24/09/2025
ایک بار مکمل تحریر پڑھیں
بندہ جب دکھ، تکلیف ، پریشانی کے عالم میں اللہ کو سجدہ کرتا ہے تو اللہ اپنے بندے کے سارے غم اس کی پیشانی سے مصلے پر ہی گرا دیتا ہے۔۔ وہ دکھ جو ہمارے ماتھے پر کوئی نہیں دیکھ سکتا وہ ہمارے رب کو نظر آتے ہیں ۔۔ اللہ لوگوں کی طرح ہمیں رسوا نہیں کرتا بلکے وہ اپنے بندے کو سنبھال لیتا ہے۔۔
اور جب بندہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے اللہ کہتا ہے بندے تیرے غم تو میرے پاس آ گے ہیں آب مانگ تجھے اور کیا چاہیے؟؟
پھر جب بندہ کہتا ہے کے اللہ میں تھک چکا ہوں تیرے بندوں کا ستایا ہوں! تو اللہ فرماتا ہے غم نہ کر میں تیرا وکیل ہوں تیرا دوست ہوں اور مانگ؟؟ پھر بندہ جب کہتا ہے اس دنیا نے میرے منہ پر سارے دروازے بند کر دیئے ہیں میں بے بس ہوں۔۔
تو اللہ کہتا ہے اے میرے بندے میں مسبب السباب ہوں۔۔ اور مانگ؟؟ پھر بندہ کہتا ہے اللہ میں گنہگار ہوں میرے گناہ بہت زیادہ ہیں معافی کے قابل نہیں۔ کیا تو میری توبہ قبول کرے گا۔۔ تو اللہ مسکرا کر کہتا ہے میں غفور الرحیم ہوں جا تجھے معاف کیا۔ سبحان اللہ
اب غم بھی دور ہو گے ، اسباب بھی پیدا ہو گے اللہ وکیل بھی بن گیا۔۔ گناہوں کی معافی بھی مل گئی۔۔ تو پھر بندہ کہتا ہے اللہ اب مجھے ہدایت بھی نصیب فرما تو اللہ کہتا ہے تو میری رسی کو مضبوطی سے تھام لے ۔۔ بس پھر میں دنیا اور آخرت دونوں میں تیرے لیئے بھلائی لکھ دوں گا۔۔
بس اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں رکھنا جن پر تیرے انعام ہوئے۔۔ ان میں نہیں جو تیرے رستے سے بھٹک کر رسوا ہوئے۔۔ آمین