01/08/2026
خیبرپختونخواہ صوبے کی ایڈمنسٹریٹیو اخراجات پورے سالانہ بجٹ کا تقریباً 70 ٪ فی صد سے زیادہ ہیں۔ میں حیران ھوتا ھوں کہ ایک بڑے ریسورسز والا صوبہ جس میں آپ کئی بلینز درختوں کے جنگلات لگا سکتے ہیں جو کہ نیشنل اور انٹرنیشنل ٹورازم کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔اگر ٹورازم فرض کریں نہ بھی ھو تب بھی جنگلات مستقل صوبے کا سرمایہ بنتا جائے گا۔ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ہر حصے سے کام لیں قابل انجنئیرنگ سٹاف رکھیں اور پورے صوبہ کی ایریگیشن سسٹم کو 100 فی صد ایکٹیویٹ کرلیں زرعی رقبہ کو بڑھائیں۔ بنوں لکی مروت اور کرک کی زمینوں کو قابل کاشت بنائیں , باغات لگائیں، قدرتی ڈیری پراڈکٹس کو ہر ضلع میں فروغ دیں ، گھریلو مرغیوں کو فروغ دیں۔صوبے کی اندرونی خوراک و زراعت کی ضرورت بھی پوری ھوگی اور قدرتی خوراکی مصنوعات کی ایکسپورٹ بھی بڑھا سکتے ہیں ۔ لوگ صحت مند سستی خوراک کے کھانے سے پھل اور سبزیاں کھانے سے ، دیسی انڈے اور دیسی مرغیوں کے کھانے سے سو فیصد صحت مکمل فٹ رہے گی۔ صوبے کے بڑے اور چھوٹے شھروں کو سستے عوامی ٹرانسپورٹ سسٹم سے ملائیں اس کیلئے صوبائی حکومت اپنی ہی ریجنل ٹرانسپورٹ سسٹم کے تحت ریل نیٹ ورک بنائیں۔ اس کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نظام چلائیں بہت فائدے ھونگے۔ اندرونی اور بیرونی شھروں کو روزانہ صاف رکھنے کیلئے اسی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ دو اضلاع میں بنائیں ایک پشاور اور ایک لکی مروت یا ڈیرہ اسماعیل خان میں بنائیں۔ تمام صوبے کے شھروں سے کچرا غلاظت ختم ھو جائے گا۔۔۔صوبے کے تمام سکولوں میں مفت تعلیم، ٹیکنیکل کالجز اور ٹیکنیکل سینٹرز میں مفت تعلیم اور یونیورسٹیوں میں زیادہ تر یہی پروفیشنل ڈگریوں کو فروغ دیں تحقیقی اداروں کو فروغ دیں۔ صوبے میں جدھر جدھر قدرتی وسائل ہیں ان کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کے تحت نیشنل لیول پر باقاعدہ ٹینڈرز کرائیں کیونکہ یہ اکثریت علاقوں میں کوئلے، ماربل اور دوسرے معدنیات علاقے کے اثرورسوخ والے لوگوں کے قبضے میں ھوتی ہیں ان میں کام کرنے والے ماہر مزدوروں سے بغیر کسی حفاظتی اقدامات کیے غلاموں کی طرح کام لیتے ہیں ان کو ریگولرائز کریں صوبے کے عوام کو فائدے ھونگے ۔ ان بڑے بڑے قابل عمل اقدامات سے صوبے کی ریوینیو مطلب اقتصادیات بڑے گی ۔ اپنے صوبے کی ریوینیو ان اقدامات سے پانچ سالوں میں ہی کم از کم بھی پنجاب کی ریونیو تک لا سکتے ہیں اور پھر اگلے مزید پانچ سالوں میں بیس پچیس ارب ڈالرز تک لا سکتے ہیں اگر کرپشن نہ ھو ۔ بہت سی چیزیں ہیں جن پر بہت سے مفید قابل عمل تجاویز پیش کی جاسکتی ہیں لیکن اگر صوبے کے سیاستدان اور پارٹیاں چاھیں۔ والسلام بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور