KJA Pakistan

KJA Pakistan is channel par main apny Delly routine k vlog uploaded kia karon ga

پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا حافظ عبدالرشید چنڑ صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا مضمون بعنوان حج کے بعد بہاول نگر) آخری ...
08/10/2024

پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا حافظ عبدالرشید چنڑ صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا مضمون بعنوان حج کے بعد بہاول نگر)
آخری قسط ملاحظہ فرمائیں

پہلاسہہ روزہحافظ کے قلم سے  ویسے تو میں تبلیغی جماعت کے ساتھ بہت بار سہہ روزے لگا چکاہوں اور لگاتارہوں گا ان شاء اللہ ۔ ...
27/08/2024

پہلاسہہ روزہ
حافظ کے قلم سے
ویسے تو میں تبلیغی جماعت کے ساتھ بہت بار سہہ روزے لگا چکاہوں اور لگاتارہوں گا ان شاء اللہ ۔ پچھلے کچھ ماہ سے میرا، ایک دوست مجھے خانقاہ میں سہہ روزہ لگانے کی دعوت دیتا رہا اور بالآخر میں نے 7جولائی 2024بروز اتوارسے خانقاہ جلیلیہ اختریہ بستی اللہ والی پُل فضل واہ بہاول پور میں سہہ روزہ لگاہی لیا۔
پہلے پہل تو میں سوچتا رہا کہ پتہ نہیں خانقاہ کے سہہ روزہ میں کیا کچھ سیکھایا جاتاہوگا اور کیا کچھ ترتیب وغیرہ ہوگی کیونکہ خانقاہ کے متعلق میں بھی لوگوں کی طرح اپنی لاعلمی کی وجہ بہت کچھ غلط سن سنارکھاتھا۔
لیکن جب میں 7جولائی2024بروز اتوار عصر کے وقت خانقاہ پہنچا تو دیکھا کہ کچھ احباب کھانا بنانے کی تیاری میں مصروف تھے اورکچھ احباب اسٹیچ بنارہے تھے مجھے لگاجیسے کوئی جلسہ وغیرہ کی تیاری ہورہی ہے۔
مغرب کے بعد مدرسہ کے بچوں سے مجلس کا آغاز ہوا یعنی بچوں میں سے ایک بچے نے قرآن کریم کی تلاوت کی پھر مختلف بچوں نے مسنون دعائیں سنائیں ،وضوکے فرائض اور سنتیں اور مکروہات ،غسل کے فرائض اور سنتیں ،نماز کے شرائط وفرائض اور واجبات الغرض سب کچھ بچوں نے باری باری سنایا جوکچھ تبلیغی جماعت میں سیکھایاجاتاہے۔
دیہات کے مدرسہ میں جہاں وسائل کی کمی اور دووقت کی کلاس ہوتی ہو وہاں اتنا کچھ بچوں نے سنایاتو دل یقینًاخوشی سے باغ باغ ہوگیا اور ایسا لگا جیسے کسی جنت میں آگیاہوں ۔اس کے بعد ایک قاری صاحب نے مختصرتلاوت کی اور بہت باکمال تلاوت تھی۔ پھر پیرطریقت رہبر شریعت حضرت مولانا حافظ عبدالرشیدچنڑ صاحب نے بیان کیا جس میں نماز ،رزق حلال اور ذکرالٰہی کے متعلق ھدایات تھیں۔گویا کہ میرے سہہ روزے کا آغازعصر کے وقت سے شروع ہوگیاتھا۔بیان کے بعد ذکر ہوا اور امت مسلمہ کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ۔
علاقہ سے کثیرتعدادمیں لوگوں نے شرکت کی۔بعد نماز عشاء سب لوگوں کو کھانا کھلایا گیا اور سہہ روزہ والوں نے خدمت کی۔آخرمیں سہہ روزہ والوں نے کھانا کھایااور صفائی ستھرائی کی اور اس کے بعد مدرسہ کے صحن میں چارپائیاں ڈالی گئیں اور کولرپنکھا لگایا گیا۔پھر پیر صاحب تشریف لائے اور سونے کے آداب بیان فرمائے اور تجدکی نماز کی ترغیب دی تو میری خوشی کاتو کوئی ٹھکانہ، نہ رہا کیونکہ یہاں تو سب کچھ تبلیغی جماعت کی طرز پر تھا صرف فرق تھا تو یہ کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ نیچے سونا ہوتا ہے اور یہاں چارپائی پر باقی ہدایات تو سب ایک تھیں۔
صبح اٹھے تو نماز فجرکی ادائیگی کے بعد پیرصاحب کے سامنے تپائی رکھی گئی اور قرآن کریم کی نسخہ دیا گیا اور سب سہہ روزہ والوں کو بھی قرآن کریم کا ایک ایک نسخہ تلاوت کے لئے دیاگیا ۔بیس منٹ تک سب نے تلاوت کی اور اس کے بعد مسجدسے باہر خانقاہ کے ساتھ چارپائیاں ڈالی گئیں تو میں سوچنے لگا پتہ نہیں اب کیا عمل کریں گے جب سب کچھ سیٹ ہوگیا یعنی کولرپنکھا وغیرہ چلاکر سب بیٹھ گئے اور پیرصاحب تشریف لائے اور سب سے پہلے پوچھا رات کسی ساتھی نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا ؟
ایک ساتھی نے خواب بیان کیا پیرصاحب نے تعبیر بتائی اور ساتھ ہی اخلاص اور اخلاق کے موضوع پر ایک گھنٹہ گفتگوفرمائی اور بہت مزہ آیا ۔ 7:00بجے ذکر کروایااوردعامانگی گئی۔
اس کے بعد ناشتہ پیرصاحب نے سہہ روزہ والوں کے ساتھ کیا۔ ناشتہ کے بعد ایک ساتھی نے عدالت پیشی پرجانا تھا اس نے چھٹی مانگی تو پیرصاحب نے اس کو درودشریف پڑھنے کی تلقین فرمائی اورپیشی پرجانے کی چھٹی دے دی، ایک اور ساتھی نے بہاول پور ضروری کام جانا تھا تو چاربجے تک اسے بھی چھٹی دے دی۔باقی ساتھیوں کو دس بجے تک سونے کی تلقین فرمائی اور گھرتشریف لے گئے۔
دس بجے ایک ساتھی آیا اس نے سب کو جگایا اور سب جاگ گئے ،تقاضہ کیا ،وضوکیا اور سب خانقاہ میں جمع ہوگئے اور ساتھی ایک دوسرے کوغسل اور وضو کے فرائض اور سنتیں سنانے لگے جسے یاد نہیں تھے یاد کروائے یہ سب دیکھ کرمیں دل و جان سے خوش ہوگیا کہ یہاں بہترین ماحول اور ترتیب ہے اور یہ سیشن بارہ بجے ختم ہوا اور پھر سے کچھ ساتھی سوگئے اور کچھ ساتھی باہر درخت کے نیچے بیٹھ کر مذاکرہ کرتے رہے۔
نماز ظہرکے بعد پیرصاحب تین بجے خانقاہ میں تشریف لائے تو سب سے خیرت پوچھی اور فرمایا کہ جس جس کو غسل اور وضوکے مسائل یاد ہوگئے ہیں سنائے ، سب نے حامی بھرلی تو پیرصاحب نے ایک ایک دودوباتیں سب سے پوچھ کر، فرمایا کہ صبح دیہات والے ناشتہ کے نام پر ڈٹ کرکھانا کھاتے ہیں اور تقریبًا آپ نے بھی ایسے کیا ہوگا تو پھردوپہرکے کھانے نام پرناشتہ کرلو ایک ایک روٹی ،لسی اور پیازکے ساتھ روٹی کھائی بہت مزہ آیا اور واقعی ہی خانقاہی ماحول کے ساتھ ساتھ دیہاتی ماحول انجوائے کیا۔
سواچاربجے پیرصاحب پھرتشریف لائے اور حضرت حکیم اخترشاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب فیضان محبت سے اشعار سنائے اور کچھ اشعار کی تفصیل بیان کرکے سمجھاتے تواتنا سکون محسوس ہوا کہ جیسے پیرصاحب نے خودفرمایاکہ اللہ تعالی کی محبت کی لذت الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں بالکل اسی طرح میں اس مجلس کے خوب صورت اور پرسکون لمحات الفاظ کی صورت میں بیان نہیں کرسکتا۔
نماز عصرکے بعد سب ساتھی چہل قدمی کے لئے باہرچلے گئے ، اور نماز مغرب کے بعد پھرپیرصاحب خانقاہ میں آگئے اور فرمایاکہ سردیوں میں شام کی مجلس عشاء کے بعد کرتے ہیں اور گرمیوں میں رات چھوٹی ہوتی ہے اس وجہ سے مجلس مغرب کے بعد کرتے ہیں،پھر روح کی بیماریاں کتاب سے کچھ پڑھ کرسناتے رہے اور اپنے مخصوص انداز میں سمجھاتے رہے یہاں تک نماز عشاء کا وقت ہوگیا اور نماز عشاء کے بعد پیرصاحب گھر تشریف لے گئے اور ساتھی ایک دوسرے کو کچھ دیردعائیں یادکرواتے رہے پھرسوگئے۔
دوسرے دن کے معمولات بھی قریبًاپہلے دن کی طرح رہے البتہ مغرب کے بعدعلاقہ سے چنداحباب اورجمع ہوگئے اس طرح قاریوں نے زبردست تلاوتیں کیں جس سے بہت لطف آیا پھرپیرصاحب نے نفس کی اصلاح پرخصوصی گفتگوفرمائی ،آخرمیں اصلاح نفس پراشعارپڑھ کرسنائے جس سے مجلس کوچارچاندلگ گئے۔
عشاء کی نماز کے بعد سونے کے آداب پیرصاحب نے خود بیان فرمائے ۔
تیسرے دن نمازفجرکے بعدمعمولات مکمل کرنے کے بعد مجلس ہوئی تو پیرصاحب نے حقوق العبادپرخصوصی گفتگوفرمائی اور اچھی طرح سمجھایاکہ حقوق العبادپورے کرنا ولایت کی نشانی ہے اور خانقاہ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اپناباطن پاک کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اردگردرہنے والے تمام انسانوں کے حقوق آپ کی طرف سے پورے ہونے چاہیں تاکہ کل قیامت کے دن جب ہماری ملاقات اپنے پرودگارسے ہوتوہمارے خلاف کم از کم مخلوق کے حقوق باقی نہ ہوں۔
ناشتہ کے بعد سب ساتھیوں نے پیرصاحب سے درخواست کی کہ سہہ روزہ آج جلدی ختم فرمادیں کچھ کام کرنے ہیں توحضرت پیرصاحب نے بخوشی سب کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت فرمایا۔
الغرض میں ذاتی طورسہہ روزہ سے پہلے جوسوچتاتھاکہ پتہ نہیں یہ کون سا سہہ روزہ ہوتاہوگا اوریہ کوئی نیاکام نکل آیا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن جب میں نے وقت لگایا تو سب شبہات ختم ہوگئے اوردوران سہہ روزہ خانقاہی نظام کے متعلق مطالعہ کیا تو معلوم ہواکہ اہل اللہ کے پاس اصلاح کی غرض سے ان کے پاس وقت لگانا کوئی نیا طریقہ یا کام نہیں بلکہ یہ تو بہت ہی قدیم کام ہے اورتسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔یعنی بڑے بڑے اکابرین اپنے مشائخ کے پاس اصلاح کے لئے ہفتوں ،مہینوں اورسال لگانے جاتے تھے۔
خانقاہ میں دوران سہہ روزہ میں نے کوئی کام خلاف شریعت تودورکی بات ہے خلاف سنت بھی کوئی کام نہیں دیکھابلکہ اللہ تعالی کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پربھی بہت کچھ بتلایاگیا ۔اللہ رب العالمین اور محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جو کہ انسان کا مقصد حیات ہے یہی سکھایا جاتاہے۔
میں ذاتی طورپر بحیثیت مسلمان سب مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنی مصروف ترین زندگی میں سے خصوصی طورپروقت نکال کر اہل اللہ کے پاس وقت لگائیں بہت نفع ہوگا ۔

حج کے بعدبہاول نگرمولاناحافظ عبدالرشیدچنڑ(مدیرجامعۃ الجلیل پُل فضل واہ بہاول پور) ویسے تومیرے پیارے پیرومرشدشیخ العرب وا...
16/08/2024

حج کے بعدبہاول نگر
مولاناحافظ عبدالرشیدچنڑ(مدیرجامعۃ الجلیل پُل فضل واہ بہاول پور)
ویسے تومیرے پیارے پیرومرشدشیخ العرب والعجم عارف باللہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولاناالشاہ ڈاکٹرجلیل احمداخون صاحب دامت برکاتھم حج سے واپس تشریف لائے تو بندہ نے زیارت کی اجازت مانگی ۔توحضرت الشیخ دامت برکاتھم نے فرمایا کہ 14جولائی کوپھر اجازت مانگنا۔مقررہ تاریخ کوپھراجازت مانگی توحضرت الشیخ دامت برکاتھم نے 19جولائی 2024کو اجازت دی۔
شروع میں کچھ دوست ساتھ جانے کوتیارتھے لیکن جانامقدرنہ تھا۔ 19جولائی 2024بروزجمعہ پونے چھ بجے وٹس ایپ پرحضرت الشیخ دامت برکاتھم سے سفرمیں عافیت وسلامتی کی دعاکی درخواست کی توحضرت الشیخ دامت برکاتھم نے خصوصی دعاکے ساتھ خوشی کااظہارفرمایا۔بہرحال موٹرسائیکل پربہاول پورتک سفرکیا اوروہاں اڈے پہ موٹرسائیکل ایک دوست کے حوالے کی اورٹھیک سات بجے طاہرکوچ پرسفر کوجاری رکھا ، چشتیاں تک سفرآسان رہالیکن اس کے بعد گاڑی میں سواریاں ایسے دھڑادھڑسوار کردی کہ سیٹوں کے درمیان والی گیلری فُل بھرگئی دم گھٹنے لگااور شدیدتکلیف سے گزرناپڑاگرگاڑی والوں کا بس چلتاتوکچھ سواریاں اوربھی ٹھونس دیتے۔اللہ اللہ کرکے بہاول نگرکاباقی سفرطے کیا۔
اڈے پرحافظ مستقیم صاحب نے استقبال کیا اور موٹرسائیکل پرجامع العلوم عیدگاہ لے گیا ۔اورفورًا پانی اور چائے بسکٹ لے آیا بندہ نے پانی اور چائے پی اور ٹھیک گیارہ بجے بیت اخترمیں سوگیا ۔اے سی کی وجہ سے کمرہ ٹھنڈا تھا توبہت پرسکون نیندلی اور ساڑھے بارہ بجے اٹھ کر جمعہ کی تیاری کی اور ایک بجے سے پانچ منٹ پہلے نادرہ شاہ بازار بہاول نگروالی مسجدمیں جہاں حضرت الشیخ دامت برکاتھم جمعہ پڑھاتے ہیں پہنچے۔ایک بجے کرچھ منٹ پرحضرت الشیخ دامت برکاتھم تشریف لائے ۔
خطبہ میں سورۃ البقرہ سے آیت نمبر200تا202تلاوت فرمائی۔
بیان سے اقباسات۔
اللہ تعالی نے حج کے بعدحجاج کوخصوصاًاورساری امت کوعموماًدونصیحتیں فرمائی۔
پہلی نصیحت:
پہلی یہ کہ ہرحال میں اللہ تعالی کویادکرو!ایسے یادکرو!جیسے بچپن میں اباکویادکرتے تھے اب ویسے ہی رباکویادکرو!بچپن میں جس طرح ہرمشکل اورہرمصیبت میں اباکویادکرتے رہے،بڑے ہوکرہرمشکل اورمصیبت میں رباکویادکرو!
یاپھردورجاہلیت میں جیسے لوگ اپنے اباؤاجدادکوبطورفخریادکرتے تھے آپ بھی بطورفخراپنے رباکویادکرو!بلکہ( اَوْاَشَدَّذِکْرًا) اس سے بھی بڑھ کریادکرو!
فرمایاکہ مصیبت کے وقت بندہ اگراللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوتویہ مصیبت قرب الہی کا ذریعہ ہے ۔مصیبت کے وقت بندہ اگراللہ تعالی سے دورہوجائے تو یہ اللہ تعالی کی نارضگی و غضب کی علامت ہے اوراللہ تعالی نے اس کو اپنے غضب کانشانہ بناکرمزیداپنے آپ سے دورفرمادیا۔
فرمایاکہ عقل بھی آنکھ کی طرح ہے :جس طرح آنکھ بغیرروشنی کے نہیں دیکھ سکتی بالکل اسی طرح عقل بھی شریعت کی روشنی کے بغیرنہیں دیکھ سکتی یعنی حق اورباطل ،اچھائی اوربرائی میں فرق نہیں کرسکتی۔
عقل علوم شریعہ کی روشنی میں ہی فیصلہ کرسکتی ہے کہ کیاصحیح ہے اورکیاغلط ہے،اگرعقل شریعت کی روشنی کے بغیرفیصلہ کرے گی تو وہ اندھیرے ٹھوکرکھانے کے سِواکچھ بھی نہیں۔بتاؤ!بھائی کیا بغیرروشنی کے آنکھ دیکھ سکتی ہے؟ (نہیں) جواب نہیں ہے توپھرعقل شریعت کی روشنی کے بغیرکیسے دیکھ سکتی ہے بھلا؟
قابل فخریہ بات نہیں کہ ہم کس کی اولادہیں بلکہ قابل فخریہ بات ہے کہ ہم اپنے رباکے فرماں برداربندے ہیں۔تقوٰی کے بغیرنام ونسب فائدہ نہیں دیتا۔ہاں البتہ تقوٰی کے ساتھ نام ونسب کا فائدہ ضرورہے۔
ماں جب اپنے بچے کوتربیت کی غرض سے کبھی مارتی ہے توچھوٹابچہ اپنی ماں سے چمٹ جاتاہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ ماں کے سِواکوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ توبعدمیں وہی ماں ہی اپنے بچے کو اپنے سینہ سے لگاتی ہے ۔بالکل اسی طرح ہمارے گناہوں اور کمی کوتاہیوں کی وجہ سے جب ہم پر کوئی مشکل آتی ہے تو اس وقت ہمیں چاہیے کہ اپنے مولیٰ سے چمٹ رہیں کسی حال میں بھی اپنے مولیٰ سے غافل نہ ہوں۔
فرمایاکہ ایک دعابتاتاہوں ہروقت یاجب بھی یاد آئے پڑھاکرو! ‘‘اَلّٰھُمَّ وَاقِیَۃً کَوَاقِیَۃِ الْوَلِیْدِ’’مفہوم: اے اللہ جس طرح ماں بچے کی حفاظت کرتی ہے اسی طرح میری حفاظت فرما!
دوسری نصیحت:
فرمایاکہ کافر صرف دنیاکا طالب ہے چاہے جیسی ہوحلال اورحرام کی پروہ نہیں کرتا۔کچھ مسلمان نادان بھی ایسے کرنے لگے ہیں کہ صرف دنیاکے طلب گارہیں آخرت کی کوئی فکرنہیں۔
فرمایاکہ ایمان والوں کوحکم ہواکہ ‘‘دنیااورآخرت دونوں کی حسنات مانگیں’’
دنیاکی حسنات: نیک اعمال کی توفیق ملناہے،نیک بیوی مل جائے،صحت مل جائے،رزق حلال مل جائے اور نیک صالح اولاد مل جائے۔
آخرت کی حسنات :بندہ کی مغفرت ہوجائے،جنت مل جائے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاقرب مل جائے،اللہ تعالی کادیدارنصیب ہوجائے ۔
قیامت کے دن زمین سے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں گے۔جنت میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی علیہ وسلم
تشریف لے جائیں گے ۔اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے امت محمدیہ بھی باقی امتوں سے پہلے جنت میں جائے گی۔
لطیفہ:
ایک آدمی نے سودکے پیسے سے گھربنوایااوراس پرلکھوایا‘‘ھَذَامِنْ فَضْلِ رَبِّیْ’’ترجمہ یہ میرے رب کا فضل ہے۔ شیطان نے کہاکہ یہ ساراکام تومیں نے کروایااورنام توں نے کسی اورکا لکھوادیا۔
پھرفرمایاکہ حرام مال سے کوئی چیز خریدکریہ کہناکہ ‘‘یہ میرے رب کا فضل ہے ’’سخت ترین بے ادبی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے حرام مال اورحرام کاموں سے روکاہے۔
جمعہ کے بعددرس حدیث:
نمازجمعہ کے بعد درس حدیث کا معمول ہے۔ درس حدیث میں سنت اعمال پرزوردیتے ہوئے حدیث نقل فرمائی کہ جب امت میں فساد ہواورسنت پرعمل ترک ہوچکاہوتوایک سنت پرعمل کرنے والے کو سوشہیدکاثواب ملے گاکیونکہ ایک سنت پرعمل کرنے میں جان ومال اورعزت وآبروکی بازی لگانی پڑجائے گی ۔
مزیدایک ایک سنت عمل گنواکرعمل کی ترغیب ارشادفرمائی۔
دفترجامع العلوم میں
واپس مدرسہ کے دفترمیں تشریف فرماہوئے توباقیوں کی طرح بندہ سے بھی سفرکی خیرخیرت پوچھی ۔
بندہ نے سفرحج کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے گزارش کی توفرمایاکہ الحمداللہ ‘‘اللہ تعالی کا بہت بہت شکرہے کہ سفر میں طبیعت ٹھیک رہی ہے لیکن جیسے ہی طواف وداع کے بعد شکرانے کے دونفل پڑھ کربیٹھا توپھراٹھانہیں گیاویل چیئرپربیٹھ کر اپنے مقام پرگیا۔
فرمایاکہ ہمارے گروپ میں بائیس سوافراد تھے جس میں غیرملکی علماء کرام بھی شامل تھے موقع بموقع بیان کرتارہاجس سے لوگ بہت خوش تھے غیرملکی علماء کرام توبہت زیادہ خوشی کا اظہارفرماتے اور کہتے کہ آپ کا بیان سن کے توایسا لگتاہے کہ ہماراعلم توکچھ بھی نہیں ہے۔

بیت اخترمیں
قریباًکوئی ساڑھے تین بجے کے بعدبیت اخترمیں تشریف لائے تو کچھ خاص مہمانوں کے ساتھ بندہ کو بھی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور زم زم اور عجوہ کھجوربھی عنایت فرمائی الحمداللہ۔
تھوڑی دیربعد ایک ساتھی شجاع آباد سے حاضرہوا اور بیعت ہونے کی درخواست کی توحضرت الشیخ دامت برکاتھم نے درخواست قبول فرماتے ہوئے اسے بیعت فرمایا اور کلمات بیعت ارشادفرمائے۔اس کے بعد فرمایاکہ ذکراذکاراپنے شیخ سے اجازت لے کر کیاکریں اور پابندی سے اپنے معمولات پورے کریں۔اورشیخ کی زیارت اورشیخ سے صدقِ دل سے اصلاح لیں۔
عصرکے بعد بندہ مکتبہ میں حاضرہوااور بھائی ضیاء الرحمان سے دوعددکتابیں لیں ۔ایک داداپیرشاہ حکیم محمداخترصاحب رحمہ اللہ کی کتاب صحبت اہل اللہ کی اہمیت اوراس کے فوائد،دوسری کتاب تدریس قرآن کے رہنمااصول ۔
مغرب کے بعد مہمانوں کے لئے دفترجامع العلوم میں دسترخوان لگایاگیا۔
نمازِعشاء کے بعد جامع مسجدعمرمیں ہی مجلس ذکرکی تقریب منعقدہوئی۔جس میں شہربھرسے لوگ شریک ہوئے اور ملک کے دوسرے شہروں سے بھی کافی سارے عشاق زیارت کے لئے حاضرتھے۔
ذکرشروع کرنے سے پہلے فرمایاکہ اللہ تعالی سے دوستی کرنی ہے ،اللہ تعالی کا ولی بنناہے تو نفس کی مخالفت بہت ہی ضروری ہے۔جوشخص نفس کی مخالفت نہیں کرتاوہ اللہ تعالی سے محبت میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
اوراللہ تعالی کا ذکرپابندی سے کریں ۔اگرپابندی سے ذکر نہیں کروگے تو روح کمزورہوجائے گی تو نفس وشیطان حملہ کردیں گے۔
پھرذکرکروایااس کے بعد دعاکروائی جس میں تمام عشاق کے لئے،مدارس کے لئے ،دینی مراکز کے لئے،خانقاہوں کے لئے اور پاکستان کی حفاظت کے لئے حکمرانوں کی ھدایت کے لئے دعائیں مانگی گئیں۔اس کے بعد احباب نے کلام معرفت سنائے۔ حضرت الشیخ صاحب دامت برکاتھم نے خصوصی نظرکرم فرماتے ہوئے بندہ کو بھی کلام سنانے کی اجازت عنایت فرمائی۔
بندہ نے داداپیرشاہ حکیم محمداخترصاحب رحمہ اللہ کے مجموعہ اشعارفیضان محبت سے ایک کلام پیش کیا جس سے دوشعرپیش خدمت ہیں
منورکردے یارب مجھ کو تقویٰ کے معالم سے
ترے درتک جوپہنچادے ملادے ایسے عالم سے
کتب خانے توہیں اختربہت آفاق عالم میں
جو ہو اللہ کا عالم ملو تم ایسے عالم سے
رات خانقاہ میں آرام کیا صبح چار بجے اٹھا اور نماز فجرکچھ ساتھیوں نے دفترمیں الگ جماعت کے ساتھ پڑھی جس کی امامت بندہ نے کی۔ اس کے بعد پونے پانچ بجے بہاولی اڈے پرپہنچے ٹکٹ لی اور بہاول پورکی پہلی نان سٹاپ گاڑی پر سفر کیا ٹھیک سواسات بجے اللہ تعاکے فضل وکرم سے بہاول پورپہنچادیااور اس سے آگے موٹرسائیکل پر ساڑھے آٹھ بجے بخیروعافیت گھرپہنچااور دعاکرتاہوں کہ بہاول پورسے بہاول نگرتک بھی کوئی نان سٹاپ گاڑی چلے تاکہ جاتے ہوئے سفرمیں وقت بچے اور آسانی بھی رہے۔
مضمون کے اختتام پر حضرت جلال الدین روم رحمہ اللہ کے شعرکے ساتھ اجازت چاہوں گا
یک زمانہ صحبت با اولیاء
بہترازصدسالہ عبادت بے ریا

الحمدللہ ثم الحمدللہ14اگست 2024کی تقریبکی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیںبمقام جامعةالجلیل بستی اللہ والی پل فضل واہ بہاول پوربو...
14/08/2024

الحمدللہ ثم الحمدللہ
14اگست 2024کی تقریب
کی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں
بمقام جامعةالجلیل بستی اللہ والی پل فضل واہ بہاول پور
بوقت بعد نماز ظہر
مہمان خصوصی
ولی کامل شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سلیمان صاحب دامت برکاتہم العالیہ آف احمد پور شرقیہ

ایک دن بہاول نگرمولاناحافظ عبدالرشیدچنڑ(خادم خانقاہ جلیلیہ اختریہ پُل فضل واہ بہاول پور) ویسے تو ہرروز اپنے پیارے پیرومر...
06/07/2024

ایک دن بہاول نگر
مولاناحافظ عبدالرشیدچنڑ(خادم خانقاہ جلیلیہ اختریہ پُل فضل واہ بہاول پور)
ویسے تو ہرروز اپنے پیارے پیرومرشدکی زیارت کے لئے دل بے قرار رہتاہے بقول شاعرکے کہ
کچھ نظرآتانہیں اس کے تصورکے سِوا
حسرت دیدارنے آنکھوں کو اندھاکردیا
لیکن حسبِ ترتیب دوماہ بعد اپنے پیارے پیرومرشدکی زیارت کی اجازت چاہی تو حضرت الشیخ دامت برکاتھم نے ایک دوہفتہ بعد کا وقت عنایت فرمایا۔
17مئی 2024بروز جمعہ صبح 8بجے کے بعدقاری محمدارشدصاحب ، قاری محمدارشادصاحب اور قاری شعیب صاحب جامعہ دارالعلوم فتحیہ احمدپورشرقیہ سے اور مولانا عبداللہ صاحب جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام یوسی ہتھجی اور احقربہاول نگرکے سفر پر روانہ ہوئے۔
گرمی شدید تھی درجہ حرارت 47 اوربہاول نگر50تھا۔لیکن قاری محمدارشدصاحب کی شفقت کہ سواری اے سی والی لے آئے اوراس طرح آسانی ہوگئی ۔جس پر سب سے پہلے مولائے کریم کے شکرگزار ہیں پھر قاری ارشدصاحب کہ اے سی والی سواری لے آئے۔
12:15پر جامع العلوم عیدگاہ خیروعافیت سے پہنچ گئے۔جمعہ کی نماز کی تیاری کی اور سواری لے کر نادرہ شاہ بازارکی جامع مسجد جہاں پر حضرت الشیخ دامت برکاتھم جمعہ پڑھاتے ہیں ٹھیک1بجے پہنچے اور ممبرکے قریب جاکربیٹھ گئے۔پانچ منٹ بعد حضرت الشیخ دامت برکاتھم تشریف لائے اورعوام الناس نے کھڑے ہوکر استقبال کیا۔
خطبہ مسنونہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا۔
فرمایاصرف اولاد نہ مانگیں بلکہ نیک صالح اولادمانگیں جودینی کام وخدمات میں آپ کے ساتھ دے۔
جمعہ کے بعد درس حدیث ارشاد فرمایا اوراس دوران فرمایاکہ انسان کی فطرت میں غصہ موجود ہے اور اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا البتہ اس کو صحیح جگہ استعمال کرنے سے انسان کامیاب ہوسکتاہے جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے باوجودرحم دل ہونے کے مسیلمہ کذاب کے خلاف سخت فیصلہ فرمایا اور کامیاب ٹھرے اورمنکرین ختم نبوت کو ناکوں چنے چبوائے اور اس طرح آپ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے سے باقی کافی سارے فتنے دب گئے۔
انسان میں رحم دلی موجود ہے جو اپنوں سے کی جائے ۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ کفارکے خلاف بہت غصے والے تھے لیکن جب ایک عورت دردِزِہ سے تھی تو آپ رضی اللہ عنہ ضروری اشیاء خوردونوش کا تھیلا خود اٹھاکر لے جارہے ہیں غلام کے اصرار کے باوجودفرمایا کہ اس کے متعلق کل قیامت کے دن عمرسے سوال ہوگا آپ سے نہیں۔
فرمایاکہ شیخ کامل سے تعلق قائم کریں اور اپنی اصلاح کروائیں وہ آپ کو بتائے گا کہ غصہ کہاں استعمال کرنا ہے اور رحم دلی کس سے کرنی ہے اورطاقت کہاں استعمال کرنی ہے اور بھی تربیت کرے گا۔
جمعہ کے بعد جامع العلوم عیدگاہ کے دفتر میں تشریف فرماہوئے اور سب ساتھیوں سے شفقت فرماتے ہوئے باری باری خیرت معلوم کی ۔
نصیحت فرماتے ہوئے فرمایاکہ علماء کرام کو چاہیے کہ جواز کا فائدہ اٹھانے سے بہتر ہے دینی کام کو ترجیح دیں۔جو لوگ جواز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دین کے کاموں کو چھوڑ دیتے ہیں یہ بہت نقصان کا سودہ ہے۔ہاں جہاں پر جواز کا فائدہ اٹھانا دینی کاموں میں معاون ثابت ہو اس جواز سے ضروری فائدہ اٹھائیں ۔
کوئی بھی کام اپنے شیخ کے مشورہ کے بغیر نہ کریں ۔شیخ جو مشورہ دے اس پر عمل کریں چاہے سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن وقت آئے گا آپ کو شیخ کے مشورہ کا فائدہ معلوم ہوجائے گا۔
مغرب کے بعد پھردفترمیں تشریف لائے اور عشاق کو زیارت کا شرف عطاء فرمایا۔اور سب کو چائے پلاوائی۔
عشاء سے پہلے پہلے سب مہمانوں کو کھانا کھلایاگیا۔
عشاء کے بعد مجلس ذکرکے لئے بیت اختر میں شہراوربیرونِ شہر سے کافی بڑامجمع حاضرہوا۔ اورکافی انتظارکے بعدحضرت الشیخ دامت برکاتھم تشریف لائے اور ذکرکے فوائدپر چندمنٹ بیان فرمایاپھرذکرکروایااس کے بعد دعاکروائی ۔ دعاکے بعد احبا ب نے داداپیرشیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت شاہ حکیم محمداختر صاحب رحمہ اللہ کے اشعار سنائے ۔ حضرت الشیخ دامت برکاتھم نے خصوصی نظرکرم فرماتے ہوئے بندہ کو بھی اشعار پڑھ کرسنانے کی اجازت عنایت فرمائی۔
بندہ نے حضرت خالد اقبال تائب صاحب کے مجموعہ اشعار سے کچھ مصرے پڑھ کر سنائے جو مندرجہ ذیل ہیں
اس باخدا سے میری تن من سے دوستی ہے
میرے خداسے جس کی بچپن سے دوستی ہے
فصلِ بہارمیں بھی آنکھیں برس رہی ہیں
لگتاہے باغباں کی ساون سے دوستی ہے
اس ذوق کی طلب میں ایک ایک شوق چھوڑا
آذادیاں ہیں دشمن بندھن سے دوستی ہے
کانٹوں سے بچ رہے ہیں پھولوں میں بس رہے ہیں
جب سے ہماری تائب گلشن سے دوستی ہے
بہرحال رات گیارہ بجے مجلس برخاست ہوئی اور حضرت الشیخ کی خصوصی دعاؤں سے واپسی کا سفر کیا اور رات قریبًاکوئی تین بجے گھرپہنچے الحمداللہ

جامع المعقول والمنقول ولی کامل شیخ الحدیث حضرت مولانا خلیل الرحمٰن بابر رحمہ اللہ کے مقبرہ پر فاتحہ خوانی پیر طریقت رہبر...
21/06/2024

جامع المعقول والمنقول ولی کامل شیخ الحدیث حضرت مولانا خلیل الرحمٰن بابر رحمہ اللہ کے مقبرہ پر فاتحہ خوانی پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا حافظ عبدالرشید چنڑ صاحب دامت برکاتہم ساتھ شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے فرزند محمد یاسر بابر صاحب موجود ہیں

حافظ غلام حسین چنڑصاحب بھی رحلت فرماگئے مولاناحافظ عبدالرشیدچنڑ (خادم خانقاہ جلیلیہ اختریہ پل فضل واہ بہاولپور) نمونہ اس...
09/06/2024

حافظ غلام حسین چنڑصاحب بھی رحلت فرماگئے
مولاناحافظ عبدالرشیدچنڑ (خادم خانقاہ جلیلیہ اختریہ پل فضل واہ بہاولپور)
نمونہ اسلاف ،یادگاراسلاف،استادالعلاقہ،استادالحفاظ،زہدوتقوی کا ستارہ،شفقت ومحبت کی مثال ،عجزوانکساری کا پیکر،بندہ کے ابتدائی استادحافظ غلام حسین چنڑصاحب 14اپریل2024بروزاتوارطویل علالت کے بعد دن 1:15پراپنی جسمانی و روحانی اولادکوجہان فانی میں اپنی دعاؤں سے بے سروسامان کرکے اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔اناللہ واناالیہ راجعون۔
تعارف:
حضرت استادمحترم حافظ غلام حسین چنڑ صاحب جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپورکی تحصیل احمدپورشرقیہ کی شمالی جانب قریباًکوئی 30کلومیٹرپر واقع موضع چک گوبندپُل فضل واہ ملک پخشندہ چنڑ کے گھر یکم دسمبر1940میں پیدا ہوئے۔آپ کی اولادمیں دوبیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
تعلیم:
قرآن کریم کی تعلیم مولانا حافظ کریم بخش صاحب رحمہ اللہ سے جامعہ اشرف المدارس پل فاروق آباد بہاولپورمیں حاصل کی۔قرات حضرت قاری عبدالقادرہاشمی صاحب رحمہ اللہ سے پڑھی۔
اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے استاد کی زیرنگرانی جامعہ اشر ف المدارس میں ہی پڑھانا شروع کیا اور دس سال تک وہاں پڑھاتے رہے پھر اپنی بستی میں تشریف لائے اور یہی پڑھاتے رہے۔
تدریسی خدمات
آپ نے اپنے علاقہ میں عرصہ درازتک پڑھایا ہے یہاں تک بوڑھے اور بیمار ہوگئے تو مجبوراًگھربیٹھ گئے۔قریباًکوئی 60تک قرآن کریم کی تعلیم دیتے رہے، علاقہ کے نامورحفاظ آپ کے شاگرد ہیں۔بہت سے شاگرد حضرت کی دعاؤں سے قاری اور عالم بھی بنے ہیں اور دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔علاقہ میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس میں آپ کا شاگردیا شاگردہ نہ ہو۔
پچیس سال سے اوپرکے اکثرافراد علاقہ کے حضرت استادصاحب کے شاگرد ہیں۔بندہ نے ابتدائی تعلیم بغدادی قاعدہ (جو آج کل نظرنہیں آتا) اور9پارے ناظرہ پڑھنے کے بعد جامعہ دارالعلوم فتحیہ احمدپورشرقیہ حفظ کرنے چلاگیا۔
حضرت استادمحترم رحمہ اللہ کا شبینہ بہت مشہورتھا، چوک بھٹہ ،مبارک پور،سمہ سٹہ،جلالپورپیروالااورعلی پورتک پڑھتے تھے۔نعت خوانی بھی کرتے تھے۔
معذوری
بچپن میں ہی حضرت رحمہ اللہ کو (بڑی ماتاں)بیماری جسے جدیدزبان میں(چکن پاکس) کہتے ہیں لگی اور اسی سبب سے آپ رحمہ اللہ کی بنائی جاتی رہی اور یہ معذوری(نابینا) مستقل ہوگئی ۔ اس کے باوجود بھی قرآن کریم پڑھتے ،پڑھاتے رہے۔
بندہ کی ملاقاتیں
علاقے میں بندہ کچھ پروگرام میں بیان کے لئے جاتا تو استادصاحب رحمہ اللہ نعت پڑھنے کے لئے تشریف لاتے ۔پروگرام کے آخرمیں بندہ ہمیشہ حضرت استاد صاحب سے درخواست کرتا کہ دعاکروائیں لیکن حضرت استادصاحب فرماتے میراپتر(بیٹا)توں عالم ہے اور توں ہی دعا کروا ۔ بارباراصرار کرتا لیکن حضرت استاد صاحب کی شفقت و محبت اور حسن ظن تھا کہ بالآخربندہ کو دعاکروانی پڑتی۔
بیماری کے زمانہ میں بندہ عیادت کے لئے حاضر ہوتا تو دیکھتا کہ حضرت تلاوت قرآن کریم فرمارہے ہوتے تھے ۔ اور خود بتاتے تھے کہ عبدالرشیدمیاں اس
بیماری کی حالت میں میرا کریم رب اپنے کلام کے دس سے پندرہ پارے تلاوت کی روزانہ توفیق عطاء کرتا ہے۔
بندہ جب دعا کی درخواست کرتا۔ توفرماتے عبدالرشید میاں میرے دل آپ سے بہت خوش ہے کہ آپ علاقے کے لوگوں کی اصلاح و احوال کی کوششوں میں مصروف ہو اور مدرسہ چلا رہے ہو۔

05/05/2024

اہم ترین تنبیہ
تمام خواص و عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ
مدرسہ جامعة الجلیل بستی اللہ والی پل فضل واہ بہاولپور اور خانقاہ جلیلیہ اختریہ بستی اللہ والی پل فضل واہ بہاولپور
کہ دونوں اداروں کی جانب سے چندہ وصول کرنے کے لئے کوئی بھی شخص (مہتمم یاسفیر)مقرر نہیں ہے
مدرسہ و خانقاہ کی تصاویر یا جعلی کاغذات دیکھائے خصوصاً کاغذات تو انہیں ہرگز ہرگز قابل قبول کریں ۔
مدرسہ یا خانقاہ کے تعاون کی صرف ایک صورت ہے کہ خود ادارے آکر کریں ۔
اس کے علاؤہ تصاویر یا کاغذات کی بنیاد پر ہرگز ہرگز چندہ نہ دیں ۔
تمام احباب خصوصی طور پر نوٹ فرمالیں اور ارد گرد احباب کو بھی مطلع کریں ۔
منجانب خادم مدرسہ و خانقاہ ۔
حافظ عبدالرشیدچنڑ
03008759974

https://chat.whatsapp.com/Hc27Gs4odqCCS9Nq7vREiNجس میں خانقاہ جلیلیہ اختریہ میں ہونے والی مجالس اور خانقاہ کے ما تحت پرو...
04/05/2024

https://chat.whatsapp.com/Hc27Gs4odqCCS9Nq7vREiN
جس میں خانقاہ جلیلیہ اختریہ میں ہونے والی مجالس اور خانقاہ کے ما تحت پروگرامز بھیجے جاتے ہیں ۔
اہل دل ❤️ جوائن کریں

WhatsApp Group Invite

تذکرہ شیخ خلیل الرحمان بابرقسط 4 مولاناحافظ عبدالرشیدچنڑ (خادم خانقاہ جلیلیہ اختریہ پُل فضل واہ بہاولپور)آپ بھی میرے سات...
16/04/2024

تذکرہ شیخ خلیل الرحمان بابر
قسط 4 مولاناحافظ عبدالرشیدچنڑ (خادم خانقاہ جلیلیہ اختریہ پُل فضل واہ بہاولپور)
آپ بھی میرے ساتھ مل کر کھانا،جب مچھلی تیار ہوگئی تو حضرت رحمہ اللہ نے اس کو فون کرواکر بلایااور اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرمایا۔
کئی بار بندہ کوبھی فون پر فرماتے تھے کہ عبدالرشید دعالے لو ! یعنی ہدیہ دو اور دعا لو ! (بندہ سمجھتاہے کہ یہ اعزازصرف بندہ کو حاصل رہا ورنہ کسی اور کو کبھی نہیں فرمایا)( اکثرفرماتے تھے ہدیہ کے بغیر دعانہیں ملتی اس پر تفصیلی واقعات آئندہ آرہے ہیں) تو بندہ حسب توفیق جازکیش پر یا پھر کسی کے ہاتھ ہدیہ بھیج دیتا تو اگلے دن فون کرکے فرماتے کہ آپ بھی آجاؤ آپ کو بکرے کا گوشت کھلانا ہے ۔
بندہ اگرکوئی عذرپیش کر کے معذرت کرتا تو فرماتے تھے او یار! دودھ کی ضرورت تھی اور شہرسے خالص دودھ نہیں ملتا دودھ تو دے جاؤ بس پھر کیا؟
حکم کی تعمیل کرنی پڑتی۔
پہلے تو ہر ماہ جانا ہوتا اگر ایک ماہ سے زیادہ وقت گزرجاتا تو فون آجاتا تھا ۔
بندہ اگرعذر پیش کرتا تو حضرت رحمہ اللہ بھی کوئی چیز لانے کا حکم فرماتے دیتے تھے، اس طرح جانا ضروری ہو جاتا ۔
ایک بار حضرت نے بلایا تو حسب معمول عذر پیش کیا لیکن حضرت رحمہ اللہ نے بھی حسب معمول حکم فرمادیاکہ فلاں چیز ضرورت ہے لے آو !
بندہ نے وہ چیز کسی اور کے ہاتھوں بھیج دی ۔
بس پھر فون آگیا زبردست کلاس لی اور خوب ڈانٹااورفرمایا عبدالرشید آپ استاد کی منشاء کیوں نہیں سمجھتے بس بندہ نے معافی مانگی اور فوراًحاضرہوگیا۔
استادا ور طالب علم کو چاہیے
فرماتے تھے چاہے طالب علم ہوچاہے استاد دونوں کو مدرسہ کی خدمت کرنی چاہیے اگر خود صاحب استطاعت نہ ہوں تو تعاون کرنے والوں کی توجہ اپنے مدرسہ کی طرف کروائیں اگریہ بھی نہیں کرسکتے توفرمایادل سے مخلص ہوکراپنے مدرسہ کے لئے دعاکرنا لازم ہے اور یہ بھی مدرسہ کا کی خیرخواہی ہے۔
فرماتے کہ آپ اپنے مدرسہ کی خیرخواہی نہیں کرسکتے تو بدخواہی نہ کریں۔
جہاں آپ کو پڑھنے پڑھانے کی جگہ ملی ہوئی ہے ان کی بدخواہی کرنا (سخت لہجہ کرتے ہوئے فرمایا)حرام زادگی ہے ایسے توکتابھی نہیں کرتا۔
طہارت کا خیال:
حضرت الشیخ رحمہ اللہ ہمیشہ باوضورہتے تھے۔ اورفرماتے تھے کہ باوضو رہا کرو ،باوضورہنے کے بڑے فائدے ہیں جو آدمی بدن اور کپڑے دونوں پاک رکھتاہے اس کے پاس جب بھی کوئی عبادت مہمان بن کر آتی ہے تو مومن میزبان پہلے سے ہی میزبانی کے لئے تیار ہوتا ہے یعنی ادھرعبادت کاخیال آتاہے تو دوسرے لمحے مومن عبادت کرگزرتا ہے۔
فرماتے تھے کہ باضو رہنے کا عالم کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے کیونکہ باوضوآدمی کو اچھے اچھے خیالات آتے ہیں تو جب عالم باوضوہوگا تو لازمی بات ہے عالم کو دینی مسائل کی تحقیق کے خیالات آئیں گے یا پھرامت کی اصلاح کے خیالات آئیں گے تو اس میں عالم کا بھی فائدہ ہے اور امت کا بھی فائدہ ہے۔
فرماتے تھے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب معراج پرتشریف لے گئے تو جنت کی سیرکے وقت وہاں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے چلنے کی وجہ سے ان کے جوتوں کی کھسکھساہٹ کی آواز سنی۔
واپس تشریف آوری کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ بلال! آپ کون سا ایسا عمل کرتے ہیں کہ آپ چلتے مکہ میں ہیں لیکن آپ کے چلنے کی کھسکھساہٹ میں جنت میں سن آیا ہوں۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان جائیں ! میں کوئی خاص عمل تو نہیں کرتا لیکن ایک چھوٹا سا عمل کرتا ہوں کہ جب بھی قضائے حاجت کرتا ہوں تو فوراً نیا وضو کرلیتا ہوں بس ۔
اس پر جناب کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال ! آپ کا یہ عمل اللہ تعالی کو بہت پسند ہے۔
خدمت کے متعلق
حضرت رحمہ اللہ نے 63سال تک دین کی خدمت کی ہے تو ہمیشہ حضرت اپنے کپڑے پاک وصاف رکھنے کا خوب خوب خیال رکھتے تھے ۔
اکثراپنے کپڑے خود دھوتے تھے لیکن آخری چند سال بیمار ہو گئے تب بھی خود دھویا کرتے تھے (جاری)

قرآن کریم اور محبت الہٰی مولانا حافظ عبدالرشیدچنڑ(مدیراعلیٰ جامعۃ الجلیل پُل فضل واہ بہاولپور) انسانی فطرت ہے کہ انسان ج...
26/03/2024

قرآن کریم اور محبت الہٰی
مولانا حافظ عبدالرشیدچنڑ(مدیراعلیٰ جامعۃ الجلیل پُل فضل واہ بہاولپور)
انسانی فطرت ہے کہ انسان جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اس محبوب سے بات کرنے کی کوشش کرتاہے ۔اگر بات نہ کرسکے تو اس کی بات سنتا ہے۔ بات کرنا اور بات سننا ممکن نہ ہو تو پھر اپنے محبوب کی باتیں کرتاہے ۔
اسی طرح جب مومن بندہ کو اپنے پروردگارسے واقعی ہی محبت ہوجاتی ہے تو دل ہر وقت اپنے پروردگار کی طرف متوجہ رہتا ہے۔خدانخواستہ اگر گناہ ہوجائے تو اپنی نالائقی اور نادانی پر نادم ہوتا ہے اور گڑگڑاکر معافی مانگتا ہے ۔ اس ندامت اور شرمندگی پربندہ مولیٰ کریم اپنے پیارے بندوں کو اپنی محبت کا لطفِ خاص عطاء فرماتے ہیں ۔
میرے داداپیر شاہ حکیم محمداختر صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ رب کریم نے توبہ و استغفار کا دروازہ نہ رکھاہوتا توشاید ہی انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی جنت میں جاتا ۔بس معلوم ہوا کہ توبہ استغفار مولائے کریم کی طرف سے اپنے گناہ گاربندوں کے لئے خاص نعمت ہے ۔فرمایا کہ عبادات سے آدمی میں عجب و تکبر پیداہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے جیسے شیطان نے عبادات تو بہت کیں لیکن احساس ندامت سے محروم رہااس وجہ سے مردود ٹھرا۔بہرحال ہمیں جو چیز شیطان سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے اپنی غلطیوں پر ندامت کے آنسوبہانا۔
دل اپنے پروردگارکی طرف متوجہ ہونے کا مطلب ہے جب نیک اعمال کی توفیق ہوتی ہے تو اس پر بھی اللہ کا دوست( بندہ )خوشی و شکرانے کے آنسو بہاتا ہے اور مولیٰ کی تعریفیں کرتا ہے۔
سو بات چل رہی ہے کہ انسان کو جب کسی سے پیار اور محبت ہو جائے تو اس سے دل کی باتیں کرنے کو جی کرتا ہے ۔ اسی طرح مومن بندہ مولائے کریم کی بارگاہ میں رات کی تنہائیوں میں اپنے دل کے احوال پیش کرتا ہے اور اصلاح کی دعائیں کرتا ہے ۔
بندہ اپنے پروردگار کی باتیں سننے اور سمجھنے کے لئے قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے ،ترجمہ (علماء حق کی نگرانی وشاگردی میں) کرتا ہے ۔احکام الہیٰ پر عمل کرنے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے اوراپنی اصلاح کے لئے شیخ کامل سے بیعت ہوتاہے اور اس سے سوفیصدایمان داری سے اپنی اصلاح کراتا ہے۔قیام الیل یعنی رات کو اللہ کے حضور کھڑا ہوکر قرآن کریم پڑھتا ہے ، ماہِ رمضان کے روزے رکھتا ہے ،خوب خوب حروف ومخارج کا لحاظ کرتے ہوئے قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے ۔
جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے مومن کی مثال مالٹے کے پھل کی سی ہے جو خوشبودار اور لذیذہوتا ہے ۔
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ قرآن کریم پڑھا کرو یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا۔
فرمایا کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والا شخص قابل رشک ہے کہ اس سے رشک کیا جائے۔
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قرآن کریم اپنے گھر میں پڑھا کرو اس سے وہ گھر اپنے رہنے والوں کے لئے کشادہ ہوجاتاہے اور اس گھر میں فرشتے حاضر ہوجاتے ہیں اور شیاطین نکل جاتے ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رشاد فرمایاکہ اُس شخص کو کبھی فاقہ نہیں ہوگا جو قرآن کریم پڑھتا ہے۔
فرمایا کہ گھروں میں سے سب سے حقیر گھر وہ ہے جس میں قرآن کریم نہ پڑھاجاتاہو۔
حضرت اماں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جوشخص قرآن کریم پڑھنے میں ماہر ہو وہ معززاور نیک سفرا (فرشتوں)کے ساتھ ہوگا۔
قرآن کریم کی تلاوت قرب الہیٰ کی دلیل ہے ۔ قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنا عشق رسول ہے۔
جاری ہے

Address

Bahawalpur
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KJA Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category