہ آپ نے بہت اہم اور عام الجھن والا سوال پوچھا ہے۔
سوال:39
حاملہ (pregnant) عورت کو اگر شوہر طلاق دے، تو کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟
✅ جواب:
قرآن و حدیث کی روشنی میں
🔹 جی ہاں! حاملہ عورت کو دی گئی طلاق شرعاً ہو جاتی ہے۔
طلاق واقع ہو جاتی ہے، لیکن اُس کی عدت مختلف ہوتی ہے۔
📖 قرآن سے دلیل:
"وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ"
(الطلاق: 4)
"اور حاملہ عورتوں کی عدت اُن کا وضع حمل (بچے کی پیدائش) ہے۔"
یعنی:
✓ اگر عورت حمل میں ہو اور شوہر طلاق دے دے تو طلاق ہو جاتی ہے۔
✓لیکن اُس کی عدت یہ ہو گی کہ جب بچہ پیدا ہو جائے گا، عدت ختم ہو جائے گی۔
📚 حدیث کی تائید:
حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میرے شوہر فوت ہوئے اور میں حاملہ تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب تم نے بچے کو جنم دیا تو تمہاری عدت ختم ہو گئی۔"(صحیح مسلم: 1484)
📌 اس سے ثابت ہوا کہ حاملہ عورت کی عدت بچے کی ولادت ہے، خواہ طلاق ہو یا شوہر کا انتقال۔
❌ اعتراض: "حمل میں طلاق دینا جائز ہے؟"
📌 حمل کی حالت میں طلاق دینا جائز تو ہے، مگر یہ "طلاقِ سُنّت" ہے اگر ایک طہر (پاکی کے وقت) میں دی جائے۔
✓حیض کے وقت طلاق دینا گناہ ہے (طلاقِ بدعی)
✓ لیکن حمل میں طلاق دینا جائز ہے اور طلاق واقع ہو جاتی ہے
✅ خلاصہ:

| نکتہ | حکم |
| شوہر نے حمل کی حالت میں طلاق دی | طلاق واقع ہو جاتی ہے |
| عدت کیا ہو گی؟
| بچے کی پیدائش تک |
| حمل میں طلاق دینا | جائز ہے، اور شریعت میں واقع ہوتی ہے |
🖊️: عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر

24/07/2025

ماشاءاللّٰہ،نور بہت اچھا سوال ہے، کیونکہ روزمرہ عبادت کی بنیاد وضو پر ہے، اور اگر وضو صحیح نہ ہو تو نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔
سوال:38
وضو کے لیے کن اعضاء کو دھونا فرض ہے؟
وضو کے کتنے فرائض ہیں؟
اگر کوئی ایک فرض رہ جائے تو کیا وضو ہو جاتا ہے؟
✅ جواب (قرآن و حدیث کی روشنی میں):
📖 قرآن مجید سے وضو کے فرائض:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ..."(سورہ المائدہ: 6)
اس آیت میں چار اعضا واضح طور پر بیان کیے گئے:
✅ وضو کے 4 فرائض (اہلحدیث و جمہور کے نزدیک):
1. چہرہ دھونا
( پیشانی کے اوپر سے لے کر ٹھوڑی تک، اور ایک کان سے دوسرے کان تک۔)
2. دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا
(انگلیوں کے سرے سے کہنیوں تک)۔
3. سر کا مسح کرنا
( کم از کم ایک بار ہاتھ پھیرنا۔)
4. دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا
(انگلیوں کے سرے سے ٹخنے تک)۔
📚 حدیث کی تائید:
نبی کریم ﷺ نے وضو کرتے ہوئے ان سب اعمال کو مسلسل اور ترتیب سے کیا، اور فرمایا:
"مَن تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"
(صحیح بخاری: 164)
"جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور دو رکعتیں خشوع سے پڑھیں، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتےہیں۔"
❌ اگر کوئی فرض رہ جائے تو؟
اگر وضو میں کوئی ایک فرض بھی جان بوجھ کر چھوڑ دیا یا بھول گیا (مثلاً پاؤں نہ دھوئے، یا چہرہ نہ دھویا) تو:
⛔ وضو باطل ہے، نماز نہیں ہوگی۔
📌 کیونکہ وضو ایک عبادت ہے جس میں ہر فرض کا ادا ہونا ضروری ہے۔
✅ وضو کے فرائض کا خلاصہ (یاد رکھنے کے لیے):
| فرض | عمل |
| 1 | چہرہ دھونا |
| 2 | ہاتھ دھونا (کہنیوں سمیت) |
| 3 | سر کا مسح |
| 4 | پاؤں دھونا (ٹخنوں سمیت) |

✨ اضافی (مستحب) اعمال (جو سنت ہیں، مگر فرض نہیں):
✓ بسم اللّٰہ کہنا
✓ مسواک کرنا
✓ تین تین بار دھونا
✓ اعضا کو ترتیب سے دھونا
✓ دائیں جانب سے آغاز کرنا
یہ سب وضو کو کامل اور افضل بناتے ہیں، لیکن فرض نہیں۔ اگر کوئی رہ جائے تو وضو ہو جاتا ہے، بشرطیکہ فرائض مکمل ہوں۔
🖊️:عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر

کالم:عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر atiqa.odo45@gmail.com "غیرت کے نام پر قتل یا انا کا خنجر؟ — "عورت کو تو جنگ میں ب...
23/07/2025

کالم:عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر
[email protected]
"غیرت کے نام پر قتل یا انا کا خنجر؟ — "
عورت کو تو جنگ میں بھی مارنے کی اجازت نہیں، لیکن ہم اُسے محبت میں مار دیتے ہیں...
بلوچستان میں "شیتل" کے نام سے مشہور بانو بی بی کو اُس وقت قتل کر دیا گیا جب اُس نے اپنی مرضی سے احسان اللّٰہ سے نکاح کر لیا۔ المیہ یہ ہے کہ اس سفاکی کا نشانہ صرف وہ لڑکی نہیں بنی بلکہ احسان اللّٰہ کو بھی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا، جو اُس کا نکاح شدہ شوہر تھا۔
یہ دو جانیں صرف اس لیے قربان ہو گئیں کہ انہوں نے اپنی زندگی ایک جائز بندھن (نکاح) میں باندھنے کی کوشش کی — بغیر خاندان کی "رضا"، وڈیروں کی "انا" اور معاشرتی "روایت" کو چیلنج کیے۔
ہم یہ نوبت کیوں آنے دیتے ہیں؟
کیونکہ ہم اپنی بیٹیوں کے دل کی آواز سُننے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔
ہماری مصروفیت صرف دنیا کمانے، نمود و نمائش، اور سوشل میڈیا کے خ*ل میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔
ہم نے محبت کے جذبات کو سنبھالنے کا سلیقہ نہ خود سیکھا، نہ اولاد کو سکھایا۔
اسلام تو زندگی کا ہر پہلو سنوارتا ہے — چاہے وہ جذبات ہوں، تعلقات ہوں یا نکاح کا مقدس بندھن۔ مگر افسوس! ہم نے اسلام کو صرف رسموں، نمازوں اور جنازوں تک محدود کر دیا ہے، اور زندگی کے فیصلے "غیرت"، "انا" اور "روایت" کے تحت کرتے ہیں۔
یہ قتل نہیں — یہ بغاوت کا گلا گھونٹنا ہے!
"وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ"
(الأنعام: 151)
ترجمہ: "اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔"
اگر محبت کے جذبات کو سنبھالنے والا کوئی نہ ہو، تو پھر وہ خود فیصلہ کرتی ہے۔ اور جب وہ فیصلہ کرتی ہے تو ہمارا معاشرہ اُسے اس کی "جرأت" کی سزا دیتا ہے — وہ بھی موت کی صورت میں۔
اور پیاری بہنوں بیٹیوں:
گھروں کی دیواریں تو چور پھلانگتے ہیں، اچھی بیٹیاں نہیں۔
یہ کالم صرف بانو بی بی کے لیے نہیں، اُن بیٹیوں کے لیے بھی ہے:
جو آج وقتی کشش کو محبت سمجھ بیٹھتی ہیں،
جو فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا کے عارضی جذبات میں بہہ کر "چند لمحوں کی خوشی" کو زندگی کی کامیابی سمجھ لیتی ہیں،
جنہیں لگتا ہے کہ کسی کو حاصل کر لینا ہی محبت ہے!
افسوس! آج محبت، وفا، نکاح، عصمت — سب الفاظ بے معنی ہو چکے ہیں۔
اصل سچ تو یہ ہے:
شیطان نے ہمارے دلوں میں ایسا بسیرا کر لیا ہے کہ ہمیں حلال حرام کی تمیز نہیں رہی۔
آج زنا آسان ہے، نکاح مشکل!
آزادی کی آڑ میں بےحیائی پھیلائی جا رہی ہے۔
میڈیا نے فحاشی کو عام کر دیا ہے۔ ماڈرن بننے کے نام پر ہم نے شرم و حیا کو دفن کر دیا ہے۔
یہ پیغام والدین کے لیے بھی ہے:
آپ اپنی اولاد کو علم تو دیتے ہیں، مگر تربیت کے وہ پہلو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں جو دل کو جیتتے ہیں؟
اولاد کو سنیں، ان کے ساتھ بیٹھیں، اُنہیں دین کے قریب کریں، اُن کے سوالات کو حقارت سے نہیں، شفقت سے سنیں۔
دعائیں، نرمی، محبت، اور اعتماد — یہ تربیت کے ستون ہیں۔
اپنی بیٹیوں کو سنیں۔ اُنہیں وقت دیں۔ اُن کے دل کی دھڑکن بنیں۔ محبت کے رنگ اپنے ہاتھ سے اُن کی زندگی میں بھریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ باہر کا کوئی ہاتھ آ کر یہ فریضہ انجام دے — اور وہ ہاتھ شفقت کا نہ ہو، بلکہ داغ کا ہو۔
اگر ماں باپ اپنی بیٹی کو عزت دیں گے، اعتماد دیں گے، سنیں گے، تو وہ محبت کی بھیک مانگنے باہر نہیں جائے گی۔
اور نوجوانوں کے لیے میرا پیغام:
اپنے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرو، صرف والدین کے ڈر سے نہیں، رب کی رضا کی طلب سے پاکیزہ زندگی گزارو۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو، وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نگاہ کو جھکاتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 5066)
اور فرمایا:
"جب تم میں کوئی کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے اور وہ دین و اخلاق میں تمہیں پسند ہو، تو اس سے نکاح کر لو۔"
(ترمذی)
اے معاشرے کے سرداروں، قانون کے محافظوں، والدین، علما!
اب وقت ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو بانو بی بی (شیتل) نہ بننے دیں۔
نہ اُنہیں بغاوت پر مجبور کریں، نہ اُنہیں غیرت کے نام پر مٹا دیں۔
اسلام کو اپنی ذاتوں، خاندانوں، عدالتوں، گھروں، تربیت، اور فیصلوں میں اتارنے کا وقت آ چکا ہے۔
اگر آج ہم نے اپنی بیٹیوں کو نہ سنا —
تو کل قبر کی مٹی میں روتے ہوئے صرف یہی کہہ سکیں گے:
"کاش اُسے سمجھا لیتے، کاش اُسے روک لیتے، کاش اُسے سن لیتے!"
اللّٰہ ہماری بہنوں، بیٹیوں کی عزت و عصمت کی حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

23/07/2025

آپ نے جو سوال کیا ہے وہ بہت سنگین، حساس، اور شرعی طور پر نہایت سنگین جرم سے متعلق ہے۔
یہ صرف ایک "گناہ" نہیں بلکہ حد شرعی کا مستحق جرم ہے جسے زنا بالمحارم (حرام رشتہ دار سے زنا) کہتے ہیں۔
سوال:37
اگر بہن بھائی کے درمیان ہمبستری (زنا) ہو جائے — تو اس کا کفارہ کیا ہے؟
جواب: (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
❌ 1. یہ فعل کبیرہ ترین گناہ ہے (زنا بالمحارم)
📖 قرآن کی روشنی میں:
"حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ..."(سورہ نساء: 23)
"تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں..."
🔹 اس آیت میں واضح طور پر بہن سے نکاح اور تعلق کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
اور اگر کوئی جان بوجھ کر ایسے حرام رشتے سے جنسی تعلق قائم کرے تو یہ زنا سے بڑھ کر جرم ہے۔
💣 2. زنا بالمحارم کا دنیاوی حکم (شرعی حد):
✅ اسلامی عدالت (قاضی) کے سامنے اگر یہ جرم ثابت ہو جائے تو:
اگر دونوں بالغ، عاقل، اور رضا مندی سے شریک ہوں،
تو شرعی حد نافذ کی جائے گی:
سنگسار (اگر شادی شدہ ہوں) سو کوڑے (اگر غیر شادی شدہ ہوں)
اور جلاوطنی (ایک سال) (سنن ابی داود: 4476)
⛔ لیکن جب زنا اپنے محرم سے ہو (جیسے بہن یا ماں)تو یہ عام زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے۔
📌 فقہائے کرام (مثلاً امام مالک، امام احمد، امام شافعی) کے نزدیک:
"ایسے مجرم کی سزا عام زنا سے سخت ہونی چاہیے، اور قاضی کے لیے تعزیری اختیار ہے۔"
3. کفارہ کیا ہے؟
✅ اگر یہ جرم عدالت میں ثابت نہیں ہوا اور انسان سچے دل سے توبہ کرتا ہے،
تو شرعی کفارہ صرف ایک ہے:
خالص، سچی توبہ۔
📖 قرآن کہتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعِبَادِ"
"بے شک اللہ بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔" (الشورى: 25)
"وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ... وَلَا يَزْنُونَ... إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا..."
(الفرقان: 68-70)
✅ یعنی: اگر کوئی زنا جیسے بڑے گناہ سے بھی سچی توبہ کر لے، تو اللہ اُس کے گناہ نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔
🛑 لیکن… کچھ باتیں بہت اہم ہیں:
1. اس گناہ کو چھپانا فرض ہے اگر عدالت میں نہیں آیا۔
2. آئندہ اس حرام رشتے سے مکمل پردہ، فاصلہ، اور قطع تعلق رکھنا لازم ہے۔
3. ایسے گناہ کے بعد شادی کی اجازت نہیں— بہن بھائی یا ماں بیٹے میں نکاح ہمیشہ حرام ہے۔
✅ عملی توبہ کیسے کریں؟
✓فوراً مکمل توبہ: (ندامت + نیتِ ترک + آئندہ اجتناب)
✓کثرتِ استغفار
✓نمازِ توبہ
✓صدقہ و خیرات
✓روزے رکھنا (کفّارے کی نیت سے)
✓سچی توبہ کے بعد روحانی علاج بھی ضروری ہے(کیونکہ یہ گناہ نفس، نظر، اور شیطان کی چالوں سے ہوتا ہے)
❓ کیا شادی کے بعد ایسا ہوا ہو؟
تو بیوی بہن ہو تو نکاح باطل ہے، فوراً علیحدگی لازم ہے۔
📌 خلاصہ:
| جرم | حکم |
| بہن سے زنا | حرام، سخت ترین گناہ، حد یا تعزیر کا مستحق|
| نکاح کیا ہو | باطل، فوراً علیحدگی لازم |
| کفارہ | صرف سچی توبہ، ندامت، اور ترکِ گناہ |
اگر آپ یا کوئی ایسی بہن/شخص اس آزمائش میں ہے تو میں رازداری کے ساتھ مدد، رہنمائی، اور اصلاحی پلان دے سکتی ہوں۔
یہ معاملہ شرم کا نہیں بلکہ نجات اور توبہ کا ہے۔
اللّٰہ سے امید رکھیں، وہ معاف کرنے والا ہے۔
🖊️:عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر

22/07/2025

مروہ کا سوال بہت اہم ہے، اور اس کا تعلق حرمتِ نکاح کے شرعی احکام سے ہے۔
سوال:36
اگر پھوپھی (یعنی لڑکے کی والدہ کی بہن) فوت ہو جائے تو کیا اس کی بھانجی سے نکاح کیا جا سکتا ہے؟
✅ جواب (قرآن و حدیث کی روشنی میں):
جی ہاں، پھوپھی کی بھانجی سے نکاح کرنا جائز ہے، اگر پھوپھی فوت ہو چکی ہو یا نکاح سے علیحدہ ہو چکی ہو۔
📖 قرآن سے دلیل:
"وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ"(سورۃ النساء: 23)
"اور دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا (یعنی ایک وقت میں دونوں سے نکاح) حرام ہے، مگر جو پہلے گزر چکا۔"
📌 اس آیت کا مطلب یہ ہے:
✓دو بہنیں ایک وقت میں نکاح میں نہیں آ سکتیں۔
✓لیکن اگر ایک بہن (مثلاً پھوپھی) فوت ہو جائے یا طلاق ہو جائے اور عدت بھی ختم ہو جائے،
تو دوسری بہن (یعنی بھانجی) سے نکاح جائز ہے۔
📚 حدیث سے اشارہ:
نبی ﷺ نے فرمایا:
"لا يُجمَعُ بين المرأةِ وعمَّتِها، ولا بين المرأةِ وخالتِها"
(صحیح بخاری: 5109، صحیح مسلم: 1408)
"عورت اور اُس کی پھوپھی، یا عورت اور اُس کی خالہ کو نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔"
📌 اس کا مطلب یہ ہے کہ:
✓بیک وقت دونوں (پھوپھی اور بھانجی) سے نکاح حرام ہے۔
✓لیکن اگر ایک فوت ہو جائے یا طلاق دے دی جائے، تو بعد میں دوسری سے نکاح جائز ہے۔
✅ نتیجہ:
| صورت حال | نکاح کاحکم |
| اگر پھوپھی زندہ ہے اور نکاح میں ہے | بھانجی سے نکاح حرام ہے |
| اگر پھوپھی فوت ہو چکی ہو یا طلاق ہو چکی ہو (اور عدت گزر چکی ہو) | بھانجی سے نکاح جائز ہے |
🖊️: عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Atiqa Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category