04/08/2024
۔پی ایم ڈی سی کے مطابق اس سال تقریباً پورے ملک سے 2 لاکھ طلبہ ٹیسٹ میں شرکت کریں گے ۔ ایک بندے سے اگر 8 ہزار فیس لی جائے تو ٹوٹل 1 ارب 60 کروڑ روپیہ بنتا ہے ۔ میڈیکل ٹیسٹ دینے والے اکثر غریب لوگ ہوتے ہیں ۔ کیونکہ میڈیکل سٹڈی اور سختیاں برداشت کرنا ہر شخص کا کام نہیں ۔ مگر پھر بھی سہولیات دینے کی بجائے فیس بڑھائی جارہی ہے۔ یہی ٹیسٹ ، یہی انتظامات، یہی سہولتیں ETEA پانچ سو یا پھر ہزار روپے میں لیتا ہے ۔ یاد رہے ETEA اب بھی انجینرنگ کا ٹیسٹ 1000 روپے میں لیتا ہے ۔ حالانکہ سٹوڈنٹس کی تعداد بہت کم یعنی 8 ہزار ہوتی ہے ۔
پوری دنیا طلبہ کو سہولیات دیتی ہے ۔ وہ اپنے طلبہ پر ہر قسم کا بوجھ کم کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں طلبہ سے پیسہ کمایا جارہا ہے اور اسی پیسے سے اشرافیہ یعنی نالائق سیاستدانوں ، کرپٹ جرنیلوں اور نااہل افسران کے لیے بنگلے خریدے جاتے ہیں ۔ ملک ایسا نہیں چلایا جاتا ۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور اشرافیہ مزے کررہی ہے ۔ اس ملک کی 60 فیصد آبادی نوجوان افراد پر مشتمل ہے اور نوجوان اسی طرح فیصلوں سے مایوس ہوچکے ہیں ۔