Engineer Muhammad Irfan Khan

Engineer Muhammad Irfan Khan to share my buisness and political analysis

12/06/2026

ھمارے صوبے کے نئے نام کے خیبرپختونخواہ یا اس نام سے پہلے صوبہ سرحد یا فرنٹیئر کے نام کے وقتوں سے جتنی بھی صوبائی حکومتیں رہیں ہیں سب کے سب ایک دوسرے سے خالی خولے نعروں@ میں ، نالائقی میں اور آسان طریقوں سے کرپشن مالی اور اخلاقی دونوں میں صرف سبقت لے جانے میں لگے رہیں تھیں اور اب بھی ہیں۔ یہاں کی بیوروکریسی تو اس صوبے کے عوام کیلئے شروع سے بادشاہ یا شہنشاہوں سے کم نہیں رہیں ہیں ۔ یہ ھمارے عوام کی بدقسمتی ہے کہ اوپر سے عوام بھی اپر چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک اور طورخم ، پاڑہ چنار ، میران شاہ اور وانا سے لے کر دریائے سندھ تک اکثریت بلکہ سب کے سب انتہائی جذباتی عوام ہیں جو کہ ہر خالی نعروں پر حاضر جناب رہتے ھیں ۔ کسی بھی لیڈر جن کی پارٹی حکومت میں رہیں تھیں یا اب بھی ہیں یہ نہیں پوچھتے کہ جو سالوں سے ہر سال وقت پربجٹ صوبے کیلئے پیش کرتے رہے ھو وہ تو ھر سال ھزاروں اربوں روپے کے ترقیاتی کاموں اور منصوبوں پر دکھاتے رہے ھوں وہ عوامی منصوبے کدھر ہیں ؟ دوسرے جو تم ہر حکومت اور ہر پارٹی کے لیڈرز اس صوبے کے عوام کو وفاق پاکستان کے خلاف نعرے دلواتے رہے ھو کہ وفاق پاکستان اس صوبے کو اپنے حصے کے پیسے نہیں دے رہیں ہیں تو وہ تمام پیسے کتنے ارب روپے ہیں جو کہ وفاق نے ادا نہیں کئے ہیں ؟! باوثوق ذرائع کے مطابق وفاق پاکستان ھمارے صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 14.6٪ فی صد ہر سال ادا کرنے کے پابند ہیں ۔ ان ساڑھے چودہ فی صدی کے لحاظ سے 678 ارب روپے ہر سال دینے ہیں جو کہ صرف پندرہ سالوں کے ڈیٹا کے مطابق 8400 ارب روپے ھمارے صوبے کو ادا کر چکے ہیں اور کچھ تقریباً پانچ ھزار ارب روپے رہتے ہیں جو انہوں نے ادا کرنے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ایک باپ اپنے چار بیٹوں میں ایک بیٹے کو یہ عذر پیش کرے کہ تمھارے پاس پہلے ہی اپنے پیسے بھی کافی ہیں اسلئے اس دفعہ کے پیسے اگلے سال دے دوں گا یا یہ کہے کہ 678 ارب میں سے کچھ یہ لے لیں کیونکہ آپ کی اپنی آمدنی بھی ہے اور دوسرا تمھارے پچھلے سالوں والے پیسے بھی ابھی تک خرچ نہیں ھوئے ہیں تو اس دفعہ میں اپنے بڑے گھر کا کام چلا لوں گا ۔۔۔۔ یعنی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 678 ارب روپوں کے علاؤہ بھی تو ان عوامی حکومتوں کے پاس صوبے کے اپنے وسائل سے بھی پیسے آتے رہیں ہیں جو کہ وفاق سے ملنے والے پیسوں کے تین گنا سے بھی زیادہ ھوتے ہیں یعنی ڈیڑھ ھزار ارب روپوں سے زیادہ ھوتے ھیں تو پھر ان پیسوں کا ان حکومتوں نے اب تک کیا کیا ہے ؟؟؟ کیا ھمارا یہ خوبصورت وسائل سے مالامال صوبہ یورپ کے اٹلی ، جرمنی آسٹریا اور سویٹزرلینڈ سے کم تو نہیں ھونا چاھیے تھا حالانکہ یورپ کے یہ ترقیافتہ ممالک تیل گیس کوئلہ کیلئے مشرقی یورپی ممالک اور روس کے محتاج ھوتے ہیں جب کہ ھمارا صوبہ خیبرپختونخواہ خوراکی زرعی پیداوار سمیت تیل لوہا کوئلہ اور گیس کی اتنی پیدوار ھوتی اب بھی ہوسکتی ہے کہ یہ کسی اور صوبے کا محتاج ہی نہیں ھونا چاھیے لیکن حالت یہ ہے کہ ھمیشہ سے ہی چونکہ یہ نالائقی اور ساتھ میں کرپشن والے ارسطو ھمیں پنجاب اور وفاق پاکستان کے خلاف ہی پٹی پڑھاتے رہتے ہیں کہ عوام کی توجہ ان کی نالائقی اور کرپشن کی طرف نہ ھو۔ میں نااھلی نالائقی اور بداخلاقی دروغ گوئی کو بھی سنگین کرپشن سمجھتا ھوں بلکہ دنیا کے ترقیافتہ ممالک میں یہی پیمانہ ہے کہ کرپشن کیا کیا ھوتی ہیں ۔ قصہ المختصر یہ کہ ھم خیبرپختونخواہ کے عوام کو بس اب ان نام نہاد لیڈروں سے کھل کر پوچھنا چاھیے کہ وفاق کے پیسوں کے علاؤہ ڈیڑھ ھزار ارب روپوں پر سالانہ تم لوگوں نے کیا کیا ہے ؟ اور وفاق والے پیسے کدھر چلے جاتے ہیں ؟؟ والسلام انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

29/05/2026

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان صاحب کو میں مشورہ دینا چاھتا ھوں کہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں ہی ٹی آئی ممبران اسمبلی ان کا حکم مانتے ہیں تو اس وقت عمران خان کیلئے سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ خیبرپختونخواہ میں جلد از جلد تمام پارلیمانی پارٹیوں پر مشتمل مشترکہ قومی حکومت بنادیں تاکہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے عوام سکھ کا سانس لے لیں۔ یہ قومی حکومت اگر کل تک بنتی ہے تو آج شام تک بنادیں ورنہ میرا سیاسی شعور یہ کہتا ہے کہ پی ٹی آئی کی یہ حکومت نہ صرف صوبے کو تباہی میں لے جائے گی اور کل کو الزامات وفاق پاکستان اور دفاعی اداروں پر لگائے گی لیکن تب تک پی ٹی آئی کا سیاسی جماعت کی حیثیت سے خاتمہ یقینی طور سے ھوگا اور لوگ یہ پختون لوگ پھر نہ صرف اپنے موجودہ پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو مجرم ٹھہرائیں گے ساتھ میں عمران خان صاحب باوجود اس کے جیل میں ھونگے کو مجرم ٹھہرائیں گے ۔ عمران خان صاحب کو قومی حکومت بنانے کا آرڈر دینا چاہیے اور ساتھ میں پشاور سے وزیراعلی لینا چاہیے ۔ سھیل آفریدی صاحب مجھے لگتا ہے کہ بہت کچھ غلط ھونے جن میں سینکڑوں اربوں روپوں کے ضائع ہونے کے باوجود پتلہ گلی سے نکل جائے گا۔ اس کو بدلنا چاہیے اور قومی حکومت جلد از جلد قائم کرنی چاہئے تاکہ باقی کے تین سالوں میں فنڈز کا صحیح استعمال ھوسکے۔ والسلام انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

29/05/2026

I m not PTI but to be realistic about Billion Trees that about 1.23 billion trees had been planted in the first 3 years and it had changed the climate in those times. later the timber Mafia has started to cut those even younger trees for their nefarious businesses. No other leader of any so-called political party other than only Imran Khan has the sense of The billion Trees plantation and Pure Climate with 100% Oxygen to produce like projects.

27/05/2026
27/05/2026
25/05/2026

پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ حکومت کو تصدیق یا تردید مدلل جوابات دینی چاہیے کہ وفاقی حکومت پاکستان نے 2010 سے اب تک ھمارے صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 8400 ارب دیئے ہیں جبکہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کیلئے علیحدہ سے 700 ارب روپے پچھلے چار پانچ سالوں میں دیئے ہیں۔ یہ ھزاروں ارب روپے صرف وفاق پاکستان سے ملے ہیں جبکہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے اپنے وسائل بھی ہیں جن سے صوبہ چلتا ہے اور ہر سال بجٹ میں وہ پیسے بھی دکھائے جاتے ہیں۔اب یہ حساب کتاب ھزاروں اربوں روپوں کے ہیں جن سے صوبہ خیبرپختونخواہ کو کسی صورت انڈیا کے گجرات احمد آباد ، جرمنی کے مشرقی حصے ڈریسڈن ، لائپزگ ، مگدیبرگ ، نارتھ آئرلینڈ اور کینیڈا اور امریکہ کے البرٹا اور الاسکا کے جی ڈی پی سے کسی صورت کم نہیں ھونا چاھیے ۔ تھا لیکن بدقسمتی سے ھمارا صوبہ باوجود رچ نیچرل ریسورسز خوبصورتی موافق موسمی حالات کے پھر بھی پنجاب سے پیچھے ہے باوجود اس کے کہ مذہبی پارساؤں کی پارٹیاں ہیں قوم۔پرستوں والی پارٹیاں ہیں بلکہ پکے پتھر والے پانچ کلو والے سیر سے حکومتوں میں رہ چکے ہیں جن کے بارے میں کرپشن کا سوچنا بھی گناہ لگتا ہے عمران خان کی پی ٹی آئی جو کہ مذہبی اور قوم پرستی اور پاکستانیت کا مکس ہیں یہ سارے کے سارے پاکستان میں سب سے زیادہ اپنے کو صاف وشفاف سمجھتے ہیں پھر بھی صوبے میں کاروبار زندگی تباہی کی طرف جارہی ہے کوئی ترقی نہیں ہے حکومتی تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹیوں میں فنڈز نہ ھونے کی وجوہ سے تعلیمی اداروں کے اخراجات پورے نہیں ہورہے ہیں داخلے کم۔ہیں ۔ ھونا تو یہ چاھیے تھا کہ ھمارے تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹیوں کے دوسرے ترقیاتی ممالک کے ساتھ وزٹنگ کورسسز وغیرہ ھوتے لیکن یہ ادارے کم۔ترین سطح پر اپنے اخراجات پورے نہیں کرسکتے ۔ صرف اور صرف پارلیمانی انتخابات کے بعد ممبران اسمبلی کی ترقی میں اضافے ھوتے ہیں جو کوئی ایک خیبر سوزوکی گاڑی ایفورڈ نہیں کرسکتے تھے وہ بھی کروڑوں اور اربوں روپوں میں کھیلنے لگ جاتے ہیں یہ بے شرمی کب تک چلے گی ۔۔ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

23/05/2026

باوثوق ذرائع کے مطابق وفاق پاکستان ھمارے صوبے خیبرپختونخواہ کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2010 سے اب تک ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے ادا کرچکا ہے ۔ 2019 سے اب تک ضم شدہ اضلاع کی ترقی کیلئے علیحدہ سے 700 ارب روپے دے چکا ہے ۔ ہر بجٹ کی طرح پچھلے مالی سال 2025-26 کیلئے خیبرپختونخواہ حکومت نے 2119 ارب روپے خرچ کرنے تھے جس میں 547 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر ایسے خرچ کرنے تھے کہ وہ منصوبے اب تک مکمل ہوچکے ہوں 364 ارب روپے تعلیم پر خرچ کرنے تھے اسی طرح صحت عامہ پر اربوں روپے خرچ کرنے تھے کیا پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ حکومت یہ ثبوت دے سکتی ہے کہ اب تک انہوں نے ان سینکڑوں نہیں بلکہ ھزاروں ارب روپے کا کیا کیا ہے ؟ کتنے روپے جیبوں میں چلے گئے ہیں اور کتنے عوامی ترقیاتی منصوبے مکمل ہوچکے ہیں؟؟؟ کیا حکومتی تعلیمی اداروں کا معیار ترقی کرچکا ہے یا پستی میں گر چکا ہے ؟؟ کیا سرکاری ھسپتالوں کا معیار عوامی توقعات کے مطابق بڑھ چکا ہے یا گر چکا ہے ۔۔؟؟؟؟ ساڑھے آٹھ نو ہزار ارب روپے جو صرف وفاق سے باوثوق ذرائع کے مطابق ملے ہیں ان پیسوں سے تو خیبرپختونخواہ صوبہ کو جرمنی کے کسی صوبے سے کم نہیں ھونا چاھیے تھا خیبرپختونخواہ کو تو سویٹزرلینڈ ھونا چاھیے تھا ۔۔۔۔بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

ھمارے بڈھ بیر کے خوڑ کے دونوں کناروں پر بھی انشاءاللہ کسی وقت شکاگو کی طرح شھر آباد ھو جائے گا
19/05/2026

ھمارے بڈھ بیر کے خوڑ کے دونوں کناروں پر بھی انشاءاللہ کسی وقت شکاگو کی طرح شھر آباد ھو جائے گا

Chicago evolve through 12,000 years in a fixed-camera historical timelapse, from the post-glacial Lake Chicago plain to the...

14/08/2020

تاریخی حقائق کےمطابق قائداعظم محمدعلی جناح رحمۃاللہ علیہ آل انڈیاکانگریس پارٹی کو یہ کہہ کر چھوڑ دی تھی کہ گاندھی منافقت کررہا تھا اس کا سیاسی مقصد تاج برطانیہ یعنی انگریزوں کے زیرِ سایہ متحدہ ھندوستان میں صرف ھندوؤں کا راج چاہیئے تھا مسلمان لیڈروں کو وہ استعمال کررہا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے سکھ حریت پسند نوجوان بھگت سنگھ( انگریزسامراجی افسر کو قتل کیا تھا) کا انگریزوں کے سامنے انگریزوں کے خلاف بھرپور سیاسی اور اخلاقی دفاع کیا تھا جبکہ گاندھی سمیت کانگریس لیڈروں نے بھگت سنگھ کو انگریز افسر کے مارنے پر مجرم قرار دیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے23 مارچ سنہء 1940 کے قرارداد پاکستان کے بعد انگریزوں کا ہر قسم کی پیشکشیں ٹھکرائی تھیں کہ ھندوستان کے مطالبے سے دستبردار ھوجائے لیکن قاید اعظم محمد علی جناح پاکستان کے مطالبے سے پیچھے نہیں ھٹے۔ گاندھی اور دوسرے کانگریس لیڈرز درپردہ انگریزوں اور تاج برطانیہ کے مضبوط حمایتی تھے جن میں مسلم کانگریسی لیڈرز بھی شامل تھے۔ یہ مسلمان کانگریسی لیڈرز دراصل گاندھی کے تابعداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنا چاھتے تھے حالانکہ کانگریسی ھندو تاج برطانیہ کے زیرِسایہ لارڈماوونٹ بیٹن کو تادم مرگ بطورِ گورنر جنرل قبول کرکے صرف اور صرف ھندوؤں کی حکومت چاھتے تھے جس میں مسلمانوں کو برائے نام نمایندگی دی جانی تھی باقی اصل سیاسی اور حکومتی طاقت ھندوؤں کے پاس ھوتی جو کہ آج کے نریندرا مودی کی حکومت ہے جو مسلمانوں کو بالکل برداشت نہیں کرسکتے اور مسلمانوں کی شناخت ھندوسماج کے ساتھ مکس کرکے ختم کرنا چاھتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کو یہ بالکل قابل قبول نہیں تھا اسلئے وہ ببانگِ دہل کہتا تھا کہ مسلمان اور ہندو تہذیب رسم ورواج جدا جدا ہیں یہ کبھی ایک نہیں ہوسکتے لہذا مسلمانان ہند کیلئے علیحدہ خودمختار اسلامی ملک ہی ھماری منزل ہے اور پاکستان کے نام سے علیحدہ ملک بن کر رہے گا اور الحمدللہ پاکستان بن کر ہی ثابت ھوا۔ اس وقت پاکستان بننے میں ادھر کے آج کے مغربی پاکستان کے جتنے بھی کانگریسی رہنما تھے انہوں نے پاکستان کو ناکام بنانے کیلئے بہت بڑی سازشیں بنائی تھیں لیکن الحمدللہ وہ سازشیں ناکام ھوئی تھیں کیونکہ ادھر کے تمام پختون قبائل بشمول اس وقت کے سرحدی قبائلی علاقوں کے پختونوں کے قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کی حمایت کررہے تھے اور پختونوں نے کانگریسیوں کو بتا بھی دیا تھا اور دکھا بھی دیا تھا کہ تمام پختونوں کا لیڈر بھی قائد اعظم محمد علی جناح ہیں وہ اس وقت بھی تھے اور اب بھی ہیں اور تاقیامت رہے گا ۔ پاکستان زندہ باد اور کانگریسی نظریہ مردہ باد۔ ایک اور بات یہ ہے کہ ھماری آزادی کا دن اگرچہ15 اگست کو انگریز کے ساتھ دستخط ھوئے تھے لیکن چونکہ آزادی کا حتمی فیصلہ 14اگست1947کو ہی ھوا تھا اسلئے قائد اعظم محمد علی جناح کی خواہش پر 15کی بجائے 14 اگست ہے یہ اسلئے ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو انگریزوں کی دی گئی تاریخ بھی پسند نہیں تھی جبکہ کانگریس پارٹی نے انگریز کے آرڈر کے مطابق 15اگست کردیا اورکانگریسی بانمبڑوں نے انگریز لارڈ ماؤنٹ بیٹن کوہی اپنا حتمی لیڈر مان لیا جن سے پتہ چلتا ہے کہ گاندھی سمیت سب کانگریسی بانمبڑ سازشی تھے۔ والسلام بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر

Address

Badaber
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Engineer Muhammad Irfan Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Engineer Muhammad Irfan Khan:

Share