Habib Urrehman Jutt

Call Directions Contact the business

Habib Urrehman Jutt First Class Cricketer

I have been working in the real estate property business in Lahore, Pakistan for the past 12 years. Alhamdolilah.

If you are interested in buying or selling property, feel free to contact me at +923008128907

Success begins with the right people, a shared purpose, and conversations that inspire progress.Every meaningful connect...
12/10/2026

Success begins with the right people, a shared purpose, and conversations that inspire progress.

Every meaningful connection has the potential to open new doors, spark fresh ideas, and create opportunities for the future.

Stronger networks. Bigger possibilities. A vision for tomorrow.

گولڈ میڈلسٹ لائبہ کی دردناک کہانی: بیرونِ ملک تعلیم کا خواب، مبینہ فراڈ اور ایک خاندان کی بربادیایک باپ نے بیٹی کے روشن ...
11/10/2026

گولڈ میڈلسٹ لائبہ کی دردناک کہانی: بیرونِ ملک تعلیم کا خواب، مبینہ فراڈ اور ایک خاندان کی بربادی

ایک باپ نے بیٹی کے روشن مستقبل کے لیے اپنا پلاٹ فروخت کر دیا، ایک ماں نے اپنے زیورات گروی رکھوا دیے، مگر جس خواب کو پورا کرنے کے لیے یہ قربانیاں دی گئیں، وہ مبینہ فراڈ کی نذر ہو گیا۔

اسلام آباد میں سڑک کنارے پھندا لگی لاش کی صورت میں ملنے والی طالبہ لائبہ کی موت نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

لائبہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کر چکی تھی۔ اس کا خواب اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانا تھا۔ اہلخانہ کے مطابق، ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر مبینہ طور پر 70 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔

لائبہ کے والد موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتے تھے۔ بیٹی کے مستقبل کی خاطر انہوں نے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور مبینہ طور پر 21 لاکھ روپے ادا کر دیے۔ مزید رقم کا انتظام کرنے کے لیے والدہ کے زیورات بھی بینک میں رکھوا دیے گئے۔

لیکن جب فراہم کردہ دستاویزات کی تصدیق کروائی گئی تو اہلخانہ کے مطابق، وہ جعلی نکلیں۔

سوچیں، اس باپ پر کیا گزری ہوگی جس نے اپنی زندگی بھر کی محنت بیٹی کے مستقبل پر لگا دی ہو۔ اس ماں کے دل پر کیا گزری ہوگی جس نے اپنی قیمتی چیزیں اس امید پر گروی رکھوا دیں کہ ایک دن اس کی بیٹی کامیابی کے ساتھ واپس آئے گی۔

اس کہانی کا ایک اور دل دہلا دینے والا پہلو لائبہ کا اپنے ماموں کو بھیجا گیا مبینہ آخری پیغام ہے:

”میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کا میرے والد کو نہ بتانا، وہ مر جائیں گے۔“

یہ الفاظ ایک بیٹی کی اپنے باپ سے محبت، اس کی فکر اور اپنے خاندان کو پہنچنے والے ممکنہ صدمے کا احساس دلاتے ہیں۔

لائبہ کی موت کے تمام حالات اور ذمہ داریوں کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد ہی ہونا چاہیے۔ تاہم، یہ واقعہ بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر مبینہ فراڈ کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت کو ضرور اجاگر کرتا ہے۔

کچھ سوالات جن کے جواب ضروری ہیں:

• کیا بیرونِ ملک داخلوں کا جھانسہ دینے والے کنسلٹنٹس کی مؤثر جانچ پڑتال ہوتی ہے؟

• اگر کسی خاندان سے لاکھوں روپے لے کر جعلی دستاویزات فراہم کی جائیں تو متاثرین کو انصاف کون دلائے گا؟

• کیا لائبہ کے معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟

لائبہ کو انصاف ملنا چاہیے، اس کے خاندان کو قانونی مدد فراہم کی جانی چاہیے، اور ایسے اقدامات کیے جانے چاہییں کہ کوئی دوسرا طالب علم یا خاندان اس قسم کے مبینہ فراڈ کا شکار نہ ہو۔

ایک خواب کا ٹوٹنا صرف ایک فرد کی ناکامی نہیں ہوتا، کبھی کبھی اس کے پیچھے پورے خاندان کی برسوں کی محنت اور امیدیں دفن ہو جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ لائبہ کے اہلخانہ کو صبر عطا فرمائے اور انہیں انصاف نصیب کرے۔ آمین۔

Your Time Is Valuable. Your Digital Presence Matters! 🚀آپ اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دیں، آپ کی ڈیجیٹل پریزنس ہم سنبھالیں گ...
10/10/2026

Your Time Is Valuable. Your Digital Presence Matters! 🚀

آپ اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دیں، آپ کی ڈیجیٹل پریزنس ہم سنبھالیں گے!

Habib Marketing Agency سیاسی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات کے لیے مکمل سوشل میڈیا مینجمنٹ سروسز فراہم کرتی ہے۔

✅ Complete Social Media Account Management
✅ Professional Content & Creative Posts
✅ Reels & Video Content
✅ Strategic Content Planning
✅ Consistent Posting & Audience Engagement

آپ کی پہچان، آپ کا پیغام، اور آپ کے کام کو درست انداز میں لوگوں تک پہنچانا ہماری ترجیح ہے۔

You Lead. We Manage Your Digital Presence.

📩 اپنے سوشل میڈیا کو پروفیشنل انداز میں مینج کروانے کے لیے آج ہی رابطہ کریں۔

📞 0318 6980187
📧 [email protected]

Habib Marketing Agency
Professional Digital Marketing Solutions

سرگودھا کے مزار پر وہ خوفناک رات! 20 افراد جان سے گئے، مگر اندر کیا ہو رہا تھا؟کچھ لوگ دعا کی امید لے کر آئے تھے، کچھ رو...
10/10/2026

سرگودھا کے مزار پر وہ خوفناک رات! 20 افراد جان سے گئے، مگر اندر کیا ہو رہا تھا؟

کچھ لوگ دعا کی امید لے کر آئے تھے، کچھ روحانی سکون کی تلاش میں… لیکن اپریل 2017 کی ایک رات ایسی آئی کہ سرگودھا کے قریب ایک مزار پر آنے والے 20 افراد کی زندگیاں ختم ہوگئیں۔ آخر اس رات وہاں کیا ہوا تھا؟ اور پولیس کو اس واقعے کی خبر کیسے ملی؟

یہ کہانی کئی سال پرانی ہے، لیکن اس کے واقعات آج بھی کئی سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔

پنجاب کے شہر سرگودھا کے قریب ایک مزار تھا، جہاں لوگ اپنی پریشانیاں لے کر آتے تھے۔ کسی کو سکون چاہیے تھا، کوئی دعا کی امید رکھتا تھا، اور کوئی اپنی زندگی کے مسائل کا روحانی حل تلاش کرنے آیا تھا۔

لیکن اس رات مزار پر جو کچھ ہوا، اس کا اندازہ شاید وہاں موجود کسی شخص کو بھی نہیں تھا۔

رات گزرتی رہی۔

لوگ آتے رہے۔

پھر کچھ لوگوں کو باری باری ایک کمرے میں بلایا جانے لگا۔

مگر اس کمرے کے اندر کیا ہو رہا تھا؟ باہر موجود لوگوں کو اس وقت تک حقیقت کا اندازہ کیوں نہ ہوا؟

ایک ایک کرکے کمرے میں بلائے جانے والے لوگ

پولیس کے مطابق مزار کے متولی عبد الوحید نے وہاں موجود افراد کو باری باری اپنے کمرے میں بلایا تھا۔

بعد میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، وہاں لوگوں کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز دی گئی اور پھر ڈنڈوں اور خنجروں سے حملے کیے گئے۔

یہ محض ایک عام جھگڑے کی خبر نہیں تھی۔ پولیس کے سامنے آنے والی تفصیلات ایک ایسے واقعے کی طرف اشارہ کر رہی تھیں جس میں متعدد افراد کو یکے بعد دیگرے نشانہ بنایا گیا تھا۔

سوچیے، ایک شخص کمرے میں داخل ہوتا ہے۔

پھر دوسرا۔

پھر تیسرا۔

باہر موجود لوگوں کو کیا معلوم تھا کہ اندر جانے والوں کے ساتھ کیا پیش آ رہا ہے؟

اور جب تک حقیقت کھل کر سامنے آئی، بہت دیر ہو چکی تھی۔

پولیس تک خبر کیسے پہنچی؟

اس واقعے کا ایک اہم موڑ ایک زخمی خاتون کا وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہونا تھا۔

رپورٹس کے مطابق، وہ خاتون شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچی اور وہاں موجود عملے کو واقعے کے بارے میں بتایا۔

یہ اطلاع پولیس تک پہنچی تو اہلکار فوری طور پر مزار کی طرف روانہ ہوئے۔

لیکن جب پولیس وہاں پہنچی، تو صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی تھی۔

وہاں جو منظر سامنے آیا، اس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔

مزار سے متعدد لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ کچھ افراد زخمی حالت میں بھی ملے۔

تحقیقات کے دوران پولیس نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ متاثرین کو وہاں بلایا گیا تھا اور پھر ان پر حملے کیے گئے۔

یوں ایک ایسی جگہ، جہاں لوگ سکون اور عقیدت کی امید لے کر آتے تھے، اچانک ایک بڑے سانحے کی جگہ بن گئی۔

ایک ہی خاندان کے چھ افراد بھی ہلاک ہوگئے

اس واقعے کی سب سے دردناک تفصیلات میں سے ایک یہ تھی کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد بھی شامل تھے۔

ذرا تصور کیجیے…

ایک گھر میں کئی لوگ کسی اپنے کی واپسی کا انتظار کر رہے ہوں۔

کسی کو امید ہو کہ وہ کچھ دیر میں دروازہ کھول کر اندر آئے گا۔

کسی کو شاید یہ گمان ہو کہ وہ مزار سے واپس آکر گھر والوں کو اپنے سفر کے بارے میں بتائے گا۔

لیکن اس رات کئی گھروں میں انتظار ختم ہوا تو اس کی جگہ ایک ایسا غم رہ گیا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔

یہ صرف 20 افراد کی ہلاکت کا معاملہ نہیں تھا۔ ہر شخص کے پیچھے ایک خاندان، رشتے اور ادھورے رہ جانے والے خواب تھے۔

مزار کے متولی پر کیا الزام لگایا گیا؟

واقعے کے بعد پولیس نے مزار کے متولی عبد الوحید کو گرفتار کیا۔ دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

تحقیقات کے دوران واقعے کے محرکات کے حوالے سے مختلف امکانات زیرِ بحث آئے۔

رپورٹس کے مطابق، ایک پولیس افسر نے بتایا تھا کہ ملزم نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسے خدشہ تھا کہ وہاں موجود لوگ اسے مارنے آئے ہیں۔

پولیس نے مزار کے انتظام اور متولی بننے سے متعلق ممکنہ اختلافات کو بھی تحقیقات کے ایک پہلو کے طور پر دیکھا تھا۔

تاہم، ان بیانات اور ممکنہ محرکات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ کسی ملزم کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت لازماً واقعے کی ثابت شدہ وجہ نہیں ہوتی۔

اصل سوال یہی تھا کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک ہی رات میں اتنے زیادہ افراد جان سے گئے؟

کیا اس سے پہلے بھی خطرے کی نشانیاں موجود تھیں؟

واقعے کے بعد سامنے آنے والی بعض رپورٹوں میں مقامی لوگوں نے متولی کے سابقہ رویے کے بارے میں بھی بات کی۔

BBC کی رپورٹ میں مقامی افراد کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ اپنے بعض مریدوں کے ساتھ سخت سلوک کرتا تھا، انہیں مارتا تھا اور بعض اوقات ان کے کپڑے اتارنے یا جلانے جیسے واقعات بھی پیش آتے تھے۔

اگر یہ رویے پہلے سے موجود تھے تو ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا لوگوں نے ان باتوں کو روحانی عقیدت یا مریدی کے تعلق کی وجہ سے برداشت کیا؟

کیا کسی کو اندازہ تھا کہ حالات اتنی سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں؟

یا پھر کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ معاملہ اس حد تک پہنچ جائے گا؟

یہ وہ سوالات ہیں جن پر اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے غور کرنا ضروری ہے۔ البتہ سابقہ رویوں سے متعلق الزامات کو ان کے متعلقہ ذرائع کے حوالے سے ہی بیان کرنا چاہیے۔

دروازے کے پیچھے موجود بچوں نے کیا دیکھا؟

اس سانحے سے متعلق ایک اور تفصیل بھی سامنے آئی تھی۔

ایک زندہ بچ جانے والے شخص کے بیان کے مطابق، کچھ بچوں نے دروازے کے پیچھے سے اندر ہونے والے تشدد کو دیکھ لیا تھا۔

اس بیان کے مطابق، جب وہاں موجود بعض بالغ افراد کو صورتحال کا اندازہ ہوا تو انہوں نے مبینہ طور پر مزاحمت کی۔

یہ تفصیل اس واقعے کے انسانی پہلو کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

کچھ بچے ایسی صورتحال کے گواہ بنے جسے سمجھنا بھی ان کے لیے مشکل رہا ہوگا۔

انہیں شاید پوری حقیقت معلوم نہ ہو، لیکن یہ ضرور محسوس ہوا ہوگا کہ کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔

اور اسی دوران وہاں موجود چند افراد کو حالات کا اندازہ ہوا۔

اس رات کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں، لیکن وہاں موجود لوگوں کے لیے وہ لمحات کس قدر خوفناک تھے، اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔

زخموں کی تفصیلات نے کیا ظاہر کیا؟

بعد میں متاثرین کے طبی معائنے سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ایک ڈاکٹر کے مطابق، کئی افراد کی گردن کے پچھلے حصے پر ضربوں کے نشانات تھے، جبکہ بعض کے جسموں پر ڈنڈوں اور خنجروں کے زخم بھی موجود تھے۔

ان تفصیلات نے پولیس کی تحقیقات میں اہم کردار ادا کیا۔

آخرکار اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 بتائی گئی۔

بیس افراد۔

بیس زندگیاں۔

بیس خاندانوں سے جڑی ہوئی امیدیں اور رشتے۔

یہ تعداد صرف ایک خبر کی سرخی نہیں تھی۔ اس کے پیچھے کئی ایسے گھر تھے جن کی زندگی اس رات کے بعد پہلے جیسی نہیں رہی۔

اصل سوال: عقیدت اور اندھے اعتماد کے درمیان فرق کیا ہے؟

اس واقعے کو اپریل 2017 میں پیش آئے ایک المناک سانحے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

لیکن اس کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ اس رات کیا ہوا تھا۔

یہ واقعہ ایک وسیع تر سوال بھی اٹھاتا ہے: جب لوگ کسی شخص پر روحانی اعتماد کرتے ہیں تو اس اعتماد کی حدود کیا ہونی چاہییں؟

کسی شخص کو روحانی رہنما ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر عمل کو درست سمجھ لیا جائے۔ عقیدت اپنی جگہ، لیکن کسی بھی انسان کے ساتھ تشدد، زبردستی یا بدسلوکی کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اور اگر کسی جگہ لوگوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو بروقت اطلاع دینا اور متعلقہ حکام سے مدد لینا ضروری ہے۔

وہ رات جس نے 20 خاندانوں کی زندگیاں بدل دیں

آج اس واقعے کو کئی سال گزر چکے ہیں۔

لیکن اس کی کہانی اب بھی ایک اہم سوال چھوڑتی ہے۔

وہ لوگ مزار پر کس امید سے آئے تھے؟

انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کی زندگی کا سفر اتنی المناک صورت اختیار کر لے گا؟

اور اگر وہاں موجود افراد کو پہلے ہی خطرے کا اندازہ ہو جاتا تو کیا کچھ زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں؟

شاید اس واقعے کا سب سے زیادہ چونکا دینے والا پہلو یہی ہے کہ لوگ ایک جگہ سکون اور مدد کی امید لے کر آئے تھے، مگر ان میں سے 20 کبھی اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹ سکے۔

کبھی کبھی کسی سانحے کی سب سے خوفناک بات صرف وہ نہیں ہوتی جو اندر پیش آتی ہے، بلکہ یہ بھی ہوتی ہے کہ حقیقت سامنے آنے تک باہر موجود لوگوں کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔



Disclaimer: یہ مواد تاریخی واقعے کے بارے میں معلوماتی اور آگاہی کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں بعض تفصیلات پولیس کے بیانات اور میڈیا رپورٹس سے منسوب ہیں۔ الزامات، عینی شاہدین کے بیانات اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے ممکنہ محرکات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق سے الگ سمجھا جائے۔ اس تحریر کا مقصد کسی فرد یا گروہ کے بارے میں غیر مصدقہ الزام لگانا نہیں، بلکہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر واقعے کو بیان کرنا ہے۔

بحریہ ٹاؤن والوں کے لیے اچھی خبر
06/10/2026

بحریہ ٹاؤن والوں کے لیے اچھی خبر

پاک فوج میں 5 افسران کو تھری اسٹار رینک مل گیا، اہم ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئیںپاک فوج میں حالیہ ترقیوں کے بعد پانچ افسر...
05/10/2026

پاک فوج میں 5 افسران کو تھری اسٹار رینک مل گیا، اہم ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئیں

پاک فوج میں حالیہ ترقیوں کے بعد پانچ افسران لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز ہوگئے ہیں، جنہیں مختلف اہم ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

🔹 لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بشیر — کور کمانڈر لاہور
🔹 لیفٹیننٹ جنرل محمد نعیم اختر — کور کمانڈر پشاور
🔹 لیفٹیننٹ جنرل اسد الرحمان چیمہ — نیشنل کوآرڈینیٹر SIFC
🔹 لیفٹیننٹ جنرل راجہ محمد ندیم اشرف — چیئرمین پاکستان آرڈننس فیکٹریز (POF)، واہ

دوسری جانب سابق ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل واجد عزیز کو بھی تھری اسٹار رینک پر ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا ہے۔

03/10/2026

ہارون آباد کے معروف ڈاکٹر کے ڈاکٹر بیٹے کی موت
چند دن پہلے کراچی میں معروف ڈاکٹر سید رسول مرحوم کے بیٹے ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور ان کی تین بیٹیوں کی موت کی خبر نے بہت سے لوگوں کو غمزدہ کر دیا۔
یہ خودکشی تھی یا قتل، واللہ اعلم،
لیکن اس واقعے نے بہت سے سوال کھڑے کر دیئے۔ گھر کی فریج میں دو انڈوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا، ڈاکٹر عمر خود جگر کے کینسر میں مبتلا اور بظاہر مالی حالات بھی بہت مشکل تھے۔

لیکن اس واقعے کے بعد جب ان کی میت کی خبر ان کے آبائی شہر اور گھر والوں تک پہنچی تو ڈاکٹر عمر کا بھائی خود سامنے آیا اور ان کی اہلیہ کے والد بھی سامنے آئے۔ ان کے بیانات سے جو بات سامنے آئی، وہ شاید اس پورے واقعے کا سب سے تکلیف دہ پہلو ہے کہ کئی سال سے بھائی کو بھائی کی خبر نہیں تھی۔ یہاں تک کہ اسے اپنے بھائی کی صرف ایک بیٹی کے بارے میں معلوم تھا باقی دو بیٹیوں کا بھی علم نہیں تھا جبکہ دوسری طرف ڈاکٹر عمر کی بیوی کے باپ کو بھی اپنی بیٹی کی اتنے عرصے سے کوئی خیر خبر نہیں تھی۔

سوچنے کی بات ہے کہ رشتے آخر اتنے بے حس اور بے خبر کیسے ہو جاتے ہیں؟
کہ پانچ چھ سال انسان کو اپنے ہی بہن بھائی اور بے حسی کے مارے والدین کو اپنی ہی اولاد کی زندگی کی خبر نہیں ہوتی؟
جیسے ڈاکٹر عمر کے سسر کو اپنی بیٹی کی کوئی فکر نا تھی۔۔۔۔۔۔

انسان جب تکلیف میں ہوتا ہے نا، اسے اپنے اللہ کے بعد اپنے قریبی لوگوں ہی سے امید ہوتی ہے کہ میرے مشکل وقت میں یہی میرے کام آئیں گے۔ لیکن اگر ایک انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ میرے اپنے ہی مجھے چھوڑ چکے ہیں، میرے ماں باپ، تو فوت ہو چکے میرے بہن بھائیوں کو میری اور میرے بچوں کی کوئی پرواہ نہیں، میری بیوی کے گھر والوں کو بھی کوئی پرواہ نہیں تو اس شخص کی بے بسی کا عالم ہم شاید کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے۔۔۔۔۔

اگر یہ خودکشی تھی تو سوچنے کی بات ہے کہ وہ کس حد تک مجبور اور تنہا محسوس کر رہا ہوگا کہ شاید اس کے ذہن میں یہ آیا ہو کہ میں تو چلا جاؤں گا، لیکن میرے بعد میری بیوی اور بیٹیوں کا کیا ہوگا؟
کون ان کا سہارا بنے گا؟
اگر اسے یہ احساس ہوتا کہ میرے پیچھے میرے اپنے لوگ ہیں، میری بیوی کے اپنے ہیں، میرے بچوں کے لیے کوئی کھڑا ہو گا تو شاید کہانی کچھ اور ہوتی۔

اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب یہ پانچوں لوگ دنیا سے چلے گئے تو رشتے، ناراضگیاں، خاندانی مسائل، انا، فاصلے سب اپنی جگہ رہ گئے۔ انسان چلا گیا مسئلے رہ گئے۔

ایک بات جس نے مجھے سب سے زیادہ سوچنے پر مجبور کیا، وہ یہ ہے کہ دونوں بھائیوں کی بیویاں آپس میں بہنیں تھیں۔ یعنی دو خاندانوں کے درمیان ایک نہیں، کئی رشتے موجود تھے۔ لیکن اگر انہی رشتوں میں جائیداد، انا، حسد، بغض یا ناراضی اس حد تک آ جائے کہ بھائی بھائی سے اور بہن بہن سے برسوں رابطہ ختم کر لے، تو پھر یہ صرف ایک گھر کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ ہمارے معاشرتی رشتوں کی ایک بہت تلخ تصویر بن جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے کی بڑھتی ہوئی بے حسی کی انتہا کی نشان دہی کرتا ہے

میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جب دیورانیاں، جٹھانیاں بن کر بہنیں ایک گھر میں آتی ہیں تو یا تو ان کی محبت لازوال ہوتی ہے یا پھر اگر حسد اور مقابلہ آ جائے تو نفرت بھی اتنی ہی گہری ہو جاتی ہے۔ اور یہاں بھی چونکہ دونوں بھائیوں کی بیویاں خود بہنیں تھیں، اس لیے یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کہیں ان رشتوں کے اندر کے اختلافات نے ہی تو سب کچھ اتنا پیچیدہ نہیں کر دیا تھا؟
کیونکہ مردوں میں اختلاف ہو بھی جائے تو اکثر اتنی لمبی اور گہری دشمنی تک نہیں جاتا، جتنا عورتوں کے درمیان حسد اور بغض رشتوں کو توڑ دیتا ہے، عورت ذات کا بغض حسد بہت سے خاندانوں کو لے ڈوبتا ہے جیسے ڈاکٹر سید رسول مرحوم کے خاندان کو کے ڈوبا۔

اور پھر کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر کی بیوی پڑھی لکھی اور نرسنگ کے شعبے سے وابستہ رہ چکی تھیں تو وہ کام کر سکتی تھیں۔ لیکن ہمیں کیا معلوم وہ بیچاری خود کس ذہنی اذیت سے گزر رہی تھیں؟
ایک طرف شوہر کی بیماری،
دوسری طرف مالی مشکلات،
اوپر سے اپنوں کی بے رخی اور تنہائی۔
ضروری نہیں کہ ڈگری رکھنے والا انسان ہر دکھ کا مقابلہ کرنے کے لیے ذہنی طور پر بھی اس وقت مضبوط ہو۔

مرنے والے تو اس دنیا سے چلے گئے، لیکن اگر واقعی اپنوں کی بے رخی، حسد، انا اور برسوں کی دوری نے اس کہانی میں کوئی کردار ادا کیا ہے، تو جو لوگ آج زندہ ہیں، ان کے لیے شاید یہ سوچنے کا مقام ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد افسوس کرنا آسان ہے، لیکن اس کے زندہ ہوتے ہوئے اس کا اپنا ہونا زیادہ ضروری تھا۔

جو لوگ اس دنیا سے چلے گئے وہ واپس نہیں آ سکتے۔ لیکن اس واقعے سے جو لوگ آج زندہ ہیں وہ سبق حاصل کر سکتے ہیں، وہ اپنے رشتوں کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں، اناؤں اور مفادات کو سائیڈ پہ رکھ کے اپنی ناراضگیاں ختم کر سکتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مرنے والے کے جنازے میں کھڑے ہو کر رونا بہت آسان ہے، مگرمچھ کے آنسو بہانا بہت بڑی کاریگری ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس انسان کے زندہ ہوتے ہوئے کبھی اس کا ہاتھ تھاما تھا؟
سوچنے کی بات ہے اگر انکے رشتہ داروں کی اس قدر بے رخی بے حسی کی وجہ سے وہ سب اس بے وفا دنیا کو چھوڑ گئے تو آخرت میں کیا جواب دے پائیں گے؟

Rozina Karamat

ضلع بہاولنگر کی انتہائی میرا زمین110 ایکڑ مناسب قیمت زرعی رقبہوافر نہری پانی زمینی پانی میٹھالوکیشن: ڈھاباں ملک نہر کا ر...
02/10/2026

ضلع بہاولنگر کی انتہائی میرا زمین
110 ایکڑ مناسب قیمت زرعی رقبہ
وافر نہری پانی زمینی پانی میٹھا
لوکیشن: ڈھاباں ملک نہر کا رقبہ
سیم و کلر کا نام و نشان نہیں
قیمت صرف 30 لاکھ روپے
معزز خریدار رابطہ کریں

حبیب کھچی والا - 03186980187

01/10/2026
تین لاکھ کا کباڑ یا موٹر سائیکل؟پلاسٹک کی باڈی، ایک بیٹری، چارجر اور دو ٹائر… مگر قیمت لاکھوں روپے!سوال یہ ہے کہ آخر ہم ...
27/09/2026

تین لاکھ کا کباڑ یا موٹر سائیکل؟
پلاسٹک کی باڈی، ایک بیٹری، چارجر اور دو ٹائر… مگر قیمت لاکھوں روپے!
سوال یہ ہے کہ آخر ہم صرف لش پش، نمود و نمائش اور دوسروں کی دیکھا دیکھی میں اتنی بڑی رقم کیوں خرچ کر رہے ہیں؟
اور سوچ نہیں رہے کہ ہمیں مل کیا رہا؟
اگر دوسرے کے بچے کے پاس ہے تو میرے گھر میں بھی ہونی چاہیے، چاہے قیمت اور کارکردگی دونوں ہی سوالیہ نشان کیوں نہ ہوں۔
جب تقریباً دو لاکھ روپے میں ایک مضبوط ہنڈا موٹر سائیکل مل جاتی ہے تو پھر یہ سٹوکڑی اتنی مہنگی کیوں؟
کیا کوئی اس کی قیمت، معیار اور کارکردگی کو سامنے رکھ کر سوال کرے گا؟
کھلا چیلنج
یہ سٹوکڑی دو سال چلا کر اسکی بچت ثابت کرو۔
#سٹوکڑی #مہنگائی #دکھاوا

Address

412 Metro Height, Sector C, Bahria Town
Lahore
54000

Telephone

+923067544557

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Habib Urrehman Jutt posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Habib Urrehman Jutt:

Shortcuts

Share