12/06/2026
ھمارے صوبے کے نئے نام کے خیبرپختونخواہ یا اس نام سے پہلے صوبہ سرحد یا فرنٹیئر کے نام کے وقتوں سے جتنی بھی صوبائی حکومتیں رہیں ہیں سب کے سب ایک دوسرے سے خالی خولے نعروں@ میں ، نالائقی میں اور آسان طریقوں سے کرپشن مالی اور اخلاقی دونوں میں صرف سبقت لے جانے میں لگے رہیں تھیں اور اب بھی ہیں۔ یہاں کی بیوروکریسی تو اس صوبے کے عوام کیلئے شروع سے بادشاہ یا شہنشاہوں سے کم نہیں رہیں ہیں ۔ یہ ھمارے عوام کی بدقسمتی ہے کہ اوپر سے عوام بھی اپر چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک اور طورخم ، پاڑہ چنار ، میران شاہ اور وانا سے لے کر دریائے سندھ تک اکثریت بلکہ سب کے سب انتہائی جذباتی عوام ہیں جو کہ ہر خالی نعروں پر حاضر جناب رہتے ھیں ۔ کسی بھی لیڈر جن کی پارٹی حکومت میں رہیں تھیں یا اب بھی ہیں یہ نہیں پوچھتے کہ جو سالوں سے ہر سال وقت پربجٹ صوبے کیلئے پیش کرتے رہے ھو وہ تو ھر سال ھزاروں اربوں روپے کے ترقیاتی کاموں اور منصوبوں پر دکھاتے رہے ھوں وہ عوامی منصوبے کدھر ہیں ؟ دوسرے جو تم ہر حکومت اور ہر پارٹی کے لیڈرز اس صوبے کے عوام کو وفاق پاکستان کے خلاف نعرے دلواتے رہے ھو کہ وفاق پاکستان اس صوبے کو اپنے حصے کے پیسے نہیں دے رہیں ہیں تو وہ تمام پیسے کتنے ارب روپے ہیں جو کہ وفاق نے ادا نہیں کئے ہیں ؟! باوثوق ذرائع کے مطابق وفاق پاکستان ھمارے صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 14.6٪ فی صد ہر سال ادا کرنے کے پابند ہیں ۔ ان ساڑھے چودہ فی صدی کے لحاظ سے 678 ارب روپے ہر سال دینے ہیں جو کہ صرف پندرہ سالوں کے ڈیٹا کے مطابق 8400 ارب روپے ھمارے صوبے کو ادا کر چکے ہیں اور کچھ تقریباً پانچ ھزار ارب روپے رہتے ہیں جو انہوں نے ادا کرنے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ایک باپ اپنے چار بیٹوں میں ایک بیٹے کو یہ عذر پیش کرے کہ تمھارے پاس پہلے ہی اپنے پیسے بھی کافی ہیں اسلئے اس دفعہ کے پیسے اگلے سال دے دوں گا یا یہ کہے کہ 678 ارب میں سے کچھ یہ لے لیں کیونکہ آپ کی اپنی آمدنی بھی ہے اور دوسرا تمھارے پچھلے سالوں والے پیسے بھی ابھی تک خرچ نہیں ھوئے ہیں تو اس دفعہ میں اپنے بڑے گھر کا کام چلا لوں گا ۔۔۔۔ یعنی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 678 ارب روپوں کے علاؤہ بھی تو ان عوامی حکومتوں کے پاس صوبے کے اپنے وسائل سے بھی پیسے آتے رہیں ہیں جو کہ وفاق سے ملنے والے پیسوں کے تین گنا سے بھی زیادہ ھوتے ہیں یعنی ڈیڑھ ھزار ارب روپوں سے زیادہ ھوتے ھیں تو پھر ان پیسوں کا ان حکومتوں نے اب تک کیا کیا ہے ؟؟؟ کیا ھمارا یہ خوبصورت وسائل سے مالامال صوبہ یورپ کے اٹلی ، جرمنی آسٹریا اور سویٹزرلینڈ سے کم تو نہیں ھونا چاھیے تھا حالانکہ یورپ کے یہ ترقیافتہ ممالک تیل گیس کوئلہ کیلئے مشرقی یورپی ممالک اور روس کے محتاج ھوتے ہیں جب کہ ھمارا صوبہ خیبرپختونخواہ خوراکی زرعی پیداوار سمیت تیل لوہا کوئلہ اور گیس کی اتنی پیدوار ھوتی اب بھی ہوسکتی ہے کہ یہ کسی اور صوبے کا محتاج ہی نہیں ھونا چاھیے لیکن حالت یہ ہے کہ ھمیشہ سے ہی چونکہ یہ نالائقی اور ساتھ میں کرپشن والے ارسطو ھمیں پنجاب اور وفاق پاکستان کے خلاف ہی پٹی پڑھاتے رہتے ہیں کہ عوام کی توجہ ان کی نالائقی اور کرپشن کی طرف نہ ھو۔ میں نااھلی نالائقی اور بداخلاقی دروغ گوئی کو بھی سنگین کرپشن سمجھتا ھوں بلکہ دنیا کے ترقیافتہ ممالک میں یہی پیمانہ ہے کہ کرپشن کیا کیا ھوتی ہیں ۔ قصہ المختصر یہ کہ ھم خیبرپختونخواہ کے عوام کو بس اب ان نام نہاد لیڈروں سے کھل کر پوچھنا چاھیے کہ وفاق کے پیسوں کے علاؤہ ڈیڑھ ھزار ارب روپوں پر سالانہ تم لوگوں نے کیا کیا ہے ؟ اور وفاق والے پیسے کدھر چلے جاتے ہیں ؟؟ والسلام انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور