Al Ahad Associates real eatate and Builders

Al Ahad Associates real eatate and Builders Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Ahad Associates real eatate and Builders, Real Estate, Lahore.

Sale & Purchase Plot & House
Home Construction Services
Investment Advisory services
Let's Help You Realise Your Dream
Grow Your Investment

📍Lahore

📞 0301 760 1227

16/10/2024

ہندوستان کے ٹاپ بزنس مین کروڑ پتی ۔ارب پتی شخص رتن ٹاٹا کی کہانی

( حقیقی خوشی )

جب ہندوستانی ارب پتی رتن جی ٹاٹا سے ٹیلی فون پر انٹرویو میں ریڈیو پریزینٹر نے پوچھا:
"جناب آپ کو کیا یاد ہے جب آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ خوشی ملی"؟

رتن جی ٹاٹا نے کہا:
"میں زندگی میں خوشی کے چار مراحل سے گزر چکا ہوں، اور آخر کار میں نے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ لیا ہے۔"

پہلا مرحلہ دولت اور وسائل جمع کرنا تھا۔
لیکن اس مرحلے پر مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو میں چاہتا تھا
۔
پھر قیمتی اشیاء اور اشیاء جمع کرنے کا دوسرا مرحلہ آیا۔
لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس چیز کا اثر بھی عارضی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک زیادہ دیر نہیں رہتی۔

پھر ایک بڑا پروجیکٹ حاصل کرنے کا تیسرا مرحلہ آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان اور افریقہ میں ڈیزل کی سپلائی کا 95% میرے پاس تھا۔

میں ہندوستان اور ایشیا کی سب سے بڑی اسٹیل فیکٹری کا مالک بھی تھا۔ لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں نے تصور کیا تھا۔

چوتھا مرحلہ تھا جب میرے ایک دوست نے مجھ سے کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیئر خریدنے کو کہا۔
تقریباً 200 بچے۔
ایک دوست کے کہنے پر میں نے فوراً وہیل چیئر خرید لی۔
لیکن دوست نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں اور وہیل چیئر بچوں کے حوالے کروں۔ میں تیار ہو کر اس کے ساتھ چلا گیا۔

وہاں میں نے ان بچوں کو یہ وہیل چیئر اپنے ہاتھوں سے دی۔ میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی ایک عجیب سی چمک دیکھی۔ میں نے ان سب کو وہیل چیئر پر بیٹھے، چلتے اور مزے کرتے دیکھا۔
وہیل چیئر کو بگھا رھے ھیں

ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی پکنک کے مقام پر پہنچ گئے ہوں، جہاں وہ جیتنے والا تحفہ بانٹ رہے ہوں۔

میں نے اپنے اندر حقیقی خوشی محسوس کی۔ جب میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو ایک بچے نے میری ٹانگ پکڑ لی۔
میں نے آہستہ آہستہ اپنی ٹانگیں چھوڑنے کی کوشش کی، لیکن بچے نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور میری ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لی، میں نے جھک کر بچے سے پوچھا: کیا تمہیں کچھ اور چاہیے؟

اس بچے نے جو جواب دیا اس نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ زندگی کے بارے میں میرا نظریہ بھی بدل دیا۔
اس بچے نے کہا:

"میں آپ کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہوں تاکہ جب میں آپ سے جنت میں ملوں تو میں آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کروں۔"

اب اس واقعے سے خلاصہ اور سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ وہ پوری زندگی لگا کر یہ چیز اور نتیجہ حاصل کر سکے ہیں کہ انسانیت کی خدمت کے اندر ہی اصل خوشی اور سکون ہے جب کہ یہی بات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بالکل مفت میں بتا کر جا چکے ہیں،،، تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور انسانیت کی خدمت یہ دو ایسے راستے ہیں کہ بندہ جس حال میں بھی ہوگا ان شاءاللہ اسے سکون اور اطمینان محسوس ہوگا بس آزمائش شرط ہے۔
وہ کہتے ہیں نا کہ عبادت سے جنت اور خدمت سے خدا ملتا ہے اور وہ بندہ جو یہ دونوں کرے تو پھر آپ خود سوچیں کہ اس کی خوش نصیبی کے کیا عالم ہوں گے۔

10/10/2024

مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا، نہ ذلیل ہوتا۔

‎میں نے اپنے بابا جی کو بہت
فخرسے بتایا کہ میرے پاس
دو گاڑیاں
‎ اور بہت اچھا بینک بیلنس ہے۔ اس کے علاوہ میرے بچے اچھے انگریزی سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ عزت شہرت سب کچھ ہے، دنیا کی ہر آسائش ہمیں میسر ہے، اس کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی ہے۔
‎میری یہ بات سننی تھی کہ انہوں نے جواب میں مجھے کہا کہ یہ کرم اس لیے ہوا کے تو نے اللّه کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں۔
‎میں نے جب اس بات کی وضاحت چاہی۔۔۔
‎تو بابا جی نے کہا‎
احمد میری اماں نے
اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے س خصوصی محبت تھی۔ اماں اپنی بک (مٹھی) بھر کے، مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں اور ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کے مستیوں میں لگ جاتا۔
‎میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا اور سوچتا کہ یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے بِنا محنت کیے، اس کو اماں دانے ڈال دیتی ہیں۔
‎ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا، حسب معمول اماں آئی اور دانوں کی بک بھری کہ مرغے کو رزق دے۔ اماں نے جیسے ہی مُٹھی آگے کی، مرغے نے اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ (چونچ) مار دی۔ اماں نے تکلیف سے ہاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔ اماں ہاتھ سہلاتی اندر چلی گئی اور ککڑ (مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کر آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا، اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا، کبھی بائیں۔ کبھی شمال، کبھی جنوب۔
‎سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کے دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اُسکا پیٹ بھی نہیں بھرا۔"

‎بابا دین مُحمد نے کچھ توقف کے بعد پوچھا:
‎" بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟"
‎میں نے فٹ سے جواب دیا:
‎" نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا، نہ ذلیل ہوتا۔"
‎بابا بولا :
‎" بالکل ٹھیک، یاد رکھنا اگر اللّٰہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجسس، غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے، تو اللّه تمھارا رزق مشکل کر دے گا اور اس اصیل ککڑ کی طرح مارے مارے پھرو گے۔ تُو نے اللّه کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑیں، رب نے تیرا رزق آسان کر دیا۔"
ایسے مہربان رب کا ہمیشہ زکر ہونا چاہیے اللہ نے ہمیں اپنے ذکر کے لیے پیدا کیا ہے روزانہ 2000مرتبہ کلمہ طیبہ
درودپاک 100مرتبہ استغفار اللہ 313 سورہ اخلاص41 لازمی پڑھیں

11/07/2024

اوشو کے ایک دوست نے اوشو سے کہا کہ "میں آپ کو اپنی والدہ سے ملوانا چاہتا ہوں کیونکہ میری والدہ بہت مذہبی ہیں" اوشو نے کہا "ٹھیک ہے، میں آپ کی والدہ سے ملوں گا کیونکہ مجھے مذہبی لوگوں سے ملنا پسند ہے۔"

جب اوشو اپنے دوست کی والدہ سے ملا تو اس کے دوست کی والدہ نے اوشو سے پوچھا کہ تم بہت کتابیں پڑھتے ہو، ان دنوں کیا پڑھ رہے ہو؟

اوشو نے کہا آج کل میں قرآن پڑھ رہا ہوں

یہ سن کر میرے دوست کی والدہ غصے میں آگئیں اور کہنے لگیں کہ تم کس قسم کے ہندو ہو جو قرآن پڑھتے ہو، تم اپنے مذہب کی کتابیں پڑھو۔

بعد میں اوشو نے اپنے دوست سے کہا کہ تم کہتے تھے کہ تمہاری ماں مذہبی ہے لیکن وہ مذہبی نہیں بلکہ فرقہ پرست ہے۔

آج کل آپ کو بہت سے لوگ ملیں گے جو خود کو مذہبی کہتے ہیں، لیکن وہ فرقہ پرست ہیں، "مذہبی" ہونے اور "فرقہ وارانہ" ہونے کے درمیان بہت باریک لکیر ہے۔

جگدیش شرما کے قلم سے

30/04/2024

‏ستاون روپے ساٹھ پیسے کی چوری پر ایک سچی کہانی😳

ہندستان میں 1984 میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے عدالت کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ 🙏😔

ایک چھوٹے سے قصبے میں پوسٹ آفس تھا۔ وہیں ایک پوسٹ مین اوماکانت مشرا کام کرتا تھا۔ منی آرڈر کے پیسے گھر گھر پہنچاتا تھا۔ اسٹاف کے لوگ اس سے حسد کرتے تھے اس کی دو وجوہات تھیں ایک یہ کہ اس کے والد کے انتقال کے بعد اس کی جگہ اسے ڈائریکٹ پوسٹ مین کی نوکری مل گئی۔ دوسری وجہ وہ ایماندار تھا ھیر پھیر نہیں کرتا تھا اس لئے پورا اسٹاف اس سے ناخوش تھا۔

ایک دن پوسٹ ماسٹر نے اسے چھ سو ستاون روپے ساٹھ پیسے منی آرڈر کے دئیے جو پانچ افراد تک پہنچانے تھے اتفاقاً صرف ایک شخص کو تین سو روپے دے پایا باقی چار افراد تک مختلف وجوہات کی بنا پر رسائی حاصل نہ کرسکا اس نے بقایا تین سو ستاون روبے ساٹھ پیسے ہوسٹ ماسٹر کو واپس کر دئیے پوسٹ ماسٹر اس کو دراز میں رکھنے لگا تو اس نے کہا گن لیں پوسٹ ماسٹر نے کہا بعد میں گن لوں گا۔

دو ماہ بعد وہ گھر پر رات کا کھانا کھا رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی باہر پولیس کھڑی تھی اور اسے بتایا گیا کہ تم کو سرکاری خزانے سے چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اس نے کہا صاحب میں نے چوری نہیں کی میں نے تو پورے پیسے واپس کردیے تھے دوران تفتیش اس کو بتایا گیا کہ تم نے پیسے واپس کئے تھے مگر صرف تین سو روپے باقی ستاون روپے ساٹھ پیسے چوری کئے ہیں اور تمہارے خلاف پوسٹ ماسٹر نے ایف آئی آر کٹوائی ہے اور تمہارے دو ساتھیوں نے گواہی دی ہے۔

دوسرے دن اس کو مجسٹریٹ سے ضمانت مل گئی جب وہ پوسٹ آفس پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ تم کو نوکری سے معطل کیا جاتا ہے جب تک عدالت فیصلہ نہیں کرتی۔

وہ غریب شخص نوکری واپس ملنے کے چکر میں کورٹ میں ہر پیشی پر پیش ہوتا رہا مگر کورٹ میں نہ تو پوسٹ ماسٹر پیش ہوا اور نہ ہی دونوں گواہوں میں سے کوئی پیش ہوا اس دوران استغاثہ کے وکلاء بھی تبدیل ہوتے رہے۔

پیشی پر پیشی 25 سال تک کورٹ کے چکر لگاتے آخر وہ بھی پانچ پیشیوں پر حاضری دینا چھوڑ چکا تھا۔ اسے پھر توہین عدالت پر گرفتار کر لیا اس کے وکیل نے بھی کوئی موقف پیش نہیں کیا کہ آج تک نہ تو کمپلینٹ اور نہ ہی گواہ پیش ہوئے ان پر تو توہین عدالت لاگو نہیں کیا گیا۔

ان ستائیس سالوں کے دوران غربت کے باعث بیماری میں اس کے تین بچوں کا انتقال ہوگیا اور اس کی نوکری میں ریٹائرمنٹ بھی ہو گئی مگر کیس چلتا رہا۔

26 ویں سال وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھا اس کے بیٹے نے ایک اچھا وکیل کیا جس نے دو پیشیوں پر کیس جیت لیا کیونکہ پوسٹ ماسٹر مر چکا تھا اور گواہان کبھی عدالت نہیں آئے۔

اس مقدمے کی کل تین سو پیشیاں ہوئیں اور اس کو 27 سال لگ گئے اور 1984 میں چلنے والا مقدمہ بلآخر 2011 میں اختتام کو پہنچا ۔ جس نے ہندستان کی عدلیہ پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا تھا۔

پاکستان میں نہ جانے کتنے ایسے مقدمے ہونگے جو پچاس سالوں سے یوں ہی برقرار ہونگے۔

24/04/2024

ایرانی صدر کا دورہِ پاکستان
اور پاکستان کی بے خبر عوام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1965 میں جب بھارت کے ساتھ جنگ کا ماحول بن رہا تھا حالات انتہائی کشیدہ تھے اور دوسری طرف ایران بھی جس کا ہمیشہ سے جھکاؤ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی طرف رہا ہے وہ بھی پاکستان کا شدید مخالف تھا تو اس خوفناک صورتحال میں کہ ایک طرف بھارت سے ہماری جنگ لگ جائے اور پیچھے سے ایران کہیں ہماری پیٹھ میں چھرا نہ گھونپ دے ایوب خان جو اس وقت صدر پاکستان تھے انہوں نے اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایران بھیجا جو ایرانیوں کے داماد بھی تھے بھٹو سے ایوب خان نے کہا کہ جاؤ اور شاہ ایران کے پاس اور جس طرح بھی وہ راضی ہوتا ہے اسے راضی کرو اور پاکستان کے خلاف ایران کے حملے سے بچنے کی تدبیر کرو بھٹو صاحب ایران گئے اور انہوں نے شاہ ایران سے جا کے کہا کہ اپ کیا چاہتے ہیں تو اس پر شاہ ایران نے دو باتیں کی پہلی بات سیندک کے حوالے سے سیندک کا وہ علاقہ جہاں پر کاپر کے اور قیمتی معدنیات کے ذخائر ہیں اس کا وہ بڑا حصہ جہاں پر زیادہ ذخائر ہیں ایران نے اس پہ نشان لگا کے کہا کہ یہ آپ ہمیں دیں سیندک کا علاقہ شروع سے متنازہ چل رہا تھا تو بھٹو صاحب نے شاہ ایران کی یہ بات مان لی اور دوسری شرط شاہ ایران نے بھٹو صاحب کے ساتھ یہ رکھی کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب سے بلوچستان کے اندر سے تیل نہیں نکال سکتا اور ایران پاکستان کی سرحد کے قریب سے اپنے بلوچستان سے جو ایران کے اندر کا ہے وہاں سے تیل نکالے گا بھٹو صاحب نے یہ شرط بھی مان لی اور 30 سال تک کا یہ معاہدہ طے پایا کہ 30 سال تک پاکستان اپنے بلوچستان سے تیل نہیں نکالے گا ایران پاکستان کی سرحد کے قریب سے تیل نکال سکے گا اور تیل کا معاملہ اس طرح ہوتا ہے کہ جب ایک جگہ سے نکالا جائے تو بہہ کر دور دور سے تیل وہاں ا جاتا ہے تو ہوا یہ کہ ایران نے تیل نکالنا شروع کر دیا پاکستان کا تیل بہ کر زمین کے اندر اندر ایران کی طرف جاتا ہے اور ایران وہی تیل نکالتا ہے اور سستا تیل ہے ایران کا جس کے بارے ہمارے ہاں بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ایران سے پاکستان سستا تیل کیوں نہیں خریدتا اور یہ وہی تیل ہے جس کی سمگلنگ ایران پاکستان کی طرف کرتا ہے جس کی ویڈیوز اور تصویریں ہم سوشل میڈیا پر اکثر دیکھتے رہتے ہیں یہ معاہدہ 30 سال تک تھا پھر اگلے 30 سالوں میں کبھی کوئی ایرانی سربراہ حکومت پاکستان نہیں آیا 1965 سے 30 سال کے بعد 1995 میں اس وقت کے ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی پاکستان تشریف لائے اور اس وقت کی پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو سے جو ایرانیوں کی نواسی تھیں ان سے اس معاہدے کی مزید 30 سال کے لیے توثیق کروا لی گئی تو اب پھر اس معاہدے کے 30 سال پورے ہونے جا رہے ہیں 2025 میں تو اصولی طور پر تو ایران کے صدر کو 2025 میں پاکستان انا تھا لیکن وہ ایک سال قبل ہی اگئے کیونکہ اج کل پھر بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کرسی صدارت پر براجمان ہیں اور پاکستان کی ایک بڑی شخصیت وزیر داخلہ بھی ایران نواز ہیں تو ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پاکستان تشریف لائے ہیں اور اسی معاہدے کو مزید اگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تو میری پاکستان کے محب وطن لوگوں سے گزارش ہے کہ اب مزید اس معاہدے کی توثیق نہیں ہونی چاہیے اس کو اگے نہیں بڑھا نا چاہیے ہم اپنا تیل نکال سکیں ہماری ضرورت ہے ہم باہر سے مہنگا تیل خریدتے ہیں جبکہ ہمارا تیل ایران مفت میں نکالے جا رہا ہے اور الٹا ہمیں ہی وہ سمگل کر کے فروخت کرتا ہے تو اس پر پاکستان کے مقتدر حلقوں اور محب وطن لوگوں کو خصوصی توجہ دینی چاہیے ۔

اللہ محافظ پاکستان کا۔جاگو دیر ھونےسےپہلے

FAR #

20/12/2023

کُـشــتی کـا مُـقــابـلــہ

بنی ہاشم میں ایک مشرک شخص رکانہ نامی بڑا زبردست اور دلیر پہلوان تھا
اور کوئی جوان ایسا نہ تھا جس نے اسے گرایا ہو۔
وہ ایک جنگل میں جسے ”اِضم“ کہتے تھے وہاں رہا کرتا تھا بکریاں چراتا تھا اور بڑا مالدار تھا،
ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ادھر جا نکلے،

رکانہ نے آپ کو دیکھا تو آپ کے پاس آ کر کہنے لگا، اے محمد! تو ہی وہ ہے جو ہمارے لات و عزیٰ کی توہین کرتا و تحقیر کرتا ہے اور اپنے ایک خدا کی بڑائی بیان کرتا ہے؟ اگر میرا تجھ سے تعلق رحمی نہ ہوتا تو آج میں تجھے مار ڈالتا، آ میرے ساتھ کُشتی کر، تُو اپنے خدا کو پکار، میں اپنے لات و عزیٰ کو پکارتا ہوں دیکھیں تو تمھارے خدا میں کتنی طاقت ہے؟ حضور نے فرمایا رکانہ اگر کُشتی ہی کرنا ہے تو چل میں تیار ہوں، رکانہ یہ جواب سن کر اول تو حیران ہوا اور پھر بڑے غرور کے ساتھ مقابلے کے لئے کھڑا ہو گیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی ہی جھپٹ میں اسے گرا لیا اور اس کے سینے پر بیٹھ گئے، رکانہ عمر میں پہلی مرتبہ گر کر بڑا شرمندہ ہوا اور حیران بھی اور بولا اے محمد! میرے سینے سے اٹھ کھڑا ہو میرے لات و عزیٰ نے میری طرف دھیان نہیں کیا ایک بار اور موقع دو اور آو دوسری مرتبہ کُشتی لڑیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سینے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دوبارہ کُشتی کے لئے رکانہ بھی اٹھا، حضور نے دوسری مرتبہ بھی رکانہ کو پل بھر میں گرا دیا، رکانہ نے کہا اے محمد! معلوم ہوتا ہے آج میرے لات و عزیٰ مجھ پر ناراض ہیں اور تمھارا خدا تیری مدد کر رہا ہے، خیر ایک مرتبہ اور آؤ، اب کی دفعہ لات و عزیٰ میری مدد کریں گے، حضور نے تیسری مرتبہ کی کُشتی بھی منظور فرمائی اور تیسری مرتبہ بھی حضور نے اسے بچھاڑ دیا، اب تو رکانہ بڑا ہی شرمندہ ہوا اور بولا اے محمد! میری ان بکریوں میں جتنی چاہو بکریاں لے لو۔ حضور نے فرمایا رکانہ مجھے تمھارے مال کی ضرورت نہیں، ہاں مسلمان ہو جاؤ، تا کہ جہنم سے بچ جاؤ۔ وہ بولا محمد! مسلمان تو ہو جاؤں مگر نفس ججھکتا ہے کہ مدینہ اور نواح کی عورتیں اور بچے کیا کہیں گے کہ اتنے بڑے پہلوان نے شکست کھائی اور مسلمان ہو گیا۔
حضور نے فرمایا۔۔۔۔ تم اور تمہارا مال تجھی کو مبارک ہو! یہ کہہ کر واپس تشریف لے آئے، ادھر ابو بکر صدیق و عمر رضی اللہ عنہ حضور کی تلاش میں تھے اور یہ معلوم کر کے کہ حضور وادی اضم کی طرف تشریف لے گئے ہیں متفکر تھے کہ اس طرف رکانہ پہلوان رہتا ہے مبادا حضور کو ایذاء دے، حضور کو واپس تشریف لاتے دیکھ کر دونوں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ادھر اکیلے کیوں تشریف لے گئے تھے جب کہ اس طرف رکانہ بڑا زور آور دشمن اسلام ہے ؟ حضور یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا جب میرا اللہ ہر وقت میرے ساتھ ہے پھر کسی رکانہ کی کیا پرواہ۔ لو اس رکانہ کا قصہ سنو، چنانچہ حضور نے سارا قصہ سنایا ، صدیق و عمر رضی اللہ عنہ سن کر خوش ہونے لگے
اور عرض کیا حضور! وہ تو ایسا پہلوان تھا کہ آج تک اسے کسی نے نہ گرایا تھا،
اسے گرانا اللہ کے رسول ہی کا کام ہے۔

ابو داؤد ، جلد دوئم

آگاہی ٹیلی نار صارفین اپنے اپنے ایزی پیسہ اکاونٹ سے رقم نکال لیں۔ٹیلی نار کمپنی فروخت ہو چکی ہے۔یکم جنوری 2024سے پہلے کو...
20/12/2023

آگاہی ٹیلی نار صارفین

اپنے اپنے ایزی پیسہ اکاونٹ سے رقم نکال لیں۔ٹیلی نار کمپنی فروخت ہو چکی ہے۔یکم جنوری 2024سے پہلے کوئی پیکجز نہ کرائیں نا ایزی پیسہ اکاونٹ میں پیسے رکھیں 31دسمبر 2023 کے بعد آپکے پیسے ضائع ہو جائیں گے آپکو نہیں ملنے اس لیے آج سے ہی اپنے سامان کی حفاظت شروع کر دیں بعد میں نہ کہنا خبر نہ ہوئی

اپنے ارد گرد دیگر افراد کو بھی آگاہ کر دیں ۔جو نہیں جانتے ۔۔۔
شکریہ

15/12/2023

قدم رسول اللہ میں شہادت __!!

جنگ احد کی ہلچل چل رہی ہے بدحواسی کی فضا ہر طرف قائم ہے کفار اور مسلمانوں کی تلواریں ٹکرا رہی ہے ہرطرف خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے گھوڑے بدک کر ہنہناتے ہوئے یہاں وہاں آ جا رہے ہیں کہیں اللہ اکبر کی آوازیں اٹھ رہی ہے تو کہی سے لات و منات وعزیٰ کی۔ احد کا پہاڑ بھی یہ منظر دیکھ رہا تھا اور میں بھی یہ منظر دیکھ رہا تھا اچانک مہر رسالت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہجوم کفار کے دل بادل نے گھیرلیا میں نے دیکھا اور گھوڑے کو رسول اللہ کی طرف بھگا دیا کفار کا ہجوم رسول اللہ کے قریب پہنچ گیا تو رسول اللہ نے فرمایا :

" کون ہے جو آج ہم پہ اپنی جان نچھاور کردے "

یہ کلمات پورے ہوتے ہی میں چند انصار کو ساتھ لیکر رسول اللہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑا ہوا اور تلوار لہرائی کفار نے ہم پہ دھاوا بول دیا تھا تیر اور نیزے چل رہے تھے تیروں کا رخ محبوب کائنات کی طرف تھا میرے دو ساتھی انصار نے آگے ہوکر تیروں کو سینے پہ روک لیا نیزے سینوں میں اتر گئے کفار کی تعداد زیادہ تھی انکی کوشیش رحمت العالمین تک پہنچنے کی تھی ہم تعداد میں کم تھے ایک تیر نکلا اور میرے سینے میں اندر چلا گیا لیکن میں اور میرے ساتھی رسول اللہ کی طرف کچھ بھی جانے نہیں دے رہے تھے ہم ہر تیر ہر بالا ہر نیزا اپنے سینے پہ روک رہے تھے اور کفار پہ جوابی وار کر کہ کفار کو مار گراتے۔ ہر ایک انصاری نے کفار کو گرایا اور ہر ایک انصاری نے ایک ایک کر کہ اپنی جان رسول اللہ پہ فدا کردی، آخری میں بچ گیا تھا میرے وجود میں ہر جگہ تیر پیوست ہوچکے تھے مسلمانوں کے گروہ پہنچ چکے تھے میرا وجود تلواروں برچھیوں اور نیزوں سے چور چور ہوچکا تھا میں گھوڑے سے گر گیا مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ کر کفار وہاں سے بھاگ گئے رسول اللہ نے حکم دیا کہ میری میت جلدی سے انکے قریب لائی جائے لیکن اس وقت مجھ میں جان باقی تھی مجھے صحابہ نے جلدی سے اٹھایا ایک جگہ پہ رسول اللہ کے پاؤں کے نشان موجود تھے میں نے خود کو رسول اللہ کے پاؤں کے نشان کے پاس خود ہی گرایا اور پیٹ کے بل رینگتے ہوئے اس نشان کو پہنچا میں نے اپنا منہ محبوب خدا کے پاؤں کے نقش پہ رکھ دیا اور اسکا بوسہ لیا اور وہی میری روح پرواز کر گئی۔

مجھ سے ملیے میرا نام حضرت زیاد بن سکن ہے میں زیاد بن سکن ہوں جس نے رسول اللہ کی حفاظت کرنے میں ایک بھی زخم پیٹ پہ نہ کھایا بلکہ سارے تیر سینے سے روکے رکھے میں رسول اللہ کا دفاع کرنے والا آخری شہید ہونے والا انصاری سپاہی ہوں میں زیاد بن سکن ہوں۔

FAR #

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Ahad Associates real eatate and Builders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category