15/02/2026
جب عروج کا سورج سر پر ہو تو سائے بھی قدم چومتے ہیں، لیکن اصل تماشہ تو تب شروع ہوتا ہے جب زوال کی دستک ہوتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں مخلص نایاب ہیں، میں کہتا ہوں مخلص تو ہر طرف ہیں بس انہیں دیکھنے کے لیے آنکھیں نہیں، تھوڑا سا "برا وقت" چاہیے۔ جب آپ کے کندھے بوجھ سے جھک رہے ہوں، تب مڑ کر دیکھنا کہ کون آپ کا بوجھ بانٹ رہا ہے اور کون خاموشی سے راستہ بدل رہا ہے۔ سچی مخلصی عروج کی محتاج نہیں ہوتی، یہ وہ نایاب ہیرا ہے جو صرف مشکلوں کے کوئلے میں چمکتا ہے۔ جو آپ کے برے وقت میں کاندھا بن کر کھڑا نہیں ہو سکتا، اسے آپ کے اچھے وقت کے جشن میں شامل ہونے کا کوئی حق نہیں۔ یاد رکھیں، زوال آپ کو برباد کرنے نہیں بلکہ آپ کے گرد موجود بھیڑ سے گند صاف کرنے آتا ہے۔ مخلصی کا دعویٰ کرنا آسان ہے، مگر اسے نبھانے کا ظرف صرف ان کے پاس ہوتا ہے جن کا خون سفید نہیں ہوا۔