12/05/2026
علماء کرام و صوفیاء عظام فرماتے ہیں کہ
يَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْمُرِيدُ بَيْنَ يَدَيْ شَيْخِهِ كَالْمَيِّتِ بَيْنَ يَدَيْ الْغَاسِلِ"
ترجمہ:
مرید کو اپنے شیخ کے سامنے ایسا ہونا چاہیے جیسے میّت غسّال کے سامنے ہوتی ہے۔
جیسے غسال میت پر پوری تصرف رکھتا ہے اس کے ظاہر کو صاف کرتا ہے اس کو میّت پر تصرف ہے چاہے وہ میت کو دائیں کروٹ بدلے یا بائیں کروٹ ایسے ہی پیر كا اپنے مرید پر تصرف ہوتا ہے ایسے ہی پیر اپنے مرید کے ظاہر و باطن کو صاف کریں اُسکے دِل میں اللّٰہ اور اُسکے رسُول کی محبّت ڈالے اسے اللّٰہ اور اُسکے رسُول تک پہنچائیں
اصل مفہوم کیا ہے؟
یہ بات یہ سکھاتی ہے کہ:
مرید کو اپنے شیخ (پیر) پر اعتماد ہونا چاہیے
اس کے ساتھ ادب اور احترام رکھنا چاہیے
روحانی تربیت میں ضد، انا اور بحث سے بچنا چاہیے
اپنے نفس (ego) کو قابو میں رکھ کر اصلاح کرنی چاہیے
یعنی جیسے میّت خود کچھ نہیں کرتی اور غسّال کے سپرد ہوتی ہے، ویسے ہی مرید کو اپنی اصلاح کے معاملے میں اپنے شیخ کی رہنمائی قبول کرنی چاہیے۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں:
مرید کو چاہیے کہ اپنے نفس کو چھوڑ کر شیخ کی رہنمائی قبول کرے
منجانب: صاحبزادہ حافظ غلام جیلانی