paisa kamao all things

paisa kamao all things this page created many things ideas and person reviews.

سوچی سمجھی پلاننگ کے ساتھ ہوا ؟🙏😭ہانیہ شاہد کی عمر صــــرف نو سال تھی وہ اپنے خاندان کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی،،،،، ...
14/06/2026

سوچی سمجھی پلاننگ کے ساتھ ہوا ؟🙏😭ہانیہ شاہد کی عمر صــــرف نو سال تھی وہ اپنے خاندان کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی،،،،، اور آسٹریلوی شہریت رکھتی تھی بہت سے بیرون ملک مقــــــیم پاکستانی بچوں کی طرح وہ ہر چند سال بعد اپنے وطن جاتی تھیں،،،،،،، اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاتی تھیں جن سے وہ بہت پیار کرتی تھی اس بار برسوں کے انتظار کے بعد بالآخر انہیں عید پر پاکستان آنے کا موقع ملا۔۔۔ وہ چکوال میں اپنے دادا دادی، چچا، خالہ اور کزن کو دیکھ کر بہت پرجـوش تھی۔ ہانیہ شاہد ساتویں جماعــــت کی ایک روشن اور ہونہار طالبہ تھی جس کا مستقبل ان کے سامنے تھا۔ وہ خاندان کی لاڈلی بچی تھی، وہ پاکستان کو دیکھنے کے لیے بے چین تھی،،،، اور اس کی خواہش تھی جس کی وجہ سے والدین بھی مان گئے۔۔ وہ تحائف، خوشیاں اور خوبصورت خاندانی یادیں بنانے کے خواب لے کر آئے تھے، انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سفر ناقابل تصـــــور سانحے پر ختم ہوگا۔

آج سی ٹی ڈی کی جانــــب سے اہل خانہ کی گاڑی پر مبینہ طور پر شدید فائرنگ ہونے کے بعد ہانیہ کی زندگی گولـیوں کی بارش میں ختم ہو گئی۔۔۔۔ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوئے جبکہ ہانیہ جان کی بازی ہار گئیں۔ سی ٹی ڈی والے سمجھ رہے تھے کہ 2025 ماڈل گاڑی میں دشـت گرد تھے ایک معصوم خاندان کے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہیں ہوئی؟ شک تھا تو تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟ شک کو ثبوت ماننے کا اختیار کس نے دیا؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے معصــــوم لوگوں کی حفاظت کے لیے موجود ہیں، معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے نہیں۔ اس سانحے کو دیکھنے والے ہر والدین ایک ہی دردناک سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر آسٹریلیا سے واپس آنے والے خاندان کو دہشــت گرد سمجھا جا سکتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی موجود ہے کہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہو گی۔

کوئی انکوائری،کوئی پریس کانفرنس اور کوئی ســرکاری بیان ہانیہ کو اس کے خاندان کو واپس نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔ اس کی سکول کی کتابیں ادھوری رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے خواب ادھورے ہی رہیں گے۔ خاندانی اجتـــــماعات میں اس کی نشست ہمیشہ کے لیے خالی رہے گی۔۔۔۔ اس کے والدین اپنی ساری زندگی اس درد کو ہر روز اٹھائیں گے۔۔۔۔ہر سالگرہ، ہر عید اور ہر خاندانی اجتــماع انہیں اپنی کھوئی ہوئی بیٹی کی یاد دلائے گا۔ سرخیاں ختم ہونے پر ان کے آنسو ختم نہیں ہوں گے،، یہ ایک ایسا زخم ہے جو انکی ساری زندگی کھلا رہے گا۔جس کی بیٹیاں ہیں وہ یہ درد محسوس کرسکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان جاہل لوگوں کو نشان عبرت بنائیں آمین ثم آمین۔۔

14/06/2026

ہانیہ شاہد کی عمر صــــرف نو سال تھی وہ اپنے خاندان کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی،،،،، اور آسٹریلوی شہریت رکھتی تھی بہت سے بیرون ملک مقــــــیم پاکستانی بچوں کی طرح وہ ہر چند سال بعد اپنے وطن جاتی تھیں،،،،،،، اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاتی تھیں جن سے وہ بہت پیار کرتی تھی اس بار برسوں کے انتظار کے بعد بالآخر انہیں عید پر پاکستان آنے کا موقع ملا۔۔۔ وہ چکوال میں اپنے دادا دادی، چچا، خالہ اور کزن کو دیکھ کر بہت پرجـوش تھی۔ ہانیہ شاہد ساتویں جماعــــت کی ایک روشن اور ہونہار طالبہ تھی جس کا مستقبل ان کے سامنے تھا۔ وہ خاندان کی لاڈلی بچی تھی، وہ پاکستان کو دیکھنے کے لیے بے چین تھی،،،، اور اس کی خواہش تھی جس کی وجہ سے والدین بھی مان گئے۔۔ وہ تحائف، خوشیاں اور خوبصورت خاندانی یادیں بنانے کے خواب لے کر آئے تھے، انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سفر ناقابل تصـــــور سانحے پر ختم ہوگا۔

آج سی ٹی ڈی کی جانــــب سے اہل خانہ کی گاڑی پر مبینہ طور پر شدید فائرنگ ہونے کے بعد ہانیہ کی زندگی گولـیوں کی بارش میں ختم ہو گئی۔۔۔۔ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوئے جبکہ ہانیہ جان کی بازی ہار گئیں۔ سی ٹی ڈی والے سمجھ رہے تھے کہ 2025 ماڈل گاڑی میں دشـت گرد تھے ایک معصوم خاندان کے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہیں ہوئی؟ شک تھا تو تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟ شک کو ثبوت ماننے کا اختیار کس نے دیا؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے معصــــوم لوگوں کی حفاظت کے لیے موجود ہیں، معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے نہیں۔ اس سانحے کو دیکھنے والے ہر والدین ایک ہی دردناک سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر آسٹریلیا سے واپس آنے والے خاندان کو دہشــت گرد سمجھا جا سکتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی موجود ہے کہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہو گی۔

کوئی انکوائری،کوئی پریس کانفرنس اور کوئی ســرکاری بیان ہانیہ کو اس کے خاندان کو واپس نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔ اس کی سکول کی کتابیں ادھوری رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے خواب ادھورے ہی رہیں گے۔ خاندانی اجتـــــماعات میں اس کی نشست ہمیشہ کے لیے خالی رہے گی۔۔۔۔ اس کے والدین اپنی ساری زندگی اس درد کو ہر روز اٹھائیں گے۔۔۔۔ہر سالگرہ، ہر عید اور ہر خاندانی اجتــماع انہیں اپنی کھوئی ہوئی بیٹی کی یاد دلائے گا۔ سرخیاں ختم ہونے پر ان کے آنسو ختم نہیں ہوں گے،، یہ ایک ایسا زخم ہے جو انکی ساری زندگی کھلا رہے گا۔جس کی بیٹیاں ہیں وہ یہ درد محسوس کرسکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان جاہل لوگوں کو نشان عبرت بنائیں آمین ثم آمین۔۔

14/06/2026

الله سے پیار کرو

14/06/2026
14/06/2026
With Discover Pakistan – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
12/06/2026

With Discover Pakistan – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

💔ملتان کی گرمی سے بچنے کے لیے مری آئی فیملی کو آگ نے جلا دیا 😭اس منظر کو دیکھتے ہوئے یقین کریں ہاتھ اور پاؤں دونوں کانپ ...
11/06/2026

💔ملتان کی گرمی سے بچنے کے لیے مری آئی فیملی کو آگ نے جلا دیا 😭
اس منظر کو دیکھتے ہوئے یقین کریں ہاتھ اور پاؤں دونوں کانپ رہے تھے
اس حادثے کی ذمہ داران ہم کس کو پائیں؟
لوگ کھڑے تھے دیکھ رہے تھے چیخ رہے تھے بہت کوشش کی مگر کوئی کچھ نہ کر سکا ہر کوئی بھاگا کسی نے پانی ڈھونڈا کسی نے مدد کے لیے پکارا مگر آگ سب سے زیادہ طاقتور نکلی وہ لمحہ کتنا کربناک ہوگا جب ایک انسان دوسرے انسان کو بچانا چاہے مگر اپنے ہاتھ خالی پائے
کہتے ہیں ایک ماں نے اپنے بچوں کو آخری بار گلے لگا لیا
آگ میں بھی انہیں اپنے سینے سے جدا نہ ہونے دیا اور دونوں اکھٹے جل گےیہ محبت نہیں یہ ماں کا دل ہے جو آخری سانس تک اپنے بچوں کے ساتھ رہا آج وہاں صرف راکھ نہیں
وہاں ماؤں کی دعائیں جلی ہیں بچوں کی ہنسی جلی ہے
اور کئی گھروں کی دنیا اجڑ گئی ہے
یہ حادثہ نہیں یہ ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرے گا

یا اللہ ان سب کو اپنی جنت میں جگہ عطا فرما
اور ہمیں ایسی بے بسی دوبارہ نہ دکھا… آمین
آج ملتان کے ساتھ مری کی بھی ہر آنکھ اشک بار ہے
آج دکھ نے شہر نہیں دیکھے آج درد نے فاصلے مٹا دیے
ہر دل سوگوار ہر آنکھ نم

11/06/2026

اچھا دوست قسمت سے ملتا ہے 💞🤫🔥

11/06/2026

تیرے نام

Address

Lahore
Lahore
54600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when paisa kamao all things posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to paisa kamao all things:

Share

Category