06/05/2026
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب (شیخ ادریس صاحب) کی سوانحِ حیات
نام: مولانا محمد ادریس (شیخ الحدیث)
معروف نام: شیخ ادریس صاحب
تاریخِ پیدائش: 1961ء
جائے پیدائش: ترنگزئی، ضلع چارسدہ، خیبر پختونخوا، پاکستان
خاندانی پس منظر
• والد: مولوی حکیم عبدالحق (مناظرِ اسلام کے نام سے مشہور)
• دادا: شیخ الحدیث مفتی شہزادہ (دارالعلوم دیوبند کے فاضل)
• پردادا: شیخ مولانا محمد اسماعیل (علامہ شمس الحق افغ ان ی کے استاد)
• آپ عالمی شہرت یافتہ عالمِ دین حضرت مولانا محمد حسن جان مدنی کے داماد تھے۔
• اولاد: دو بیٹے — مولانا انیس احمد (دینی مدرس) اور ڈاکٹر محمد سلمان (MBBS)۔
تعلیم
ابتدائی دینی تعلیم گھر پر والد اور دادا سے حاصل کی۔
میٹرک کے بعد دار العلوم نعمانیہ اتمانزئی چارسدہ سے تعلیم مکمل کی۔
اعلیٰ تعلیم دار العلوم ح ق ان ی ہ اکوڑہ خٹک سے حاصل کی، جہاں ان کے اہم اساتذہ میں شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اکوڑوی، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد فرید، مولانا عبدالحلیم زروبوی اور مولانا فضل الٰہی شاہ منصوری شامل تھے۔
عصری تعلیم: پشاور یونیورسٹی سے عربی اور اسلامیات میں ایم اے (اعلیٰ نمبروں کے ساتھ)۔
تدریسی خدمات
• 1983ء سے جامعہ نعمانیہ اتمانزئی میں تدریس کا آغاز۔
• بعد میں دار العلوم اسلامیہ تنگی میں شیخ الحدیث کے طور پر 9 سال تک دورۂ حدیث پڑھایا۔
• اپنے گاؤں میں 6 سال تک صحیح بخاری، جامع ترمذی اور مؤطا پڑھایا۔
• 2013ء سے دار العلوم نعمانیہ میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے عہدے پر فائز تھے۔
• دار العلوم ح قا نی ہ میں بھی ترمذی اور بخاری کے دروس دیتے رہے۔�آپ کے حلقۂ درس میں ہزاروں طلبہ مستفید ہوتے تھے (ایک سال میں تقریباً 2400 طلبہ بخاری و ترمذی پڑھتے تھے)۔ آپ کو درسِ حدیث کا خاص ملکہ حاصل تھا۔
سیاسی خدمات
• جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ضلعی امیر چارسدہ رہے۔
• صوبائی سرپرستِ اعلیٰ اور مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن۔
• خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق ممبر (2002-2007)۔
وفات: 5 مئی 2026ء کو اتمانزئی، چارسدہ میں نامعلوم ح مل ہ آوروں کی فائ رنگ سے ش ہ ید ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اللہ تعالیٰ ان کی ش ہا د ت قبول فرمائے، درجات بلند فرمائے، اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کے علوم و خدمات کو امت کے لیے باعثِ برکت بنائے۔ آمین