Roshni Ka Safar

Roshni Ka Safar رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ کی قسم اگر The "five pillars" of Islam:
In Islam, faith and good works go hand-in-hand. Control your tongue..
9.

A mere verbal declaration of faith is not enough, for belief in Allah makes obedience to Him a duty. The Muslim concept of worship is very broad. Muslims consider everything they do in life to be an act of worship, if it is done according to Allah's guidance. There are also five formal acts of worship which help strengthen a Muslim's faith and obedience. They are often called the "Five Pillars of

Islam."
--------->Testimony of faith (Shahaadah or Kalima)
--------->Prayer (Salat)
--------->Almsgiving (Zakat)
---------> Fasting (Sawm)
--------->Pilgrimage (Hajj).
1. Pray to Allah and be confident of a response.
2. Lord i pray for your guidance and your deliverance now until then.
3. God puts people in your life for a reason, and removes them from your life for a better reason.
4. If you feel uncomfortable about something, then leave it alone.
5. If someone who is distinguished among his own people comes to you, then honor him..
6. Cheer people up, do not put them down.
7. Do not betray the one who betrays you.
8. The less your wealth, the less you will be called to account for.
10. Fear the prayer of the oppressed.
11. Do not laugh too much, for excessive laughter deadens the heart.
12. Love for other people what you love for yourself.
13. Keep away from prohibited things and you will be among the best of worshippers.
14. Follow up a bad deed with a good deed, to waive it out.
15. Fear Allah wherever you may be…1
16. Obey Allah and Allah will reward you.

05/11/2025

پرانے زمانے کے ایک بادشاہ نے غلاموں کے بازار میں ایک غلام لڑکی دیکھی جس کی بہت زیادہ قیمت مانگی جا رہی تھی. بادشاہ نے لڑکی سے پوچھا آخر تم میں ایسا کیا ہے جو سارے بازار سے تمہاری قیمت زیادہ ہے. لڑکی نے کہا بادشاہ سلامت یہ میری ذہانت ہے جس کی قیمت طلب کی جا رہی ہے.

بادشاہ نے کہا اچھا میں تم سے کچھ سوالات کرتا ہوں. اگر تم نے درست جواب دئے تو تم آزاد ہو لیکن اگر جواب نہ ہوا تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا. لڑکی آمادہ ہوگئی تب بادشاہ نے پوچھا :
سب سے قیمتی لباس کونسا ہے.؟
سب سے بہترین خوشبو کونسی ہے.؟
سب سے لذیذ کھانا کونسا ہے.؟
سب سے نرم بستر کونسا ہے.؟ اور سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے.؟

لڑکی نے غلاموں کے بازار کے تاجر سے کہا میرا گھوڑا تیار کرو کیونکہ میں آزاد ہونے لگی ہوں. پھر پہلے سوال کا جواب دیا. سب سے قیمتی لباس کسی غریب کا وہ لباس ہے جس کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا لباس نہ ہو. یہ لباس پھر سردی گرمی عید تہوار ہر موقع ہر چلتا ہے.
سب سے خوبصورت خوشبو ماں کی ہوتی ہے بھلے وہ مویشیوں کا گوبر ڈھونے والی مزدور ہی کیوں نہ ہو اس کی اولاد کیلئے اس کی خوشبو سے بہترین کوئی نہ ہوگی.

لڑکی نے کہا سب سے بہترین کھانا بھوکے پیٹ کا کھانا ہے. بھوک ہو تو سوکھی روٹی بھی لذیذ لگتی ہے. دنیا کا نرم ترین بستر بہترین انصاف کرنے والے کا ہوتا ہے. ظالم کو ململ و کمخواب سے آراستہ بستر پر بھی سکون نہیں ملتا. یہ کہہ کر لڑکی گھوڑے پر بیٹھ گئی. بادشاہ جو مبہوت یہ سُن رہا تھا اچانک اس نے چونک کر کہا لڑکی تم نے ایک سوال کا جواب نہیں دیا. سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے.؟

لڑکی نے کہا بادشاہ سلامت دنیا کا سب سے خوبصورت ملک وہ ہے جو آزاد ہو. جہاں کوئی غلام نہ ہو اور جہاں کے حکمران ظالم اور جاہل نہ ہوں. لڑکی کے اس آخری جواب میں انسانیت کی ساری تاریخ کا قصہ تمام ہوتا ہے.

آپ کے فون میں محفوظ تمام نمبرز بیکار ہیں، یہ بات عید کا دن ثابت کرتا ہے، آپ کی سالگرہ کا دن ثابت کرتا ہے، آپ کو ملنے وال...
04/09/2025

آپ کے فون میں محفوظ تمام نمبرز بیکار ہیں، یہ بات عید کا دن ثابت کرتا ہے، آپ کی سالگرہ کا دن ثابت کرتا ہے، آپ کو ملنے والی کامیابی کا دن ثابت کرتا ہے اور آپ پر آنے والی مصیبت کا دن ثابت کرتا ہے۔
یہ نمبرز صرف فہرست میں موجود ہیں رشتوں میں نہیں، وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے فون کی فہرستوں سے زیادہ دل کی فہرست پر نظر ڈالیں۔🙂

03/09/2025

موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ہیں جن کا تذکرہ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ‏(ﺳﻮﺭة النبأ‏ 40 #)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۲- * يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ‏( ﺍﺧﺮﯼ ‏) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
‏( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 ‏)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍللہ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73‏)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﭨﮭﯿﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ
‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ جن کا ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺍسی لئے ﺯﻧﺪﮔﯽ میں ہی اپنے عقائد و عمل کا ﺍﺻﻼﺡ کرنا ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ہمیں ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎئے۔
آﻣِﻴﻦ ﻳَﺎ ﺭَﺏَّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﻴْﻦ

30/08/2025

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحبة

إمراءة :
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :

1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
" امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،

اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے

(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)

یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا

2- زوجة :
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے

( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )

اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا

( يأيها النبي قل لأزواجك .... )

شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا

ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
( و امراتي عاقرا .... )

اور جب أولاد مل گئی تو بولا

( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )

اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں

اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر

( وامرءته حمالة الحطب )

كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا

3- صاحبة :
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے

(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)

اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا

( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )

كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا

اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا

ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے

اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا

‎( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )

"وأزواجنا"

زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو
تحریر پڑھنے کے بعد شیئر ضرور کیجۓ

🍁🍁🍁میچورٹی، شعور کی پختگی اور کردار کی مضبوطی کا نام ہے، اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان نظر انداز کرنے کا فن سیکھ ...
04/08/2025

🍁🍁🍁
میچورٹی، شعور کی پختگی اور کردار کی مضبوطی کا نام ہے، اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان نظر انداز کرنے کا فن سیکھ جاتا ہے. نظر انداز کرنے کا فن کیا ہے؟ جاہلوں کے جہل کو نظر انداز کرنا، اشتعال انگیز باتیں کرنے والے اور بلا مقصد کی لفاظی جھاڑنے والوں کو نظر انداز کرنا، لچھے دار باتوں میں الجھانے والوں کو نظر انداز کرنا، انسان کی بشری کوتاہیوں کو نظر انداز کرنا، اور نظر انداز کرنے والے کو نظر انداز کرنا. میچورٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کسی کی ذہنی غلاظت کو جاننے کی نہ صرف صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ اپنے ذہن کو اس غلاظت سے آلودہ ہونے سے بچاتے بھی ہیں۔ جس طرح صحتمند انسان کی خوراک آلائشوں سے پاک ہوتی ہے ویسے ہی صحتمند دماغ کے لیے فکری غذا کا پاکیزہ ہونا بے حد اہم ہے...

‏جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔...
29/06/2025

‏جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔

تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔ حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللّٰہ پاک اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔

حضرت عمرؓ نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا، کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللّٰہ کی قسم دے کر کہتا ہوں! کیا اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟

یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا! یہ میرے پاس رسول اللّٰہ ﷺ کا راز ہے جو کسی کو نہیں بتا سکتا۔ آپ نے پھر پوچھا! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیں،

اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟
حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں اے عمرؓ! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا وہ کیا ہے ابا جان؟

حضرت عمرؓ نے فرمایا! بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔ لہزا ام المؤمنين حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں؟

کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔ تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔

عبداللہ ابنِ عمرؓ شاداں و فرحان واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے کہا ابا جان لیکن حضرت عمرؓ نے بات کاٹنے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللّٰہ پاک نے اسے نہ بخشا۔

حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے،،،

اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن یمان پر نظر رکھنا اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کرے، تو میری میت روضہ رسول ﷺ کی طرف لے جانا۔

اور میرا جنازه روضة الرسول ﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوباره اجازت طلب کرنا اور کہنا،،،

اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنين، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔

عبداللہ ابنِ عمرؓ کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہ
کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول ﷺ کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "اے ہماری ماں آپ کا بیٹا عمر دروازے پر
ہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟

ام المؤمنین نے جواب دیا! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسول ﷺ سے باہر نکل آئیں۔

اللّٰہ پاک راضی ہو حضرت عمرؓ سے زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللّٰہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللّٰہ کے سامنے حساب دہی اتنا خوف ہمارا کیا بنے گا؟

ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا۔مشکل سے گزر بسر ہو رہی تھی۔ اس ک...
12/06/2025

ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا۔
مشکل سے گزر بسر ہو رہی تھی۔ اس کے پاس رہنے کو نہ گھر تھا۔ نہ بیوی تھی نہ بچے تھے۔ صرف ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی۔ جب رات ہوتی تو وہ ایک بند سکول کے باہر چادر بچھاتا، تکیہ رکھتا اور سو جاتا.

ایک دن صبح کے وقت گاؤں میں سیلاب آ گیا۔ اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور و غل تھا۔
وہ اٹھا اور سکول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا. چادر بچھائی، دیوار کے ساتھ تکیہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے لگا۔

لوگ اپنا سامان، گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے. کوئی نقدی لے کر بھاگ رہا ہے، کوئی زیور کوئی بکریاں لے کر بھاگ رہا ہے۔

اسی دوران ایک شخص بھاگتا آ رہا تھا اس نے سونے کے زیور پیسے اور کپڑے اٹھا رکھے تھے۔ جب وہ شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اوراسے سکون سے لیٹے ہوئے دیکھا توغصے سے بولا!
" اوئے ساڈی ہر چیز اجڑ گئی اے۔ ساڈی جان تے بنی اے، تے تو ایتھے سکون نال لما پیا ہویا ایں"۔۔

یہ سن کرنائی بولا!
*"لالے اج ای تے غربت دی چس آئی اے"*

جب میں نے یہ کہانی سنی تو ہنس پڑا مگر پھر ایک خیال آیا کہ شاید روز محشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔ جب تمام انسانوں سے حساب لیا جائے گا۔
ایک طرف غریبوں کا حساب ہو رہا ہو گا۔ دو وقت کی روٹی، کپڑا۔حقوق اللہ اور حقوق العباد۔

ایک طرف امیروں کا حساب ہو رہا ہو گا۔ پلازے، دکانیں، فیکٹریاں، گاڑیاں، بنگلے، سونا اور زیوارات. ملازم ۔ پیسہ ۔ حلال حرام ۔ عیش و آرام ۔ زکوۃ ۔ حقوق اللہ۔ حقوق العباد۔۔۔

اتنی چیزوں کا حساب کتاب دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔
تب شاید اسی نائی کی طرح غریب ان امیروں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور شاید دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔!

*"اج ای تے غربت دی چس آئی اے ۔۔۔"*

04/05/2025
1857 کی جنگ آزادی اور پنجاب میں انگریزوں کے مخبر و انعام یافتہ خاندانﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ...
04/05/2025

1857 کی جنگ آزادی اور پنجاب میں انگریزوں کے مخبر و انعام یافتہ خاندان

ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﺮﺍﺏ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﯽ ﮈﮔﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ہﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ہے ...
"Punjab and the War of Independence 1857"
ﺍﺱ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮈﺍﻟﯽ ہﮯ . ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ، ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﮍﯼ ﺟﺎﮔﯿﺮﯾﮟ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺎﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ اور ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭﻧﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺌﮯ-

ﺍﺱ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻭﮦ ہیںﺟﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﮯ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﯽ ﻧﻮﺍﺯﺷﺎﺕ ﺳﮯ ﻓﯿﻀﯿﺎﺏ ﮬﻮﺋﮯ۔ ﯾﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ہر ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ-

Griffin punjab chifs Lahore ;1909
سے ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺩﮦ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﯿﺪ ﯾﻮﺳﻒ ﺭﺿﺎ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﯿﺪ ﻧﻮﺭ ﺷﺎﮦ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ 300 ﺭﻭﭘﮯ ﺧﻠﻌﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺪ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ-

Proceeding of the Punjab Political department no 47, June 1858
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﮩﺎﺅﺍﻟﺪﯾﻦ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ 20 ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﻓﺮﺍﮬﻢ ﮐﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ 25 ﺁﺩﻣﯽ ﻟﯿﮑﺮﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺋﮯ-

ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺭﮬﮯ- ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﮬﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ 1750 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻍ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺁﻣﺪﻥ 150 ﺭﻭﭘﮯ ﺗﮭﯽ-

ﺟﻮ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﺎ ﮬﮯ ﻭﮬﯽ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﭼﻮﮬﺪﺭﯼ ﻧﺜﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﭼﻮﮬﺪﺭﯼ ﺷﯿﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﺎ ﮬﮯ- ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺨﺒﺮﯼ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺷﯿﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﺭﯾﻮﻧﯿﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﻨﺪﻭﻗﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺍﻭﺭ 500 ﺭﻭﭘﮯ ﺧﻠﻌﺖ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ-

Gujranwala Guzts 1935-36 Govt of Punjab
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﺎﻣﺪ ﻧﺎﺻﺮ ﭼﭩﮭﮧ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺧﺪﺍ ﺑﺨﺶ ﭼﭩﮭﮧ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮑﻠﺴﻦ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ-

ﻗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﺧﯿﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺧﺎﻥ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺷﯿﺪ ﻗﺼﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ 100 ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﮧ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﺘﯿﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺍ۔ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ 2500 ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﮬﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﭘﻨﺸﻦ ﺩﯼ-

تحریک آزادی کے ایک روح رواں ﺍﺣﻤﺪ ﺧﺎﮞ ﮐﮭﺮﻝ ﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺑﮍﮬﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺟﻠﺪ ﯾﺎ ﺑﺪﯾﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﯾﺎ ﮐﮭﺮﻝ ﺳﮯ ﺟﺎ ﻣﻠﮯ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ 10 ﺟﻮﻥ 1857 ﺀ ﮐﻮ ﻣﻠﺘﺎﻥ ﭼﮭﺎﺅﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ 69 ﮐﻮ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﮯ ﺷﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﮐﻤﺎ ﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﻣﻊ ﺩﺱ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻮﭖ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﮌﺍﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﺟﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﻘﯿﮧ ﻧﮩﺘﮯ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﮐﻮ ﺷﺒﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭨﻮﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭﺗﮧ ﺗﯿﻎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺑﺎﺭﮦ ﺳﻮ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯿﺎ- ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﺮ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺎﺅﻧﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﻞ ﺷﻮﺍﻟﮧ ﭘﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺑﮩﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻧﮩﺘﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ- ﯾﮧ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﻟﮑﮍ ﺩﺍﺩﺍ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻥ ﮨﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ-

ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻏﯽ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﭼﻨﺎﺏ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺷﯿﺮ ﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻋﻠﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ- ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺩﯼ ﮐﭽﮫ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﺟﺎﻥ ﺑﺤﻖ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﭻ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﮔﺌﮯ ۔ ﭘﺎﺭ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺪ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻗﺘﺎﻝ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﺁﻑ ﺟﻼﻝ ﭘﻮﺭ ﭘﯿﺮﻭﺍﻟﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ- ﺟﻼﻝ ﭘﻮﺭ ﭘﯿﺮﻭﺍﻟﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﻋﻠﯽ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﯽ ﺁﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭨﻮﻟﯽ ﺷﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮ ﻧﮕﺎﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺟﺴﮯ ﭘﯿﺮ ﻣﮩﺮ ﭼﺎﮦ ﺁﻑ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮﺭﻧﮕﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭﻟﻨﮕﺮﯾﺎﻝ، ﮨﺮﺍﺝ، ﺳﺮﮔﺎﻧﮧ ﺗﺮﮔﮍ ﺳﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻦ ﭼﻦ ﮐﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ-

ﻣﮩﺮ ﺷﺎﮦ ﺁﻑ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮﺭﻧﮕﺎ ﺳﯿﺪ ﻓﺨﺮﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﮍﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺳﮕﺎ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﺎ ۔ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻓﯽ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺷﮩﯿﺪ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﺲ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﻘﺪ ﺍﻭﺭﺍﯾﮏ ﻣﺮﺑﻊ ﺍﺭﺍﺿﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ-ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﻮ 1857 ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﭽﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﺒﻠﻎ ﺗﯿﻦ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﻘﺪ ﺟﺎﮔﯿﺮﺳﺎﻻﻧﮧ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻣﺒﻠﻎ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﺕ ﺳﻮﺍﺳﯽ ﺭﻭﭘﮯ ﺁﭨﮫ ﭼﺎﮨﺎﺕ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮﺭﻭﭘﮯ ﺗﮭﯽ ﺑﻄﻮﺭ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺩﻭﺍﻡ ﻋﻄﺎﮨﻮﺋﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﯾﮧ ﮐﮧ 1860 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺋﺴﺮﺍﺋﮯ ﮨﻨﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﮕﯽ ﻭﺍﻻ ﺑﺎﻍ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻋﻠﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﻮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﭼﻨﺎﺏ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﺳﯿﻊ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ-

ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﮐﻞ ﮐﮯ ﻣﺨﺒﺮ ﺁﺝ ﮐﮯ قابض سیاستدان

ارب پتی بل گیٹس، جن کی دولت 107 ارب ڈالر ہے، نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو صرف 1 فیصد دولت دے گئے۔ بل گیٹس نے کہا:...
25/04/2025

ارب پتی بل گیٹس، جن کی دولت 107 ارب ڈالر ہے، نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو صرف 1 فیصد دولت دے گئے۔

بل گیٹس نے کہا:
"میرے بچوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور بہترین ماحول میں پرورش پائی ہے، لیکن میرا نہیں خیال کہ انہیں بےتحاشہ دولت وراثت میں دینا ان کے لیے طویل مدت میں فائدہ مند ہوگا۔

میں نہیں چاہتا کہ میری فیملی ایک موروثی امیر خاندان میں بدل جائے۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے خود اپنی محنت سے کامیابی حاصل کریں۔

میری دولت کا بڑا حصہ فلاحی کاموں اور ان لوگوں کی مدد میں خرچ ہوگا جو واقعی ضرورت مند ہیں۔"

یاد رہے کہ ان کی دولت کا 1 فیصد بھی تقریباً ایک ارب ڈالر بنتا ہے۔

21/04/2025

اصلاح کرنے والوں سے تعلق مت توڑیں
زندگی میں وہ لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں جو آپ کو آئینہ دکھاتے ہیں، جو آپ کی اصلاح کرتے ہیں، آپ کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، اور آپ کو بہتر انسان بننے کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ نعمت ہوتے ہیں — ان کی باتیں شاید کڑوی لگیں، مگر وہ دل کی گہرائی سے آپ کی بھلائی چاہتے ہیں۔
آج کے دور میں جہاں چاپلوسی عام ہے اور سچ بولنے والے کم، وہاں اگر کوئی آپ کے سامنے سچ کہہ دے، تو اسے کھونا مت۔ ان سے فاصلہ مت بڑھائیں۔ ان کا دامن تھامے رکھیں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کو گمراہی سے بچاتے ہیں، اور روشنی کی طرف لے جاتے ہیں۔
اسی طرح ایسی مجلسیں، محفلیں، اور گروپ جہاں سے علم ملتا ہو، خیر کی باتیں سننے کو ملتی ہوں، دل کا سکون اور روح کی غذا ملتی ہو — انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ وقت نکال کر ان محفلوں میں شریک ہوں، کیونکہ علم وہ چراغ ہے جو ہر اندھیرے کو روشن کر دیتا ہے۔
یاد رکھیں! دنیا کے تعلق وقتی ہوتے ہیں، مگر وہ لوگ اور وہ جگہیں جو آپ کی اصلاح اور آپ کی روح کی پرورش کا ذریعہ بنیں، وہی اصل خزانہ ہیں۔
تعلق رکھیں... ان لوگوں سے جو آپ کو بہتر بناتے ہیں۔
بیٹھک رکھیں... وہاں جہاں آپ کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔
محبت رکھیں... ان محفلوں سے جہاں سے خیر پھوٹتی ہے۔

Address

Lahore
0092

Telephone

+966144423034

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Roshni Ka Safar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Roshni Ka Safar:

Share