06/08/2026
خدارا! اپنے لیے ڈاکٹر کا انتخاب سمجھداری سے کریں۔
ہماری ایک عزیزہ ڈینگی بخار میں مبتلا ہیں۔ کل دن کو انہیں اچانک تیز بخار شروع ہوا تو گھر والے قریبی میڈیکل اسٹور پر لے گئے جہاں ٹیسٹ وغیرہ ہوئے اور انہیں فوراً ڈرپ لگایا گیا اور ایک ڈرپ اور اینٹی بائیوٹک انجیکشن اس تاکید کے ساتھ گھر کے لیے دیا گیا کہ یہ رات کو لگانا ہے۔ رات جب ہم کلینک سے واپس گھر آئے تو معلوم ہوا کہ ان کی طبیعت خراب ہے اسی اثنا میں وہاں سے فون کال موصول ہوئی اور ہمیں بتایا گیا کہ آ کے مریض کو دیکھ لیں اور ساتھ ڈرپ بھی لگا دیں۔ ہم بھاگے بھاگے پہنچے مریضہ کو دیکھا اور پھر ڈرپ لانے کو کہا۔۔۔ جب ڈرپ پر نظر پڑی تو سخت ناگواری ہوئی کہ ڈرپ اور اس کے ساتھ دیے گئے انجیکشن کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی۔ اول یہ کہ ڈینگی میں ceftriaxone جو شدید طاقتور اینٹی بائیوٹک ہے اس کا کوئی کام ہی نہیں (جب تک کہ ساتھ کوئی superadded bacterial infection نہ چل رہا ہو) کیونکہ ڈینگی وائرل بیماری ہے اور اینٹی بائیوٹک ہمیشہ bacterial infection میں دی جاتی ہے سونے پر سہاگا یہ کہ اس اینٹی بائیوٹک کے ساتھ Ringer Lactate دیا گیا تھا اور میڈیکل سائنسز میں ceftriaxone اور Ringer Lactate کو ایک ساتھ لگانے کا مطلب مریض کے جسم میں شدید reaction کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔۔ خیر پہلے تو ہم نے اپنے کزن کی خوب کلاس لی اور پھر اسے سمجھایا کہ ڈینگی میں اس اینٹی بائیوٹک کا کام ہے نہ ہی یہ اینٹی بائیوٹک اس ڈرپ میں ڈال کر لگایا جا سکتا ہے۔ ہم نے مریضہ کو صرف ڈرپ لگائی اور انجیکشن میڈیکل سٹور والے کو واپس دینے کو کہا۔ یوں نہ صرف مریضہ ممکنہ reaction سے بچ گئیں بلکہ اینٹی بائیوٹک کے بے جا استعمال کو بھی روکا گیا۔۔
یہ کہانی صحتِ عامہ کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ مستند ڈاکٹر سے علاج کے فروغ اور اینٹی بائیوٹک ادویات کے بے جا استعمال میں روک تھام کی غرض سے بیان کی گئی ہے۔
awareness