Apnamakaan

Apnamakaan You are buying, selling or renting, we can discover a place you will love to live in. apnamakaan.org
(1)

🏡 Prime Property for Sale – Valencia Town, Lahore!Discover luxury living in the heart of Valencia – Lahore's most presti...
15/04/2025

🏡 Prime Property for Sale – Valencia Town, Lahore!

Discover luxury living in the heart of Valencia – Lahore's most prestigious society!
✔️ Ideal Location – Connected to key routes & future mega projects
✔️ Highly Developed Society – Secure, peaceful & fully equipped
✔️ All Utilities Available – Gas, electricity, water, and internet
✔️ Luxury Lifestyle – Parks, schools, malls & masjids nearby
✔️ Hot Investment Opportunity – Near upcoming Bullet Train & Cancer Hospital
✔️ Bank Loan Facility Available – Easy financing options

📞 Serious buyers & investors – don’t miss this golden chance!

Career counselling میٹرک میں اگر آپ کی  مارکس  600 سے  900 تک ہیں۔ اور گھر والوں کی امید ھیں  کہ آپ جلد پاؤں پر کھڑا ہوں...
16/07/2024

Career counselling

میٹرک میں اگر آپ کی مارکس 600 سے 900 تک ہیں۔ اور گھر والوں کی امید ھیں کہ آپ جلد پاؤں پر کھڑا ہوں تو ایف ایس سی میں وقت کا ضیاع نہ کریں۔ فوری طور پر ٹیوٹا کے ٹیکنکل کالجز میں داخلہ لیں۔ جہاں تعمیر ملت پروگرام بذریعہ ٹیکنکل ایجوکیشن جاری ہے۔ Dual Diploma پہلے دو سال پاکستان اور آخری سال چائنہ میں پڑھنا ہوگا۔

انفارمیشن کے لئے مندرجہ ذیل اکاؤنٹس سے رابطہ کیا جا سکتا۔ اس کے علاؤہ ⁦‪[email protected]‬⁩ پر ایک میل کی جا سکتی۔
‏کال کے لئے رابطہ نمبر
‏04299263055-59
‏ہے۔ پنجاب کے تقریبا تمام اضلاع میں یہ کالجز موجود ہیں

اس کے علاؤہ ایسے ممالک جن میں
آبادی بڑھنے کا تناسب کم ہے جیسے جاپان جرمنی اور گلف ممالک میں اس ڈپلومہ کی بہت ڈیمانڈ ہے۔

TEVTA is a leading partner in the development of the Punjab by empowering youth through technical education and vocational training. It endeavors to enhance equal opportunities of employability for youth at home and abroad. It strives well to open new horizons of professional skills to equip the you...

26/04/2024
26/03/2024

شورش کاشمیری مرحوم انگریز دور میں قید کے دوران کا ایک واقعہ لکھتے ہیں _____

‏دوران قید، ایک دن اچانک ہماری بیرک میں دو ہندو برہمن نوجوان لائے گئے ان کی عمریں بهی کچھ زیاده نہیں تهیں، ایک 18 اور دوسرا 20 کے پیٹے میں ہوگا،
‏ لیکن دونوں بے انتہاء خوبصورت، اتنے خوبصورت تهے کہ اودھ کی شام اور بنارس کی صبح میں گوندھے ہوئے معلوم ہوتے،
‏شاعری کہہ لیجیئے،،،،
‏کچھ دو ماہ کے قریب ہمارے ساتھ قید رہے،
‏ہندوستان چهوڑو دو "تحریک کے دنوں میں ایک فوجی گورے کو الہ آباد میں قتل کیا، کانپور کے قریب ریل کی پٹڑی اکهاڑی اور بهاگ کر پنجاب آگئے، یہاں لاہور میں پکڑے گئے، جیل حکام نے ان کے ساتھ وہی کیا جو ان کی فطرت بن چکا تها، پہلے دن زد وکوب کیا، پهر الٹا لٹکایا مشکیں باندھیں منہ میں پیشاب ڈالا،،،،،،
‏ان نوجوانوں نے جیسا کہ وه کہہ رہے تهے ہر بات سے انکار کیا ان کا ایک ہی جواب تها کہ ہم بےگناہ ہیں، ہمارا کسی سیاسی تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہم گهر سے بهاگ کر آئے ہیں،
‏ آخر جب پولیس مار مار کر تهگ گئی تنگ آگئی تو،،،،، ایک دن سی آئی ڈی کے مسلمان انچارج سپرنٹنڈنٹ ان کے پاس گئے؛ پہلے دم دلاسا دیتے رہے، پهر پهسلانے لگے، ان نوجوانوں کی روایت (یعنی خواہش کے ) مطابق مسلمان افسر نے سر پر قرآن کریم اٹها کر کہا تم دونوں میرے بیٹے ہو، یقین کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، ہمارے پاس سرکاری اطلاع ہے کہ تم نے سیاسی واردات کی ہے صرف میری تسلی کے لیے بتاو کہ اس میں صداقت کہاں تک ہے؟،، وه دونوں ہندو برہمن نوجوان اس مسلمان افسر کی چکنی چپڑی باتوں اور قرآن شریف پر قسموں کے فریب میں آگئے، اور سب کچھ بتا دیا، وه اس روز سن سنا کر چلا گیا، اگلے دن آیا اور کہنے لگا فکر نہ کرو صبح تک چهوٹ جاو گے ، سرکار کو خط لکھ دیا ہے حکم آتے ہی رہا ہو جاو گے، ظاہر ہے دونوں فریب کا شکار ہوگئے تهے۔
‏لیکن ان بهولے بهالے برہمن نوجوانوں کو اپنے منہ بولے مسلمان باپ پر بهروسہ تها۔
‏ ان ہندو برہمنوں کے ذہن میں یہ بات نقش تهی کہ مسلمان سبھی کچھ کرسکتا ہے لیکن " جهوٹا قرآن" کبهی نہیں اٹهاتا، وہ ہفتہ عشره میں رہائی کے منتظر تھے، ہفتہ بهی نہ گزرا تها کہ انہیں رہائی کے نام پر دفتر بلا کر بیڑیاں پہنا دی گئیں وه چیختے رہے کہ ہمیں رہائی کے لیے بلایا گیا ہے اور ہم سے وعدہ بهی کیا۔
‏ خیر کون سنتا،کون سا وعدہ۔
‏انہیں یہاں سے لے جاتے وقت یہی کہا گیا کہ اپنے صوبہ میں رہا ہو جاو گے پنجاب گورنمنٹ تمہیں یہاں رکهنا نہیں چاہتی، پهر عرصہ تک پتہ نہ چلا کہ انہیں کہاں پہنچایا گیا اور ان پر کیا بیتی؟،،،
‏پهرایک دن اچانک ان دونوں کا خط ملا

‏بهائی شورش
‏ہم دونوں کل صبح پهانسی کے تختہ پر جا رہے ہیں۔
‏ اس مسلمان باپ کو ہمارا سلام کہنا۔
‏جس نے قرآن شریف سر پر اٹها کر اپنے دو ہندو بیٹوں کو بچانے کا یقین دلایا تها، لیکن ہم اس کے دغا کا شکار ہو گئے مسلمان باپ نے کافر بیٹوں کو (قرآن شریف کا سہارہ دے کر )تختہ دار پر لٹکوادیا ہے
‏اور یہ خط ہمیں اس دن ملا جب انہیں پهانسی پائے ہوئے ہفتہ ہو چکا تھا اور اگر ان کی کوئی چتا جلائی گئی تهی تو اس کی آگ ٹهنڈی ہو چکی تهی--------

‏(پس دیوارِ زنداں صفحہ 334
‏شورش کاشمیری رحمہ اللہ)

22/03/2024

شیطان اتنا بڑا گستاخ تھا

‏کہ اس نے سید ھا خدا کو کہ دیا

‏کہ میں نہیں کرتا سجدہ اور مردود ہو گیا ۔

‏اور خدا اتنا بڑا سیکولر ہے

‏کہ اس نے اختلاف رائے پر شیطان کو مارا نہیں

‏بلکہ مہلت دی کہ اپنے نظریے پر لوگوں کو قائل کر سکتا ہے تو

‏کر لے ۔
‏لیکن یہ خدا کے ماننے والے

‏پتہ نہیں کس مٹی کے بنے ہیں ۔

‏(سعادت حسن منٹو)

16/03/2024

ﻣﻮﻻﻧﺎ_ﺭﻭﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
‏ﮐﺴﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﭼﻮﺭ ﮔﮭﺲ ﮔﯿﺎ . ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ، ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍٌﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﭽھ ﻧﻈﺮ نہ ﺁﯾﺎ، ﭘﮭﺮ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮﺟﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ۔
‏ﭼﻮﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮔﯿﺎ ۔ﺁﻭﺍﺯ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﭘﮭﺮ ﺍﭨھ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍٌﺩﮬﺮ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﭘﮭﺎﮌ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﺏ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮ ﭼﻼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭ ﮔﮭﺲ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ۔
‏ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﯿﻮﮞ نہ ﭼﺮﺍﻍ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﮰ ﺗﺎﮐﮧ ﺗﺴﻠﯽ ﮨﻮ.
‏اﺏ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﻧﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺭﮐﮭﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﻮ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﮔﮍﺍ { ﭘﮩﻠﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺭﻭﺋﯽ ﭘﺮ ﺭﮔﮍﺗﮯ ، ﭘﺘﮭﺮ ﺭﮔﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﺭﻭﺋﯽ ﭘﺮ ﮔﺮﺗﯽ۔ ﺍس ﻄﺮﺡ ﺑﺎﺭﺑﺎﺭ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﮔﮍﺍ ﺟﺎﺗﺎ، ﺟﺐ ﺁﭨھ ﺩﺱ ﭼﻨﮕﺎﺭﯾﺎﮞ ﺭﻭﺋﯽ ﭘﺮ ﮔﺮﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﺭﻭﺋﯽ ﺩﮨﮑﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ، ﺍﺏ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺭﻭﺋﯽ ﮐﻮ ﭘﮭﻮﻧﮑﯿﮟ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﺗﻮ ﺭﻭﺋﯽ ﺁﮒ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺘﯽ ،ﺍس ﻄﺮﺡ ﺁﮒ ﺟﻼﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ } ۔ ﺍﺏ ﺟﺐ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ نے ﺁﮒ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﮔﮍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﺳﻤﺠھ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
‏ﻟﮩﺬﺍ ﭼﻮﺭ ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩھ ﮔﯿﺎ ۔ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﺭﮔﮍﺗﮯ ،ﻧﻨﮭﯽ ﺳﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﺭﻭﺋﯽ ﭘﺮ ﮔﺮﺗﯽ، ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﭼﻮﺭ ﺍﺱ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﮔﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ۔ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﺁﮒ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﭼﻮﺭ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﺑﺠﮭﺎﺗﺎ ﺭﮬﺎ ۔ ﺁﺧﺮ ﺗﻨﮓ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﮨﻢ ﺳﻤﺠھ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﺳﺎﺭﺍ ﮔﮭﺮ ﻟﭧ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ۔
‏ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺰﯾﺰﻭ ! ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺱ ﭼﻮﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﺎﻃﺮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ۔ ﮬﻢ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﯽ، ﺧﯿﺮ ﮐﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﺟﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﺳﮯ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻔﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﯿﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻮﺳﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ۔
‏ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﻔﺲ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﭼﻞ ﭼﮭﻮﮌ ﯾﺎﺭ ﯾﮧ ﺗٌﻮ ﮐﺲ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ،ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ، ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮔﮯ ، ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺴﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﻟﭧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ،ﺩﯾﮑھ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﺪﻟﮯﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ،ﻓﻼﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗھ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮨﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ صِلہ ﻣﻼ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ، ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻮﺳﮯ ﮈﺍﻟﮯ ﮔﺎ ۔
‏ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺁپ ﮑﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ، ﺟﻨﺎﺏ ﺁپ ﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﺁﭖ ﺗﻮ ﺍﭼﮭﮯ ﺑﮭﻠﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺁﭖ ﮐﻦ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﮯ ﺟﯽ ؟ ﭼﮭﻮﮌﻳﮯ، ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻧﺠﻮﺍﺋﻤﯿﻨﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ، ﺍﻧﺠﻮﺍﮰ ﮐﺮیں۔
‏ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺰﯾﺰﻭ ! ﺍﮔﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺷﻤﻊ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻧﯿﮑﯽ ﺩﺭ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ۔ ﮨﺮﻧﯿﮑﯽ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺷﻦ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﻣﺜﻞ ﮨﮯ ۔ ﺑﺲ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﺑﭽﺎ ﮐﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﻇﺎﻟﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺁپ ﮑﯽ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮬﮯ ۔۔۔

08/03/2024

”غور سے سن لو، میں تمہیں عورتوں کے حق میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں“۔
‏⁧‫ ‬⁩ کے موقع پر ہم نبی کریمﷺ کی اس وصیت کو یاد کرتے ہیں، جس کا انتخاب آپ نے تاریخی لمحات میں، حرمت والے دن، حرمت والے ماہ اور حرمت والے شہر میں عظیم الوداعی لمحے میں فرمایا۔
‏آپﷺ کی تعلیمات میں بیوی کی تعظیم کو نیکی کا ”معیار“ مقررکیا گیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ”تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے ،جو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرتا ہواور میں تم سب سے زیادہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہوں“۔

07/03/2024

قصہ جالوت و طالوت اور حضرت داؤد علیہ السلام

‏جب طالوت علیہ رحمہ بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے تو آپ نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لئے تیار کیا اور ایک کافر بادشاہ ''جالوت''سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج کو لے کر میدان جنگ میں نکلے۔ جالوت بہت ہی قد آور اور نہایت ہی طاقتور بادشاہ تھا وہ اپنے سر پر لوہے کی جو ٹوپی پہنتا تھا اس کا وزن تین سو رطل تھا۔ جب حضرتِ طالُوت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بنی اسرائیل کے لشکر کولے کر ظالم بادشاہ جالوت سے مقابلے کے لئے بیتُ المقدَّس سے روانہ ہوئے تو ان کے لشکر کی اِس طرح آزمائش ہوئی:

‏پارہ۲،البقرۃ:۲۴۹۔ترجَمہ:(طالوت)بولا بے شک اللہ تمہیں ایک نَہَر سے آزمانے والا ہے،تو جو اس کاپانی پئے وہ میرا نہیں اورجو نہ پئے وہ میرا ہے مگروہ جو ایک چُلّو اپنے ہاتھ سے لے لے۔

‏تفسیر خزائن میں ہے کہ سخت گرمی تھی،صِرف313 افراد نے صبر کیا اور صرف ایک چلّو پانی لیا۔الحمد للہ عزوجل وہ ایک چلُّو ان کے لئے اوراُن کے جانوروں کیلئے کافی ہو گیا اور جنہوں نے بے صبری کی اور خوب پانی پیا تھا ان کے ہونٹ سیاہ ہو گئے،پیاس خوب بڑھ گئی اور ہمّت ہار گئے۔جالوت کے عظیم لشکر سے 313 مسلمانوں کا مقابلہ تھا جو اطاعت گزار تھے ان کے حوصلے مضبوط تھے،ان کا نقشہ اِسی آیتِ کریمہ میں اس طرح پیش کیا گیا ہے:

‏پارہ۲،البقرۃ:۲۴۹۔ترجمہ:(بے صبرے)بولے:ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں(کے مقابلے)کی،بولے وہ جنھیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا(یعنی صبر کرنے والے کہنے لگے)کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے اوراللہ صابروں کے ساتھ ہے۔

‏جب دونوں فوجیں میدانِ جنگ میں لڑائی کے لئے صف آرائی کرچکیں تو حضرت طالوت نے اپنے لشکر میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کریگا، میں اپنی شہزادی کا نکاح اس کے ساتھ کردوں گا۔ اور اپنی آدھی سلطنت بھی اس کو عطا کردوں گا۔ یہ فرمان شاہی سن کر حضرت داؤد علیہ السلام آگے بڑھے جو ابھی بہت ہی کمسن تھے اور بیماری سے چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ اور غربت و مفلسی کا یہ عالم تھا کہ بکریاں چرا کر اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے تھے۔
‏روایت ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام گھر سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے تھے تو راستہ میں ایک پتھر یہ بولا کہ اے حضرت داؤد! مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھرہوں۔ پھر دوسرے پتھر نے آپ کو پکارا کہ اے حضرت داؤد مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کا پتھر ہوں۔ پھر ایک تیسرے پتھر نے آپ کو پکار کر عرض کیا کہ اے حضرت داؤد علیہ السلام مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں جالوت کا قاتل ہوں۔ آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر اپنے جھولے میں رکھ لیا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت داؤد علیہ السلام اپنی گوپھن لے کر صفوں سے آگے بڑھے اور جب جالوت پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے ان تینوں پتھروں کو اپنی گوپھن میں رکھ کر اور بسم اللہ پڑھ کر گوپھن سے تینوں پتھروں کو جالوت کے اوپر پھینکا اور یہ تینوں پتھر جا کر جالوت کی ناک اور کھوپڑی پر لگے اور اس کے بھیجے کو پاش پاش کر کے سر کے پیچھے سے نکل کر تیس جالوتیوں کو لگے اور سب کے سب مقتول ہو کر گر پڑے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے لا کر اپنے بادشاہ حضرت طالوت کے قدموں میں ڈال دیا اس پر حضرت طالوت اور بنی اسرائیل بے حد خوش ہوئے۔
‏جالوت کے قتل ہوجانے سے اس کا لشکر بھاگ نکلاا ور حضرت طالوت کو فتح مبین ہو گئی اور اپنے اعلان کے مطابق حضرت طالوت نے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کردیا اوراپنی آدھی سلطنت کا ان کو سلطان بنا دیا۔ پھر پورے چالیس برس کے بعد جب حضرت طالوت بادشاہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت داؤد علیہ السلام پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے اور جب حضرت شمویل علیہ السلام کی وفات ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو سلطنت کے ساتھ نبوت سے بھی سرفراز فرمادیا۔ آپ سے پہلے سلطنت اور نبوت دونوں اعزاز ایک ساتھ کسی کو بھی نہیں ملا تھا۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ ان دونوں عہدوں پر فائز ہو کر ستر برس تک سلطنت اور نبوت دونوں منصبوں کے فرائض پورے کرتے رہے اور پھر آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور نبوت دونوں مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔ (تفسیر جمل علی الجلالین،ج۱،ص۳۰۸،پ۲،البقرۃ۲۵۱)

‏اس واقعہ کا اجمالی بیان قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں اس طرح ہے کہ:۔ ترجمہ:۔اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا۔(پ2،البقرۃ:251)

‏حضرت داؤد علیہ السلام کا ذریعہ معاش:۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے باوجودیکہ ایک عظیم سلطنت کے بادشاہ تھے مگر ساری عمر وہ اپنے ہاتھ کی دستکاری کی کمائی سے اپنے خورد و نوش کا سامان کرتے رہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ آپ لوہے کو ہاتھ میں لیتے تو وہ موم کی طرح نرم ہوجایا کرتا تھا اور آپ اس سے زرہیں بنایا کرتے تھے اور ان کو فروخت کر کے اس رقم کو اپنا ذریعہ معاش بنائے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو پرندوں کی بولی سکھا دی تھی۔ (روح البیان،ج۱،ص۳۹۱،پ۲،البقرۃ:۲۵۱)

Leçon de l’histoire :

‏حضرت طالوت کی سرگزشت کی طرح حضرت داؤد علیہ السلام کی مقدس زندگی سے یہی سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنا فضل و کرم فرماتا ہے تو ایک لمحہ میں رائی پہاڑ اور ذرہ کو آفتاب بنا دیتا ہے۔ غور کرو کہ حضرت داؤد علیہ السلام ایک کمسن لڑکے تھے اور خود نہایت ہی مفلس اور ایک غریب باپ کے بیٹے تھے۔ مگر اچانک اللہ تعالیٰ نے ان کو کتنے عظیم اور بڑے بڑے مراتب ودر جات کے اعزاز سے سرفراز فرما دیا کہ ان کے سر پر تاجِ شاہی رکھ کر اُنہیں بادشاہ بنا دیا۔ اور ایک بادشاہ کی شہزادی اُن کے نکاح میں آئی اور پھر نبوت کا مرتبہ بلند اُنہیں عطا فرما دیا کہ اس سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی بلند مرتبہ ہو سکتا ہی نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی قدرتِ قاہرہ کا جلوہ دیکھو کہ جالوت جیسے جابر اور طاقتور بادشاہ کا قاتل حضرت داؤد علیہ السلام کو بنادیا جو ایک کمسن لڑکے اور بیمار تھے اور وہ بھی ان کے تین پتھروں سے قتل ہوا۔ حالانکہ جالوت کے سامنے ان چھوٹے چھوٹے تین پتھروں کی کیا حقیقت تھی؟ جب کہ وہ تین سو رطل وزن کی فولادی ٹوپی پہنے ہوئے تھا۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو ایک چیونٹی کو ہاتھی پر غالب کردے اور اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو ہاتھی ایک چیونٹی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔

‏طالوت دبگری یعنی چمڑا پکانے کا پیشہ کرتے تھے یا بکریاں چراتے تھے اور حضرت داؤد علیہ السلام بھی پہلے بکریاں چرایا کرتے تھے اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بادشاہ بنادیا اور نبوت کے شرف سے بھی سرفراز فرما دیا تو انہوں نے اپنا ذریعہ معاش زرہیں بنانے کے پیشے کو بنالیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رزق حلال طلب کرنے کے لئے کوئی پیشہ اختیار کرنا خواہ وہ دبگری ہو یا چرواہی ہو یا لوہاری ہو یا کپڑا بننا ہو، الغرض کوئی پیشہ ہرگز ہرگز نہ ذلیل ہے نہ ان پیشوں کے ذریعہ روزی حاصل کرنے والوں کے لئے کوئی ذلت ہے۔ جو لوگ بنکروں اور دوسرے پیشہ وروں کو محض ان کے پیشہ کی بناء پر ذلیل و حقیر سمجھتے ہیں وہ انتہائی جہالت و گمراہی کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں۔ رزق حلال طلب کرنے کے لئے کوئی جائز پیشہ اختیار کرنا یہ انبیاء و مرسلین اور صالحین کا مقدس طریقہ ہے۔ لہٰذا ہرگز ہرگز پیشہ ور مسلمان کوحقیر ذلیل شمار نہیں کرنا چاہیے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پیشہ ور مسلمان ان لوگوں سے ہزاروں درجہ بہتر ہے جو سرکاری نوکریوں اور رشوتوں اور دھوکہ دہی کے ذریعہ رقمیں حاصل کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں اور اپنے شریف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ شرعاً اس سے زیادہ ذلیل کون ہو گا جس کی کمائی حلال نہ ہو یا مشتبہ ہو۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apnamakaan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Apnamakaan:

Share