Engineer Muhammad Irfan Khan

Call Directions Website Contact the business

Engineer Muhammad Irfan Khan to share my buisness and political analysis

05/10/2026

میرا اب بھی یہ پی ٹی آئی لیڈرشپ کو سیاسی مشورہ ہے کہ پارٹی کے ٹاپ لیڈرشپ کم از کم بھی بیس تعداد میں جن میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران پیٹ کی پوجا چھوڑ کر بھوک ہڑتال پر اسلام آباد میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سامنے بیٹھ جائیں یہ قربانی عوام کیلئے دے دیں۔ نہ کوئی لانگ مارچوں میں عوام کو تکلیف دیں نہ روڈز اور مارکیٹوں کو بند کریں بس صرف بھوک ہڑتال شروع کرلیں۔ پوری دنیا میں آپ کی بھوک ہڑتالی کیمپ کو نیوز میں بہت بڑی جگہ مل جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان اور صاحب اختیار طبقوں میں آپ کے مطالبات پر یقیناً مثبت سوچیں شروع ھو جائینگی ۔ آپ ھڑتالیں نہ کریں ان ھڑتالوں سے عوام کو تکلیفیں ھوتیں ہیں ۔ صاحب اقتدار طبقوں سے اپنے سیاسی مطالبات منوانے کیلئے دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں نے بھوک ہڑتالیں کیں ہیں اور یہ مؤثر سیاسی طریقہ کار ھوتا ہے۔ اگر تو پی ٹی آئی لیڈرشپ بھوک ہڑتال پر نہیں بیٹھتے اور ھڑتالیں کرنے اور لانگ مارچوں پر بضد رہتے ہیں تو یہ پھر عوامی لیڈروں میں کسی بھی طور سے شمار نہیں کئے جاسکتے اور یہ پھر ہر جگہوں پر صرف غریب عوام کی قربانی پر اکتفاء کرتے ہیں جو کہ بذات خود ایک سیاسی جرم شمار ھوتا ھے والسلام بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

10/09/2026
15/08/2026

بات یہ ہے کہ ساری عمر بلکہ آج کے دور میں ان باتوں سے زندگی نہیں بدلی جاسکتی کہ میرے دادا کی بڑی بڑی آنکھیں تھیں دادا کی پگڑی سات گز کی تھی ان کا عمصا کئی گز لمبا تھا وہ لمبا لمبا چلتا تھا۔۔۔۔ان باتوں سے ھم پختونوں کو کچھ ملنا نہیں ہے ۔ ھمارے اوپر شمال میں دنیا کی بڑی سپر ٹیکنالوجی پاور چین ہے ساتھ میں روس ہے مشرقی سائڈ پر اندرون ملک پنجابی محنتی قوم ہے ان سے پیچھے انڈیا ہے ۔ ھم کو کچھ ٹیکنیکل ایڈوانس ھونا پڑے گا۔ یہ فضول تاریخی کارنامے ہیں جو ھمیں سکھانے کیلئے قوم پرست پارٹیاں لگی ھوئی ہیں ۔ اور ھم اپنی نااھلی نالائقی کی وجوہ سے پیچھے ہیں تو الزامات دوسروں پر لگانے شروع کر دیتے ہیں۔ ۔۔۔ بیس پچیس سال پہلے ایک دفعہ ھم اسی طرح حجرہ میں بیٹھے اپنے افغان پختونوں کی گارڈرز مار رہے تھے ۔ اتنے میں ھمارے ساتھ بیٹھے ایک افغان چاچا بھی بیٹھے تھے گڑ کے ساتھ قہوہ پی رہے تھے وہ ھمارے باتوں کو سن کر بولنے لگے اپنے بیٹے کو کہا کہ جھوٹ بول رہے ھو ۔ھمارے ساتھ کبھی جنگ کیلئے ھتیار ہی نہیں تھے پورے افغانستان میں صرف فوج کے پاس پرانی رائفلیں ھوتی تھیں۔ کہا کہ ھمارے گاؤں میں جب ریچھ وغیرہ آجاتا تو پورا گاؤں درانتیاں اور سوٹے پکڑے نکلتا تھا پھر خاردار جھاڑیوں کی مدد سے ریچھ کو بھاگنے پر مجبور کرتے تھے۔ ۔۔۔۔۔ تو یہ ساٹھ ستر کی دھائی میں حال ھوتا تھا تو کئی سو سالوں پہلے کیا ھوا تھا یہ مبالغہ آمیزی ہے اور کچھ نہیں۔ بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

12/08/2026
06/08/2026

صوبوں کی تعداد بڑھانا پاکستان کی ضرورت ہے یہ بہت پہلے بنانے چاھیے تھے۔جو کہتے ہیں کہ صوبوں کی تعداد سے خرچے بڑھیں گے۔ خرچے تو اب بھی کنٹرول کرنے چاہیئے صوبوں کی تعداد آبادی کے لحاظ سے بڑھانی چاہیے اگر یہ لسانی بنیادوں پر ھوں تو فائدے کی بجائے نقصانات ھونگے۔ میرے خیال سے اگر صحیح نیت سے قابل ترین اقتصادی ماہرین کے ذریعے سے صوبوں کی تقسیم در تقسیم ھو تو یہ بیس سے زائد صوبے بن جائیں گے باقی اخراجات کنٹرول کرنے کیلئے لوگوں کو صحیح مخلص اور قابل قیادت کو منتخب کرنے چاہیئے نہ کہ کرپٹ نالائق نااھل لوگوں کو۔ بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

01/08/2026

خیبرپختونخواہ صوبے کی ایڈمنسٹریٹیو اخراجات پورے سالانہ بجٹ کا تقریباً 70 ٪ فی صد سے زیادہ ہیں۔ میں حیران ھوتا ھوں کہ ایک بڑے ریسورسز والا صوبہ جس میں آپ کئی بلینز درختوں کے جنگلات لگا سکتے ہیں جو کہ نیشنل اور انٹرنیشنل ٹورازم کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔اگر ٹورازم فرض کریں نہ بھی ھو تب بھی جنگلات مستقل صوبے کا سرمایہ بنتا جائے گا۔ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ہر حصے سے کام لیں قابل انجنئیرنگ سٹاف رکھیں اور پورے صوبہ کی ایریگیشن سسٹم کو 100 فی صد ایکٹیویٹ کرلیں زرعی رقبہ کو بڑھائیں۔ بنوں لکی مروت اور کرک کی زمینوں کو قابل کاشت بنائیں , باغات لگائیں، قدرتی ڈیری پراڈکٹس کو ہر ضلع میں فروغ دیں ، گھریلو مرغیوں کو فروغ دیں۔صوبے کی اندرونی خوراک و زراعت کی ضرورت بھی پوری ھوگی اور قدرتی خوراکی مصنوعات کی ایکسپورٹ بھی بڑھا سکتے ہیں ۔ لوگ صحت مند سستی خوراک کے کھانے سے پھل اور سبزیاں کھانے سے ، دیسی انڈے اور دیسی مرغیوں کے کھانے سے سو فیصد صحت مکمل فٹ رہے گی۔ صوبے کے بڑے اور چھوٹے شھروں کو سستے عوامی ٹرانسپورٹ سسٹم سے ملائیں اس کیلئے صوبائی حکومت اپنی ہی ریجنل ٹرانسپورٹ سسٹم کے تحت ریل نیٹ ورک بنائیں۔ اس کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نظام چلائیں بہت فائدے ھونگے۔ اندرونی اور بیرونی شھروں کو روزانہ صاف رکھنے کیلئے اسی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ دو اضلاع میں بنائیں ایک پشاور اور ایک لکی مروت یا ڈیرہ اسماعیل خان میں بنائیں۔ تمام صوبے کے شھروں سے کچرا غلاظت ختم ھو جائے گا۔۔۔صوبے کے تمام سکولوں میں مفت تعلیم، ٹیکنیکل کالجز اور ٹیکنیکل سینٹرز میں مفت تعلیم اور یونیورسٹیوں میں زیادہ تر یہی پروفیشنل ڈگریوں کو فروغ دیں تحقیقی اداروں کو فروغ دیں۔ صوبے میں جدھر جدھر قدرتی وسائل ہیں ان کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کے تحت نیشنل لیول پر باقاعدہ ٹینڈرز کرائیں کیونکہ یہ اکثریت علاقوں میں کوئلے، ماربل اور دوسرے معدنیات علاقے کے اثرورسوخ والے لوگوں کے قبضے میں ھوتی ہیں ان میں کام کرنے والے ماہر مزدوروں سے بغیر کسی حفاظتی اقدامات کیے غلاموں کی طرح کام لیتے ہیں ان کو ریگولرائز کریں صوبے کے عوام کو فائدے ھونگے ۔ ان بڑے بڑے قابل عمل اقدامات سے صوبے کی ریوینیو مطلب اقتصادیات بڑے گی ۔ اپنے صوبے کی ریوینیو ان اقدامات سے پانچ سالوں میں ہی کم از کم بھی پنجاب کی ریونیو تک لا سکتے ہیں اور پھر اگلے مزید پانچ سالوں میں بیس پچیس ارب ڈالرز تک لا سکتے ہیں اگر کرپشن نہ ھو ۔ بہت سی چیزیں ہیں جن پر بہت سے مفید قابل عمل تجاویز پیش کی جاسکتی ہیں لیکن اگر صوبے کے سیاستدان اور پارٹیاں چاھیں۔ والسلام بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

01/08/2026

داسې ده چه زمونږ د خیبرپښتونخواه صوبې خپل بجټ په حساب کتاب سره روزانه خرچي ۴.۵ ارب روپۍ دي. مطلب د کال خرچي يي ۱۶۵۰ اربه روپۍ ايښودل شوی وي. دا تقريبا د ټول بجټ څه کم اويا فيصده جوړيږي. مطلب ګټه کم او خرچي زياتې دي. اوس که مونږ د جرمني د يو اوسط صوبائي خرچ اوګورو نو هغه تقريبا پنځوس ميليونه يورو روزانه خرچي وي او د هغوي اوسنۍ اوسط بجټ څه د پاسه ۲۶ بيلين يورو دي يعنې خرچي يي څه اعشاريه دوه فيصده جوړيږي. يعنې خرچي يي کم او ګټه زياته ده. نو مونږ له هم پکار دي چه خرچي د انګريزانو او جرمنيانو غوندې کم تر کمه اوساتو....ډيره مننه انجنیر محمد عرفان خان بډه بېره پیښور

01/08/2026

بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں ھزاروں کوئلہ کانوں میں روزانہ درجنوں کے حساب سے کان کن مزدور مائنز مالکان اور ٹھیکیداروں کی بے حسی کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں ان مزدوروں کیلئے کوئی سٹینڈرڈ سیفٹی اقدامات نہیں ھوتے۔ یہ تقریباً خرکار کیمپوں جیسے ھوتے ہیں ۔ حکومت پاکستان کو اپنی تحویل میں لے ان کوئلے کی کانوں کو جدھر بھی ہیں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق ٹینڈرز کرنے چاہیے تاکہ ان مزدوروں کو انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق سہولیات مہیا ھوں بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

Address

Badaber
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Engineer Muhammad Irfan Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Engineer Muhammad Irfan Khan:

Shortcuts

Share