25/12/2025
Quaid Day Special!
زندگانی ہے صدف، قطرہ نيساں ہے خودی
وہ صدف کيا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے
ہو اگر خودنگر و خودگر و خودگير خودی
يہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
تشریح:
اقبال نے دو شعروں میں ہمیں حیات ابدی حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ہے۔ کہتے ہیں کہ
اگر ہم زندگی (حیات) کو صدف سے تشبیہ دیں تو خودی کو قطرۂ نیساں کہہ سکتے ہیں۔ اور صدف کا وظیفہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قطرہ کی پرورش کر کے اسے موتی بنا دے۔ پس ہم کو اپنی زندگی اس طرح بسر کرنی چاہئیے کہ اعمالِ صالحہ کی بدولت ہماری خودی اپنے مرتبۂ کمال کو پہنچ سکے۔ جس طرح قطرہ جب گُہر (موتی) بن جاتا ہے تو مرتبۂ کمال کو پہنچ جاتا ہے۔
اس کی صورت یہ ہے کہ انسان کو اپنی خودی کی حفاظت کرنی یعنی اُسے مستحکم کرنا لازم ہے۔ (واضح ہو کہ خودی صرف عشق سے مستحکم ہو سکتی ہے) پس اگر ہماری خودی میں تین صفات پیدا ہو جائیں تو وہ لازوال ہو سکتی ہے۔ یعنی اُسے حیاتِ ابدی حاصل ہو سکتی ہے۔ وہ تین صفات یہ ہیں
خود نگر۔ خود گر۔ خود گیر۔
خود نگر کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ماحول سے آگاہ ہوں، دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے میں دوسروں کے محتاج نہ ہوں۔ مثلاً دنیا کو کافروں کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔
خود گر کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی تربیت اور اصلاح خود کر سکیں دوسروں کے دستِ نگر نہ ہوں۔ مثلاً انگریزوں کا ضابطۂ حیات اختیار نہ کریں۔
خود گیر کا مطلب یہ ہی کہ ہم اپنی حفاظت خود کر سکیں دوسروں کے سہارے اپنی زندگی بسر نہ کریں۔ مثلاً کامن ویلتھ یا یو۔این۔او۔ پر اعتماد نہ کریں۔
ان تینوں صفات سے خودی میں پختگی پیدا ہو سکتی ہے اور اقبال خود کہتے ہیں؏
خودی چوں پختہ گردو لازوال است
Zindagaani Hai Sadaf, Qatra-e-Neesan Hai Khudi
Woh Sadaf Kya Ke Jo Qatre Ko Guhar Kar Na Sake
Ho Agar Khudnigar-o-Khudgar-o-Khudgeer Khudi
Ye Bhi Mumkin Hai Ke Tu Mout Se Bhi Mer Na Sake
Life is a like a shell and ego like a drop of April shower—
It is unbecoming a shell if it cannot turn the drop into a pearl.
If the ego is self‐preserving, self‐creating and self‐sustaining,
Then it is possible that even death may not make you die.