Gawadar Estate

Gawadar Estate We believe in the assets of PAKISTAN. Gawadar and its land is one of them! Invest in the future of

31/03/2021
گوادر نیوز۔سمندری غذا پر مشتمل 8 کنٹینرز کی پہلی کھیپ کو گوادر پورٹ پر ایم وی ایسپرنزا پر چین کے لئے بھیج  دیا ہے۔ یہ کا...
28/11/2020

گوادر نیوز۔
سمندری غذا پر مشتمل 8 کنٹینرز کی پہلی کھیپ کو گوادر پورٹ پر ایم وی ایسپرنزا پر چین کے لئے بھیج دیا ہے۔
یہ کامیاب بین الاقوامی ٹرانشپمنٹ بین الاقوامی کاروبار کے لئے ہماری تیاری کا ثبوت ہے۔

گوادر بندرگاہ کے سی پیک میں اہم کردار کے حامی ہیں، چین کا ایک بارپھرعزم مصمّمبیجنگ: گوادر بندرگاہ کے سی پیک میں اہم کردا...
26/11/2020

گوادر بندرگاہ کے سی پیک میں اہم کردار کے حامی ہیں، چین کا ایک بارپھرعزم مصمّم

بیجنگ: گوادر بندرگاہ کے سی پیک میں اہم کردار کے حامی ہیں، چین کا ایک بارپھرعزم مصمّم ،اطلاعات کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ چین علاقائی تجارت میں گوادر بندرگاہ کی پاک چین اقتصادی راہداری کے اہم جز کی حیثیت سے زیادہ سے زیادہ کردار کی حمایت کرتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اسلام آباد میں چینی سفارتخانے میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن کے عہدے کے دوران میں نے گوادر پورٹ کا 6 بار دورہ کیا اور گوادر بندرگاہ کے تعمیراتی کاموں کو متاثر کن پایا تھا۔

ترجمان ژاؤ لیجیان نے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے مزید کہا کہ 200 ٹن مچھلیوں کے ریفریجریٹر کنٹینروں سے لدے جہاز کی گوادر پورٹ پر پہنچنے اور پھر چین روانگی وزیر اعظم پاکستان کے خصوصی اقدامات کا نتیجہ ہے فرحاج ایسوسی ایٹس

ترجمان وزارت خارجہ نے گوادر بندرگاہ پر مچھلی کے پہلے کنٹینر کی آمد اور عالمی راہداری کی سرگرمیوں کے آغاز پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ نئی ​​پیشرفت پر خوشی ہے اور چین تجارت اور سامان سے متعلق علاقائی تعاون میں گوادر بندرگاہ کے زیادہ سے زیادہ کردار کی حمایت کرتا ہے۔

چینی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ گوادر میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مقامی سطح پر ایک ڈائریکٹوریٹ بھی تشکیل دیدیا گیا ہے تاکہ گوادر بندرگاہ کو بڑے ٹرانزٹ ٹریڈ مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کیا جاسکے۔

ژاؤ لیجیان نے انکشاف کیا کہ مستقبل قریب میں ایل پی جی، اسٹیل پائپس اور افغانستان کے لیے ڈی اے پی کھاد سمیت عالمی کارگو پر مشتمل مزید جہازوں کو بھی گوادر بندرگاہ پہنچنا ہے۔

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے صرف چین اور پاکستانی عوام کو معاشی فوائد حاصل نہیں ہو رہے ہیں بلکہ دونوں ممالک کو علاقائی رابطے اور معاشی تعاون کی بھی سہولت میسر آگئی ہے

گوادر پورٹ پر ایل پی جی ٹینکرز کھڑے ہیں۔
23/11/2020

گوادر پورٹ پر ایل پی جی ٹینکرز کھڑے ہیں۔

12/07/2019

*احتجاج - احتجاج*

آج بروز جمعہ 12 جولائی اور بروز ہفتہ 13 جولاہی مانبر ہاسنگ اسکیم سنگار ہاوسنگ میں فیسوں کے ناجاہز اضافے اور اپنے دیگر مطالبات کے حق میں شٹر ڈاون ہڑتال اور صبح 10 بجے گوادر رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے سید ہاشمی ایونیو سے ڈپٹی کمشنر آفس تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔اور ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جاہیگا
*ترجمان گوادر رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن*

21/05/2018

گوادر کی ہیرو ۔۔۔۔ایک مادر مہربان
لالہ صحرائی

آج کون کون جانتا ہے کہ پاکستان کیلئے لازوال محبت و ایثار کا جذبہ رکھنے والی ایک عظیم خاتون نے اپنی مدمقابل چار عالمی طاقتوں سے ایک قانونی جنگ لڑ کر 15 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل گوادر جیسی اہم ترین کوسٹل اسٹیٹ پاکستان میں ضم کروائی تھی۔

دو بلوچی الفاظ گوات بمعنی کھلی ہوا اور در بمعنی دروازہ کا مرکب جو عرف عام میں گوادر کہلاتا ہے یہ 1956 تک عالمی استعمار کے اس ناجائز قبضے میں تھا جس کی داستان احسان فراموشی اور عیاری کا ایک نادر نمونہ ہے۔

گوادر اسٹیٹ اٹھارہویں صدی کے، خان آف قلات، میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھی لیکن اس علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھنا خان صاحب کیلئے کافی مشکل ثابت ہو رہا تھا جس کی وجہ گچکی قبائل کی شورشیں تھیں کیونکہ ماضی میں وہ بھی اس علاقے کے حکمران رہ چکے تھے اور اسے واپس حاصل کرنا چاہتے تھے۔

خان صاحب نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک معاہدے کے تحت اس علاقے کا کنٹرول ہی گچکی قوم کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ اس علاقے میں امن قائم رہے، معاہدے کے تحت یہ طے پایا کہ یہ علاقہ خان آف قلات کی جاگیر میں ہی شامل رہے گا اور اس کا آدھا ریوینیو بھی خان صاحب کو دیا جائے گا لیکن اس کا انتظام سارا گچکی قبائل کے ہاتھ میں رہے گا، یہ معاہدہ 1783 تک قائم رہا۔

1783 میں عمان کا حکمران اپنے بھائی سے شکست کھا کر دربدر ہوا تو اس نے خان آف قلات سے جائے پناہ کی درخواست کی، اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے ایک نئے معاہدے کے تحت 2400 مربع میل پر پھیلا ہوا یہ اینکلیو سلطان آف عمان کو سونپ دیا گیا۔

اس نئے معاہدے کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ گوادر حسب دستور خان آف قلات کی جاگیر میں ہی شامل رہے گا اور اس کا کنٹرول بھی حسب سابق گچکی سرداروں کے پاس ہی رہے گا البتہ ریوینیو کا وہ آدھا حصہ جو خان صاحب کو جاتا ہے وہ اب خیر سگالی کے طور پر سلطان آف عمان کو دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی گزر اوقات باآسانی کر سکے تاہم جب سلطان کو اس جائے پناہ کی ضرورت نہ رہے تو اس کے تمام حقوق بھی حسب سابق خان آف قلات کے پاس واپس چلے جائیں گے۔

قریباً پندرہ سال بعد عمان پر دوبارہ فتح پانے کے بعد سلطان اپنے پایۂ تخت واپس لوٹ گیا لیکن گوادر کو حسب معمول اس نے اپنے ہاتھ میں ہی رکھا، خان صاحب شائد اس دوران فوت ہو گئے تھے یا مروتاً قبضہ نہیں مانگا بہرحال تقریباً دس سال بعد جب سلطان کی وفات بھی ہوگئی تو خان صاحب کے ورثاء نے گوادر کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا۔

حکومت عمان کے انکار پر انہوں نے بزور قوت قبضہ کرلیا جسے سلطان کی سپاہ نے آکر چھڑا لیا، اگلے بیس سال میں یہ چشمک جب زیادہ بڑھ گئی تو اس قضیے کو نمٹانے کیلئے برٹش کالونیل ایڈمنسٹریشن نے ثالثی کے بہانے مداخلت کی لیکن انصاف کرنے کی بجائے اسوقت کے سلطان آف عمان سے اپنے لئے کچھ مراعات لیکر قلات خاندان کا دعویٰ یہ کہہ کر عارضی طور مسترد کر دیا کہ بعض دیگر گواہیاں بھی ان کے سامنے آرہی ہیں جن کے مطابق یہ علاقہ عرصہ دراز سے سلطنت آف عمان کی جاگیر ہے بہرحال حتمی فیصلہ کسی کے حق میں بھی نہیں کیا۔

اس خدمت کے عوض برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ نے سلطنت عمان سے یہ ایگریمنٹ کیا کہ حتمی فیصلے تک گوادر کا انتظام برطانیہ کے پاس رہے گا اور حسب سابق عمان کو گوادر کا آدھا ریونیو ادا کیا جائے گا اور اپنی افواج گوادر میں داخل کر دیں یوں تقریباً سوا سو سال تک برطانیہ اس علاقے پر قابض رہا۔

قیام پاکستان کے بعد اس وقت کے خان آف قلات نے جب اپنی جاگیر پاکستان میں ضم کر دی تو پاکستان نے اسٹیک ہولڈرز سے گوادر کا معاملہ اٹھایا مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی، پھر جب ایک امریکی سروے کمپنی نے بتایا کہ گوادر کی بندرگاہ بڑے جہازوں کے لنگر انداز ہونے کیلئے بہت آئیڈیل ہے، علاوہ ازیں اس بندرگاہ سے سالانہ لاکھوں ٹن ایکسپورٹ ایبل سمندری خوراک بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس میں 35 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔

اس بات کی بھنک جن ایران کو پڑی تو انہوں نے اسے چاہ بہار کیساتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا، ایران میں ان دنوں شاہ ایران کا طوطی بولتا تھا اور سی۔آئی۔اے اس کی پشت پناہ تھی جو صدر نکسن کے ذریعے برطانیہ پر مسلسل دباؤ ڈالنے لگی کہ گوادر کو شاہ ایران کے حوالے کر دیا جائے۔

1956 میں ملک فیروز خان نون نے جب وزارت خارجہ سنبھالی تو ہر قیمت پر گوادر کو واگزار کرانے کا عہد کیا اور باریک بینی سے تمام تاریخی حقائق و کاغذات کا جائزہ لیکر یہ مشن محترمہ کو سونپ دیا۔

ان نازک حالات میں یہ پیکرِ اخلاص خاتون ایک چیمپئین کی طرح سامنے آئیں اور برطانیہ میں پاکستان کی لابنگ شروع کی، انہوں نے بھرپور ہوم ورک کرکے یہ کیس برطانیہ کے سامنے رکھا تاکہ ہاؤس آف لارڈز سے منظوری لیکر گوادر کا قبضہ واپس لیا جائے کیونکہ قلات خاندان کی جاگیر اب پاکستان کی ملکیت تھی لہذا ان کی جاگیر کے اس حصے کی وراثت پر بھی اب پاکستان کا حق تسلیم ہونا چاہئے نیز یہ کہ پاکستان وہ تمام جاگیریں منسوخ کر چکا ہے جو ریوینیو شئیرنگ یا معاوضے کی بنیاد پر حکومت برطانیہ نے بانٹیں تھیں، نیز یہ کہ اگر ہم اپنے قانون سے گوادر کی جاگیر منسوخ کرکے فوج کشی سے واگزار کرا لیں تو کامن ویلتھ کا ممبر ہونے کی وجہ سے برطانیہ ہمارے اوپر حملہ بھی نہیں کر سکتا۔

محترمہ نے دو سال پر محیط یہ جنگ تلوار کی بجائے محض قلم، دلائل، اور گفت و شنید سے جیتی، جس میں برطانیہ کے وزیراعظم میکملن جو ملک صاحب کے دوست تھے انہوں نے کلیدی رول ادا کیا، عمان کے سلطان سعید بن تیمور نے حامی تو بھر لی مگر سودے بازی کا عندیہ دیا۔

ملک صاحب جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے گوادر کے معاملے میں “ابھی نہیں یا کبھی نہیں” کا نعرہ لگایا، چھ ماہ کے اعصاب شکن مزاکرات کے بعد عمان نے تین ملین ڈالر کے عوض گوادر کا قبضہ پاکستان کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی، رقم حکومت پاکستان نے ادا کی،
اس سلسلے میں ملک صاحب اپنی خود نوشت سوانح حیات “چشم دید” میں لکھتے ہیں کہ جہاں ملک کی حفاظت اور وقار کا مسئلہ درپیش ہو وہاں قیمت نہیں دیکھی جاتی، ویسے بھی یہ رقم گوادر کی آمدنی سے محض چند سال میں ریکوور ہو جائے گی، آج جب برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر اکرام اللہ نے گوادر منتقلی کی دستخط شدہ دستاویز میرے حوالے کی تو اس وقت مجھے جو خوشی ہوئی آپ اس کا اندازہ نہیں کرسکتے، اسلئے کہ گوادر جب تک ایک غیر ملک کے ہاتھ میں تھا تب مجھے یوں محسوس ہوتا تھا گویا ہم ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جس کا عقبی کمرہ کسی اجنبی کے تصرف میں ہے اور یہ اجنبی کسی وقت بھی اسے ایک پاکستان دشمن کے ہاتھ فروخت کر سکتا ہے اور وہ دشمن بھی اس سودے کے عوض بڑی سے بڑی رقم ادا کر سکتا ہے۔

یوں دو سال کی بھر پور جنگ کے بعد 8 ستمبر 1958 کو گوادر کا 2400 مربع میل یا 15 لاکھ ایکٹر سے زائد رقبہ پاکستان کی ملکیت میں شامل ہو گیا۔

سن 2002 میں جنرل مشرف نے گوادر پورٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اب سی۔پیک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور بلاشبہ پاکستان کیلئے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔

آج ہر کوئی گوادر پورٹ اور سی۔پیک کا کریڈٹ تو لینا چاہتا ہے مگر اس عظیم محسن پاکستان کا نام کوئی نہیں جانتا جس نے دنیا کے چار طاقتور اسٹیک ہولڈرز، برطانوی پارلیمنٹ، سی۔آئی۔اے، ایران اور عمان سے چومکھی جنگ لڑ کے کھویا ہوا گوادر واپس پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا۔

مطالعہ پاکستان سے چڑنے والے لوگ پاکستان کے خلاف پیش گوئیاں کرنیوالے بابوں کو صرف اسی لئے پروموٹ کرتے ہیں کہ تعمیر پاکستان کو اپنا ایمان بنا کر انمٹ نقوش چھوڑ جانے والی تحریک پاکستان کی ان بیمثال ہستیوں سے نئی نسل کہیں متاثر نہ ہونے لگے، یہ وہ خوفناک مطالعہ پاکستان ہے جس سے کچھ لوگوں کو پسینے آجاتے ہیں۔

ایک اور اعلیٰ ظرفی دیکھئے کہ اس ملک میں جہاں ایک نلکا لگا کر بھی اس کا ڈھول پوری قوم کے آگے پیٹا جاتا ہے وہاں ان اعلیٰ ظرف ہستیوں نے اپنی اس بیمثال کامیابی کا ملک گیر جشن محض اسلئے نہیں منایا کہ سلطان آف عمان کی عزت نفس مجروح نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ قوم آج اس نابغہ روزگار کپل کو جانتے ہیں نہ ان کے اس عظیم کارنامے سے واقف ہیں۔

گوادر فتح کرنیوالی ملک و قوم کی یہ محسن محترمہ وقارالنساء نون ہیں جو پاکستان کے ساتویں وزیراعظم ملک فیروخان نون کی دوسری بیوی ہیں جن کی اس عظیم کاوش کا اعتراف نہ کرنا احسان فراموشی اور انہیں قوم سے متعارف نہ کرانا ایک بے حسی کے سوا کچھ نہیں۔

محترمہ کا سابقہ نام وکٹوریہ ریکھی تھا، آسٹریا میں پیدا ہوئیں، تعلیم و تربیت برطانیہ میں ہوئی، ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان سے ملاقات ہوئی، ملک صاحب کی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہو کر بمبئی میں ان کیساتھ شادی کی اور اپنا نام وکٹوریہ سے وقارالنساء نون رکھ لیا، پیار سے انہیں وکی نون بھی کہا جاتا ہے۔

محترمہ نے تحریک پاکستان کو اجاگر کرنے کیلئے خواتین کے کئی دستے مرتب کئے اور سول نافرمانی کی تحریک میں انگریز کی خضر حیات کابینہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے اور جلوس منظم کرنے کی پاداش میں تین بار گرفتار بھی ہوئیں۔

قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لْٹے پٹے مہاجرین کی دیکھ بھال کیلئے بڑا متحرک کردار ادا کیا، خواتین ویلفئیر کی اولین تنظیم اپوا کی بانی ممبران میں بھی آپ شامل ہیں، وقارالنساء گرلز کالج راولپنڈی اور وقارالنساء اسکول ڈھاکہ کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی، ہلال احمر کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں، ضیاء الحق کے دور میں، بطور منسٹر، ٹورازم کے فروغ کیلئے دنیا بھر کو پاکستان کی طرف بخوبی راغب کیا، پاکستان ٹؤرازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن انہی کی ایک نشانی ہے۔

پاکستان کی محبت میں ان کا جذبہ بڑھاپے میں بھی سرد نہ پڑا، برطانیہ میں مقیم ان کی بے اولاد بہن کی جائیداد جب انہیں منتقل ہوئی تو اس فنڈ سے انہوں نے “وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن” قائم کیا جو آج بھی سماجی خدمات کا چراغ جلائے ہوئے ہے۔

محترمہ کی وصیت کے مطابق اس فنڈ کا ایک حصہ ان نادار مگر ذہین طلبہ کو آکسفورڈ جیسے اداروں سے تعلیم دلوانے پر خرچ ہوتا ہے جو واپس آکر اس مملکت کی خدمت کرنے پر راضی ہوں۔

محترمہ وقارالنساء نون طویل علالت کے بعد 16 جنوری سن 2000ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، ایک عمرہ کرنے کے بعد انہوں نے وصیت کی تھی کہ مجھے غیر سمجھ کے چھوڑ نہ دینا بلکہ میری تدفین بھی ایک کلمہ گو مسلمان کی طرح انجام دینا۔

محترمہ کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی، ان کی حقیقی اولاد وہ پاکستانی ہیں جو حب الوطنی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔

محترمہ کو گوادر فتح کرنے پر 1959 میں سرکار کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز عطا کیا گیا مگر ان کا اصل انعام وہ عزت و احترام ہے جو ہم بطور قوم انہیں دے سکتے ہیں۔

آور بیکنز اور نوائے وقت کے ایک مضمون کے مطابق محترمہ وقارالنساء نون کے سوا کوئی پرائم منسٹر، کوئی صدر، کوئی جرنیل، کوئی وزیر، مشیر، سفیر ایسا نہیں جو گوادر فتح کرنے کا یہ عظیم کریڈٹ لے سکے۔

سابق وفاقی سکریٹری اطلاعات رشید چودھری صاحب کہتے ہیں وہ “مادر مہربان” تھیں جو ہمارے ساتھ سگی ماں سے بھی بڑھ کر پیار کرتی تھیں انہوں نے گوادر ہمیں دلوایا، وہ گوادر جو آج ساری دنیا میں مرکزِ نگاہ ہے۔

سلام محترمہ وقارالنساء نون
سلام اے مادرِ مہربان

خدا تیری لحد پر ہمیشہ شبنم افشانی کرے

29/07/2017

Nawaz's disqualification will not affect : China

affirmed its stance on the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) as its Foreign Ministry’s spokesperson Lu Kang on Friday said that Nawaz Sharif’s disqualification as prime minister would not affect the CPEC project.

On the Supreme Court of Pakistan’s verdict which disqualified Nawaz, Kang said that the ruling is Pakistan’s "internal affair" and would not affect bilateral ties between the two countries.

”As a friendly neighbour, China hopes that all parties and sections in Pakistan can prioritize state and national interests, properly deal with their domestic affairs, maintain unity, stability, and keep focusing on the economic and social development,” the Chinese Foreign Ministry spokesperson said.

Expressing the Chinese government’s stance after the apex court announced its verdict on the Panama case, Kang said, "We believe that the China-Pakistan strategic cooperative partnership will not be affected by the change of the situation inside Pakistan. China stands ready to work with Pakistan to continue jointly building the One Belt and One Road."
Disqualified by SC, Nawaz Sharif steps down as prime minister

The all-weather friendship between China and Pakistan has withstood the test of times, Kang added.

On July 28, the Supreme Court disqualified Nawaz Sharif from holding office as prime minister over long-running corruption allegations -- a decision that ousted him from the premiership for the third time.

The ruling saw political uncertainty take hold in Pakistan once again, with Cabinet dissolved and the country left without a sitting prime minister.

29/07/2017

گوادر میں کام کرنے والوں کے لیے.
لفظ گوادر بلوچی لفظ گوات معنی ہوا اور در معنی دروازہ کے ہیں. گوادر کے دونوں اطراف میں سمندر انگریزی حرف ایکس کی صورت میں ہونے اور پورا سال تیز سمندی ہواۂیں لگنے کی وجہ سے اس علاقے کو گوادر کا نام دیا گیا.
موضع جات کے نام:
آنکاڑہ، چٹی، شابی، پیشکان، نگور : نگ: Nig+ ور:war: ، مژانی، زیارت مچی ، اس مچی کا مچھلی کے ساتھ کوۂی تعلق نہیں کیونکہ مچھلی کو بلوچی میں مچھی نہیں بلکہ ماہی کہتے ہیں جس کے تلفظ میں حرف گ کا اضافہ کرکے ماہیگ مچھلی کو کہتے ہیں. زیارت مچی کے مچی کا تعلق مچ سے ہے اور مچ کھجور کے درخت کو کہا جاتا ہے. مچی کے معنی ہوۂے مچ والا یا مچ والی. یعنی کھجور کے درخت والی زیارت. مژانی، پلیری، بندی، سنٹ سر ،سنٹ کا س پیش کے ساتھ پڑھا جاۂے گا.
زباد ڈن: زباد ایک خوشبو ہے اور ڈن کہتے ہیں باہر والے علاقے کو. یعنی وہ خوشبودار علاقہ جو باہر کی طرف ہے. جس کو باہر کے لوگ بگاڑ کر زباڈن کہتے ہیں جو غلط تلفظ ہے. اس کا درست تلفظ ہے زباد Zabad + ڈن: dan درست لفظ انگریزی میں یون لکھا جاۂے گا: Zabad dan
روبار: رودبحر
رودبحر کی بگڑی ہوۂی شکل ہے. سمندر کے ساتھ والا بلکل کھلا علاقہ ہے جہاں ہر وقت سمندر کی تیز ہواۂیں مٹی اور ریت اڑاتی رہتی ہیں.
گنز انگریزی اور ڈچ لفظ ہے Guns جو Gun کی جمع ہے. آپ سب نے گنز آف نیوارون Guns of Navaron کا نام ضرور سنا ہوگا. یہ ایک ڈچ جہاز تھا جس پر توبیں لگی ہوۂی تھیں جو گوادر کے ساحل پر پھنس گیا اور یہیں تباہ ہوگیا. اس جہاز پر کۂی خاندان سفر کر رہے تھے جو پوری دنیا کے سمندری علاقوں کی سیر کو نکلے تھے. کۂی جگہوں پر ان کے ساتھ مقامی لوگوں کے علاوہ بحری قزاقوں کے ساتھ لڑاۂیاں ہوۂیں، آخرکار یہ جہاز گوادر کے اس سمندری علاقے میں پانی کم ہونے کی وجہ سے ریت میں پھنس گیا اور نکلنے کی کوۂی صورت نہیں بنی. یہ لوگ اسی علاقے میں بس گۂے جن سے بلوچوں نے رشتیداریاں کیں اور اب یہ مکمل بلوچ قوم میں رچ بس گۂے ہیں. یہ بلوری آنکھوں والے گورے چٹے لوگ ہیں جنہوں نے یہاں سمندر کے کنارے مچھلی شکار کرنے کا پیشہ اپنایا اس لیے بلوچ ان کو رۂیس یا مید کہتے ہیں.
پیشکان: پیش + کان
پیش اس درخت کو کہتے ہیں جس کے پتوں سے چٹاۂیاں، رسی، ٹوکرے اور دسترخوان جسے بلوچی میں کپار کہتے ہیں بنایا جاتا ہے. یہ علاقہ گوادر کی مغرب میں سمندر کے ساتھ ہے جس کے زیریں علاقے میں پیش کا درخت بہت ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے اس علاقے کو پیش کان کا نام دیا گیا.
جیونی:
اس کا تلفظ ہے Givani یہ نام ہندو عورتوں کا ہوتا ہے جیسے ایک مشہور سندھی گلوکارہ جیونی باۂی گزری ہیں. یہ پورا علاقہ کسی زمانے میں سندھ کا ایک حصہ ہوا کرتا تھا جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہوا کرتی تھی. اب بھی ہندوؤں کے تاریخی مندر اور بڑی بڑی زیارت گاہیں ہنگول ندی کے ارد گرد اور پہاڑوں کے اندر موجود ہیں جہاں سندھ اور ہند سے لاکھوں یاتری ہر سال یہاں پیدل اور بسوں میں سفر کرکے آتے ہیں اور اپنے مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں.
لکڑپٹ:
لام پر زبر اور کاف پر پیش پڑھا جاۂے. لکڑ بلوچی لفظ ہے جس کے معنی ہیں غیرآباد، جہاں کوۂی درخت نہیں. اور پٹ کہتے ہیں میدان کو. یہ گوادر کی مغرب میں ایرانی سرحد کے ساتھ ایک بہت بڑا بے آب و گیا میدان ہے. پرانے وقتوں میں جب لوگ پیدل سفر کرتے تھے تو اکثر لوگ بھوک، پیاس اور گرمی کی شدت سے ہلاک ہوا کرتے تھے. دربیلا:
یہ موضع تحصیل گوادر کی شمال میں پہاڑ کے ساتھ ہے. برسات کے موسم میں پہاڑ سے پانی وافر مقدار میں اس علاقے میں داخل ہوجاتا ہے جسے مقامی لوگ بند باند کر روک لیتے ہیں. یہاں کھیتی باڑی ہوا کرتی تھی اور بارش کا پانی وافر مقدار میں ہونے کی وجہ سے یہاں درخت بھی بہت ہیں اس لیے اسے دربیلو کہا جاتا ہے. بیلو سندھی لفظ ہے جس کے معنی جنگل کے ہیں.
نیلینٹ:
اس کا تلفظ ہے Nalant جو گوادر کے مشرق میں بہت پرانی آبادی ہے. یہاں کے باشندوں کو کلاچی یا میر کہا جاتا ہے. حیدرآباد کے میروں کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے. یہ اصل میں رند اور کلمتی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں. ان کے جسم پر گھنے بال ہوتے ہیں اس مناسبت سے ان کو پژ بھی کہا جاتا ہے. پژ کی پ کو پیش کے ساتھ پڑھا جاۂے. پژ کے معنی ہیں بالوں والے. محل وقوع کے لحاظ سے چینیوں کے لیے اس علاقے کی بڑی اہمیت ہے.
کلاچ:
کلاچ دو لفظوں سے مل کر بنا ہے جس کا درست تلفظ ہے کوہ لانچ. کوہ پہاڑ کو کہتے ہیں اور لانچ بڑی کشتی کو کہا جاتا ہے. یہ دو پہاڑ ساتھ ساتھ بنے ہوۂے ہیں جس کی صورت کشتی جیسی ہے. اس لیے ان دونوں پہاڑوں کو ملا کر کوہ لانچ کہا گیا اور اس سے ملحقہ علاقہ کوہ لانچ کہا گیا جو آگے چل کر کلاچ ہو گیا. کلاچ میں بھی نلینٹ کی نسل آباد ہے جن کو میر یا کلاچی کہا جاتا ہے. یہ لوگ تاجر، سپاہی اور زمینداری پیشے سے وابستہ ہیں. تجارت کی غرض سے یہ لوگ سندھ میں بھی آتے جاتے تھے. سندھ میں کلاچی بہت رہتے ہیں. کراچی میں بھی ان لوگوں کی بستی ہوا کرتی تھی جسے کلاچین جو گوٹھ کہا جاتا تھا. اس گوٹھ کے لوگ اس وقت ملیر اور دادو میں رہاۂش پذیر ہیں. اس قبیلے کے لوگوں کی بڑی تعداد کلہوڑوں کی فوج میں بھی بھرتی ہوۂے جہاں ترقی کرتے یہ جنرل کے عہدے پر پہنچ گۂے تھے اور بعد میں انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرکے میروں کی حکومت قاۂم کرلی. انگریزوں کے آنے تک یہی لوگ سندھ پر حکمران تھے جنہوں نے انگریزوں کے ہاتھوں شکست کھاۂی اس طرح انگریز 1843 میں پوری سندھ پر قابض ہوگۂے.
چھب ریکانی:
گوادر کے جنوب میں دربیلو کے ساتھ والا علاقہ ہے. چھب کہتے ہیں دلدلی علاقے کو. بارشوں کے زمانے میں اس علاقے میں پانی ندیوں نالوں کے ذریعے پہاڑوں سے بہہ کر پورے علاقے کو دلدل میں تبدیل کیا کرتا تھا. ریک کہتے ہیں ریت کو. یعنی دلدلی اور رتیلا علاقہ. یہاں بھی پہاڑوں کے ندی نالوں کے سبب کھیت آباد ہوا کرتے تھے.
کپر:
ک پر زبر اور پ پر شد کے ساتھ پڑھا جاۂے. انگریزی میں اس طرح لکھا جاۂے گا: Kapper. یہ بھی سندھی لفظ ہے جس کے معنی ہیں کنارہ. یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر آباد ہے جو نیلینٹ کے ساتھ ہے. اس لیے اس علاقے کو کپر کا نام دیا گیا. یعنی سمندر کے ساتھ والی آبادی. بہت خوبصورت علاقہ ہے جہاں خوبصورت کھیت بنے ہوۂے ہیں. چھوٹے بڑے مٹی کے خوبصورت پہاڑ بھی ہیں. رات کو سمندری ہوا لگنے کی وجہ سے بغیر کھمبل اوڑھےسونا ناممکن ہے. یہ علاقہ بھی نیلینٹ کی طرح پسنی تحصیل میں شامل ہے. ذکری قبیلہ کی یہاں اکثریت ہے. علاقے کے محل وقوع کو دیکھ کر یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ مستقبل میں یہاں سکریٹریٹ، گورنر ہاؤس اور وزیراعلی ہاؤس یہیں تعمیر کیے جاۂیں گے. یہ علاقہ بھی aquirement کے لیے حکومت کی نظروں میں ہے.
وشیں ڈور: میٹھے پانی کا نالہ
یہ پرانا گوادر کے ایۂرپورٹ کا علاقہ ہے. سیپیک میں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے.
وادی ڈور: نمک والا نالہ. یہ نالہ سمندر کے ساتھ پرانے گوادر شہر کی طرف مڑتے ہی ایۂر پورٹ روڈ کے ساتھ ہے. اس علاقے کی سیپیک میں بڑی اہمیت ہے.
کیا قلات: کیا آدمی کا نام ہے اور قلات کہتے ہیں اونچی جگہ کو. کیا نام کا شخص اس علاقے پر قابض تھا جو کافلوں کو لوٹتا رہتا تھا. اس کا تعلق کلمتی قبیلے سے تھا اور بہت ہی خوبصورت شخص تھا. گوادر کے نواب قاضی دادمحمد نے اسے بلا کر لوٹ مار کرنے سے منع کیا اور وہ علاقہ اسے آبادکاری کے لیے دے دیا. اس کے چاروں اطراف میں پہاڑ ہیں بارش کا پانی جمع ہونے سے کاشتکاری آسان تھی. اس طرح کیا نے لوٹ مار ختم کرکے کاشتکاری پر توجہ دی. اس کی اولاد اس وقت ملیر کے ملاعیسیٰ گوٹھ میں آباد ہے جن کا پیشہ زمینداری ہے. ان کو کیازۂی یعنی کیا کی اولاد کہا جاتا ہے. وہ اپنے جدامجد کی طرح بہت خوبصورت ہیں. پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ عبدالرزاق کا تعلق اسی خاندان سے ہے.
جورکان: جورکان کے ج پر زبردےکر پڑھا جاۂے. انگریزی میں اس طرح لکھا جاۂے گا: Jaorkan. یاد رہے اس کان کا تعلق خان سے نہیں. جس طرح پیشکان کے کان کا تعلق خان سے نہیں.
جور ایک جھنگلی پودا ہے. کان اس علاقے کو کہتے ہیں جو نیچے ہو. یہ چونکہ پہاڑ کا نشیبی علاقہ ہے جہاں جور کا جھنگلی پودا وافر مقدار میں ہوا کرتا تھا. اس لیے اسے جورکان کہا جاتا ہے.
گرانڈانی: گرنڈ بھیڑ کو کہا جاتا ہے. یہ علاقہ بھی پہاڑ کے ساتھ ہے جہاں برسات کا پانی وافر مقدار میں کھیتوں اور ندی نالوں میں جمع ہونے کی وجہ سے بھیڑوں کے لیے چارہ بھی وافر مقدار میں ہوا کرتا تھا. بھیڑوں کی وجہ سے اس علاقے کو بھیڑوں کا علاقہ یعنی گرانڈانی کہا گیا.
خرگوشکی: اس وادی میں خرگوش بہت زیادہ ہوا کرتا تھا اس لیے اس کو خرگوشوں کا علاقہ کہا گیا.
گامارو بھی تحصیل گوادر کا ایک موضع ہے. یہ علاقہ بھی اسی پہاڑ کے ساتھ ہے جہاں دربیلہ ہے. اپنے محل وقوع کی وجہ سے سیپیک میں اس علاقے کی بڑی اہمیت ہے. مگر یہاں کے لوگوں کو اپنے علاقے کی اہمیت کا کوۂی اندازہ نہیں. اس لیے چنے کے مول زمینیں بیچ رہے ہیں.
چر بندر: جہاں سمندر زمین کو چیر کر اپنی حدود سے ہٹ کر راستہ بناۂے اسے بلوچی میں چر کہا جاتا ہے. چر کے چ کو پیش کے ساتھ پڑھا جاۂے. یہ علاقہ بھی تحصیل پسنی میں ہے. سیپیک منصوبے میں اس علاقے کی اہمیت کو دیکھتے ہوۂے حکومت کی نظریں اس علاقے پر ہیں اور مستقبل میں اس علاقے کو aquire کرنے کا منصوبہ ہے.
چکین: چ کو پیش کے ساتھ پڑھا جاۂے. چر بندر کے ساتھ تحصیل پسنی میں واقع ہے. سیپیک میں اس کی بھی بڑی اہمیت ہے. مستقبل قریب میں حکومت کا منصو بہ اس پوری سمندری پٹی کے aquire کرنے کا ہے. آۂل فیلڈ کے لیے اسی علاقے کو منتخب کیا گیا ہے.
پسنی: یہ گوادر کا ایک اہم تحصیل ہے. پسنی بلوچی لفظ ہے جو پسانی سے پسنی میں تبدیل ہوچکا ہے. پس کہتے ہیں بکری کو. پسانی کے معنی ہوۂے وہ علاقہ جہاں بکریاں بہت ہوتی ہیں. یعنی بکریوں کا علاقہ. پسنی محل وقوع کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل خوبصورت ساحلی پٹی ہے. اس علاقے کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے. پسنی کی جیٹی پر کروڑوں کا بجیٹ استعمال کیا گیا مگر اس پر مینٹنینس کا کوۂی کام نہیں ہوا اور جب بھی اس کی ڈریجنگ کی رقم منظور ہوۂی وہ رقم کرپشن کی نظر ہوۂی.
کلمت: کلمت کا موضع پسنی سے تقریباً پنتالیس منٹ کی ڈراۂیو پر ہے. کلمتی قبیلے کا بلوچستان میں اولین مسکن. جہاں سے نکل کر یہ لوگ بحری قزاقی کیا کرتے تھے اور قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے. یہ قبیلہ سندھ میں بھی لوٹ مار کرتا تھا. محمد بن قاسم اسی قبیلے کی رہنماۂی کے بدولت سندھ پر حملہ آور ہوا اور کامیابی حاصل کی. یہ خانہ بدوش قبیلہ بھیڑ بکریاں بھی پالتا تھا جن کے لیے انہیں چراگاہوں کی ضرورت تھی. چراگاہوں کی تلاش میں یہ سندھ کی ساحلی پٹی میں بھی پھیل گۂے. آج بھی یہ قبیلہ سندھ کے ساحلی علاقے ٹھٹہ ،سجاول اور ملیر میں آباد ہے. بلوچستان کی ساحلی پٹی کے ساتھ گوادر، جیونی، روبار، سنٹ سر، دشت، کلدان، پیشکان، نگور، پلیری، مجو، زبادڈن، چاتانی بل، گنز اور ایرانی ساحلی پٹی پر بڑی تعداد میں آباد ہیں جن میں چاہ بہار، بل نگور، باہوقلات اور دیگر علاقے شامل ہیں.
چاتانی بل: چاہ یا چات بلوچی میں کنویں کو کہتے ہیں اور بل معنی وادی کے ہیں. یعنی وہ علاقہ جہاں کنویں ہوتے ہیں پانی کے حصول کے لیے. چاتانی بل، روبار اور زبادڈن وہ علاقے ہیں جن پر ڈی ایچ اے، بحریہ، نیول ہاؤسنگ اور دیگر بڑے اداروں کی نظر ہے. یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں کو اس وقت نظرانداز کیا جا رہا ہے تاکہ ان موضع جات کے ریٹ نہ بڑھنے پاۂیں. ماسٹر پلان میں بھی ان علاۂقوں کو اہمیت نہیں دی جاتی. اس کو آپ کراچی کے ضلع ملیر کے تناظر میں دیکھیں. ملیر کے علاقوں کو ستر سال تک نظرانداز کیا گیا. ترقیاتی کام نہیں کراۂے گۂے اور اس کو پسماندہ رکھا گیا. ملیر کی زراعت کو بھی ترقی دینے کے بجاۂے تباہ کردیا گیا.ملیر کے زمینداروں کو زمین بیچنے پر مجبور کیا گیا اور کراچی جیسے میٹروپولیٹن سٹی میں ہوتے ہوۂے ملیر کی زمینوں کو ڈی ویلیو کردیا گیا. یہ سب کچھ کرنے کا مطلب تھا وہاں ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن بنانا. ان تمام باتوں سے ملیر کا مقامی باشندے کو لاعلم رکھا گیا. آج ملیر سب کے سامنے ہے. ملیر کو ان دونوں اسکیموں نے کہیں راضی خوشی چنے کے عیوض خرید لیا گیا اور کہیں زورزبردستی ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے. گوادر کے ان موضع جات کا مستقبل بھی ملیر کی طرح دکھاۂی دے رہا ہے. اللہ ہمارے حکمرانوں کو سچاۂی اور نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرماۂے.
آمین.

*Q:* How to verify a Society?*Ans:*  After selection of desired area of City where you want to live or invest, next step...
27/04/2017

*Q:* How to verify a Society?

*Ans:* After selection of desired area of City where you want to live or invest, next step is *"How to verify a Society"*

Before investing / buying plot / home / commercial in any society, you have to consider followings:

*1-* Is Housing Society is registered with Securities & Exchange Commission of Pakistan (SECP) or Cooperative Department?

*2-* Is Society land transferred on Society name in Revenue Record?

*3-* Is Housing Society has valid NOC from Local Development Authorities (LDA / CDA / GDA / MDA / FDA as per approved map?

*4-* Is Housing Society has made arrangements for development work like Water, Gas, Electricity & Sewerage etc. on site?

*Tips:* Pre Launch bookings are highly not recommended. You must wait for official launch of booking by publicly advertised in major news paper (s) with confirm location, booking schedule, installment time frame and tentative time for possession (year of possession).

Before investing in any project you must keep eye on News Paper warnings ads by Local Authorities against projects which are not approved. Usually these local Authorities has a list of approved Housing Societies, as well as Unapproved Housing Schemes lists. You may also visit Local Authority Office and can verify about the scheme before investing.

A marketing company / affiliates / agents may highlight a project which they are dealing with for their interest.

*For more Frequently Asked Questions about Pakistan Real Estate please visit:*
http://eproperty.pk/faq/

Visit the post for more.

Address

Lg 25, Al. Hafeez Shoping Mall, Opposite PACE, Main Bulevard, Gulberg
Lahore
54600

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

03008406644

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gawadar Estate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category