تاریخ هنجرا

تاریخ هنجرا Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from تاریخ هنجرا, Estate agent, Pindi Bhattian.

11/12/2025
07/03/2024

میرے تازہ ترین فالوورز کا شکریہ! مجھے آپ کے شامل ہونے پر بہت خوشی ہے! Sajid Jutt, Ahmad Cheema, Malikasif Malikasif

18/01/2024

میرے تازہ ترین فالوورز کا شکریہ! مجھے آپ کے شامل ہونے پر بہت خوشی ہے! Qaisar Ali Hanjra, Ateeq Ul Rehman

19/08/2023
الودعکسی کا الوداع کہنا خالی لفظ نہیں بلکہ ایک پورا زمانہ ہوتا ہےجو الوداع ہو جاتا ہے الوداع کہنے سے صرف ایک انسان پرایا...
19/08/2023

الودع
کسی کا الوداع کہنا خالی لفظ نہیں بلکہ ایک پورا زمانہ ہوتا ہے
جو الوداع ہو جاتا ہے الوداع کہنے سے صرف ایک انسان پرایا نہیں ہوتا بلکہ پرائے ہو جاتے ہیںبہت سے لوگ، سڑکیں.گلیاں.کچھ یادیں.بہت سی باتیں.بعض کتابیں.احساسات.جذبات.روح.کوئی خاص گاؤں.شہر. محلہ.علاقہ اور ہر وہ چیز جو اس سے منسوب ہوتی ہے...!!!

شجر غرقدجن میں شجر یہود Lycium،boxthorn)اس جھاڑی یا درخت کے کئی نام ہیںگونگا درخت یا یہود کا پاسباں درخت برگد عام ہیں۔حض...
19/08/2023

شجر غرقد
جن میں شجر یہود Lycium،boxthorn)
اس جھاڑی یا درخت کے کئی نام ہیں
گونگا درخت یا یہود کا پاسباں درخت برگد عام ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کر دیں یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبد اللہ یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کردو سوائے درخت غرقد کے
کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔
(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2838)
"غرقد " ایک جنگلی درخت کا نام ہے جو خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے، مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع کا اصل نام بقیع الغرقد اسی لیے ہے کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے وہ غرقد کی جھاڑیوں کا خطہ تھا۔
جو مدینہ کے اطراف، صحراوں میں پایا جاتا تھا
اسی لیئے یہود اب بڑے پیمانے پر ان جھاڑیوں کی کاشت کر رہے ہیں۔
ہمارے ہاں بھی خشک پہاڑی سلسلوں اور گرم میدانوں میں بھی یہ درخت یا جھاڑی ملتی ہے

نور پور تھلضلع خوشابایک ایسا تھل اور صحراٸی علاقہ جس کے سبزے کو دیکھتے ہوۓ اس کے صحرا ہونے پہ یقین آنا مشکل ہے  تقریباً ...
25/06/2023

نور پور تھل
ضلع خوشاب
ایک ایسا تھل اور صحراٸی علاقہ جس کے سبزے کو دیکھتے ہوۓ اس کے صحرا ہونے پہ یقین آنا مشکل ہے تقریباً 40 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا یہ خوبصورت صحرا خوشاب شہر سے مغرب کی طرف 80 کلومیٹر کے فاصلے پہ واقع ہے ساڑھے تین سو ایکڑ رقبہ پر محیط یہ گاٶں نور پور تھل 50 ہزار سے اوپر ہے
1854ء تک نورپور تھل کا قصبہ انتظامی طور پر ضلع لیہ کے زیر انتظام رھا ۔ اور لیہ کے حضرت لعل عیسن کروڑ کی گدی نے اس علاقہ میں اسلام پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ۔
1865ء میں یہ قصبہ ضلع شاہ پور کے زیر انتظام رھا ۔
1976 ء میں ٹاؤن کمیٹی کا درجہ پایا
۔بعد ازاں 1982ء تک ضلع سرگودھا کے زیر انتظام رہا اور 1982 ہی میں تحصیل کا درجہ ملا۔ 2001 ء میں میونسپل کمیٹی کا مقام ملا۔ یاد رہے یہ واحد صحرا ہے جس میں ریت میدان اور سب کی پسندیدہ وادی سون شامل ہے یہاں کے لوگ سادہ لوح ہیں کھیتی باڑی سے منسلک لوگ مال مویشی بھی کثرت سے پالتے پیں یاد رہے یہاں اونٹوں کی منڈی بھی لگتی ہے جو یہاں موجود مشہور روحانی شخصیت بابا سیدن شاہؒ کے میلے پہ لگتی ہے عام لوگوں کی سواری بھی اونٹ ہے جس پہ اس علاقے کا سفر کیا جاتا ہے لوگ بہت شوق اور پیار سے اونٹ پالتے ہیں اور دوسرے ریگستانوں کی طرح یہاں بھہ اونٹوں کو سجایا جاتا ان کے جسم پہ مختلف نقش و نگار بنا کر ہو یا خوبصورت رنگا رنگ کپڑوں رسیوں سے
کہتے ہیں واحد صحرا ہے جس کے مقامی لوگوں نے اس ریت پہ بہت محنت کی ہے اور اسے ریت سے سبزہ میں بدل دیا ہے یہاں مختلف فصلیں اگاٸی جاتیں ہیں جن میں چنا سرفہرست ہے۔
تاریخ کے مطابق یہ گاؤں 18 صدی کے شروع تک ایک بے نام سی بستی تھی۔جسے ایک صوفی بزرگ سید نور حسن غزنی اور ان کے ایک مصاحب شیخ جیون نارو راجپوت یہاں قیام پزیر ہوۓ اور ایک کنواں بھی کھدوایا ۔ اس کنویں کے قریب ھی ایک بہت خوب صورت مسجد بھی تعمیر کروائی جو " منشیاں والی مسجد" کے نام سے آ ج بھی موجود ہے۔
رفتہ رفتہ کنویں کے آ س پاس آ بادی بڑھتی چلی گئی ۔ اور یہ بستی انھیں بزرگ کی نسبت سے نورپور کے نام سے جانی جانے لگی۔ ایک اور روایت کے مطابق نورپور کا نام 1745ء میں ملک شیر محمد ٹوانہ والی مٹھہ ٹوانہ نے رکھا تھا اور سرکاری کاغذات میں یہ ابھی تک نورپور ٹوانہ ہی لکھا جاتا ہے۔
نورپور قیام پاکستان سے پہلے مختلف تاریخی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اور یہاں کی پر

لال حویلیجکھڑ ہاٶس جام پور ضلع راجن پور میں واقع جدید دور کی پرانے طرز کی عمارت جس کو جتنے شوق سے بنایا جاسکتا تھا بنایا...
20/06/2023

لال حویلی
جکھڑ ہاٶس جام پور ضلع راجن پور میں واقع جدید دور کی پرانے طرز کی عمارت جس کو جتنے شوق سے بنایا جاسکتا تھا بنایا گیا
مقامی زمیندار ملک ارشاد احمد جکھڑ نے بھرپور لگن اور ثقافت کا بھرپور شاہکار جسے انہوں نے اپنی بیٹھک کے طور پر بنایا جس عمارت کی ایک ایک جگہ سے ان کی ثقافت سے محبت جھلکتی ہے
اگر اس کو جام پور ضلع راجن پور کا عظیم شاہکار کہا جاۓ تو بیجا نا ہو گا۔
لال حویلی اپنی تعمیر ، تہذیب و ثقافت اور قدیم ساز و سامان کے حوالے سے مُنفرد مقام رکھتی ہے جام پور کی لال حویلی کی شاندار فنِ تعمیر تہذیبی آثارِ قدیمہ سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہےجسے مختلف ممالک سے لاۓ گۓ تعمیراتی و آرائشی سامان جس کی مالیت کروڑوں میں بنتی ہے سے تعمیر کیا گیا یہاں موجود دروازے صدیوں پرانے بھی ہیں کچھ دروازے 800 سال پرانے ہیں جنہیں بولی میں انتہاٸی مہنگے داموں خریدا گیا
یہاں مختلف رنگین شیشوں سے دروازوں اور کھڑکیوں کو سجایا گیا مختلف روشنیوں سے بھی حویلی کی آراٸش کی گٸ ہے جس سے عمارت اور بھی زیادہ خوبصورت لگتی ہے صحن کو بھی مختلف پودوں گملوں سے سجایا گیا جو انتہاٸی قیمتی اور نایاب بھی ہیں مختلف بھی اور انتہاٸی ہنر مند کاریگروں سے تعمیر کراوٸی گٸ ایک ایک چیز اپنی خوبصورتی اور مہارت کی مثال ہے
آپ یہاں ہر وقت آسانی سے جا سکتے ہیں فیملی بچوں کے ساتھ جوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے
رپیٹ پوسٹ

💞اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷 ❤امید کرتا ہوں آپ سب خیریت سے ہونگے❤
20/06/2023

💞اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷
❤امید کرتا ہوں آپ سب خیریت سے ہونگے❤

اسلام علیکم ورحمتہ اللہْ
06/12/2021

اسلام علیکم ورحمتہ اللہْ

Address

Pindi Bhattian

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تاریخ هنجرا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category