Apnamakaan

Apnamakaan You are buying, selling or renting, we can discover a place you will love to live in. apnamakaan.org
(1)

🏡 Prime Property for Sale – Valencia Town, Lahore!Discover luxury living in the heart of Valencia – Lahore's most presti...
15/04/2025

🏡 Prime Property for Sale – Valencia Town, Lahore!

Discover luxury living in the heart of Valencia – Lahore's most prestigious society!
✔️ Ideal Location – Connected to key routes & future mega projects
✔️ Highly Developed Society – Secure, peaceful & fully equipped
✔️ All Utilities Available – Gas, electricity, water, and internet
✔️ Luxury Lifestyle – Parks, schools, malls & masjids nearby
✔️ Hot Investment Opportunity – Near upcoming Bullet Train & Cancer Hospital
✔️ Bank Loan Facility Available – Easy financing options

📞 Serious buyers & investors – don’t miss this golden chance!

Career counselling میٹرک میں اگر آپ کی  مارکس  600 سے  900 تک ہیں۔ اور گھر والوں کی امید ھیں  کہ آپ جلد پاؤں پر کھڑا ہوں...
16/07/2024

Career counselling

میٹرک میں اگر آپ کی مارکس 600 سے 900 تک ہیں۔ اور گھر والوں کی امید ھیں کہ آپ جلد پاؤں پر کھڑا ہوں تو ایف ایس سی میں وقت کا ضیاع نہ کریں۔ فوری طور پر ٹیوٹا کے ٹیکنکل کالجز میں داخلہ لیں۔ جہاں تعمیر ملت پروگرام بذریعہ ٹیکنکل ایجوکیشن جاری ہے۔ Dual Diploma پہلے دو سال پاکستان اور آخری سال چائنہ میں پڑھنا ہوگا۔

انفارمیشن کے لئے مندرجہ ذیل اکاؤنٹس سے رابطہ کیا جا سکتا۔ اس کے علاؤہ ⁦‪[email protected]‬⁩ پر ایک میل کی جا سکتی۔
‏کال کے لئے رابطہ نمبر
‏04299263055-59
‏ہے۔ پنجاب کے تقریبا تمام اضلاع میں یہ کالجز موجود ہیں

اس کے علاؤہ ایسے ممالک جن میں
آبادی بڑھنے کا تناسب کم ہے جیسے جاپان جرمنی اور گلف ممالک میں اس ڈپلومہ کی بہت ڈیمانڈ ہے۔

TEVTA is a leading partner in the development of the Punjab by empowering youth through technical education and vocational training. It endeavors to enhance equal opportunities of employability for youth at home and abroad. It strives well to open new horizons of professional skills to equip the you...

26/04/2024
26/03/2024

شورش کاشمیری مرحوم انگریز دور میں قید کے دوران کا ایک واقعہ لکھتے ہیں _____

‏دوران قید، ایک دن اچانک ہماری بیرک میں دو ہندو برہمن نوجوان لائے گئے ان کی عمریں بهی کچھ زیاده نہیں تهیں، ایک 18 اور دوسرا 20 کے پیٹے میں ہوگا،
‏ لیکن دونوں بے انتہاء خوبصورت، اتنے خوبصورت تهے کہ اودھ کی شام اور بنارس کی صبح میں گوندھے ہوئے معلوم ہوتے،
‏شاعری کہہ لیجیئے،،،،
‏کچھ دو ماہ کے قریب ہمارے ساتھ قید رہے،
‏ہندوستان چهوڑو دو "تحریک کے دنوں میں ایک فوجی گورے کو الہ آباد میں قتل کیا، کانپور کے قریب ریل کی پٹڑی اکهاڑی اور بهاگ کر پنجاب آگئے، یہاں لاہور میں پکڑے گئے، جیل حکام نے ان کے ساتھ وہی کیا جو ان کی فطرت بن چکا تها، پہلے دن زد وکوب کیا، پهر الٹا لٹکایا مشکیں باندھیں منہ میں پیشاب ڈالا،،،،،،
‏ان نوجوانوں نے جیسا کہ وه کہہ رہے تهے ہر بات سے انکار کیا ان کا ایک ہی جواب تها کہ ہم بےگناہ ہیں، ہمارا کسی سیاسی تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہم گهر سے بهاگ کر آئے ہیں،
‏ آخر جب پولیس مار مار کر تهگ گئی تنگ آگئی تو،،،،، ایک دن سی آئی ڈی کے مسلمان انچارج سپرنٹنڈنٹ ان کے پاس گئے؛ پہلے دم دلاسا دیتے رہے، پهر پهسلانے لگے، ان نوجوانوں کی روایت (یعنی خواہش کے ) مطابق مسلمان افسر نے سر پر قرآن کریم اٹها کر کہا تم دونوں میرے بیٹے ہو، یقین کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، ہمارے پاس سرکاری اطلاع ہے کہ تم نے سیاسی واردات کی ہے صرف میری تسلی کے لیے بتاو کہ اس میں صداقت کہاں تک ہے؟،، وه دونوں ہندو برہمن نوجوان اس مسلمان افسر کی چکنی چپڑی باتوں اور قرآن شریف پر قسموں کے فریب میں آگئے، اور سب کچھ بتا دیا، وه اس روز سن سنا کر چلا گیا، اگلے دن آیا اور کہنے لگا فکر نہ کرو صبح تک چهوٹ جاو گے ، سرکار کو خط لکھ دیا ہے حکم آتے ہی رہا ہو جاو گے، ظاہر ہے دونوں فریب کا شکار ہوگئے تهے۔
‏لیکن ان بهولے بهالے برہمن نوجوانوں کو اپنے منہ بولے مسلمان باپ پر بهروسہ تها۔
‏ ان ہندو برہمنوں کے ذہن میں یہ بات نقش تهی کہ مسلمان سبھی کچھ کرسکتا ہے لیکن " جهوٹا قرآن" کبهی نہیں اٹهاتا، وہ ہفتہ عشره میں رہائی کے منتظر تھے، ہفتہ بهی نہ گزرا تها کہ انہیں رہائی کے نام پر دفتر بلا کر بیڑیاں پہنا دی گئیں وه چیختے رہے کہ ہمیں رہائی کے لیے بلایا گیا ہے اور ہم سے وعدہ بهی کیا۔
‏ خیر کون سنتا،کون سا وعدہ۔
‏انہیں یہاں سے لے جاتے وقت یہی کہا گیا کہ اپنے صوبہ میں رہا ہو جاو گے پنجاب گورنمنٹ تمہیں یہاں رکهنا نہیں چاہتی، پهر عرصہ تک پتہ نہ چلا کہ انہیں کہاں پہنچایا گیا اور ان پر کیا بیتی؟،،،
‏پهرایک دن اچانک ان دونوں کا خط ملا

‏بهائی شورش
‏ہم دونوں کل صبح پهانسی کے تختہ پر جا رہے ہیں۔
‏ اس مسلمان باپ کو ہمارا سلام کہنا۔
‏جس نے قرآن شریف سر پر اٹها کر اپنے دو ہندو بیٹوں کو بچانے کا یقین دلایا تها، لیکن ہم اس کے دغا کا شکار ہو گئے مسلمان باپ نے کافر بیٹوں کو (قرآن شریف کا سہارہ دے کر )تختہ دار پر لٹکوادیا ہے
‏اور یہ خط ہمیں اس دن ملا جب انہیں پهانسی پائے ہوئے ہفتہ ہو چکا تھا اور اگر ان کی کوئی چتا جلائی گئی تهی تو اس کی آگ ٹهنڈی ہو چکی تهی--------

‏(پس دیوارِ زنداں صفحہ 334
‏شورش کاشمیری رحمہ اللہ)

22/03/2024

شیطان اتنا بڑا گستاخ تھا

‏کہ اس نے سید ھا خدا کو کہ دیا

‏کہ میں نہیں کرتا سجدہ اور مردود ہو گیا ۔

‏اور خدا اتنا بڑا سیکولر ہے

‏کہ اس نے اختلاف رائے پر شیطان کو مارا نہیں

‏بلکہ مہلت دی کہ اپنے نظریے پر لوگوں کو قائل کر سکتا ہے تو

‏کر لے ۔
‏لیکن یہ خدا کے ماننے والے

‏پتہ نہیں کس مٹی کے بنے ہیں ۔

‏(سعادت حسن منٹو)

16/03/2024

ﻣﻮﻻﻧﺎ_ﺭﻭﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
‏ﮐﺴﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﭼﻮﺭ ﮔﮭﺲ ﮔﯿﺎ . ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ، ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍٌﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﭽھ ﻧﻈﺮ نہ ﺁﯾﺎ، ﭘﮭﺮ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮﺟﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ۔
‏ﭼﻮﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮔﯿﺎ ۔ﺁﻭﺍﺯ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﭘﮭﺮ ﺍﭨھ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍٌﺩﮬﺮ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﭘﮭﺎﮌ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﺏ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮ ﭼﻼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭ ﮔﮭﺲ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ۔
‏ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﯿﻮﮞ نہ ﭼﺮﺍﻍ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﮰ ﺗﺎﮐﮧ ﺗﺴﻠﯽ ﮨﻮ.
‏اﺏ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﻧﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺭﮐﮭﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﻮ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﮔﮍﺍ { ﭘﮩﻠﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺭﻭﺋﯽ ﭘﺮ ﺭﮔﮍﺗﮯ ، ﭘﺘﮭﺮ ﺭﮔﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﺭﻭﺋﯽ ﭘﺮ ﮔﺮﺗﯽ۔ ﺍس ﻄﺮﺡ ﺑﺎﺭﺑﺎﺭ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﮔﮍﺍ ﺟﺎﺗﺎ، ﺟﺐ ﺁﭨھ ﺩﺱ ﭼﻨﮕﺎﺭﯾﺎﮞ ﺭﻭﺋﯽ ﭘﺮ ﮔﺮﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﺭﻭﺋﯽ ﺩﮨﮑﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ، ﺍﺏ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺭﻭﺋﯽ ﮐﻮ ﭘﮭﻮﻧﮑﯿﮟ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﺗﻮ ﺭﻭﺋﯽ ﺁﮒ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺘﯽ ،ﺍس ﻄﺮﺡ ﺁﮒ ﺟﻼﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ } ۔ ﺍﺏ ﺟﺐ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ نے ﺁﮒ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﮔﮍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﺳﻤﺠھ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
‏ﻟﮩﺬﺍ ﭼﻮﺭ ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩھ ﮔﯿﺎ ۔ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﺭﮔﮍﺗﮯ ،ﻧﻨﮭﯽ ﺳﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﺭﻭﺋﯽ ﭘﺮ ﮔﺮﺗﯽ، ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﭼﻮﺭ ﺍﺱ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﮔﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ۔ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﺁﮒ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﭼﻮﺭ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﺑﺠﮭﺎﺗﺎ ﺭﮬﺎ ۔ ﺁﺧﺮ ﺗﻨﮓ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﮨﻢ ﺳﻤﺠھ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﺳﺎﺭﺍ ﮔﮭﺮ ﻟﭧ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ۔
‏ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺰﯾﺰﻭ ! ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺱ ﭼﻮﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﺎﻃﺮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ۔ ﮬﻢ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﯽ، ﺧﯿﺮ ﮐﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﺟﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﺳﮯ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻔﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﯿﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻮﺳﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ۔
‏ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﻔﺲ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﭼﻞ ﭼﮭﻮﮌ ﯾﺎﺭ ﯾﮧ ﺗٌﻮ ﮐﺲ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ،ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ، ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮔﮯ ، ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺴﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﻟﭧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ،ﺩﯾﮑھ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﺪﻟﮯﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ،ﻓﻼﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗھ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮨﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ صِلہ ﻣﻼ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ، ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻮﺳﮯ ﮈﺍﻟﮯ ﮔﺎ ۔
‏ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺁپ ﮑﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ، ﺟﻨﺎﺏ ﺁپ ﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﺁﭖ ﺗﻮ ﺍﭼﮭﮯ ﺑﮭﻠﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺁﭖ ﮐﻦ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﮯ ﺟﯽ ؟ ﭼﮭﻮﮌﻳﮯ، ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻧﺠﻮﺍﺋﻤﯿﻨﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ، ﺍﻧﺠﻮﺍﮰ ﮐﺮیں۔
‏ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺰﯾﺰﻭ ! ﺍﮔﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺷﻤﻊ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻧﯿﮑﯽ ﺩﺭ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ۔ ﮨﺮﻧﯿﮑﯽ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺷﻦ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﻣﺜﻞ ﮨﮯ ۔ ﺑﺲ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﺑﭽﺎ ﮐﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﻇﺎﻟﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺁپ ﮑﯽ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮬﮯ ۔۔۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apnamakaan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Apnamakaan:

Shortcuts

Share