Al Ahad Associates real eatate and Builders

Al Ahad Associates real eatate and Builders Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Ahad Associates real eatate and Builders, Real Estate, Lahore.

Sale & Purchase Plot & House
Home Construction Services
Investment Advisory services
Let's Help You Realise Your Dream
Grow Your Investment

📍Lahore

📞 0301 760 1227

16/10/2024

ہندوستان کے ٹاپ بزنس مین کروڑ پتی ۔ارب پتی شخص رتن ٹاٹا کی کہانی

( حقیقی خوشی )

جب ہندوستانی ارب پتی رتن جی ٹاٹا سے ٹیلی فون پر انٹرویو میں ریڈیو پریزینٹر نے پوچھا:
"جناب آپ کو کیا یاد ہے جب آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ خوشی ملی"؟

رتن جی ٹاٹا نے کہا:
"میں زندگی میں خوشی کے چار مراحل سے گزر چکا ہوں، اور آخر کار میں نے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ لیا ہے۔"

پہلا مرحلہ دولت اور وسائل جمع کرنا تھا۔
لیکن اس مرحلے پر مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو میں چاہتا تھا
۔
پھر قیمتی اشیاء اور اشیاء جمع کرنے کا دوسرا مرحلہ آیا۔
لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس چیز کا اثر بھی عارضی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک زیادہ دیر نہیں رہتی۔

پھر ایک بڑا پروجیکٹ حاصل کرنے کا تیسرا مرحلہ آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان اور افریقہ میں ڈیزل کی سپلائی کا 95% میرے پاس تھا۔

میں ہندوستان اور ایشیا کی سب سے بڑی اسٹیل فیکٹری کا مالک بھی تھا۔ لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں نے تصور کیا تھا۔

چوتھا مرحلہ تھا جب میرے ایک دوست نے مجھ سے کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیئر خریدنے کو کہا۔
تقریباً 200 بچے۔
ایک دوست کے کہنے پر میں نے فوراً وہیل چیئر خرید لی۔
لیکن دوست نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں اور وہیل چیئر بچوں کے حوالے کروں۔ میں تیار ہو کر اس کے ساتھ چلا گیا۔

وہاں میں نے ان بچوں کو یہ وہیل چیئر اپنے ہاتھوں سے دی۔ میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی ایک عجیب سی چمک دیکھی۔ میں نے ان سب کو وہیل چیئر پر بیٹھے، چلتے اور مزے کرتے دیکھا۔
وہیل چیئر کو بگھا رھے ھیں

ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی پکنک کے مقام پر پہنچ گئے ہوں، جہاں وہ جیتنے والا تحفہ بانٹ رہے ہوں۔

میں نے اپنے اندر حقیقی خوشی محسوس کی۔ جب میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو ایک بچے نے میری ٹانگ پکڑ لی۔
میں نے آہستہ آہستہ اپنی ٹانگیں چھوڑنے کی کوشش کی، لیکن بچے نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور میری ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لی، میں نے جھک کر بچے سے پوچھا: کیا تمہیں کچھ اور چاہیے؟

اس بچے نے جو جواب دیا اس نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ زندگی کے بارے میں میرا نظریہ بھی بدل دیا۔
اس بچے نے کہا:

"میں آپ کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہوں تاکہ جب میں آپ سے جنت میں ملوں تو میں آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کروں۔"

اب اس واقعے سے خلاصہ اور سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ وہ پوری زندگی لگا کر یہ چیز اور نتیجہ حاصل کر سکے ہیں کہ انسانیت کی خدمت کے اندر ہی اصل خوشی اور سکون ہے جب کہ یہی بات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بالکل مفت میں بتا کر جا چکے ہیں،،، تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور انسانیت کی خدمت یہ دو ایسے راستے ہیں کہ بندہ جس حال میں بھی ہوگا ان شاءاللہ اسے سکون اور اطمینان محسوس ہوگا بس آزمائش شرط ہے۔
وہ کہتے ہیں نا کہ عبادت سے جنت اور خدمت سے خدا ملتا ہے اور وہ بندہ جو یہ دونوں کرے تو پھر آپ خود سوچیں کہ اس کی خوش نصیبی کے کیا عالم ہوں گے۔

10/10/2024

مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا، نہ ذلیل ہوتا۔

‎میں نے اپنے بابا جی کو بہت
فخرسے بتایا کہ میرے پاس
دو گاڑیاں
‎ اور بہت اچھا بینک بیلنس ہے۔ اس کے علاوہ میرے بچے اچھے انگریزی سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ عزت شہرت سب کچھ ہے، دنیا کی ہر آسائش ہمیں میسر ہے، اس کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی ہے۔
‎میری یہ بات سننی تھی کہ انہوں نے جواب میں مجھے کہا کہ یہ کرم اس لیے ہوا کے تو نے اللّه کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں۔
‎میں نے جب اس بات کی وضاحت چاہی۔۔۔
‎تو بابا جی نے کہا‎
احمد میری اماں نے
اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے س خصوصی محبت تھی۔ اماں اپنی بک (مٹھی) بھر کے، مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں اور ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کے مستیوں میں لگ جاتا۔
‎میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا اور سوچتا کہ یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے بِنا محنت کیے، اس کو اماں دانے ڈال دیتی ہیں۔
‎ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا، حسب معمول اماں آئی اور دانوں کی بک بھری کہ مرغے کو رزق دے۔ اماں نے جیسے ہی مُٹھی آگے کی، مرغے نے اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ (چونچ) مار دی۔ اماں نے تکلیف سے ہاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔ اماں ہاتھ سہلاتی اندر چلی گئی اور ککڑ (مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کر آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا، اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا، کبھی بائیں۔ کبھی شمال، کبھی جنوب۔
‎سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کے دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اُسکا پیٹ بھی نہیں بھرا۔"

‎بابا دین مُحمد نے کچھ توقف کے بعد پوچھا:
‎" بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟"
‎میں نے فٹ سے جواب دیا:
‎" نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا، نہ ذلیل ہوتا۔"
‎بابا بولا :
‎" بالکل ٹھیک، یاد رکھنا اگر اللّٰہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجسس، غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے، تو اللّه تمھارا رزق مشکل کر دے گا اور اس اصیل ککڑ کی طرح مارے مارے پھرو گے۔ تُو نے اللّه کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑیں، رب نے تیرا رزق آسان کر دیا۔"
ایسے مہربان رب کا ہمیشہ زکر ہونا چاہیے اللہ نے ہمیں اپنے ذکر کے لیے پیدا کیا ہے روزانہ 2000مرتبہ کلمہ طیبہ
درودپاک 100مرتبہ استغفار اللہ 313 سورہ اخلاص41 لازمی پڑھیں

11/07/2024

اوشو کے ایک دوست نے اوشو سے کہا کہ "میں آپ کو اپنی والدہ سے ملوانا چاہتا ہوں کیونکہ میری والدہ بہت مذہبی ہیں" اوشو نے کہا "ٹھیک ہے، میں آپ کی والدہ سے ملوں گا کیونکہ مجھے مذہبی لوگوں سے ملنا پسند ہے۔"

جب اوشو اپنے دوست کی والدہ سے ملا تو اس کے دوست کی والدہ نے اوشو سے پوچھا کہ تم بہت کتابیں پڑھتے ہو، ان دنوں کیا پڑھ رہے ہو؟

اوشو نے کہا آج کل میں قرآن پڑھ رہا ہوں

یہ سن کر میرے دوست کی والدہ غصے میں آگئیں اور کہنے لگیں کہ تم کس قسم کے ہندو ہو جو قرآن پڑھتے ہو، تم اپنے مذہب کی کتابیں پڑھو۔

بعد میں اوشو نے اپنے دوست سے کہا کہ تم کہتے تھے کہ تمہاری ماں مذہبی ہے لیکن وہ مذہبی نہیں بلکہ فرقہ پرست ہے۔

آج کل آپ کو بہت سے لوگ ملیں گے جو خود کو مذہبی کہتے ہیں، لیکن وہ فرقہ پرست ہیں، "مذہبی" ہونے اور "فرقہ وارانہ" ہونے کے درمیان بہت باریک لکیر ہے۔

جگدیش شرما کے قلم سے

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Ahad Associates real eatate and Builders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category