06/04/2024
فقہائے اسلام کی ایک جماعت کہتی ہے : اگر کسی شہر میں کوئ بھوک سے مر گیا تو تمام شہر والے اس کے ذمہ دار ہیں ، اُن پر دیت لازم ہے کہ وہ سب اس کی ہلاکت میں شریک تھے ۔ [ الحضارة الإسلامية : ١٣٨ ]
یہ معاملہ اور زیادہ حساس ہو جاتا ہے جب مسلمانوں کا ایک پورا ملک بھوک کی لپیٹ میں ہو اور دوسرے ممالک میں رہنے والوں کے دسترخوان انواع و اقسام کے کھانوں سے بھرے ہوں ۔
جزیرہ عرب میں قحط پھیلا تو امیر المومنین عمر ابن خطاب نے مصر کی طرف یوں خط لکھا تھا : الله کے بندے امیرالمومنین عمر کی طرف سے ابن العاص(رضی الله عنھما) کے نام ! سلام علیک ، امام بعد ! کیا تم یہاں لوگوں کو ہلاک ہوتا دیکھتے رہو گے اور خود عیش کی زندگی گزارتے رہو گے ، یہاں مدد و تعاون کی ضروت ہے ، اس میں جلدی کرو ۔
عمرو بن العاص(رضی الله عنه) نے جواباً لکھا : "میں مسلمانوں کی مدد کیلئے اتنا عظیم قافلہ بھیج رہا ہوں جس کا پہلا سرا آپ کے پاس مدینه میں اور دوسرا میرے پاس مصر میں ہوگا ۔" [ سيرة أمير المؤمنين عمر بن الخطاب : ٣٨٣ ]
ہر شخص کا صبح و شام خود سے پہلا سوال یہی ہونا چاہئے کہ اُس کا قافلہ کب مسلمانوں کی مدد کیلئے جا رہا ہے ۔ ہر شخص کیلئے یہی دعوت ہے : اٹھو اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو ، انہیں بےیار و مددگار مت چھوڑو ورنہ روزِ قیامت تم بھی ایسے ہی تنہا چھوڑ دیئے جاؤ گے۔۔۔!