14/06/2026
سوچی سمجھی پلاننگ کے ساتھ ہوا ؟🙏😭ہانیہ شاہد کی عمر صــــرف نو سال تھی وہ اپنے خاندان کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی،،،،، اور آسٹریلوی شہریت رکھتی تھی بہت سے بیرون ملک مقــــــیم پاکستانی بچوں کی طرح وہ ہر چند سال بعد اپنے وطن جاتی تھیں،،،،،،، اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاتی تھیں جن سے وہ بہت پیار کرتی تھی اس بار برسوں کے انتظار کے بعد بالآخر انہیں عید پر پاکستان آنے کا موقع ملا۔۔۔ وہ چکوال میں اپنے دادا دادی، چچا، خالہ اور کزن کو دیکھ کر بہت پرجـوش تھی۔ ہانیہ شاہد ساتویں جماعــــت کی ایک روشن اور ہونہار طالبہ تھی جس کا مستقبل ان کے سامنے تھا۔ وہ خاندان کی لاڈلی بچی تھی، وہ پاکستان کو دیکھنے کے لیے بے چین تھی،،،، اور اس کی خواہش تھی جس کی وجہ سے والدین بھی مان گئے۔۔ وہ تحائف، خوشیاں اور خوبصورت خاندانی یادیں بنانے کے خواب لے کر آئے تھے، انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سفر ناقابل تصـــــور سانحے پر ختم ہوگا۔
آج سی ٹی ڈی کی جانــــب سے اہل خانہ کی گاڑی پر مبینہ طور پر شدید فائرنگ ہونے کے بعد ہانیہ کی زندگی گولـیوں کی بارش میں ختم ہو گئی۔۔۔۔ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوئے جبکہ ہانیہ جان کی بازی ہار گئیں۔ سی ٹی ڈی والے سمجھ رہے تھے کہ 2025 ماڈل گاڑی میں دشـت گرد تھے ایک معصوم خاندان کے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہیں ہوئی؟ شک تھا تو تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟ شک کو ثبوت ماننے کا اختیار کس نے دیا؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے معصــــوم لوگوں کی حفاظت کے لیے موجود ہیں، معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے نہیں۔ اس سانحے کو دیکھنے والے ہر والدین ایک ہی دردناک سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر آسٹریلیا سے واپس آنے والے خاندان کو دہشــت گرد سمجھا جا سکتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی موجود ہے کہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہو گی۔
کوئی انکوائری،کوئی پریس کانفرنس اور کوئی ســرکاری بیان ہانیہ کو اس کے خاندان کو واپس نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔ اس کی سکول کی کتابیں ادھوری رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے خواب ادھورے ہی رہیں گے۔ خاندانی اجتـــــماعات میں اس کی نشست ہمیشہ کے لیے خالی رہے گی۔۔۔۔ اس کے والدین اپنی ساری زندگی اس درد کو ہر روز اٹھائیں گے۔۔۔۔ہر سالگرہ، ہر عید اور ہر خاندانی اجتــماع انہیں اپنی کھوئی ہوئی بیٹی کی یاد دلائے گا۔ سرخیاں ختم ہونے پر ان کے آنسو ختم نہیں ہوں گے،، یہ ایک ایسا زخم ہے جو انکی ساری زندگی کھلا رہے گا۔جس کی بیٹیاں ہیں وہ یہ درد محسوس کرسکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان جاہل لوگوں کو نشان عبرت بنائیں آمین ثم آمین۔۔