Engineer Muhammad Irfan Khan

Engineer Muhammad Irfan Khan to share my buisness and political analysis

18/05/2026

شرح بال جبریل از پروفیسر یوسف سلیم چشتی شرح بال جبریل از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی شرح بال جبریل از اسرار زیدی شرح ...

15/05/2026

نوٹ :- میرا فی الحال کسی سیاسی جماعت یا کسی عوامی گروہ سے تعلق نہیں ہے ۔ الحمدللہ بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھنے کے عمل میں اب بھی ھوں ۔ تمام سیاسی جماعتوں پر خصوصاً موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت کی نالائقی پر فیکٹس اینڈ فگرز سے تنقید کرتا رہتا ھوں اور یہ میرا حق بنتا ہے کیونکہ میں ٹیکس دیتا ھوں ۔۔۔۔
ایمل ولی خان کے باپ دادا پردادا سب کے سب بہت پڑھے لکھے سلجھے ھوئے عوامی سیاستدان تھے وہ نہ صرف سیاستدان تھے بلکہ وہ تمام پختونوں کے مختلف قبیلوں شاخوں کے عادات واطوار رسم ورواج سے واقف تھے ایک طرح سے پختونوں کے ڈاکٹر تھے جو بیماری کی تشخیص کرتے ھوے مریض کو پرھیض کا کہتے اور دوا تجویز کرتے۔اگر تو وہ اس پر عمل کرتے تو یقیناً صحت مندانہ زندگی میں آجاتے ورنہ نقصان ان کے مقدر میں ھوتا۔ مرحومین باچا خان بابا عبد الولی خان بابا ان پختونوں کے ڈاکٹرز تھے ۔ وہ پختونوں کو دوا اور پرھیز تجویز کرتے تھے ۔ ایمل ولی خان کو کم از کم اپنے بڑوں کی کتابیں غور سے پڑھنی چاہیے وہ بہت بڑے دل والے تھے ان میں نفرت نہیں تھی ۔ وہ تمام پختونوں کی سرزمین پر پختونوں کے اخلاقی اور سیاسی علاج کیلئے پیدل گھومے تھے۔ مخالفین بھی ان کے دلدادہ تھے کیونکہ ان میں نفرت نہیں تھی۔ ایمل ولی خان صاحب کو بہت بڑا دل رکھنا چاھیے ۔ ایمل ولی خان صاحب کو پی ٹی آئی پی ٹی ایم کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ پختونوں خصوصاََ نوجوان پختونوں کی بہت بڑی تعداد ان کے ساتھ ہیں یہ اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں ہے ۔ وہ جو بیانیہ پیش کرتے ہیں ان بیانیوں کے خلاف آپ اپنے باپ دادا کی کتابوں سے راہنمائی لے کر اپنا سیاسی سٹینڈ پیش کریں تاکہ پختون نوجوان آپ کی بات سمجھ لیں ۔ آپ اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے علمی اور اخلاقی بنیادوں پر دلائل کے ساتھ کنوینس کرکے اپنے جماعت کا گرویدہ بنا لیں ۔۔

05/05/2026

میں نے پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی اور نالائقی کے متعلق پچھلے مہینے کے پوسٹ میں بتایا تھا کہ بجٹ 2025-26 کا سال ان سے بغیر کسی ترقیاتی کاموں کے تکمیل کے بغیر تقریباً گزر گیا کیونکہ اگلے مالیاتی سال 2026-27 کا بجٹ چند دنوں میں عوام اور اسمبلی کے سامنے پیش کرنا ھوگا۔ انہوں نے تو چونکہ کام کئے نہیں ہیں پچھلی بجٹ میں ساڑھے پانچ سو ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا کرنے تھے بلکہ وہ منصوبے مکمل بھی کرانے تھے لیکن کچھ بھی نہیں کئے۔ ساڑھے تین سو ارب روپے تعلیم پر خرچ کرنے تھے ۔ دو سو ارب روپے ضم شدہ اضلاع کی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے تھے کچھ بھی نہیں ھوا ھاں یہ ہے کہ جیبیں بھر چکی ہیں اور اب حالت یہ ہے کہ یہ بجٹ پیش کرنے سے راہ فرار اختیار کرنے جارہے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی تیاری تو ہے نہیں ۔ یہ اب قلم چھوڑ ہڑتال اور دوسرے ہڑتالوں میں خیبرپختونخواہ صوبہ کا قیمتی وقت اور سرمایہ بے دردی سے آگے بھی ضائع کریں گے۔ یہ عوام رلتے رہیں گے ۔ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

05/05/2026

عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدگی نہیں مگر اپنی جیبیں بھرنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ ٹھیکوں میں کمیشن، نوکریوں کی خرید و فروخت،جائیدادیں بنانے اور اثاثے بڑھانے میں انہیں مہارت حاصل ہے۔ امیرحیدرخان ہوتی

With VideoKrtoon – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
03/05/2026

With VideoKrtoon – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

With PakWheels.com – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
03/05/2026

With PakWheels.com – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

02/05/2026
14/08/2020

تاریخی حقائق کےمطابق قائداعظم محمدعلی جناح رحمۃاللہ علیہ آل انڈیاکانگریس پارٹی کو یہ کہہ کر چھوڑ دی تھی کہ گاندھی منافقت کررہا تھا اس کا سیاسی مقصد تاج برطانیہ یعنی انگریزوں کے زیرِ سایہ متحدہ ھندوستان میں صرف ھندوؤں کا راج چاہیئے تھا مسلمان لیڈروں کو وہ استعمال کررہا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے سکھ حریت پسند نوجوان بھگت سنگھ( انگریزسامراجی افسر کو قتل کیا تھا) کا انگریزوں کے سامنے انگریزوں کے خلاف بھرپور سیاسی اور اخلاقی دفاع کیا تھا جبکہ گاندھی سمیت کانگریس لیڈروں نے بھگت سنگھ کو انگریز افسر کے مارنے پر مجرم قرار دیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے23 مارچ سنہء 1940 کے قرارداد پاکستان کے بعد انگریزوں کا ہر قسم کی پیشکشیں ٹھکرائی تھیں کہ ھندوستان کے مطالبے سے دستبردار ھوجائے لیکن قاید اعظم محمد علی جناح پاکستان کے مطالبے سے پیچھے نہیں ھٹے۔ گاندھی اور دوسرے کانگریس لیڈرز درپردہ انگریزوں اور تاج برطانیہ کے مضبوط حمایتی تھے جن میں مسلم کانگریسی لیڈرز بھی شامل تھے۔ یہ مسلمان کانگریسی لیڈرز دراصل گاندھی کے تابعداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنا چاھتے تھے حالانکہ کانگریسی ھندو تاج برطانیہ کے زیرِسایہ لارڈماوونٹ بیٹن کو تادم مرگ بطورِ گورنر جنرل قبول کرکے صرف اور صرف ھندوؤں کی حکومت چاھتے تھے جس میں مسلمانوں کو برائے نام نمایندگی دی جانی تھی باقی اصل سیاسی اور حکومتی طاقت ھندوؤں کے پاس ھوتی جو کہ آج کے نریندرا مودی کی حکومت ہے جو مسلمانوں کو بالکل برداشت نہیں کرسکتے اور مسلمانوں کی شناخت ھندوسماج کے ساتھ مکس کرکے ختم کرنا چاھتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کو یہ بالکل قابل قبول نہیں تھا اسلئے وہ ببانگِ دہل کہتا تھا کہ مسلمان اور ہندو تہذیب رسم ورواج جدا جدا ہیں یہ کبھی ایک نہیں ہوسکتے لہذا مسلمانان ہند کیلئے علیحدہ خودمختار اسلامی ملک ہی ھماری منزل ہے اور پاکستان کے نام سے علیحدہ ملک بن کر رہے گا اور الحمدللہ پاکستان بن کر ہی ثابت ھوا۔ اس وقت پاکستان بننے میں ادھر کے آج کے مغربی پاکستان کے جتنے بھی کانگریسی رہنما تھے انہوں نے پاکستان کو ناکام بنانے کیلئے بہت بڑی سازشیں بنائی تھیں لیکن الحمدللہ وہ سازشیں ناکام ھوئی تھیں کیونکہ ادھر کے تمام پختون قبائل بشمول اس وقت کے سرحدی قبائلی علاقوں کے پختونوں کے قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کی حمایت کررہے تھے اور پختونوں نے کانگریسیوں کو بتا بھی دیا تھا اور دکھا بھی دیا تھا کہ تمام پختونوں کا لیڈر بھی قائد اعظم محمد علی جناح ہیں وہ اس وقت بھی تھے اور اب بھی ہیں اور تاقیامت رہے گا ۔ پاکستان زندہ باد اور کانگریسی نظریہ مردہ باد۔ ایک اور بات یہ ہے کہ ھماری آزادی کا دن اگرچہ15 اگست کو انگریز کے ساتھ دستخط ھوئے تھے لیکن چونکہ آزادی کا حتمی فیصلہ 14اگست1947کو ہی ھوا تھا اسلئے قائد اعظم محمد علی جناح کی خواہش پر 15کی بجائے 14 اگست ہے یہ اسلئے ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو انگریزوں کی دی گئی تاریخ بھی پسند نہیں تھی جبکہ کانگریس پارٹی نے انگریز کے آرڈر کے مطابق 15اگست کردیا اورکانگریسی بانمبڑوں نے انگریز لارڈ ماؤنٹ بیٹن کوہی اپنا حتمی لیڈر مان لیا جن سے پتہ چلتا ہے کہ گاندھی سمیت سب کانگریسی بانمبڑ سازشی تھے۔ والسلام بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر

11/08/2020

اگر آئی ایس آئی افغانستان کی پختون دشمن کمیونسٹ ریجم کے خلاف مجاہدین کو سپورٹ نہ کرتی اور پاکستان دشمن خلق اور پرچم جیسی کمیونسٹ پارٹیوں کے مقابلے کی اسلام پسند، وطن دوست اور پاکستان دوست پارٹیوں کی سیاسی حمایت نہ کرتی تو پشاور میں بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ معمول بنتی جارہی تھی اور دوسری طرف اُدھر افغانستان میں پختونوں کی باعزت شناخت افغان مجاہدین کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکی تھی جو ابھی تک برقرار ہے ورنہ کابل والے تو مشرقی افغانستان کے پختونوں کو ھندوستانیوں جیسے ذات پات کی تقسیم کرکے شودر سمجھتے تھے ان پر ہنستے تھے۔

11/08/2020

میں کہتا ھوں اور ھم سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں بسنے والی ساری قومیں (گلگتی،بلتستانی، پختون، پنجابی، کشمیری، سندھی اور بلوچی) ایک ہی پاکستانی ہیں اور پاکستان ھمارا وطن ، ھمارا فخر اور ھماری ماں کی گود ہے۔ یہ جو باربار ادھر اُدھر سے خصوصاً ھمارے پختونوں کے درمیان سےفیل شدہ سیاست والے اور ان کے کارندے پنجابی اور ساتھ میں پاکستان اور پاکستانی دفاعی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشیش کررہے ہیں وہ ھمارے 99٪ پختونوں کو قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ جب ھم تاریخ کو اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو اپنی قوم پرستی کی سیاست کی آڑ میں اپنا سیاسی کاروبار کررہے ہیں اور یہ پاکستان کی آزادی کے وقت سے ہیں کیونکہ موتر پینے والے ہندوؤں کے لیڈروں کا مرتے دم تک ایک ہی ارمان تھا اور ہے کہ پاکستان کب ختم ھوگا (خدانخواسطہ). ھم جب تاریخ کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں شروع دن سے ہی زیادہ تر ھمارے پختون ہی یا تو برسرِ اقتدار رہے ہیں اور یا طاقتور پوزیشنز پر رہے ہیں بنسبت پنجابیوں کے۔ تو اس میں پنجاب یا پنجابی سے گلہ کس حوالے سے ہے جو ھر چیز پنجابی کی طرف انگلی اٹھتی ہے۔ پختونوں اور بلوچوں کو اگر کہیں پرقومی نقصانات ھوئے ہیں تو وہ تو اپنے ہی پختون اور بلوچ دیتے آرہے ہیں۔ بات شروع کرتے ہیں افغان جہاد سے۔ افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب کے سرخیل ادھر کےپختون تھے اور ان کے خلاف جہاد کرنے والے بھی افغان پختون تھے۔ اُدھر کی مضبوط سیاسی جماعتیں بھی پختون تھیں اور ہیں۔ پنجاب کااس میں کیا مفاد ھوسکتا تھا یہ کسی قوم پرست لیڈر نے ٹھوس حقائق اور ثبوت کے ساتھ نہیں بتائے ہیں۔ چھ سات ملین افغان مہاجرین 79ء سے 92ء تک افغان پختون ہی تھے اپنی مرضی سے آئے تھے اور اپنی مرضی سے پشاور نوشھرہ صوابی میں رہ رہے تھے اور اب بھی تقریباً تین ملین تک ھونگے جو کاروباری زندگی میں ھمارے ساتھ ساتھ ہیں بلکہ پاکستان میں جدھر بھی بڑے کاروبار ہیں انہی کا حصہ ان میں ضرور ہے جو کہ زیادہ تر پنجاب سندھ اور خیبر پختونخوا کے بڑے کاروباری شہروں میں ہیں۔ اچھا ایک اور بات یہ کہ جنرل ضیاء الحق صاحب خالص پنجابی تو نہیں تھے بلکہ اس کے والد صاحب ادھر ہی پشاور صدر کے قریب نوتھیہ کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کا ڈومیسائل بھی پشاور کا تھا۔ جنرل اختر عبد الرحمٰن ،حمیدگل پختون تھے۔ میجر عامرصوابی کے پختون ہیں۔ شھید مولانا سمیع الحق صاحب ، مرحوم قاضی حسین احمد صاحب سب خالص پختون تھے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب ڈیرہ اسماعیل خان کے خالص پختون ہیں۔ میں حیران ھوتا ھوں کہ نام نہاد قوم پرست اوران کا دوسرا ورژن پی ٹی ایم کس سے گلہ کرتے ہیں ؟وہ وضاحت بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ آج کے پاکستان میں ساٹھ ستر فیصد حکومت میں حصہ پختونوں کا یے۔ ذمہ دار اور طاقتور پوسٹوں پر پشتون اور پختون ہیں۔ بلکہ بلوچ بھی ہیں۔ نواب اختر مینگل گلہ کرتے ہیں لیکن جب وہ خود وزیراعلی اور گورنر تھے تو وہ کیا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر کہیں پر ھم جیسے متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی محرومیاں ھوتی ہیں تو وہ اپنے ہی لیڈرز کی وجہ سے ھوتی ہیں۔ ھمارے کے پی کے اور بلوچستان کے خوانین ، نواب اور سردار نہ صرف سیاسی طور سے طاقتور ترین رہے ہیں بلکہ ایشیا کےمالدار ترین لوگوں میں شمار ھوتے ھونگے کیونکہ ان کی دولت اور کاروباری حجم پورے ایشیاء اور یورپ میں پھیلا ھوا ھوتا ہے تو جب ان میں اپنے ہی قوم کی محرومیاں ختم کرانے کا حوصلہ نہیں ہے تو پھر گلہ کسی اور سے کیوں؟ کیا یہ اپنی قوم اور وطن کے ساتھ بلیک میلنگ اور منافقت نہیں ہے کہ اپنی قوم کے غریب عوام کیلئے بلاوجہ پنجابی کو دشمن گردانتے ہیں کہ جو اپنے بس کے مطابق کوئی اپنا چھوٹا موٹا کاروبار پنجاب اور سندھ میں چلائیں تو وہ بھی نہ کریں۔ تاریخی واقعات کو اگر دیکھیں تو یہ حیران کن انکشافات بھی ھوجاتی ہیں کہ اپنے لوگوں کو خود مارنے اور مروانے کے بعد الزام کسی اورپر ڈالتے ہیں کہ مظلومیت کا بڑا عنصر موجود رہے اور خود اس کے بدلے بڑے مراعات حاصل کی جائیں۔

07/08/2020

یہ جو میں نیچے لکھنے جارہا ھوں وہ دسمبر1944کی دوسری جنگ عظیم دوم کے کچھ دنوں کی حقیقی تاریخی واقعات پر مبنی ھالی ووڈ کے ایک مشہور فلم enemy at the Gates سے ہیں۔
جرمن نازیز یعنی ھٹلر کی فوجیں جب روس کی طرف بڑھیں تو سخت سردی کا موسم شروع ھوچکاتھا۔نارتھ ایسٹرن یورپ کا سردیوں میں درجہء حرارت منفی 30ڈگری سینٹی گریڈسے بھی نیچے ھوتا ہے ۔سخت سردیوں میں نازیز جرمنز سٹالن گراڈ شہر کے اندر تقریباً داخل ھوچکے تھے۔روسی ریڈ آرمی کی ڈیفینس لائینز تباہ ھوچکی تھی ۔روسیوں کے پاس نہ صرف اسلحہ اور ایمونیشن کی کمی تھی بلکہ خوراک اور پینے کے پانی کی بھی قلت تھی ۔ روسی کمانڈروں نے پیچھے سے اور فوجیں بھیجیں کہ کسی بھی قیمت پر اسٹالن گراڈ سے جرمنوں کو نکالنا ہے۔ اضافی فوجیں زیادہ تر روس کے دور دراز ریاستی انتہائی غریب علاقوں کے مزدوروں کسانوں طالب علموں وغیرہ پر مشتمل تھیں کہ روس کے دفاع کیلئے سٹالن گراڈ تعینات کی گئیں لیکن ان کے پاس بھی کسی کے پاس اسلحہ تھا اور کسی کو صرف پانچ کارتوس دئے جاتے تھے کہ جب ساتھ والا مر جائے تو اس کے بندوق کو پھر دوسرا لے لیتا اور آگے بڑھتا۔ وہ ڈر گئے تھے کہ جرمن فوجوں نے پورا شہر لے لیا تھا اور آکے پاس ہر چیز وافر مقدار میں تھی ۔اسلئے روسی ریزرو جانباز فوجیں پیچھے دھکیل کے آگئی لیکن ادھر کمیونسٹ روسی کمانڈروں نے اپنے ہی فوجوں پر گولیاں برسانے لگے کہ صرف آگے جرمنوں کی طرف جانا ہے اور لڑنا ہے دوسری صورت میں پیچھے سے اپنے ہی کمانڈرز ان کے مارتے تھے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جرمنوں کے ھاتھوں روسی فوجوں کا شاید اتنا نقصان نہیں ھوا ھوگا جتنا اپنے روسی کمانڈروں کے ھاتھوں ھوا تھا کیونکہ وہ تو اسٹالن ڈکٹیٹر اور اس کے ظالم انسان دشمن کمانڈروں کا حکم تھا کہ پیچھے سے اپنے ہی غریب ناتجربہ کار لیکن محب وطن جانبازوں کو مارتے تھے اور آج صدر پوٹین صاحب ان گمنام روسی سپاھیوں کے یادگار پر پھول چڑھاتے ہیں۔ بدنام ھٹلر اور ان کے جرمن فوجی ہیں کیونکہ تاریخ میں اسطرح لکھا گیا ہے۔ یہ تاریخی حقیقی قصہ سنانے کا مطلب یہ ہے کہ ھمارے ہاں بھی ستر پچھتر سال پہلے ایسے ہی کچھ واقعات رونماء ھوچکے تھے جس میں سینکڑوں بے گناہ لوگوں کو شہید کردیا گیا تھا لیکن بدنام اس وقت کے برسر اقتدار حکومت تھی ۔یہ ایسے ایسے علاقوں میں mass killing ھوئی ہیں کہ جہاں پر غریب زمینداروں کاشتکاروں پر حکومتی فوجیوں نے کس لئے انہیں مارا ھوگا؟؟؟ تاریخ کو فکس کرنا پڑے گا۔ کچھ اضافہ کرنا چاھتا ہوں وہ یہ کہ ھمارے علاقوں میں افغان مہاجرین لاکھوں کی تعداد میں تھیں ۔ افغانستان میں کمیونسٹ نظام کے خلاف جب عام افغانی اٹھ کھڑے ہوئے تو جہاد کا اعلان بھی ھوا۔ لوگ ادھر سے جہاد کیلئے جاتے تھے۔ روسی فوجیں افغانستان میں تعداد کے لحاظ سے سولہ ھزار تعینات تھیں لیکن عام افغان لوگ پندرہ سے بیس لاکھ شھید کئے گئے تھے وہ حقیقی شھید ہیں کیونکہ وہ کمیونسٹ ریجم کے خلاف جہاد کررہے تھے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس پندرہ سالہ افغان جنگ میں افغان مجاہدین کو زیادہ تر اپنے ہی لوگوں نے مارا تھا کیونکہ اس وقت امریکہ سے ہر شھید کے بدلے پیسے ملتے تھے دوسری طرف سے افغان عسکروں کی کیجویلیٹیز اپنے ہی دوستوں کے ھاتھوں ھوئی تھیں کیونکہ ایک یاغستان بنا ھوا تھا۔ آج وہ تمام شھید ہیں لیکن جو اس وقت کے کمانڈرز وغیرہ تھے وہ بلین ڈالرز کے مالکان ہیں اور حکومت میں بھی ہیں۔ سیاسی لوگ زیادہ تیز ھوتے ہیں جس طرح پاکستان ھندوستان کے بٹوارے کے وقت اموات کرائی گئی تھی کہ ثابت کیا جارہاتھا کہ تقسیم غلط عمل تھا۔ ھم کہتے ہیں کہ لاکھوں کی شہادتیں ھوئی تھیں لیکن پاکستان بننا ٹھیک عمل تھا۔
والسلام بشکریہ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور

Address

Badaber
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Engineer Muhammad Irfan Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Engineer Muhammad Irfan Khan:

Share