26/06/2021
سب مدارس میں ایسا ہوتا ہے
🖋️آصف اقبال جنجوعہ
موٹروے پہ بچوں کے سامنے انکے ماں سے زیادتی کی گئی اس کے باوجود نہ لوگوں نے موٹروے پہ سفر کرنا بند کیا اور نہ یہ کہا کے موٹروے ہے ہی بری جگہ.۔
کچھ عرصہ قبل مظفر گڑھ میں ایک سکول ٹیچر نے دو بچوں سے زیادتی کی اس کے باوجود نہ کسی نے یہ کہا کہ سکول ہیں ایسے اور نہ کسی نے یہ کہا آج کے بعد ہم اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجے گئے۔
لاڑکانہ میں دوران آپریشن مریضہ سے زیادتی کی گئی لیکن کسی نے نہیں کہا کہ ہسپتال سب ایسے ہی ہوتے ہیں اور نہ کسی نے یہ کہا آج کے بعد ہم ہسپتال نہیں آئیں گے ۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق سرگودھا میں پروفیسر نے ایک طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن اس کے بعد کسی نے نہیں کہا کے سب یونیورسٹیاں ہوتی ہی ایسے ہیں اور نہ کسی نے یہ کہا کہ آج کے بعد ہم اپنی بچیوں کو یونیورسٹی نہیں بھیجیں گے۔
لیکن موجودہ مفتی والے واقعہ کو لے کر سب مدارس کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے سب مدارس ایسے ہی ہوتے ہیں اور کہا جارہا ہے آج کے بعد ہم اپنے بچوں کو مدارس نہیں داخل کروائیں گے
میں اس واقعہ کو ڈفینڈ نہیں کررہا بلکہ تمام مکاتب فکر کے علماء نے مفتی کو اسلامی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے.....
میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب کسی سکول کالج یا یونیورسٹی میں ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو صرف اس شخص پہ تنقید ہوتی ہے لیکن جو ہی کسی دینی ادارے سے یا دین سے منسلک کسی شخص سے ایسا کام سرزد ہوتا ہے تو سارے ادارے اور سارے دیندار لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے..
کوئی ڈاکٹر برا کرے تو وہ قصوروار باقی سب مسیحی کوئی پروفیسر برا کرے تو ایک وہ برا باقی سب اچھے کیا یہ منافقت نہیں ہے؟
ہمیں اس روش کو بدلنا ہوگا
لبرل قسم کے لوگ تو ایسے موقعے تلاش کرتے ہیں جس سے دینی مدارس اور دینی طبقے کے لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے.
جب بھی کسی دینی ادارے سے ایسا کوئی واقعہ سامنے آتا ہے تمام علماء شرعی سزا کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن کھبی کسی پروفیسر نے کسی زیادتی کرنے والے پروفیسر کیلئے شرعی سزا کا مطالبہ کیا..؟
ظلم و زیادتی کرنے والے کسی ڈاکٹر کیلئے باقی ڈاکٹروں نے سزا کا مطالبہ کیا ہو...؟
جس طرح سکول کالج اور یونیورسٹیوں میں ایسے واقعات ہوجانے کے بعد وہاں کے تمام لوگ اور تمام ادارے ایسے نہیں ہوتے بلکل اسی طرح اگر کسی دینی ادارے میں یا کسی نام نہاد دینی