02/02/2026
🏰 بہاولپور و صحرائے چولستان: تاریخ کی گواہ ایک زندہ تہذیب 🏜️✨
بہاولپور کی قدیم فصیلوں سے نکل کر جب شاہی محلات کی پرچھائیاں پیچھے چھوٹتی ہیں، تو گویا وقت تھم سا جاتا ہے۔ حدِ نگاہ تک پھیلا ہوا صحرائے چولستان اپنی تپتی ریت اور پُراسرار خاموشی کے ساتھ آپ کا استقبال کرتا ہے۔ یہاں کی فضا میں ایک عجیب سا سحر ہے؛ جہاں میلوں دور تک پھیلی ہوئی ریت کے ٹیلے آسمان کے نیلگوں رنگ سے ہم آغوش ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لامتناہی وسعت میں جب گائے کا ایک عظیم ریوڑ دھیرے دھیرے ریت پر اپنے قدموں کے نشان چھوڑتا ہوا گزرتا ہے، تو ان کے گلوں میں بندھی گھنٹیوں کی آواز صحرا کی خاموشی میں ایک موسیقی گھول دیتی ہے۔ یہ منظر کسی قدیم مصوری کا شاہکار معلوم ہوتا ہے، جہاں زندگی اپنی تمام تر سادگی کے ساتھ رواں دواں ہے۔
یہاں کے سادہ لوح لوگ اس کڑی دھوپ میں بھی مسکراہٹیں بانٹنا جانتے ہیں۔ ان کے چہروں پر لکھی محنت کی لکیریں اور سرائیکی زبان کی مٹھاس اس مٹی کے صوفیانہ مزاج کا پتہ دیتی ہے۔ اسی ریتلے سفر کے بیچوں بیچ، قلعہ دراوڑ اپنی چالیس دیو قامت فصیلوں کے ساتھ کسی خاموش محافظ کی طرح کھڑا ہے، جو نوابوں کی عظمت اور برطانوی غرور کو خاک میں ملانے والے صادق محمد خان پنجم کی جرات کی داستانیں سناتا ہے۔ جب شام کا سورج ڈھلنے لگتا ہے اور ریت کے ذرے سونے کی طرح چمکنے لگتے ہیں، تو صحرا کی مٹی میں دبی ہوئی روایتی سجی کی خوشبو اور مٹی کے برتنوں میں پیش کی جانے والی کھیر روح کو ایک انوکھا سکون بخشتی ہے۔ یہ صرف ایک جغرافیائی رقبہ نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی تہذیب ہے جہاں لال سوہانرا کے ہرنوں کی قلانچیں اور نوابوں کی سخاوت آج بھی پاکستان کے ماتھے پر ایک قیمتی نگینے کی طرح چمک رہی ہے۔
بہاولپور کی بات ہو تو پھر بہاولپور کے نوابوں کی بات نہ ہو یہ زیادتی ہو گئی۔۔
ریاست بہاولپور کے نوابوں کی تاریخ سخاوت، حب الوطن اور شاہانہ جاہ و جلال کا ایک حسین امتزاج ہے۔ خاص طور پر آخری حکمران نواب سر صادق محمد خان پنجم کی زندگی تو کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔
نواب صادق محمد خان پنجم صرف تین سال کی عمر میں مسندِ نشین ہوئے، لیکن ان کی اصل دورِ حکومت کا آغاز 1924 میں ہوا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے صحرائے چولستان کی ریت کو اپنی بصیرت سے سونا بنا دیا۔ ان کے دور میں بہاولپور تعلیمی اور زرعی لحاظ سے برصغیر کی امیر ترین ریاستوں میں شمار ہونے لگا۔
* نواب صاحب نے "جامعہ عباسیہ" (جو اب اسلامیہ یونیورسٹی ہے) قائم کی اور ایچی سن کالج لاہور کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
* جب پاکستان بنا تو ریاست بہاولپور وہ پہلی ریاست تھی جس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ نواب صاحب نے نہ صرف اپنی ریاست پاکستان کے نام کر دی، بلکہ نوزائیدہ ملک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے اپنے شاہی خزانے کے منہ کھول دیے اور قائداعظم کو اپنی مہنگی ترین گاڑیاں تحفے میں دیں۔
رولز رائس اور برطانوی غرور کا قصہ
نواب صادق محمد خان پنجم سے منسوب ایک واقعہ تاریخ میں بہت مشہور ہے، جو ان کی غیرت اور شاہانہ مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک بار نواب صاحب لندن میں عام لباس پہنے گھوم رہے تھے۔ وہ بانڈ سٹریٹ پر واقع رولز رائس (Rolls-Royce) کے شوروم میں داخل ہوئے اور گاڑی کی قیمت اور تفصیلات جاننی چاہیں۔ شوروم کے برطانوی سیلز مین نے ان کے سادہ لباس کو دیکھ کر انہیں ایک عام اور غریب ہندوستانی سمجھا اور نہ صرف ان کی تذلیل کی بلکہ انہیں شوروم سے باہر جانے کا کہہ دیا۔
نواب صاحب خاموشی سے اپنے ہوٹل واپس آئے، پھر اپنے پورے شاہی جاہ و جلال، پروٹوکول اور سرکاری لباس میں دوبارہ اسی شوروم پہنچے۔ اس بار انتظامیہ نے ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا۔ نواب صاحب نے وہاں موجود تمام 6 گاڑیاں نقد رقم دے کر خرید لیں۔
بات یہاں ختم نہیں ہوئی! گاڑیاں جب بہاولپور پہنچیں تو نواب صاحب نے حکم دیا کہ:
> "ان تمام قیمتی گاڑیوں کے آگے جھاڑو لگا دیے جائیں اور انہیں میونسپلٹی کے حوالے کر دیا جائے تاکہ یہ شہر کا کوڑا اٹھانے اور سڑکیں صاف کرنے کے کام آئیں۔"
>
جب یہ خبر پوری دنیا میں پھیلی کہ دنیا کی مہنگی ترین گاڑی بہاولپور میں کچرا اٹھانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، تو رولز رائس کمپنی کی ساکھ مٹی میں مل گئی اور ان کے شیئرز تیزی سے گرنے لگے۔ آخر کار کمپنی کے مالکان نے نواب صاحب سے تحریری معافی مانگی اور استدعا کی کہ گاڑیوں کو صفائی کے کام سے ہٹا دیا جائے۔ تب جا کر نواب صاحب نے انہیں معاف کیا۔۔۔۔