06/09/2026
خالد محمود کھوکھر مرکزی صدر پاکستان کسان اتحاد نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب "لاہور کے شہری کو ۶,۵۵۵ روپے ملے۔ اسی طرح، میں شوگر سیس کا پیسہ دیتا ہوں، میرا کاشتکار دیتا ہے، اس کا وہ کٹواتا ہے؛ خرچ لاہور میں ہوتا ہے۔ گندم میں اگاتا ہوں، فیصلہ لاہور میں ہوتا ہے میرے ریٹ کا۔ کپاس میں اگاتا ہوں، فیصلہ لاہور یا اسلام آباد میں ہوتا ہے اس کا۔
اب آپ یقین کر لیں، مجھے تو دکھ ہے اس بات کا کہ ہم ایک قدم بھی ہم آگے نہیں بڑھے یہاں پہ۔ ایک قدم بھی نہیں بڑھا آپ نے۔
یعنی کہ ہم نے بہت ساری چیزوں میں، جب لدھیانہ یونیورسٹی بنی تھی، تو انہوں نے کون سا ماڈل لیا تھا؟ لائل پور یونیورسٹی کا۔ وہ آج فخر محسوس کرتے ہیں ہم لائل پور ماڈل ہیں؛ ہم لائل پور کو کیا کیا ہم نے سلو بنا دیا، اسے ایکسٹینشن اور ریسرچ [ادارہ] لے لیا۔ پوری دنیا میں ریسرچ یونیورسٹیوں کے پاس ہے، ہم نے وہ ریسرچ لے لی وہاں سے۔
ایک ایگریکلچر کمیشن بنا ۱۹۶۰ کی دہائی میں، جس کو نواب آف کالا باغ ہیڈ کر رہے تھے۔ اس کی ترجیحات میں پہلے یہ تھیں کہ پتوکی سے لے کر رحیم یار خان تک کوئی شوگر مل ہو، ساری وہیں پہ لگی۔ یہ ہمارا نظام ہے۔ یہ ہمارا سسٹم ہے اس وقت۔
آپ یقین کر لیں کہ اگر کاشتکار کو اس کی پیداواری لاگت اس ملک میں نہ ملے، تو اس نظام پہ بھی لعنت ہے، خدا کی قسم۔
وہ کاشتکار جسے خدا نے، جو زمین کا سینہ چیر کے اللہ کی مخلوق تک پہنچاتا ہے—اور میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ کاشتکار سے زیادہ محب وطن بھی کوئی نہیں ہے۔ میں چیلنج سے کہتا ہوں، کیونکہ ہم اپنی زمین کا ٹکڑا اٹھا کے کسی دوسرے ملک میں منتقل نہیں کر سکتے۔ میرا جینا پاکستان میں، مرنا پاکستان میں، اولاد ادھر، جائیداد ادھر، تعلیم ادھر، صحت ادھر، ایمان بھی ادھر ہے۔ اور فیصلہ کرنے والوں کی اولادیں باہر، جائیدادیں باہر، تعلیم باہر، صحت باہر، ان کا ایمان تک باہر، بگ بینکس باہر۔
یہی وجہ ہے کہ آج میرا ملک مقروض ہے۔ ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو تین ساڑھے تین لاکھ کا مقروض ہے۔ ہمیں شرم کرنی چاہیے، ہمیں افسوس کرنا چاہیے، قدرت نے ہمیں کیا دیا ہے؟ ایک سونے کی چڑیا دی ہے یہ خدا کی قسم۔ پندرہ سو کلومیٹر سمندر ہمارے پاس ہے؛ کراچی سے لے کر پشاور تک میدانی علاقہ ہمارے پاس ہے؛ چاروں موسم ہمارے پاس ہیں؛ دریا ہمارے پاس ہیں؛ جنگلات ہمارے پاس ہیں؛ بلوچستان ہمارے پاس ہے؛ تھر ہمارے پاس ہے؛ ریگستان ہمارے پاس ہے؛ روہی ہمارے پاس ہے؛ معدنیات ہمارے پاس ہیں۔ ایک نہیں ہے تو ایک نظام نہیں ہے، ایک ول نہیں ہے ہمارے پاس۔
آج اگر ہم اس طرف نہیں آئیں گے، اگر اس بارے میں نہیں سوچیں گے، خدا کی قسم ایک عام آدمی اس وقت رو رہا ہے۔
جس شخص کے حالات دیکھیے نا جس نے اپنی بیٹی کی شادی منسوخ کی کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں، اسے گندم کے پیسے نہیں ملے، اسے کپاس کے پیسے نہیں ملے، اس کی کپاس کی پیداوار نہیں ہوئی۔ جب اس کے جذبات تو دیکھیے جا کے، کیا اسے ایجوکیشن کیا مل رہی ہے؟ کیا یہ نظام کا فیلئر نہیں ہے کہ آپ کے ابھی جو رزلٹ آیا ہے میٹرک کا، پچاس فیصد اگر بچے فیل ہوئے ہیں تو وہ بچے فیل نہیں ہوئے خدا کی قسم، یہ نظام فیل ہے۔ یہ نظام کے منہ پہ وہ طمانچہ ہے اس وقت۔
چاہیے تو یہ تھا کہ آج یہ سسٹم خود بخود کہتا کہ ہم کر رہے ہیں کہ اتنے بچے یہاں پہ فیل ہو گئے ہیں۔ جس ملک میں دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے سکول نہ جا رہے ہوں، اس سسٹم پہ لعنت، خدا کی قسم۔
کیونکہ اگر غریب کا بچہ سکول نہیں جا سکتا، غریب کا بچہ اس وقت اسے تعلیم نہیں مل سکتی، سرکاری اسکولوں کے حال دیکھ لیں، سرکاری ہسپتالوں کے حال دیکھ لیں—کیا ہم آدمی رہ سکتا ہے؟ وہ جی سکتا ہے جس کو کھانے کے لیے اس وقت آپ کے چالیس فیصد بچے ہیں جن کو پوری خوراک نہیں مل رہی، ان کی نشوونما نہیں ہو رہی، ان کا قد نہیں بڑھ رہا؟
وجہ ہمارے اس نظام کی وجہ سے، اس سسٹم کی وجہ سے، ان مسلط لوگوں کی وجہ سے۔ ہمیں یہ تبدیلی لانا ہوگی، ناگزیر ہے اس وقت۔ اگر ہم اس وقت تبدیلی لے کے نہیں آئیں گے، تو پھر پڑھ لیں: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
آپ یقین کر لیں، وہ کاشتکار جب اپنی کوئی فصل بیچنے جاتا ہے، جب اس کی پیداواری لاگت اس کو نہیں ملتی وہ جب گھر اپنے بچوں کا وہ سامنا نہیں کر سکتا اس وقت۔ اب یہ دو سال گندم میں 2200 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، 2200 ارب روپے کا۔ سیاست کی گئی ہے ساری اس کے اوپر۔ گندم کے اوپر سیاست، پالیٹکس کی گئی کہ ہم نے روٹی سستی دینی ہے، کس کی قیمت پر؟ کاشتکار کے معاشی قتل کے اوپر؟
کاشتکار کی... اور وہ کاشتکار کا معاشی قتل نہیں تھا، پاکستان کی معیشت کا تھا کہ آپ کی گروتھ 6.5 سے کم ہو کے مائنس 13.49 پر آ گئی۔ اب آبادی میں تو ہر سال ایک نیا نیوزی لینڈ یا سنگاپور ایڈ کر رہے ہیں اس وقت۔ ہر سال اتنی آبادی بڑھانے کے باوجود اگر آپ کی ایگریکلچر میں گروتھ نہیں ہے، اپنے پاس سوائے ایگریکلچر کے اور ہے ہی کیا آپ کے پاس؟ انڈسٹری میں آپ پیچھے چلے گئے ہیں اس وقت، بالکل۔
باقی آپ کے پاس کچھ نہیں ہے۔ ایک اگر زراعت اللہ نے آپ کو دی تھی، ایک جنت نظیر ٹکڑا آپ کو دیا تھا، آپ وہی نہیں سنبھال سکے۔ ریسرچ کا ہمارا بجٹ کیا ہے؟ ایگریکلچر کی جی ڈی پی کا 0.18، ورنہ پچھلے چند سالوں میں کیوں اوپر چلی گئی ہے؟ اس کا 1.75 ہے۔
پھر دنیا میں مارکیٹنگ میکانزم کیا ہے؟ فیوچر مارکیٹنگ ہے۔ کاشتکار کو کاشت کرنے سے کم از کم ڈیڑھ سال پہلے اس کو بتا دیا جاتا ہے یہ تمہاری گوسٹ پروڈکشن ہوگی، یہ تمہیں ریٹ ملے گا۔
آپ لوگ سن کے حیران ہوں گے، میں ڈی اے پی پرچیز کرتا ہوں ساڑھے سترہ ہزار روپے کی، انڈین کاشتکار کو پاکستانی روپیز میں 4,400 روپے کی۔ میں یوریا لیتا ہوں 4,600 روپے کا، میرے دشمن ملک کے کاشتکار کو 884 روپے کی۔ میرا بجلی کا یونٹ 40 سے 50 روپے کا، اس کو ڈیلی 10 گھنٹے بجلی مفت ملتی ہے، میں دنیا کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہوں؟
جب کاشتکار پروڈکشن میں میرے پاس لیول پلینگ فیلڈ ہی نہ ہو، جب مجھے پاکستانی اور انسان ہی تسلیم نہ کیا جائے، اگر مجھے پاکستانی اور انسان تسلیم کیا جاتا، میں انٹرنیشنل رینکنگ میں دودھ میں چوتھے نمبر پہ ہوں، کپاس میں پانچویں چھٹے نمبر پہ ہوں، میں گندا پیدا کرنے میں ساتویں، آٹھویں نمبر پہ ہوں، میں گندم میں ساتویں نمبر پہ ہوں، کنوں میں میں پہلے نمبر پہ ہوں۔ مجھے تو تسلیم نہیں کیا گیا۔ میری تو کوئی ریٹائرمنٹ کے بعد میرے لیے تو کچھ بھی نہیں ہے۔
ابھی آپ کے سامنے ستارہ امتیاز سب کو ملا، مجھے بتا دیں پاکستان میں جو کاشتکار فرسٹ آئے تھے پیداوار میں، کسی ایک کاشتکار کو ملا ہے؟ کسی ایک کاشتکار کو کنسیڈر کیا گیا ہے؟
جو دن رات آپ کے لیے کام کرتا ہے، نہ رات دیکھتا ہے، نہ دن دیکھتا ہے، نہ گورا دیکھتا ہے، نہ سردی دیکھتا ہے، آپ کے لیے آپ کی خدمت کرتا ہے، صرف ایک ہی وجہ سے وہ کرتا ہے کہ رزق میرے اللہ نے دینا ہے، اس نے رزق دینا ہے، اس نے مجھے اپنا نائب بنایا ہے، اس کے لیے میں کر رہا ہوں۔ تھینک یو۔"