27/08/2024
پہلاسہہ روزہ
حافظ کے قلم سے
ویسے تو میں تبلیغی جماعت کے ساتھ بہت بار سہہ روزے لگا چکاہوں اور لگاتارہوں گا ان شاء اللہ ۔ پچھلے کچھ ماہ سے میرا، ایک دوست مجھے خانقاہ میں سہہ روزہ لگانے کی دعوت دیتا رہا اور بالآخر میں نے 7جولائی 2024بروز اتوارسے خانقاہ جلیلیہ اختریہ بستی اللہ والی پُل فضل واہ بہاول پور میں سہہ روزہ لگاہی لیا۔
پہلے پہل تو میں سوچتا رہا کہ پتہ نہیں خانقاہ کے سہہ روزہ میں کیا کچھ سیکھایا جاتاہوگا اور کیا کچھ ترتیب وغیرہ ہوگی کیونکہ خانقاہ کے متعلق میں بھی لوگوں کی طرح اپنی لاعلمی کی وجہ بہت کچھ غلط سن سنارکھاتھا۔
لیکن جب میں 7جولائی2024بروز اتوار عصر کے وقت خانقاہ پہنچا تو دیکھا کہ کچھ احباب کھانا بنانے کی تیاری میں مصروف تھے اورکچھ احباب اسٹیچ بنارہے تھے مجھے لگاجیسے کوئی جلسہ وغیرہ کی تیاری ہورہی ہے۔
مغرب کے بعد مدرسہ کے بچوں سے مجلس کا آغاز ہوا یعنی بچوں میں سے ایک بچے نے قرآن کریم کی تلاوت کی پھر مختلف بچوں نے مسنون دعائیں سنائیں ،وضوکے فرائض اور سنتیں اور مکروہات ،غسل کے فرائض اور سنتیں ،نماز کے شرائط وفرائض اور واجبات الغرض سب کچھ بچوں نے باری باری سنایا جوکچھ تبلیغی جماعت میں سیکھایاجاتاہے۔
دیہات کے مدرسہ میں جہاں وسائل کی کمی اور دووقت کی کلاس ہوتی ہو وہاں اتنا کچھ بچوں نے سنایاتو دل یقینًاخوشی سے باغ باغ ہوگیا اور ایسا لگا جیسے کسی جنت میں آگیاہوں ۔اس کے بعد ایک قاری صاحب نے مختصرتلاوت کی اور بہت باکمال تلاوت تھی۔ پھر پیرطریقت رہبر شریعت حضرت مولانا حافظ عبدالرشیدچنڑ صاحب نے بیان کیا جس میں نماز ،رزق حلال اور ذکرالٰہی کے متعلق ھدایات تھیں۔گویا کہ میرے سہہ روزے کا آغازعصر کے وقت سے شروع ہوگیاتھا۔بیان کے بعد ذکر ہوا اور امت مسلمہ کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ۔
علاقہ سے کثیرتعدادمیں لوگوں نے شرکت کی۔بعد نماز عشاء سب لوگوں کو کھانا کھلایا گیا اور سہہ روزہ والوں نے خدمت کی۔آخرمیں سہہ روزہ والوں نے کھانا کھایااور صفائی ستھرائی کی اور اس کے بعد مدرسہ کے صحن میں چارپائیاں ڈالی گئیں اور کولرپنکھا لگایا گیا۔پھر پیر صاحب تشریف لائے اور سونے کے آداب بیان فرمائے اور تجدکی نماز کی ترغیب دی تو میری خوشی کاتو کوئی ٹھکانہ، نہ رہا کیونکہ یہاں تو سب کچھ تبلیغی جماعت کی طرز پر تھا صرف فرق تھا تو یہ کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ نیچے سونا ہوتا ہے اور یہاں چارپائی پر باقی ہدایات تو سب ایک تھیں۔
صبح اٹھے تو نماز فجرکی ادائیگی کے بعد پیرصاحب کے سامنے تپائی رکھی گئی اور قرآن کریم کی نسخہ دیا گیا اور سب سہہ روزہ والوں کو بھی قرآن کریم کا ایک ایک نسخہ تلاوت کے لئے دیاگیا ۔بیس منٹ تک سب نے تلاوت کی اور اس کے بعد مسجدسے باہر خانقاہ کے ساتھ چارپائیاں ڈالی گئیں تو میں سوچنے لگا پتہ نہیں اب کیا عمل کریں گے جب سب کچھ سیٹ ہوگیا یعنی کولرپنکھا وغیرہ چلاکر سب بیٹھ گئے اور پیرصاحب تشریف لائے اور سب سے پہلے پوچھا رات کسی ساتھی نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا ؟
ایک ساتھی نے خواب بیان کیا پیرصاحب نے تعبیر بتائی اور ساتھ ہی اخلاص اور اخلاق کے موضوع پر ایک گھنٹہ گفتگوفرمائی اور بہت مزہ آیا ۔ 7:00بجے ذکر کروایااوردعامانگی گئی۔
اس کے بعد ناشتہ پیرصاحب نے سہہ روزہ والوں کے ساتھ کیا۔ ناشتہ کے بعد ایک ساتھی نے عدالت پیشی پرجانا تھا اس نے چھٹی مانگی تو پیرصاحب نے اس کو درودشریف پڑھنے کی تلقین فرمائی اورپیشی پرجانے کی چھٹی دے دی، ایک اور ساتھی نے بہاول پور ضروری کام جانا تھا تو چاربجے تک اسے بھی چھٹی دے دی۔باقی ساتھیوں کو دس بجے تک سونے کی تلقین فرمائی اور گھرتشریف لے گئے۔
دس بجے ایک ساتھی آیا اس نے سب کو جگایا اور سب جاگ گئے ،تقاضہ کیا ،وضوکیا اور سب خانقاہ میں جمع ہوگئے اور ساتھی ایک دوسرے کوغسل اور وضو کے فرائض اور سنتیں سنانے لگے جسے یاد نہیں تھے یاد کروائے یہ سب دیکھ کرمیں دل و جان سے خوش ہوگیا کہ یہاں بہترین ماحول اور ترتیب ہے اور یہ سیشن بارہ بجے ختم ہوا اور پھر سے کچھ ساتھی سوگئے اور کچھ ساتھی باہر درخت کے نیچے بیٹھ کر مذاکرہ کرتے رہے۔
نماز ظہرکے بعد پیرصاحب تین بجے خانقاہ میں تشریف لائے تو سب سے خیرت پوچھی اور فرمایا کہ جس جس کو غسل اور وضوکے مسائل یاد ہوگئے ہیں سنائے ، سب نے حامی بھرلی تو پیرصاحب نے ایک ایک دودوباتیں سب سے پوچھ کر، فرمایا کہ صبح دیہات والے ناشتہ کے نام پر ڈٹ کرکھانا کھاتے ہیں اور تقریبًا آپ نے بھی ایسے کیا ہوگا تو پھردوپہرکے کھانے نام پرناشتہ کرلو ایک ایک روٹی ،لسی اور پیازکے ساتھ روٹی کھائی بہت مزہ آیا اور واقعی ہی خانقاہی ماحول کے ساتھ ساتھ دیہاتی ماحول انجوائے کیا۔
سواچاربجے پیرصاحب پھرتشریف لائے اور حضرت حکیم اخترشاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب فیضان محبت سے اشعار سنائے اور کچھ اشعار کی تفصیل بیان کرکے سمجھاتے تواتنا سکون محسوس ہوا کہ جیسے پیرصاحب نے خودفرمایاکہ اللہ تعالی کی محبت کی لذت الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں بالکل اسی طرح میں اس مجلس کے خوب صورت اور پرسکون لمحات الفاظ کی صورت میں بیان نہیں کرسکتا۔
نماز عصرکے بعد سب ساتھی چہل قدمی کے لئے باہرچلے گئے ، اور نماز مغرب کے بعد پھرپیرصاحب خانقاہ میں آگئے اور فرمایاکہ سردیوں میں شام کی مجلس عشاء کے بعد کرتے ہیں اور گرمیوں میں رات چھوٹی ہوتی ہے اس وجہ سے مجلس مغرب کے بعد کرتے ہیں،پھر روح کی بیماریاں کتاب سے کچھ پڑھ کرسناتے رہے اور اپنے مخصوص انداز میں سمجھاتے رہے یہاں تک نماز عشاء کا وقت ہوگیا اور نماز عشاء کے بعد پیرصاحب گھر تشریف لے گئے اور ساتھی ایک دوسرے کو کچھ دیردعائیں یادکرواتے رہے پھرسوگئے۔
دوسرے دن کے معمولات بھی قریبًاپہلے دن کی طرح رہے البتہ مغرب کے بعدعلاقہ سے چنداحباب اورجمع ہوگئے اس طرح قاریوں نے زبردست تلاوتیں کیں جس سے بہت لطف آیا پھرپیرصاحب نے نفس کی اصلاح پرخصوصی گفتگوفرمائی ،آخرمیں اصلاح نفس پراشعارپڑھ کرسنائے جس سے مجلس کوچارچاندلگ گئے۔
عشاء کی نماز کے بعد سونے کے آداب پیرصاحب نے خود بیان فرمائے ۔
تیسرے دن نمازفجرکے بعدمعمولات مکمل کرنے کے بعد مجلس ہوئی تو پیرصاحب نے حقوق العبادپرخصوصی گفتگوفرمائی اور اچھی طرح سمجھایاکہ حقوق العبادپورے کرنا ولایت کی نشانی ہے اور خانقاہ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اپناباطن پاک کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اردگردرہنے والے تمام انسانوں کے حقوق آپ کی طرف سے پورے ہونے چاہیں تاکہ کل قیامت کے دن جب ہماری ملاقات اپنے پرودگارسے ہوتوہمارے خلاف کم از کم مخلوق کے حقوق باقی نہ ہوں۔
ناشتہ کے بعد سب ساتھیوں نے پیرصاحب سے درخواست کی کہ سہہ روزہ آج جلدی ختم فرمادیں کچھ کام کرنے ہیں توحضرت پیرصاحب نے بخوشی سب کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت فرمایا۔
الغرض میں ذاتی طورسہہ روزہ سے پہلے جوسوچتاتھاکہ پتہ نہیں یہ کون سا سہہ روزہ ہوتاہوگا اوریہ کوئی نیاکام نکل آیا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن جب میں نے وقت لگایا تو سب شبہات ختم ہوگئے اوردوران سہہ روزہ خانقاہی نظام کے متعلق مطالعہ کیا تو معلوم ہواکہ اہل اللہ کے پاس اصلاح کی غرض سے ان کے پاس وقت لگانا کوئی نیا طریقہ یا کام نہیں بلکہ یہ تو بہت ہی قدیم کام ہے اورتسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔یعنی بڑے بڑے اکابرین اپنے مشائخ کے پاس اصلاح کے لئے ہفتوں ،مہینوں اورسال لگانے جاتے تھے۔
خانقاہ میں دوران سہہ روزہ میں نے کوئی کام خلاف شریعت تودورکی بات ہے خلاف سنت بھی کوئی کام نہیں دیکھابلکہ اللہ تعالی کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پربھی بہت کچھ بتلایاگیا ۔اللہ رب العالمین اور محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جو کہ انسان کا مقصد حیات ہے یہی سکھایا جاتاہے۔
میں ذاتی طورپر بحیثیت مسلمان سب مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنی مصروف ترین زندگی میں سے خصوصی طورپروقت نکال کر اہل اللہ کے پاس وقت لگائیں بہت نفع ہوگا ۔