28/04/2026
1. ٹوٹی ہوئی ہڈی کا جڑ جانا (معجزہ)
حضرت شبیب بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج کو جنگ احد میں ایک تیر لگا جس سے ان کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ حضور ﷺ نے اپنا دستِ مبارک لگایا اور دعا فرمائی، جس سے وہ فوراً ٹھیک ہو گئی۔
حوالہ: دلائل النبوۃ (امام بیہقی)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)۔
2. اونٹ کا گم ہونا یا قابو میں آنا
ایسے کئی واقعات ہیں جہاں صحابہ کے اونٹ گم ہوئے یا بے قابو ہو گئے اور انہوں نے حضور ﷺ سے رجوع کیا۔ ایک مشہور واقعہ حضرت جابر بن عبداللہ کے اونٹ کا ہے جو تھک کر چلنے سے قاصر ہو گیا تھا، حضور ﷺ نے اسے تھپتھپایا تو وہ سب سے تیز چلنے لگا۔
حوالہ: صحیح بخاری (حدیث: 2099)، صحیح مسلم۔
3. قبرستان میں آوازیں سن کر رجوع کرنا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے ایک جگہ خیمہ لگایا جہاں انہیں قبر سے سورہ ملک پڑھنے کی آواز آئی۔ انہوں نے حضور ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سورت عذابِ قبر سے بچانے والی ہے۔
حوالہ: جامع ترمذی (حدیث: 2890)۔
4. جنگ اور دشمن کے خوف میں رجوع کرنا
مدینہ منورہ میں جب بھی کوئی بڑا خطرہ یا رات کو کوئی خوفناک آواز آتی، صحابہ حضور ﷺ کی طرف لپکتے۔ ایک بار آواز آئی تو صحابہ ابھی نکل ہی رہے تھے کہ حضور ﷺ اکیلے گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں سے واپس آ رہے تھے اور فرمایا: "گھبراؤ نہیں، کچھ نہیں ہے"۔
حوالہ: صحیح بخاری (حدیث: 2866)، صحیح مسلم۔
5. پیٹ کے درد کا علاج
ایک صحابی حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ میرے بھائی کا پیٹ خراب ہے (اسہال ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ۔ وہ تین بار آئے اور ہر بار آپ ﷺ نے شہد کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ تندرست ہو گیا۔
حوالہ: صحیح بخاری (حدیث: 5684)، صحیح مسلم۔
6. تحفہ لا کر قیمت حضور ﷺ سے دلوانا (حضرت نعیمان بن عمرو)
ویڈیو میں جس صحابی کا تذکرہ ہے، ان کا نام حضرت نعیمان بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ ہے۔ وہ بہت خوش مزاج تھے اور اکثر حضور ﷺ کے ساتھ ایسی ظرافت (مذاق) کرتے تھے۔ وہ بازار سے شہد یا کوئی نادر چیز لاتے، حضور ﷺ کو پیش کرتے اور جب بیچنے والا پیسے مانگتا تو اسے حضور ﷺ کے پاس لے آتے کہ "پیسے دے دیجیے"۔ حضور ﷺ مسکرا کر پیسے ادا کر دیتے تھے۔
حوالہ: کتاب الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، اسد الغابہ (ابن اثیر)۔
صحابہ کرام کا یہ اندازِ فکر اس لیے تھا کہ وہ حضور ﷺ کو اللہ کی طرف سے "قاسم" (تقسیم کرنے والا) اور ہر مشکل کا حل کرنے والا سمجھتے تھے۔