Muhammad s a w

Muhammad s a w Hazrat Muhammad Sallay Allay Hay Wa All He Wassallam Sallay Allay Hay Wa All He Wassallam

03/02/2026

Aftab Sipra

    #
17/01/2026

#

11/01/2026

# in die van # acountunfreeze #

09/01/2026

09/01/2026
حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:"جمعہ کے دن صدقہ کرنے کا دگنا اجر ملتا ہے۔"(ابن ابی شیبہ: 5556)❤️💯ﷺ Ten Unknown Fact...
05/01/2026

حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"جمعہ کے دن صدقہ کرنے کا دگنا اجر ملتا ہے۔"
(ابن ابی شیبہ: 5556)

❤️💯



Ten Unknown Facts About

1. Founding and History: BMW, Bayerische Motoren Werke AG, was founded in 1916 in Munich, Germany, initially producing aircraft engines. The company transitioned to motorcycle production in the 1920s and eventually to automobiles in the 1930s.

2. Iconic Logo: The BMW logo, often referred to as the "roundel," consists of a black ring intersecting with four quadrants of blue and white. It represents the company's origins in aviation, with the blue and white symbolizing a spinning propeller against a clear blue sky.

3. Innovation in Technology: BMW is renowned for its innovations in automotive technology. It introduced the world's first electric car, the BMW i3, in 2013, and has been a leader in developing advanced driving assistance systems (ADAS) and hybrid powertrains.

4. Performance and Motorsport Heritage: BMW has a strong heritage in motorsport, particularly in touring car and Formula 1 racing. The brand's M division produces high-performance variants of their regular models, known for their precision engineering and exhilarating driving dynamics.

5. Global Presence: BMW is a global automotive Company

6. Luxury and Design: BMW is synonymous with luxury and distinctive design, crafting vehicles that blend elegance with cutting-edge technology and comfort.

7. Sustainable Practices: BMW has committed to sustainability, incorporating eco-friendly materials and manufacturing processes into its vehicles, as well as advancing electric vehicle technology with models like the BMW i4 and iX.

8. Global Manufacturing: BMW operates numerous production facilities worldwide, including in Germany, the United States, China, and other countries, ensuring a global reach and localized production.

















💖📝📝*سیرت النبی ﷺ*🌴🥀🥀💖*قسط نمبر 56* *عنوان: مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کا آغاز*مسلمان پتھروں سے بنیادیں بھرنے لگے - بن...
01/01/2026

💖📝📝*سیرت النبی ﷺ*🌴🥀🥀💖

*قسط نمبر 56*

*عنوان: مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کا آغاز*

مسلمان پتھروں سے بنیادیں بھرنے لگے - بنیادیں تقریباً تین ہاتھ(ساڑھے 4 فٹ) گہری تھیں - اس کے لیے اینٹوں کی تعمیر اٹھائی گئی - دونوں جانب پتھروں کی دیواریں بنا کر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت بنائی گئی اور کھجور کے تنوں کے ستون بنائے گئے - دیواروں کی اونچائی انسانی قد کے برابر تھی -
ان حالات میں کچھ انصاری مسلمانوں نے کچھ مال جمع کیا - وہ مال آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور عرض کیا:
"اللہ کے رسول! اس مال سے مسجد بنائیے اور اس کو آراستہ کیجیے، ہم کب تک چھپر کے نیچے نماز پڑھیں گے -"
اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
"مجھے مسجدوں کو سجانے کا حکم نہیں دیا گیا -"
اسی سلسلے میں ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
"قیامت قائم ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ لوگ مسجدوں میں آرائش اور زیبائش کرنے لگیں گے جیسے یہود اور نصارٰی اپنے کلیساؤں اور گرجوں میں زیب و زینت کرتے ہیں -"
مسجد نبوی کی چھت کھجور کی چھال اور پتوں کی تھی اور اس پر تھوڑی سی مٹی تھی - جب بارش ہوتی تو پانی اندر ٹپکتا... یہ پانی مٹی ملا ہوتا... اس سے مسجد کے اندر کیچڑ ہو جاتا - یہ بات محسوس کرکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! اگر آپ حکم دیں تو چھت پر زیادہ مٹی بچھا دی جائے تاکہ اس میں سے پانی نہ رِسے، مسجد میں نہ ٹپکے -"
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
"نہیں ! یونہی رہنے دو -"
مسجد کے تعمیر کے کام میں تمام مہاجرین اور انصار صحابہ نے حصہ لیا - یہاں تک کہ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اپنے ہاتھوں سے کام کیا - آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی چادر میں اینٹیں بھر بھر کر لاتے یہاں تک کہ سینہ مبارک غبار آلود ہو جاتا - صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اینٹیں اٹھاتے دیکھا تو وہ اور زیادہ جانفشانی سے ایینٹیں ڈھونے لگے - (یہاں اینٹوں سے مراد پتھر ہیں -) ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا کہ باقی صحابہ تو ایک ایک پتھر اٹھا کر لا رہے ہیں اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو پتھر اٹھا کر لا رہے تھے تو ان سے پوچھا:
"عمار! تم بھی اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک پتھر کیوں نہیں لاتے -"
انہوں نے عرض کیا:
اس لیے کہ میں اللہ تعالٰی سے زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب چاہتا ہوں -"
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بہت نفیس اور صفائی پسند تھے - وہ بھی مسجد کی تعمیر کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے - پتھر اٹھا کر چلتے تو اس کو اپنے کپڑوں سے دور رکھتے تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں - اگر مٹی لگ جاتی تو فوراً چٹکی سے اس کو جھاڑنے لگ جاتے - دوسرے صحابہ دیکھ کر مسکرادیتے -
مسجد کی تعمیر کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اس میں پانچ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے - اس کے بعد اللہ تعالٰی کے حکم سے قبلے کا رخ بیت اللہ کی طرف ہو گیا - مسجد کا پہلے فرش کچا تھا، پھر اس پر کنکریاں بچھا دی گئیں - یہ اس لیے بچھائی گئیں کہ ایک روز بارش ہوئی، فرش گیلا ہوگیا - اب جو بھی آتا، اپنی جھولی میں کنکریاں بھر کر لاتا اور اپنی جگہ پر ان کو بچھا کر نماز پڑھتا - تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ سارا فرش ہی کنکریوں کا بچھا دو -
پھر جب مسلمان زیادہ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد کو وسیع کرنے کا ارادہ فرمایا - مسجد کے ساتھ زمین کا ایک ٹکڑا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا تھا، یہ ٹکڑا انہوں نے ایک یہودی سے خریدا تھا - جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مسجد کو وسیع کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے عرض کیا:
"اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے زمین کا یہ ٹکڑا جنت کے ایک مکان کے بدلے میں خرید لیں -"
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے زمین کا وہ ٹکڑا ان سے لے لیا - مسجد نبوی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
"اگر میری یہ مسجد صنعا کے مقام تک بھی بن جائے(یعنی اتنی وسیع ہوجائے) تو بھی یہ میری مسجد ہی رہے گی، یعنی مسجد نبوی ہی رہے گی -"
اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ، آپ نے مسجد نبوی کے وسیع ہونے کی اطلاع پہلے ہی دے دی تھی اور ہوا بھی یہی - بعد کے ادوار میں اس کی توسیع ہوتی رہی ہے اور اس کا سلسلہ جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گا -
مسجد نبوی کے ساتھ ہی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے لیے دو حجرے بنائے گئے - یہ حجرے مسجد نبوی سے بالکل ملے ہوئے تھے - ان حجروں کی چھتیں بھی مسجد کی طرح کھجوروں کی چھال سے بنائی گئی تھیں - مسجد نبوی کی تعمیر تک آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیام پذیررہے - آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے مکان میں نچلی منزل میں قیام فرمایا تھا، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے درخواست کی تھی:
"حضور! آپ اوپر والی منزل میں قیام فرمائیں -"
اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب میں فرمایا:
"مجھے نیچے ہی رہنے دیں ... کیونکہ لوگ مجھ سے ملنے کے لیے آئیں گے، اسی میں سہولت رہے گی -"
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
" ایک رات ہماری پانی کی گھڑیاں ٹوٹ گئی - ہم گھبرا گئے کہ پانی نیچے نہ ٹپکنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پریشانی نہ ہو...تو ہم نے فوراً اس پانی کو اپنے لحاف میں جذب کرنا شروع کردیا... اور ہمارے پاس وہ ایک ہی لحاف تھا اور دن سردی کے تھے -"
اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے اوپر والی منزل پر قیام کرنے کی درخواست کی... آخر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی بات مان لی -
ان کے گھر کے قیام کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے کھانا حضرت اسعد بن زرارہ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے ہاں سے بھی آتا تھا -
اس تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت زید بن رافع رضی اللہ عنہما کو مکہ بھیجا تاکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کو لے آئیں - حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں سفر میں خرچ کرنے کے لیے 500 درہم اور دو اونٹ دئیے - رہبر کے طور پر ان کے ساتھ عبداللہ بن اریقط کو بھیجا - سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ اخراجات برداشت کیے - ان کے گھر والوں کو لانے کی ذمے داری بھی انہیں ہی سونپی گئی - اس طرح یہ حضرات مکہ معظمہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحب زادیوں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا، اور دایہ ام ایمن رضی اللہ عنہا( جو زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں )اور ان کے بیٹے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو لے کر مدینہ منورہ آگئے۔حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دایا کے بیٹے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حد درجے عزیز تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا چونکہ شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔اس لیے انہیں ہجرت کرنے سے روک دیا گیا۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بعد میں ہجرت کی تھی اور اپنے شوہر کو کفر کی حالت میں مکہ ہی چھوڑ آئی تھیں ۔ان کے شوہر ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ تھے۔یہ غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کے لشکر میں شامل ہوئے، گرفتار ہوئے، لیکن انہیں چھوڑ دیا گیا، پھر یہ مسلمان ہوگئے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چوتھی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ اپنے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہلے ہی حبشہ ہجرت کرگئی تھیں ۔یہ بعد میں حبشہ سے مدینہ پہنچے تھے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والے بھی ساتھ ہی مدینہ منورہ آگئے۔ان میں ان کی زوجہ محترمہ حضرت ام رومان، حضرت عائشہ صدیقہ اور ان کی بہن حضرت اسماء رضی اللہ عنہا شامل تھیں ۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ آئے۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
"جس شخص کو جنت کی حوروں میں سے کوئی حور دیکھنے کی خواہش ہو، وہ ام رومان کو دیکھ لے۔"
ہجرت کے اس سفر میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے قبا میں ٹھہرنا پڑا۔ان کے ہاں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔بچے کی پیدائش کے بعد مدینہ پہنچیں اور اپنا بچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی گود میں برکت حاصل کرنے کے لیے پیش کیا - یہ ہجرت کے بعد مہاجرین کے ہاں پہلا بچہ تھا - ان کی پیدائش پر مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی، کیونکہ کفار نے مشہور کر دیا تھا کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور مہاجرین مدینہ آئے ہیں ، ان کے ہاں کوئی نرینہ نہیں ہوئی کیونکہ ہم نے ان پر جادو کردیا ہے - حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر ان لوگوں کی یہ بات غلط ثابت ہوگئی، اس لیے مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی -
مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہوگئی تو رات کے وقت اس میں روشنی کا مسئلہ سامنے آیا - اس غرض کے لیے پہلے پہل کھجور کی شاخیں جلائی گئیں - پھر حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو وہ اپنے ساتھ قندیلیں ، رسیاں اور زیتون کا تیل لائے -

☆☆☆
جاری ہے ۔۔۔۔۔!

*مصنف : عبداللہ فارانی*
*کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم* . . . . . . .ترتیب: سید ابراہیم شاہ

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے مجھے فالو،لائیک،شیئر اور رئیکٹ ضرور کریں* ❤️~۔۔
شکریہ۔۔۔💖💖💖

For more follow me ...👇👇.
Please
Muhammad s a w








Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad s a w posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category