04/10/2023
Please follow Medical advice and stay safe insha'Allah
آنکھ کی مختلف امراض سے بچاو اور علاج سے متعلق میرا نوائے وقت میگزین میں لکھا جانے والا مضمون
آنکھیں قدرت کاانمول تحفہ اوربینائی اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت کےلئے ہر شخص کو ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔جسم کے باقی اعضاءکی طرح امراض چشم کےلئے بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ وقت ضائع کیے بغیر آنکھوں کی بیماریوں کا علاج معالجہ ممکن ہوسکے۔آج کل آشوب چشم جسے عام طور پر سرخ آنکھیں یاگلابی آنکھ بھی کہا جاتا ہے بہت عام ہے،یہ ایک وائرل بیماری ہے جو آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں پھیل سکتی ہے اس سے ایک یا دونوں آنکھیں متاثر ہوسکتی ہیںاور دو ہفتوں تک یہ صورتحال رہ سکتی ہے۔ڈاکٹرکاشف جہانگیرمعروف آئی سپیشلسٹ اورکنسلٹنٹ آئی سرجن ہیںجوجناح ہسپتال کے شعبہ امراض چشم میںبطورایسوسی ایٹ پروفیسرذمّہ داریاں نبھارہے ہیں۔بچوں میںبھینگاپن کے علاج میںان کی خاص مہارت ہے جس کے سینکڑوں آپریشن بھی کرچکے ہیں۔آشوب چشم کی بیماری کے علاج،احتیاط اورآنکھوں کی دیگربیماریوں کے حوالے سے ان کےساتھ ایک نشست میںہونےوالی گفتگوپیش کی جارہی ہے۔
سوال:آج کل آشوب چشم بہت عام ہے،یہ بیماری ہے کیااوراس کی وجہ کیاہے؟
ڈاکٹرکاشف جہانگیر:Adenoviral Conjunctivitisجسے ہم عام زبان میںآشوب چشم،پنک آئی یاریڈآئی بھی کہتے ہیں بنیادی طورپرایک وائرل بیماری ہے،اس وائرس کانام Adenovirus ہے اوراس کی وجہ سے مریض بیماری کاشکارہوجاتے ہیں۔اس وائرس کوجیسے ہی موقع ملتاہے وہ پھیلناشروع ہوجاتاہے۔جہاں تک اس کی علامات کاتعلق ہے توسب سے عام علامت آنکھ کاسرخ ہوناہے،آنکھ میںجلن(irritation)ہوتی ہے،پلکیںسوجھ جاتی ہیں،پپوٹے سوجھ جاتے ہیں اورآنکھ سے بہت زیادہ پانی کااخراج ہوتاہے،کئی بارپس یارعشے والاپانی بھی نکلنے لگتاہے۔ اگر یہ وائرس آنکھ کی پتلی کوبھی involveکرلے تواس کی وجہ سے روشنی کے دائرے اورنظرمیںدھندلاپن بھی پیداہوجاتاہے۔
سوال:اس کےساتھ سانس کی بھی کوئی انفیکشن ہوسکتی ہے؟
٭یہ ایک وائرل ڈیزیزہے لیکن جس طرح کوروناکی وبامیںسانس کی تکلیف عام تھی آشوب چشم کی بیماری میںسانس کاکوئی مسئلہ نہیںہوتاہاں زکام یاگلہ خراب ہوسکتاہے ساتھ بخاربھی ہوسکتاہے۔
سوال:یہ بیماری پھیلتی کیسے ہے؟
٭عام طورپریہ وائرس ہماری آنکھ کے اندر جوآنسوہوتے ہیںان کے اندرپایاجاتاہے اوراس میںمبتلا فردجب جلن کی وجہ سے اپنی آنکھوں کومسلے گاتووہ جراثیم اس کے ہاتھوںمیںبھی چلے جائیں گے پھروہ جب کسی سے ہاتھ ملائے گایاکسی چیزکادوسرے فردکے ساتھ تبادلہ کرے گاتووہ وائر س اس سے دوسرے فرد کولگ سکتاہے۔یہ وائرس بچوں میںبہت تیزی سے پھیلتاہے کیونکہ بچوں کوہم بہت زیادہ چھوتے ہیںجس کی وجہ سے چھوٹے بچوں میںاس کے پھیلنے کے امکانات کافی زیادہ ہوتے ہیں۔اسی طرح متاثرہ بچہ جب سکول جاتاہے تووہاں بھی دوسروں کےساتھ ہاتھ ملانے یاکسی چیز کوچھونے کی وجہ سے یہ وائرس دوسرے بچوں میںپھیل سکتاہے۔اگرگھرمیںکسی کویہ ہوجائے تووہ سب سے پہلے اپنے استعمال کی چیزیںصابن،تولیہ اوررومال وغیرہ کوالگ کرلے کیونکہ متاثرہ مریض کاصابن یاتولیہ استعمال کرنے سے بھی یہ پھیلتاہے۔
سوال:کیااس بیماری کاکوئی خاص موسم ہوتاہے؟
٭عمومی طورپریہ وائر س اسی موسم میںزیادہ پھیلتاہے یعنی برسات اورسردی کے درمیان میںپھیلتاہے ۔
سوال:کون کون سی ادویات اس میںفائدہ مندہوتی ہیں؟
٭اس بیماری کے علاج میںہم جوادویات دیتے ہیں ان کابنیادی مقصد تکلیف کوکم کرناہوتاہے باقی وائرس کادورانیہ آٹھ سے پندرہ دن کاہے اوراس نے وہ پوراکرناہوتاہے۔دوا دینے کامقصدوائرس کی وجہ سے ہونےوالی سوزش اورجلن کوکم سے کم کرناہوتاہے،ہم کوئی اینٹی وائرس دوانہیںدیتے کہ وائرس کوختم کیاجائے۔اس بیماری میںادویات کے استعمال میںبہت احتیاط کی ضرورت ہے۔سوزش کم کرنےوالی کچھ ادویات سٹیرائیڈزکی شکل میںہوتی ہیں ڈاکٹرجب کسی مریض کوسٹیرائیڈدیتاہے تووہ مریض کی حالت دیکھ کردیتاہے کیونکہ سٹیرائیڈزمیںبھی بہت زیادہ ورائٹی ہے کچھ بہت ہلکے سٹیرائیڈزہوتے ہیںجبکہ کچھ بہت ہائی پوٹینسی کے،ہائی پوٹینسی سٹیرائیڈزکچھ مریضوں میںاگرایک حد سے زیادہ استعمال کئے جائیں تووہ کالاموتیااورسفیدموتیاکاباعث بن سکتے ہیں۔ سٹیرائیڈزچونکہ immunityکوبھی تھوڑاکم کرتے ہیںاس لئے اس کی وجہ سے دوسرے جراثیم جس میںبیکٹیریااورفنگس وغیرہ شامل ہیں کی انفیکشن ہونے کابھی خطرہ ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ جب ادویات دی جاتی ہیں توان میںعموماًاینٹی بائیوٹکس لازمی شامل کیاجاتاہے اس کے علاوہ ایک lubricantبھی ہوتاہے جومصنوعی آنسوہوتے ہیںجن کامقصدآنکھ کے اندرہونےوالی سوزش یاجلن کوکسی حدتک کم کرناہوتاہے۔اس میںسیلف میڈیکیشن ہرگزہرگزنہیںکرنی چاہیے،آج کل ہرکوئی خود کوڈاکٹرسمجھتاہے کہ مجھے فلاں تکلیف میںیہ دوائی دی گئی تھی اورمیں ٹھیک ہوگیاتھااس لئے باقی لوگ بھی اس تکلیف میںیہ دوالے لیں۔ہربندے کامرض مختلف ہوتاہے اوراس کی حالت دیکھے بغیرکوئی دوائی تجویزکرناانتہائی خطرناک ہے جس سے آگے چل کرمزید پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔
سوال:پیدائشی طور پر آنکھوں کی کون سی بیماریاں ہوتی ہیں اور ان کی وجوہات کیا ہیں؟
٭بچوں میںآنکھوں کی پیدائشی بیماریوں کی مختلف نوعیت اورTimings ہے اسی حساب سے ان کی وجوہات بھی مختلف ہوجاتی ہیں۔پیدائش کےساتھ ہی بچوںمیں آنکھوںکی کوئی بیماری پائی جاتی ہے تواس میںعموماًبڑی وجہ genetically transferred diseaseہوتی ہے جویاتوgenetically transferredہوتی ہے یاماں باپ میںایساکوئی انفیکشن تھاجوپیداہونےوالے بچے میںمنتقل ہوگیاان بیماریوں کی ایک پوری لسٹ ہے جن میںCataract بھی ہے اورGlaucomaبھی ہوتاہے،کچھ ٹیومرزبھی ہوتے ہیں،کچھ آنکھ کے پردے کی پیدائشی بیماریاںبھی ہیں۔
س:بچوں کی بینائی متاثرکرنےوالی بیماریاںکون سی ہیں؟
٭ان میںسب سے عام عینک کانمبرہے،عموماًچھ سے آٹھ ماہ کے اندرآئیڈیاہوجاتاہے کہ بچے کی بینائی میںکوئی مسئلہ ہے،نظرمیںکمی کی ایک وجہ عینک کانمبرہوسکتاہے اس کے علاوہ اورجوبہت ساری وجوہات ہیں ان میںکالاموتیا،سفیدموتیا،آنکھ کے پردے کامسئلہ اور کچھ انفیکشن شامل ہیںجن کی وجہ سے آنکھ کی پتلی (cornea)ڈیمج ہوجائے تونظرمتاثرہوسکتی ہے۔
س:بچوںمیں پیدائشی طورپرسفیدموتیاکی کیا علامات ہوتی ہیں؟
٭پیدائشی طورپراگرکسی بچے میںسفیدموتیاہے اور کافی denseقسم کاہے تووہ پتلی کے اندر ایک سفیدنشان کی صورت میںنظرآناشروع ہوجاتاہے اس نشان کوعموماًماںباپ خود ہی نوٹ کرلیتے ہیں،اس سفیدی کوہم میڈیکل کی اصطلاح میںLeukocoria کہتے ہیں۔ماں چونکہ بچے کے سب سے زیادہ قریب ہوتی ہے اسے سب سے پہلے اندازہ ہوجاتاہے کہ بچہ مجھے دیکھتانہیںہے،میری movementsکوفالونہیںکرتا اورکسی چیز پرفوکس نہیںکررہایعنی ایک جگہ آنکھ کوٹکاتانہیںبلکہ گھماپھرارہاہوتاہے،روشنی جلانے سے بھی کوئی ردعمل نہیںدیتایعنی زیادہ روشنی میںعام بچوں کی طرح آنکھ بندنہیںکرتا۔
س:بچوں کی آنکھوں میں وہ کون سی علامات ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر والدین کو ڈاکٹر سے رجوع کرناچاہیے؟
٭بچوں میںاگرکچھ علامات پائی جائیں تووالدین کوفوری طورپرڈاکٹرکوچیک کرواناچاہیے جن میںاگربچہ سکول جانے کی عمرسے پہلے ہی چیزوں کوبہت قریب جاکردیکھنے کی کوشش کرے،آجکل عموماًبچوںسے جان چھڑانے کےلئے مائیں ان کے ہاتھ میںموبائل پکڑادیتی ہیںجوبچہ موبائل یاٹی وی سکرین بہت قریب جاکردیکھنے کی کوشش کرے یاآنکھوںکوچھوٹاکرکے دیکھنے کی کوشش کرے ،چلنے پھرنے میں لڑکھڑاتاہوگرتاہو،اگر کوئی چیزپکڑائیں توفوراًنہ پکڑپارہاہو۔اس کے علاوہ جن بچوں کی آنکھوںسے مسلسل پانی بہتاہو،رعشہ آرہاہویاآنکھ کے نظروالے حصے میںکوئی نشان یاداغ دکھائی دے توایسے بچوں کوفوری طورپرکسی ماہرمعالج امراض چشم کوچیک کرواناچاہیے۔اس کے علاوہ دوتین سال کی عمرتک بچوں کی آنکھ میںبھینگاپن پایاجائے تواس صورت میںبھی بچے کافوری معائنہ کرواناچاہیے۔
س:بچوں میں بھینگاپن سے بینائی متاثرہوتی ہے؟
٭میری expertiseبھی چونکہ اس میںہے اس لئے بھینگاپن کے مریضوں کےساتھ بہت زیادہ واسطہ پڑتاہے میںان کے آپریشن بھی کافی زیادہ کرتاہوں،اس کووالدین زیادہ سنجیدگی سے نہیںلیتے اوراس کی ایک وجہ شایدیہ بھی ہے کہ جب وہ ایسے بچوں کوڈاکٹرز کے پاس لے کرجاتے ہیںتوکچھ ڈاکٹرزنالج کم ہونے یاکچھ اوروجوہات کی بناپرکہہ دیتے ہیں کہ ابھی بچہ چھوٹاہے جب بڑاہوگاتوچیک کرالیں پھر ٹھیک کرلیںگے۔ میرے خیال میںیہ انتہائی غلط چیز ہے،ہم کسی بھی چیز کودو آنکھوں سے دیکھتے ہیںاوردونوں آنکھوں سے اسی وقت دیکھ سکتے ہیں جب دونوں allignedہوں اورکسی چیز پر ایک ہی وقت میںفوکس کررہی ہوں،اگرایک آنکھ کسی چیزکودیکھ رہی ہو اوردوسری کافوکس کہیں اورہوتودوسری آنکھ میںنظربننے کاعمل متاثرہوگا۔ہمارے دومقاصدہوتے ہیں ایک تودونوں آنکھوں میںنظربنے اوردوسرا دونوں آنکھوں سے اکٹھادیکھے۔اگروہ عینک سے ٹھیک ہوسکتاہوتو عینک سے ٹھیک کرلیں اگرعینک سے ٹھیک نہ ہورہاہوتوجتنی جلدی ممکن ہواس کاآپریشن کروالیناچاہیے کیونکہ دونوں آنکھوں سے نظربننے کاعمل عموماًتین چاریاپانچ سال کی عمرمیںآکررک جاتاہے اس کے بعد ہم کوشش بھی کرلیں تو ٹھیک نہیںہوتا۔
س:چھوٹے بچے موبائل پر مسلسل گیمز کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں اس سے نظر کس حد تک متاثر ہوتی ہے؟
٭بدقسمتی سے یہ ہرگھرکی کہانی ہے کہ بچوں کووقت نہیں دے سکتے اورجان چھڑانے کےلئے موبائل یاٹیبلٹ پکڑادیتے ہیں اورسمجھتے ہیں اپنافرض پوراکردیا اوربچہ خاموش ہوگیا۔ہماری آنکھ کابنیادی کام دوردیکھناہے،جب ہم کسی بھی چیز کودوردیکھ رہے ہوتے ہیںاورکوئی نظرکی عینک وغیرہ نہیںلگی ہوتی تو دور کی نظرکےلئے آنکھوں کوکوئی خاصeffortنہیںکرنی پڑتی،جب نزدیک کاکام کررہے ہوتے ہیں تواس وقت ہماری آنکھوں میںکچھ تبدیلیاں آتی ہیںاوران تبدیلیوںکامقصدیہی ہوتاہے کہ ہم نزدیک کی چیزکوفوکس کرپائیں لیکن اس عمل میںکچھ مسلزانوالوہوتے ہیںاگرکسی بچے کانزدیک دیکھنے کاوقت بہت زیادہ بڑھادیں توان مسلز میںاکڑاﺅیاتناﺅآجاتاہے،اگربچہ مسلسل نزدیک سے موبائل وغیرہ دیکھتارہے گاتواس کی نزدیک کی نظرزیادہ فوکس رہتی ہے اوردور کےلئے فوکس کم ہونے کی وجہ سے دورکی عینک لگ جاتی ہے۔موبائل کاایک اورنقصان یہ بھی ہوتاہے کہ بچے کی ذہنی نشوونمابھی متاثرہوتی ہے اس لئے بچوں کوحدسے زیادہ موبائل دینابہت زیادہ نقصان دہ ہے۔
س:بازار میں ملنے والے غیر معیاری کانٹیکٹ لینز بھی نظر کو نقصان پہنچاتے ہیں؟
٭بالکل پہنچاتے ہیں۔مارکیٹ میںکاسمیٹک مقاصدکےلئے جوغیرمعیاری کانٹیکٹ لینزملتے ہیں میںتوانکے بہت خلاف ہوں۔نظرکاکانٹیکٹ لینز بھی اگربہت اچھی کمپنی کاہے تو وہ بہت احتیاط سے استعمال کرسکتے ہیں۔یہ بالکل غلط مفروضے ہیں کہ یہ سٹینڈرڈویئر ہیںآپ جتنے دن چاہیں لگالیںکچھ نہیںہوتا۔یہ بات ذہن میںرکھیں کہ آنکھ کی nutritionکاسب سے بڑاذریعہ ہواہے لیکن قدرتی اورمصنوعی چیز میںفرق رہتاہے۔جب آپ بہت دنوں تک آنکھ پرکانٹیکٹ لینزرکھتے ہیںتواس میں انفیکشن کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔بازارمیںملنے میںسستے کاسمیٹک کانٹیکٹ لینزبارباراستعمال کےلئے نہیںہوتے وہ ڈسپوزیبل ہوتے ہیںاوران کابارباراستعمال نقصان دہ ہے۔ اوّل تورنگین کانٹیکٹ لینزز سے پرہیز کریں اگرلگاناہی ہے توبہت اچھی کوالٹی کے لینزاستعمال کریں۔اگر نظروالے کانٹیکٹ لینز ہیں توان کواحتیاط کےساتھ لگائیں لیکن سوتے وقت کوئی بھی کانٹیکٹ لینزلگانانقصان دہ ہوسکتاہے۔
س:ذیابیطس کے مریضوں کوآنکھوں کی حفاظت کےلئے کیا کرنا چاہیے؟
٭بدقسمتی سے شوگرہمارے ہاں بہت عام ہوگئی ہے اورہرگھرمیںکسی نہ کسی کویہ لاحق ہے یااس کے دہانے پر ہے۔شوگرکاعلاج کرنےوالے ڈاکٹرزبھی مریض کوگائیڈکرتے وقت یہ کوتاہی برت جاتے ہیں کہ جسے شوگرکےساتھ چارپانچ سال ہوچکے ہوں اسے سال میںایک دفعہ اپنی آنکھیں کسی ماہرمعالج چشم کوضروردکھانی چاہئیںکیونکہ شوگرجسم کے کئی حصوں کومتاثرکرتی ہے جن میںآنکھیں بھی شامل ہیں ،شوگرکی وجہ سے آنکھوں سے خون لیک کرجاتاہے اورنظرکافرق آجاتاہے جسے بعد میںٹھیک کرنامشکل ہوجاتاہے اس لئے اگربروقت تشخیص اورعلاج شروع ہوجائے تو نظرکوبچاسکتے ہیںجوپیچیدہ یاآخری اسٹیج پرممکن نہیںرہتااس لئے شوگرکے مریض کوسال میںایک دفعہ اپنی آنکھوںکے پردے کامعائنہ کسی مستندآئی سپیشلسٹ سے ضرور کرواناچاہیے۔
س:لیزر سرجری کے ذریعے عینک اتارنے کا عمل کامیاب رہتا ہے؟
٭عینک اتارنے کاجوآپریشن کیاجاتاہے اس میںجولیزراستعمال ہوتاہے اسے excimer کہتے ہیں پھرایک LASIKاوردوسرا PRKپروسیجرہوتاہے یہ بلاشبہ محفوظ پروسیجرزہیں تاہم اس آپریشن میںدوتین احتیاطیںکی جاتی ہیں کہ عمربیس سال سے زیادہ ہو کیونکہ اس عمرمیںآکرآنکھ کانمبرstableہوجاتاہے،جس کانمبرابھی stableنہ ہواسے یہ پروسیجرنہیں کرواناچاہیے۔جن کی آنکھ کانمبربہت زیادہ ہو اورکارنیاکی موٹائی اتنی نہ ہو کہ لیزرپروسیجرکیاجاسکے یاآنکھ کاپردہ کمزورہوتو اس میں بھی پروسیجرنہ کیاجائے توبہتر ہے۔
س:آنکھ کوتندرست رکھنے کےلئے آسان طریقے کیا ہیں؟
٭اس کاآسان طریقہ تویہ ہے کہ خوراک اچھی رکھیں اوروقت پرسوئیں۔باقی اللہ نے آنکھ کاایک سیلف فنکشنل سسٹم بنایاہواہے کوئی مخصوص کام یاچیز ایسی نہیںکہ یہ کریں گے توزیادہ بہترہوگا۔بلاوجہ آنکھ میںکوئی دوا یاسرمہ وغیرہ نہ ڈالیں،عینک اتروانے کےلئے کوئی دواوغیرہ آنکھ میںنہ ڈالیں کیونکہ ایسی کوئی دواموجودنہیںہے۔
٭٭٭