madrasa dar ul taqwa

madrasa dar ul taqwa مدرسہ دارتقواہ ایک اعلی تعلیمی نظام.

انا الله وانا الیہ رجعون 😭
28/03/2026

انا الله وانا الیہ رجعون 😭

اعلان جنازہ
26/03/2026

اعلان جنازہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونین کونسل سروائی ضلع بونیر کے زیر اہتمام گاؤں غازی کوٹ کی سرزمین پر ایک تاریخ ساز اور فقید ال...
24/03/2026

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونین کونسل سروائی ضلع بونیر کے زیر اہتمام گاؤں غازی کوٹ کی سرزمین پر ایک تاریخ ساز اور فقید المثال کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ عظیم الشان اجتماع عام ختم نبوت کے عقائد کے تحفظ اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد ہوا، جس میں علاقے بھر سے عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کر کے اپنے ایمان اور عقیدت کا بھرپور اظہار کیا۔

کانفرنس میں جید علمائے کرام نے ختم نبوت کے موضوع پر نہایت مدلل، جامع اور ایمان افروز بیانات پیش کیے۔ مقررین نے قرآن و سنت کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، اس کی حفاظت کی ذمہ داری، اور امت مسلمہ کے لیے اس کی بنیادی حیثیت کو واضح کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کی اساس ہے، جس پر کسی قسم کی مصلحت یا سمجھوتہ ممکن نہیں۔

اس روح پرور اجتماع میں مولانا قاری اکرام الحق صاحب، مفتی عبدالشکور شاکر صاحب، مولانا مفتی رسال صاحب اور مولانا ابرار للٰہ جان صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی۔ معزز علمائے کرام نے اپنے خطابات میں امت مسلمہ کو اتحاد، بیداری اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی تلقین کی۔

شرکاء نے نہایت انہماک اور عقیدت کے ساتھ بیانات سنے اور ختم نبوت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔ یہ کانفرنس نہ صرف دینی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ علاقے میں اتحاد و یگانگت کی ایک خوبصورت مثال بھی قائم کر گئی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عقیدہ ختم نبوت پر ثابت قدم رکھے اور اس کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

خانقاہ شاہ منصور گلشن شیخیں..
23/03/2026

خانقاہ شاہ منصور گلشن شیخیں..

ان شاءاللہ کل سالانہ ختم نبوّت اجتماع بہ مقام غازی کوٹ بونیر 🌹🌹🌹🌹🌹 ختم نبوّت  🌹🌹🌹🌹
23/03/2026

ان شاءاللہ کل سالانہ ختم نبوّت اجتماع بہ مقام غازی کوٹ بونیر 🌹🌹🌹🌹🌹 ختم نبوّت 🌹🌹🌹🌹

16/03/2026
غزوہ احد ___ایک تقابلی جائزہ 🏇اسلامی لشکر کی تعداد: تقریبا 700کفار مکہ کی تعداد: 3000----------🐎کفار کے پاس گھوڑے:تقریبا...
16/03/2026

غزوہ احد ___ایک تقابلی جائزہ
🏇
اسلامی لشکر کی تعداد: تقریبا 700
کفار مکہ کی تعداد: 3000
----------
🐎
کفار کے پاس گھوڑے:تقریبا 200
مسلمانوں کے پاس گھوڑے: 2 یا 3
----------
🐪
کفار مکہ کے پاس اونٹ : 3000
مسلمانوں کے پاس اونٹ : تقریبا 70
----------
🏹
کفار کے پاس ہتھیار: کثیر تلواریں، نیزے ، تیرانداز، مکمل جنگی سازوں و سامان
مسلمانوں کے پاس ہتھیار: تلواریں، نیزے اور 50 تیز انداز
----------
کفار کے مقتولین:تقریبا 38-40
شہداء اسلام: 70
----------
📅
بتاريخ: 7 شوال 3 ہجری
----------
📍
بمقام: مدینہ کے شمال میں جبل احد کے دامن میں...کاپی

سعودی عرب میں مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ  میں رمضان المبارک کی 27ویں شب کے موقع پر خصو صی عبادات کا اہتمام کیا جارہا ہے۔...
15/03/2026

سعودی عرب میں مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ میں رمضان المبارک کی 27ویں شب کے موقع پر خصو صی عبادات کا اہتمام کیا جارہا ہے۔استغفار اور دعائیں کی جارہی ہیں۔
آپریشن کو کنٹرول کرنے کیلئے 50 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں

مُلکِ شام کے متعلق  نبی پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم كی پیشن گوئیاں👇👇👇اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلّ...
01/03/2026

مُلکِ شام کے متعلق نبی پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم كی پیشن گوئیاں👇👇👇
اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا کہ :
" اُونٹوں اور بَکریوں کے چَروَاہے جو بَرہَنَہ بَدَن اور ننگے پاؤں ہونگے وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے اور فخر کریں گے ... "
(صحیح مسلم 😎
ریاض شہر میں عمارتوں کا یہ مقابلہ آج اپنے عُروج پر پہنچ گیا، دبئی میں ’’برج خلیفہ‘‘ کی عمارت دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بن گئی تو ساتھ ہی شہزادہ ولید بن طلال نے جَدَّہ میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے جو دھڑا دھڑ بنتی چلی جا رہی ہے، عرب کی عمارتیں سارے جہان سے اونچی ہو چکی ہیں ...!
عرض کرنے کا مقصد صرف یہ کہ میرے پیارے رسول حضرت مُحمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے جو فرمایا وہ پُورا ہو چکا ہے اور پیشگوئی پُوری ہو کر اپنے نُکتۂ کمال کو پہنچ چکی ہے ...!
عرب کا سب سے زیادہ تیل خریداری کرنے والے امریکہ نے صَدَّام کو ختم کر کے تیل کی دولت سے سَیراب مُلک عِرَاق کے کنوؤں پر قبضہ جما لیا ہے اور لاکھوں بیرل مُفت وصول کر رہا ہے تو پھر تیل کی گِرتی مانگ نے تیل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر پہنچا دیا جس سے عرب ممالک کا سُنہرا دَور خاتمے کے قریب ہے ...!
■ سوال پیدا ہوتا ہے اس زوال کے بعد کیا ہے ...؟
اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور حدیث ہے کہ :
" قیامت سے پہلے سَرزَمینِ عرب دوبارہ سَرسَبز ہو جائیگی"
(صحیح مسلم)
سعودی عرب اور امارات میں بارشیں شروع ہو چکی ہیں، مَکَّہ اور جَدَّہ میں سَیلاب آ چکے ہیں۔
عرب سرزمین جسے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کو کام میں لا کر سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی ہے وہ قدرتی موسم کی وجہ سے بھی سرسبز بننے جا رہی ہے۔ سعودی عرب گندم میں پہلے ہی خودکفیل ہو چکا ہے، اب وہاں خشک پہاڑوں پر بارشوں کی وجہ سے سبزہ اُگنا شروع ہو چکا ہے، پہاڑ سرسبز ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بارشوں کی وجہ سے آخرکار حکومت کو ڈیم بنانا ہوں گے جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی، ہریالی ہو گی، سبزہ مزید ہو گا، فصلیں لہلہائیں گی، یُوں یہ پیشگوئی بھی اپنے تکمیلی مَرَاحِل سے گزرنے جا رہی ہے اور جو میرے حضور صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جا رہے ہیں ...!
اگر احادیث پر غور کریں تو مَشرقِ وُسطیٰ کے زوال کا آغاز مُلکِ شام سے شروع ہوا لیکن شاید عرب حُکمران یا تو یہود و نصاریٰ کی چال سمجھ نہ سکے یا بے رخی اختیار کی لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو، سرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی بتائی ہوئی علامات کو تو ظاہر ہونا ہی تھا حدیث کے مطابق ...!
چُنانچہ حدیث پاک میں ارشاد ہے
ﺭﺳﻮﻝ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
" ﺟﺐ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ "
(ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ 2192: ﺑﺎﺏ ﻣﺎﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﺎﻡ، ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ)
میرے محترم و مکرم قارئین کرام یاد ﺭﮐﮭﯿﮟ ...!
ﺍَﺣﺎﺩﯾﺚِ ﻣُﺒَﺎﺭﮐﮧ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﻭ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﺎ ﻣُﺴﺘﻘﺒﻞ ﻭَﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ مُلکِ شام ایسے ہی ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮتے رہا ﺗﻮ
ﭘُﻮﺭﯼ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ، ویسے تو 90 فیصد برباد ہو چکا .........!
اب جبکہ پانچ سالہ خُونریزی میں 8 لاکھ بےگناه بَچّے، بُوڑھے، عَورتیں شہید اور لاتعداد دُوسرے مُلک کی سرحدوں پر زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں اور اتنے ہی تعداد میں زخمی یا معذور ہو چکے، لہٰذا شام مُکمَّل تباہی کے بعد اب نزع کی حالت میں ہے ...!
اس حدیث کے حساب سے عرب ممالک کے سُنہرے دَور کے خاتمہ کی اہم وجہ مُلکِ شام کے مَوجُودَہ حالات ہيں، گویا نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور پیشگوئی کی عَلامَت ظاہر ہو رہی ہے یا ہو چکی ........!
یاد رکھیں ...!
کہ مُلکِ شام کے مُتعلّق اِسرائیل، رُوس، ایران و امریکہ جو بھی جھوٹے بہانے بنائے، لیکن ان سب کا اَصل ہَدَف جَزیرَة ُالعَرَب ہے کیونکہ کُفَّار کا عقیدہ ہے کہ دَجَّال مَسِیحَا ہے اس وجہ سے یہ لوگ دَجَّال کے اِنتظامات مُکمَّل کر رہے ہیں جس کے لیے عرب ممالک میں عَدمِ اِستحکام پیدا کرنا ہے کیونکہ مُلکِ شام پر یہود و نصاریٰ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ ہو کر رہیگا حضرت مہدی عَلیهِ السَّلام کے ظہور سے قبل .....!
چُنانچہ کتابِ فِتَن میں ہے کہ :
" آخری زمانے میں جب مُسلمان ہر طرف سے مَغلوب ہوجائیں گے، مُسلسل جَنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہو جائے گی، عُلماء کرام سے سُنا کہ سَعُودی، مِصر، ترکی بهى باقى نہ رہیگا ہر جگہ کُفَّار کے مظالم بڑھ جائیں گے، اُمَّت آپسی خَانہ جَنگی کا شِکار رہےگی. عرب (خلیجی ممالک سعودی عرب وغیرہ) میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہےگی، خَیبَر (سعودی عرب کا چھوٹا شہر مَدینةُ المُنَوَّره سے 170 کم فاصلے پر ہے) کے قریب تک یہود و نصاریٰ پہنچ جائیں گے، اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مَدِینة ُالمُنَوَّرَه پہنچ جائیں گے، اس وقت حضرت امام مہدی عَليهِ السَّلام مدینہ منورہ میں ہوں گے "
دُوسری طرف دریائے طبریہ بھی تیزی سے خُشک ہو رہا ہے جو کہ مہدی عَلیہِ السَّلام کے ظہور سے قبل خُشک ہو گا ...!
اسلئے جب مَشرقِ وُسطیٰ کے حالات کو خُصُوصاً مُسَلمانوں اور ساری دُنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دُنیا ہولناکیوں کی جانب بڑھ رہی ہے، فرانس میں حَملوں کے بعد فرانس اور پوپ بھی عالمی جنگ کی بات کر چکے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے اس عالمی جنگ کا مرکز کون سا خطہ ہو گا ...؟
وَاضِح نظر آ رہا ہے، مَشرقِ وُسطیٰ ہی مُتَوَقّع ہے ....!
یہاں بھی ہند و پاک کی رَنجِشیں اور کشمکش کے بڑھتے حالات سے بھی لگتا ہے کہ غَزوۂ ہند کی طرف رُخ کر رہے ہیں کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنه سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا :
" میری قوم کا ایک لشکر وَقتِ آخِر کے نزدیک ہند پر چَڑھائی کرے گا اور اللّٰه اس لشکر کو فتح نصیب کرے گا، یہاں تک کہ وہ ہند کے حُکمرانوں کو بیڑیوں میں جَکڑ کر لائیں گے۔ اللّٰه اس لشکر کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔ پھر وہ لشکر وَاپس رُخ کرے گا اور شام میں موجود عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کے ساتھ جا کر مِل جائے گا "
حضرت ابوہریرہ رَضِىَ اللّٰه تعالىٰ عَنه نے فرمایا :
" اگر میں اُس وقت تک زندہ رہا تو میں اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اُس لشکر کا حِصَّہ بَنُوں گا، اور پھر جب اللّٰه ہمیں فتح نصیب کرے گا تو میں ابوہریرہ (جہنم کی آگ سے) آزاد کہلاؤں گا۔ پھر جب میں شام پہنچوں گا تو عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کو تلاش کر کے انہیں بتاؤں گا کہ میں مُحَمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم كا ساتھی رہا ہوں "
رسول پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے تَبَسُّم فرمایا اور کہا :
"بہت مشکل، بہت مشکل"
(کتاب الفتن۔ صفحہ ۴۰۹)
(واللہ تعالٰی اعلم)
آنے والے اَدوَار بڑے پُرفِتن نظر آتے ہیں اور اس کے مُتعلّق بھی سَرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا تھا کہ میری اُمَّت پر ایک دَور ایسے آئیگا جس میں فِتنے ایسے تیزی سے آئیں گے جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں، لہٰذا اپنی نَسلوں کی ابھی سے تربیت اور ایمان کی فِکر فرمایئے، موبائل كے بےجا استعمال سے، دیر رات تک جاگنے، فیشن اور یہودی انداز اپنانے سے، نمازوں کو تَرک کرنے سے روكئے ...
ورنہ آزمائش کا مقابلہ دُشوار ہو گا .....!
دوستوں چلتے، چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کوئی ایسی نایاب ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگے، تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....!
جزاک اللہ خیرا کثیرا ..

عاصم بن نصیب گل طالب علم مدرسہ دار التقوی کوزہ ناوگی۔ 98
22/02/2026

عاصم بن نصیب گل طالب علم مدرسہ دار التقوی کوزہ ناوگی۔
98

ایک روایت میں آتا ہے کہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ تین چاند ان کے حجرے میں اتر آئے ہیں۔ جب انہوں ن...
22/02/2026

ایک روایت میں آتا ہے کہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ تین چاند ان کے حجرے میں اتر آئے ہیں۔ جب انہوں نے یہ خواب اپنے والد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انہوں نے فرمایا: اس کی تعبیر یہ ہے کہ روئے زمین کے سب سے افضل تین اشخاص تمہارے گھر میں دفن ہوں گے۔

چنانچہ سب سے پہلے محمد ﷺ اسی حجرۂ مبارک میں سپردِ خاک کیے گئے، پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ، اور اس کے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی وہیں مدفون ہوئے۔

حضرت عائشہؓ کی تمنا تھی کہ انہیں بھی نبی کریم ﷺ کے قرب میں دفن ہونے کی سعادت ملے، لیکن یہ شرف انہیں حاصل نہ ہو سکا اور آپؓ کو جنت البقیع، مدینہ منورہ میں دفن کیا گیا۔

یا خیرَ من دُفِنَت بالقاعِ أعظُمُهُ
فطابَ من طِیبِهِنَّ القاعُ والأكمُ
نفسی الفداءُ لقبرٍ أنتَ ساكنُهُ
فیه العفافُ وفیه الجودُ والکرمُ
أنتَ الشفیعُ الذی تُرجی شفاعتُهُ
علی الصراطِ إذا ما زلَّتِ القدمُ
وصاحباكَ فلا أنساهما أبداً
منی السلامُ علیکم ما جری القلمُ

اے وہ ذات جن کے مبارک اعضاء زمین میں آرام فرما ہیں،
آپ کی خوشبو سے زمین اور ٹیلے بھی معطر ہو گئے۔

میری جان اس قبر پر قربان ہو جس میں آپ ﷺ جلوہ فرما ہیں،
جہاں پاکدامنی، سخاوت اور کرم جمع ہیں۔

آپ وہ شفیع ہیں جن کی شفاعت کی امید رکھی جاتی ہے،
پلِ صراط پر جب قدم لرز جائیں گے۔

اور آپ کے دونوں رفیق — ابو بکر و عمرؓ —
میں انہیں کبھی فراموش نہیں کروں گا، جب تک قلم چلتا رہے، ان پر میرا سلام ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رسولِ اکرم ﷺ، اہلِ بیت اطہار اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سچی محبت عطا فرمائے۔
صلی اللہ علیہ وسلم تسلیماً کثیراً۔

Address

Nawagai
Nawagai
19300

Telephone

+923450713004

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when madrasa dar ul taqwa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category