Tafseer notes by Rafia Asghar

Tafseer notes by Rafia Asghar اگر ماحول فراہم نہ کیا جائے تو چیزیں وجود کھو دیتی ہیں۔
رافعہ اصغر

19/02/2026

حسن بصری کہتے ہیں
لوگوں میں سے کوئی شخص درہم کو اپنے ناخن سے ٹھوکر مار کے اس کی قیمت معلوم کر لیتا ہے (یعنی دنیا کے معاملے میں اتنا سیانا ہے ) لیکن اس کو صحیح طرح سے نماز بھی پڑھنی نہیں آتی (یعنی دین کے معاملے میں بالکل کورا ہوتا ہے)۔
اصل بیوقوف(عقل اور فہم سے کورا) وہ ہوتا ہے جو دین کے معاملات کو نہیں سمجھتا اور سیکھتا۔

19/02/2026

گناہ کو smartness سمجھنا اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔

19/02/2026

رب کی دی ہوئی نعمت پہ شکر کرنے والے کو پانچ چیزوں کا خیال رکھنا چاہئیے:
● اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرنا
● اللہ سے محبت کرنا
● اس کی نعمتوں کو acknowledge کرنا
● اللہ کی تعریف کرنا
● اور اس کی دی ہوئی نعمت کو اچھی جگہ پہ لگانا

19/02/2026

نماز ایسا فریضہ ہے جو کسی حالت میں بھی ساقط نہیں ہو سکتا۔ اگر کھڑے ہو کے نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کے پڑھو۔ بیٹھ کے بھی نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کے اشارے سے پڑھو۔ اور ایک نماز کا چھوڑ دینا ایسا ہے جیسے کسی کا مال اور اولاد لٹ گیا ہو۔ نماز کو جان بوجھ کے قضا کرنے کی گنجائش ہی دین میں نہیں نکلتی۔
حدیث کا مفہوم آتا ہے:
"جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی گویا اس نے کفر اختیار کیا۔"
جس کو جتنا یقین ہو گا رب کے سامنے پیشی کا وہ اپنی نمازوں میں اتنے ہی اچھے ہوں گے۔

19/02/2026

تم میں سے برا وہ ہے جو گمراہی کا امام بنے۔ دین کو جانتے ہوئے دین کو چھوڑ کے برائی کی مثال بنے۔
کسی کو گمراہ دو طریقوں سے کیا جا سکتا ہے:
1) شبہات پیدا کر کے 2) حق بات چھپا کے۔

19/02/2026

انسان کی عزت اللہ کی اطاعت میں ہے۔

19/02/2026

مامون بن مہران کہتے ہیں
انسان اس وقت تک متقین میں شمار نہیں ہو سکتا جب تک اپنے نفس کا محاسبہ اس سے زیادہ نہ کرے جتنا وہ اپنے شراکت دار سے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ جان لے کہ اس کا کھانا کہاں سے ہے؟ اس کا لباس کہاں سے ہے؟ اس کا پینا کہاں سے ہے؟ کیا یہ حلال ہے یا حرام؟



21/01/2026

اللہ رب العزت نے آدم علیہ السلام کو چار چیزوں کی بنا پہ شرف بخشا۔ 1) تمام چیزوں کے نام سکھائے 2) آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے بنایا 3) ان میں روح پھونکی 4) فرشتوں کو آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ چاروں فضیلتیں اکٹھی کسی کو نہیں ملیں۔
جس بات کا انسان کو علم نہ ہو اس پہ بحث کرنے کی بجائے کہنا چاہئیے لا علم لنا الا ما علمتنا
علم کی بنیاد پہ انسان کو فرشتوں پہ فوقیت حاصل ہوئی۔ اس لیے انسان کو ساری زندگی علم حاصل کرنا چاہئیے، اور سیکھتے رہنا چاہئیے۔ اس سے اللہ کا قرب حاصل ہو گا۔
علم کی وجہ سے ہی فرشتے اہل علم سے محبت کرتے ہیں۔
حدیث میں آتا ہے
"جو شخص علم کی طلب میں گھر سے نکلے فرشتے اس کے اس عمل کو پسند کرنے کے لیے اس کی راہ میں اپنے پر بچھاتے ہیں"۔
اور جس بات کا علم نہ ہو اس کا علم حاصل کرنا چاہئیے۔ کیونکہ علم عبادت کی کنجی ہے اور علم عبادت سے افضل ہے۔ عبادت کا تعلق صرف مخلوق سے ہے جبکہ علم کا تعلق خالق اور مخلوق دونوں سے ہے۔ اور سب سے بڑا العلیم تو خود اللہ تعالٰی ہے۔ انسان فرشتوں سے زیادہ اچھی عبادت نہیں کر سکتا مگر علم کی وجہ سے فوقیت والا ہے۔


21/01/2026

اللہ رب العزت نے انسان کے لیے ساری دنیا بنائی اور انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔

21/01/2026

قرآن کا پہلا حکم کہ اللہ کی عبادت کرو۔
حدیث میں آتا ہے
آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے، اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو کسی سے اچھی بات کر لیا کرو۔" یعنی کسی سے اچھائی کی بات کر کے اسے رب کی جانب لا کے آگ سے بچو۔
جنت میں داخلہ دو شرطوں پہ منحصر ہے۔ ایک ایمان اور دوسرا عمل صالح
اور عمل صالح کی دو شرائط ہیں ایک خالص نیت اور دوسرا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطاق



16/01/2026

منافق دین کی تعلیمات سے اعتراض برتتے ہیں۔

Address

Nankana Sahib

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tafseer notes by Rafia Asghar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tafseer notes by Rafia Asghar:

Share

Category