All Quetta Property آل کوئٹہ پراپرٹی ۔

All Quetta Property آل کوئٹہ پراپرٹی ۔ پراپرٹی کی معلومات کے لئے آل کوئٹہ پراپرٹی کو لائک یا ف

26/12/2021

جلد آرہا ہے۔
Stay Tuned 👇👇👇
All Quetta Property آل کوئٹہ پراپرٹی ۔

L❤VE AFGHANISTAN.
23/09/2021

L❤VE AFGHANISTAN.

09/09/2021

اب کوئی بھی پلاٹ اور دیگر زمینوں کی معلومات آن لائن حاصل کر سکتا ہے۔
YouTube Channel Link. https://youtube.com/channel/UCWN7iRZdw_CfDsCxz9o8vJA
اسلام آباد ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو شکست ملے گی کیونکہ اب کوئی بھی پلاٹ اور دیگر زمینوں کی معلومات آن لائن حاصل کر سکتا ہے۔ اسلام آباد کے کیڈاسٹرل میپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے سے پراپرٹیز کی منتقلی میں شفافیت آئے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے ہر کوئی اپنے پلاٹ کو آن لائن چیک کر سکے گا۔عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد ، لاہور اور کراچی کی کیڈاسٹرل میپنگ اس سال نومبر تک مکمل ہو جائے گی۔ "کیڈاسٹرل میپنگ پروجیکٹ پرانے" پٹوار سسٹم "کو جدید ڈیجیٹل آن لائن سسٹم میں تبدیل کرنے کے لیے وزیر اعظم کے وژن سے متاثر اور متاثر کیا گیا ہے۔ عمران خان نے ذکر کیا کہ مافیا نہیں چاہتا کہ زمین کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو ، انہوں نے مزید کہا کہ زمین کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیے بغیر طاقتور لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی جائیدادوں پر غیر قانونی قبضے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اگر وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں تو وہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں گے۔ پی ایم خان نے مزید کہا کہ تین سالوں کے دوران اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کو دوبارہ حاصل کیا گیا اور مزید کہا گیا کہ اسلام آباد میں 300 ارب روپے کی زمین اور جنگلات کی 1000 ایکڑ زمین لینڈ مافیا نے ہڑپ کر لی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے سے لینڈ ریکارڈ ٹیمپرنگ کو روکنے میں مدد ملے گی اور تصویر کے ذریعے تعمیرات کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اسلام آباد میں زمین خریدنے سے پہلے آن لائن معلومات کی تصدیق میں مدد ملے گی۔ نیا نظام سرکاری زمین کی ناجائز قبضہ ، نالہ اور جنگلات میں تجاوزات کی نشاندہی میں بھی مدد دے گا۔

Now anyone can get information of plots and other lands online
ISLAMABAD۔ Prime Minister (PM) Imran Khan has said that use of technology will help to defeat land grabbers as now anyone can get information of plots and other lands online.
Addressing the launching ceremony of the cadastral map of Islamabad, the prime minister said that the digitalization of land record will bring transparency in transfer of properties. He also said that everyone will be able to check their plot online due to the digitization of land record.
Imran Khan said cadastral mapping of Islamabad, Lahore, and Karachi will be completed by November this year. “The cadastral mapping project has been conceived and inspired by vision of the prime minister to modernize the old "Patwar system" into modernized digital online system.”
Imran Khan mentioned that mafia does not want land records to be computerized, adding that without computerization of land records, the powerful people have been benefitted. “Overseas Pakistanis were most affected by the illegal occupation of properties. If they provide a conducive environment for overseas Pakistanis, they will invest in their country,” he added.
PM Khan further said that the government land worth of billion rupees have been retrieved during three years adding that the land worth of 300 billion rupees in Islamabad and 1000 acres land of forest were grabbed by the land mafia.”
He also maintained that the digitalization of land record will help curb land record tempering and ensure monitoring of construction through imagery. “This will also help overseas Pakistani to verify online information before purchase of land in Islamabad. The new system would also help identify the illicit hinging of state land, encroachment at nullah and forests,” he added.
The premier also said that the implementation of equal law in the country is essential for investment. “Fifty per cent of the cases in the courts are related to land grabbers. In the next phase, people will be able to transfer lands online from home,” he added.
PM Khan also appreciated Capital Development Authority, Survey General of Pakistan and other departments for completing the task successfully in a short span of time.

✅ اس لنک پر کلک کریں اور وڈیو دیکھیں شکریہ۔ 👇👇👇
09/09/2021

✅ اس لنک پر کلک کریں اور وڈیو دیکھیں شکریہ۔ 👇👇👇

مافیا نہیں چاہتا کہ زمین کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو۔. IMRAN KHAN LAND Digitalization Land Record . اب کوئی بھی پلاٹ اور دیگر زمینوں کی معلومات آن لائن ح...

چمن۔ ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ داد خان مندوخیل  نے چمن شہر میں دکانداروں اور تاجروں کو اپنے تجاوزات کوختم کرنے کا نوٹس دے دیا ...
01/09/2021

چمن۔
ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ داد خان مندوخیل نے چمن شہر میں دکانداروں اور تاجروں کو اپنے تجاوزات کوختم کرنے کا نوٹس دے دیا ۔اس کے بعد سخت کاروائی کی جائیگی۔ڈپٹی کمشنر چمن

https://youtu.be/ODKEKNZsMWI
20/08/2021

https://youtu.be/ODKEKNZsMWI

جو بھی اپنا ہاؤسنگ اسکیم کا کیو ڈی اے سے این او سی نہیں لے گا۔ اسکا اسکیم کینسل کیا جائیگا۔ کیسکو اور واسا کی طرف سے بھی اسے نہ پانی نہ بجلی نہ گیس دیا جائی...

✅ خواتین کی حق جائیداد وراثت کے بارے میں بلوچستان ہائی کورٹ کا ایک زبردست  اقدام۔،، صرف دو منٹ میں پڑھ سکتے، ہیں پورے خب...
17/08/2021

✅ خواتین کی حق جائیداد وراثت کے بارے میں بلوچستان ہائی کورٹ کا ایک زبردست اقدام۔

،، صرف دو منٹ میں پڑھ سکتے، ہیں پورے خبر کو ،،

تحصیل کے نظام کو نادرا کے ساتھ لنک کیا جائے گا تو اس سے کوئی کسی کا حق نہیں مار سکے گا۔

سماجی کارکنان خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق عدالتی فیصلے کو تاریخی قرار دے رہے ہیں۔

کوئٹہ —
خواتین کو وراثت میں حصہ دینے کے بارے میں بلوچستان ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس کے مطابق خواتین کو قرآن اور اسلامی شریعت کے مطابق جائیداد میں ان کا حق دینے اور اس سلسلے میں خواتین کی رہنمائی کے لیے نادرا کو تحصیل کے دفاتر میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
رواں ماہ سات اگست کو خواتین کو حقِ وراثت اور صوبے میں جاری سیٹلمنٹ کے عمل میں ان کے حق کو نظر انداز کرنے اور خواتین کو محروم رکھنے سے متعلق ایڈووکیٹ محمد ساجد ترین کی پٹیشن پر عدالت نے فیصلہ سنایا تھا۔
اس درخواست کی سماعت دو رکنی بینچ نے کی تھی جو اس وقت کے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد کامران خان ملاخیل پر مشتمل تھا۔
دو رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ ہم 21ویں صدی کا حصہ اور تعلیم یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں البتہ اس کے باوجود بھی تقریباََ ہر فرد نے خواتین حصے داروں کو ان کے حقِ وراثت سے محروم رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی خاتون کو حق سے دستبرداری، تحفے، دلہن کا تحفہ، نگہداشت الاؤنس یا کسی معاوضے میں کیش کی ادائیگی کے نام پر وراثت کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی کسی مد میں ادا کیے گئے معاوضے یا جبر سے یہ حق ختم کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ ان وجوہات یا کسی بھی دوسری وجہ سے خاتون وارث کو میراث میں اس کے حق سے محروم کرکے جائیداد کی کوئی منتقلی کی جاتی ہے تو اسے کالعدم کیا جائے گا۔
سماجی کارکن اور قانون دان بلوچستان ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو تاریخی قرار دے رہے ہیں۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن اور خاتون وکیل جمیلہ کاکڑ نے انٹرنیشنل نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے کے لیے جو فیصلہ دیا ہے یہ تصفیے کے مسئلے پر ہے۔

جمیلہ کاکڑ کے بقول جب بھی سیٹلمنٹ کے ایشوز ہوتے ہیں تو 20 فی صد سے بھی زائد خواتین کو ان کا حق نہیں ملتا ۔ حالاں کہ اگر پاکستان کی آبادی کو دیکھا جائے تو خواتین اور مردوں کی آبادی تقریباً برابر ہے لیکن جائیداد میں تصفیے کے اکثر واقعات میں زیادہ حصہ مردوں کو ملتا ہے۔
ان کے مطابق عام طور پر وراثت میں لوگ انتقال وراثت کے دوران خواتین کا نام کاغذات سے نکال دیتے ہیں اور اکثر خواتین کو اس بات کا علم تک نہیں ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ناخواندہ ہے اس لیے جعل سازی کرکے ان خواتین سے دستخط یا انگوٹھے کا نشان لگوا لیے جاتے ہیں۔

فیصلے سے کیا خواتین کو فائدہ ہو گا؟

جمیلہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ وراثت میں خواتین کو حق فراہم کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر سو فی صد عمل درآمد ممکن ہے۔
ان کے بقول ہمارے پاس سرکاری سطح پر پورا نظام موجود ہے جس طرح فیصلے میں بھی کہا گیا ہے کہ تحصیل میں نادرا کا ایک خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے۔
وہ کہتی ہیں کہ اگر پورا سسٹم نادرا ریکارڈ کے ذریعے چلے تو سب کچھ نادرا ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک ہو جائے گا۔ اس کے بعد ایک کلک پر تمام خاندان کا ’فیملی ٹری‘ سامنے آئے گا تو کوئی کسی کا حق نہیں مار سکے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جائیداد میں لوگوں کو ان کا حق فراہم کرنے کے لیے سب سے ضروری ہے کہ تحصیل کے عملے کی اصلاح کی جائے۔ کیوں کہ جائیداد کے جتنے بھی مسائل ہیں وہ تحصیل کے عملے سے جڑے ہوئے ہیں۔
جمیلہ کاکڑ نے کا کہنا ہے کہ عموماً ہم دیکھتے ہیں کہ تحصیل میں بہت زیادہ بدعنوانی ہوتی ہے۔ جب جائیداد ٹرانسفر کی جاتی ہے تو عملہ پیسے لے کر ایک جائیداد کئی لوگوں کے نام پر منتقل کر دیتا ہے۔
ان کے مطابق بعض اوقات عملے کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ خاتون اپنے حق کے لیے دفتر کے چکر لگا رہی ہے اس کے باوجود چند پیسوں کی خاطر خواتین کو ان کی وراثت سے محروم کیا جاتا ہے۔
سماجی کارکن جمیلہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے کی روشنی میں تحصیل کے پورے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے تو نہ صرف خواتین کو ان کا حق دلانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ لینڈ مافیا سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

وراثت کی منتقلی میں خواتین کو درپیش مشکلات

جمیلہ کاکڑ نے بتایا کہ ان کے پاس خواتین کے ایسے بہت سے کیسز آئے ہیں جن میں خواتین کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک خاتون کا کیس انہیں یاد ہے۔ وہ زیادہ پڑھی لکھی خاتون نہیں تھیں۔ وہ شادی شدہ تھی اور ان کے شوہر بیرونِ ملک تھے اور ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ان خاتون کے بھائیوں نے والد کے مکان کا انتقال اپنے نام کرایا اور بعد میں اس جائیداد کو فروخت کر دیا۔ خاتون کو جب علم ہوا تو وہ ان کے پاس آئیں۔ مگر سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ خاتون کو خسرہ نمبر یا جائیداد نمبر معلوم نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اراضی کی ملکیت سے متعلق ریکارڈ کی تقسیم میں ایک زمرہ خسرہ نمبر کہلاتا ہے۔
جمیلہ کاکڑ کے نے بتایا کہ انہوں نے اپنے طور پر تحصیل آفس سے خسرہ نمبر معلوم کرایا مگر بعد میں پتا چلا کہ خاتون کے پاس اراضی کا فرد بھی نہیں تھا۔ ان تمام دستاویزات کی عدم موجودگی میں کیس دائر کرنا مشکل کام ہے۔
ان کے مطابق ایسے بہت سے کیسز ہیں کہ خراب نظام کی وجہ سے خواتین کو اپنا حق حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے کے بعد اگر تحصیل کے نظام کو نادرا کے ساتھ لنک کیا جائے گا تو اس سے کوئی کسی کا حق نہیں مار سکے گا۔

اسلامی قوانین میں خواتین کا حقِ وراثت

مذہبی اسکالر مولانا انوار الحق حقانی نے بتایا کہ خواتین کو قرآن اور حدیث میں جائیداد میں ان کا حق فراہم کرنے کا واضح حکم ہے۔
مولانا حقانی کے مطابق جب کسی کی وفات ہو تو اس کے ورثا کو جائیداد میں حقوق دینے کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ باپ کی وفات پر بیوی، بیٹوں اور بیٹیوں کو اپنا اپنا حق دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اپنی خوشی سے اپنا حصہ کسی کے لیے چھوڑنا چاہتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے اور اس بات کو پیشِ نظر رہنا چاہیے۔
مولانا حقانی کے مطابق خواتین کو اپنے حق کے حوالے سے علما سے معلومات لینی چاہیئں اور علما بھی اس حوالے سے لوگوں کو آگاہی فراہم کریں تاکہ بلوچستان جیسے معاشرے میں جہاں خواتین کی شرح تعلیم کم ہے ان کو اپنے حق کا علم ہو۔

آئینی درخواست دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

بلوچستان ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ساجد ترین ایڈووکٹ نے انٹرنیشنل نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ وہ ایک سیاسی کارکن بھی ہیں اور کافی عرصے سے یہ سوچ رہے تھے کہ قبائلی معاشرے میں ایسے فرسودہ روایات موجود ہیں جو خواتین کے حقوق میں رکاوٹ ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں وراثتی جائیداد کی تقسیم کی جو نئی سیٹلمنٹ یا تصفیے ہو رہے ہیں ان میں سے صرف دو فی صد میں خواتین کو فائدہ ہوا ہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں ایسی آئینی درخواست دائر کی جائے جو اسلامی قوانین کے مطابق وراثت میں خواتین کے حق کے لیے ہو۔
ساجد ترین نے بتایا کہ خواتین کو وراثت میں حق فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایسا جامع فیصلہ نہیں آیا جس میں سیٹلمنٹ افسران کی بے قاعدگیوں پر سزا بھی مقرر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے سے خواتین کو بہت فائدہ ہوگا کیوں کہ سول عدالتوں کے بجائے اب وہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے پاس ایک سادہ کاغذ پر لکھی درخواست دے کر اپنا حق حاصل کر سکتی ہیں۔
ان کے مطابق وراثت میں خواتین کو حصہ نہ ملنے کے ہزاروں کی تعداد میں کیسز سول عدالتوں میں کئی کئی سال سے چل رہے ہیں اور پاکستان میں ان کیسز کی تعداد لاکھوں میں ہے اس فیصلے سے بلوچستان ہی نہیں پورے ملک کی خواتین مستفید ہو سکتی ہیں۔
#کوئٹہ #بلوچستان #زیارت #کوئٹہ #مستونگ #چمن #گوادر

✅ *کوئٹہ* میں گھر، بنگلہ، پلاٹ، اسکیم اور پراپرٹی کی خبروں کے لئے ہمارا *یوٹیوب  چینل* ضرور *سبسکرائب* کریں شکریہ.✅ نیچے...
16/07/2021

✅ *کوئٹہ* میں گھر، بنگلہ، پلاٹ، اسکیم اور پراپرٹی کی خبروں کے لئے ہمارا *یوٹیوب چینل* ضرور *سبسکرائب* کریں شکریہ.

✅ نیچے دیئےگئے لنک پر ابھی کلک کریں
👇👇👇 ۔https://youtube.com/channel/UCWN7iRZdw_CfDsCxz9o8vJA?sub_confirmation=1

ہمارا مستونگ مختلف رنگوں میں ۔  بلوچستان کی خوبصورت منظر۔ ضرور شیئر کریں۔ شکریہ  #کوئٹہ   #بلوچستان   #زیارت           #...
13/06/2021

ہمارا مستونگ مختلف رنگوں میں ۔ بلوچستان کی خوبصورت منظر۔ ضرور شیئر کریں۔ شکریہ
#کوئٹہ #بلوچستان #زیارت #مستونگ

زیارت بلوچستان کی خوبصورت منظر۔ ضرور شیئر کریں۔ شکریہ  #کوئٹہ   #بلوچستان   #زیارت
06/06/2021

زیارت بلوچستان کی خوبصورت منظر۔ ضرور شیئر کریں۔ شکریہ
#کوئٹہ #بلوچستان #زیارت

سمنگلی روڈ کوئٹہ میں 1560 مربع فٹ بنگلہ برائے فروخت1560 sq ft Bungalow For Sale in Samungly Road Quetta.
29/05/2021

سمنگلی روڈ کوئٹہ میں 1560 مربع فٹ بنگلہ برائے فروخت
1560 sq ft Bungalow For Sale in Samungly Road Quetta.

Address

Quetta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All Quetta Property آل کوئٹہ پراپرٹی ۔ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to All Quetta Property آل کوئٹہ پراپرٹی ۔:

Share