Islamic World

Islamic World Only Muslim

12/08/2026
رسول اللہ ﷺ کے پیارے نواسے حضرت حسن بن علیؓ بچپن میں ایک مرتبہ زکوٰۃ کے لیے جمع کیے گئے کھجوروں کے ڈھیر کے قریب گئے۔ کم ...
12/08/2026

رسول اللہ ﷺ کے پیارے نواسے حضرت حسن بن علیؓ بچپن میں ایک مرتبہ زکوٰۃ کے لیے جمع کیے گئے کھجوروں کے ڈھیر کے قریب گئے۔ کم عمری کی وجہ سے وہ اس شرعی حکم سے واقف نہ تھے، چنانچہ انہوں نے ایک کھجور اٹھائی اور منہ میں ڈال لی۔

جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا تو فوراً متوجہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے ان کے منہ سے وہ کھجور نکال دی اور انہیں اسے کھانے سے روک دیا۔ پھر محبت کے ساتھ لیکن واضح انداز میں فرمایا:

"کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟ یہ آلِ محمد ﷺ کے لیے جائز نہیں۔"

یہ واقعہ اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ بچوں کو کم عمری ہی سے حلال و حرام اور درست و نادرست کی تعلیم محبت، شفقت اور مناسب انداز میں دینی چاہیے۔

یہ واقعہ صحیح بخاری، حدیث 1491 اور صحیح مسلم، حدیث 1069 میں مذکور ہے۔

غزوۂ تبوک کی انتہائی دشوار مہم کے دوران ایک مخلص صحابی حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ کا انتقال ہو گیا۔ وہ وہ صحابی تھے جنہوں ...
11/08/2026

غزوۂ تبوک کی انتہائی دشوار مہم کے دوران ایک مخلص صحابی حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ کا انتقال ہو گیا۔ وہ وہ صحابی تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کی خاطر اپنا مال، گھر اور دنیاوی آسائشیں تک چھوڑ دی تھیں۔

رات کے آخری پہر، جب پورا لشکر اندھیرے میں سو رہا تھا، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی آنکھ کھلی۔ انہوں نے لشکر کے کنارے پر مشعل کی ہلکی سی روشنی دیکھی۔ تجسس کے باعث وہ اس روشنی کی طرف بڑھے تو ایک ایسا منظر دیکھا جو ان کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔

رسول اللہ ﷺ خود حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ کی قبر میں اترے ہوئے تھے، جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ ان کے جسدِ مبارک کو احتیاط سے قبر میں اتار رہے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس صحابی کو نہایت محبت، شفقت اور احترام کے ساتھ اپنے مبارک ہاتھوں میں لیا اور قبر میں ان کی جگہ درست فرمائی۔ جب تدفین مکمل ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی:

"اے اللہ! میں آج کی شام اس شخص سے پوری طرح راضی ہوں، پس تو بھی اس سے راضی ہو جا۔"

یہ منظر دیکھ کر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ وہ شدتِ جذبات سے رونے لگے اور بے اختیار فرمایا:

"کاش! اس قبر کا مکین میں ہوتا!"

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام میں حقیقی عزت و مرتبہ مال، دولت اور دنیاوی مقام سے نہیں بلکہ ایمان، اخلاص اور اللہ کی راہ میں قربانی سے حاصل ہوتا ہے۔

حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ نے دنیا کی آسائشیں چھوڑ دیں، مگر انہیں رسول اللہ ﷺ کی خصوصی محبت اور رضا کی دعا نصیب ہوئی۔ یہ ان کے اخلاص اور ایمان کی عظیم قدر و منزلت کی علامت ہے۔

غزوۂ تبوک کی انتہائی دشوار مہم کے دوران ایک مخلص صحابی حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ کا انتقال ہو گیا۔ وہ وہ صحابی تھے جنہوں ...
11/08/2026

غزوۂ تبوک کی انتہائی دشوار مہم کے دوران ایک مخلص صحابی حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ کا انتقال ہو گیا۔ وہ وہ صحابی تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کی خاطر اپنا مال، گھر اور دنیاوی آسائشیں تک چھوڑ دی تھیں۔
رات کے آخری پہر، جب پورا لشکر اندھیرے میں سو رہا تھا، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی آنکھ کھلی۔ انہوں نے لشکر کے کنارے پر مشعل کی ہلکی سی روشنی دیکھی۔ تجسس کے باعث وہ اس روشنی کی طرف بڑھے تو ایک ایسا منظر دیکھا جو ان کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔
رسول اللہ ﷺ خود حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ کی قبر میں اترے ہوئے تھے، جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ ان کے جسدِ مبارک کو احتیاط سے قبر میں اتار رہے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس صحابی کو نہایت محبت، شفقت اور احترام کے ساتھ اپنے مبارک ہاتھوں میں لیا اور قبر میں ان کی جگہ درست فرمائی۔ جب تدفین مکمل ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی:
"اے اللہ! میں آج کی شام اس شخص سے پوری طرح راضی ہوں، پس تو بھی اس سے راضی ہو جا۔"
یہ منظر دیکھ کر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ وہ شدتِ جذبات سے رونے لگے اور بے اختیار فرمایا:
"کاش! اس قبر کا مکین میں ہوتا!"
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام میں حقیقی عزت و مرتبہ مال، دولت اور دنیاوی مقام سے نہیں بلکہ ایمان، اخلاص اور اللہ کی راہ میں قربانی سے حاصل ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ نے دنیا کی آسائشیں چھوڑ دیں، مگر انہیں رسول اللہ ﷺ کی خصوصی محبت اور رضا کی دعا نصیب ہوئی۔ یہ ان کے اخلاص اور ایمان کی عظیم قدر و منزلت کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اخلاص، ایمان اور دین کے لیے قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🔥 وہ پل جس سے ہر جان کو گزرنا ہوگانبی کریم ﷺ نے صراط کے بارے میں بیان فرمایا کہ یہ جہنم کے اوپر قائم کیا جائے گا، اور لو...
11/08/2026

🔥 وہ پل جس سے ہر جان کو گزرنا ہوگا

نبی کریم ﷺ نے صراط کے بارے میں بیان فرمایا کہ یہ جہنم کے اوپر قائم کیا جائے گا، اور لوگ اپنے اعمال کے مطابق اس سے گزریں گے—کچھ لوگ انتہائی تیزی سے گزر جائیں گے، جبکہ کچھ کو گزرنے میں دشواری پیش آئے گی۔

“جہنم کے اوپر ایک پل قائم کیا جائے گا…”

📚 صحیح مسلم: 183، صحیح البخاری: 7439

یہ دنیا عارضی ہے، لیکن ہمارا ہر عمل ہمیں کسی نہ کسی انجام کی طرف لے جا رہا ہے۔ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ ہم دنیا میں کتنی آسائش سے زندگی گزارتے ہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صراط سے سلامتی کے ساتھ گزار دے اور جنت میں داخل فرمائے۔

🤲 اے اللہ! صراط پر ہمارا گزر آسان فرما، ہمارے گناہوں کو معاف فرما، اور ہمیں بغیر عذاب کے جنت الفردوس عطا فرما۔ آمین۔

📌 اس نصیحت کو محفوظ کریں۔🔁 کسی ایسے شخص کے ساتھ ضرور شیئر کریں جسے اس یاد دہانی کی ضرورت ہو۔🤍 مزید مستند قرآن و سنت کی یاد دہانیوں کے لیے فالو کریں۔

#صراط #آخرت #جنت #حدیث

جب نبی کریم محمد ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ابتدائی اور سب سے اہم اجتماعی کاموں میں سے ایک مسجدِ نبوی ﷺ کی ت...
10/08/2026

جب نبی کریم محمد ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ابتدائی اور سب سے اہم اجتماعی کاموں میں سے ایک مسجدِ نبوی ﷺ کی تعمیر تھا۔ رسول اللہ ﷺ خود بھی اپنے جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل کر کچی اینٹیں اور پتھر اٹھا کر تعمیر کے کام میں حصہ لیتے تھے۔
اس دوران صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عموماً ایک ایک اینٹ اٹھا کر لے جا رہے تھے، لیکن حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے۔ وہ اللہ کی راہ میں محبت اور جوش کے ساتھ زیادہ محنت کر رہے تھے۔
جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو گرد و غبار سے اٹا ہوا اور مسلسل محنت کرتے دیکھا تو آپ ﷺ نے شفقت سے ان کے سر اور چہرے سے مٹی صاف فرمائی اور ایک عظیم پیش گوئی ارشاد فرمائی:
"ہائے عمار! اسے ایک سرکش گروہ قتل کرے گا۔ وہ انہیں جنت کی طرف بلائے گا، جبکہ وہ اسے جہنم کی طرف بلائیں گے۔"
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شاید پوری طرح نہیں سمجھ سکتے تھے کہ یہ پیش گوئی کب اور کس طرح پوری ہوگی۔ لیکن تقریباً تین دہائیوں بعد یہ پیش گوئی نہایت واضح طور پر پوری ہوئی۔
37 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جنگِ صفین کے دوران حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھے۔ اسی جنگ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے۔
یوں رسول اللہ ﷺ کی وہ عظیم پیش گوئی پوری ہوئی جو آپ ﷺ نے مسجدِ نبوی ﷺ کی تعمیر کے دوران حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمائی تھی۔
یہ واقعہ صحیح بخاری (احادیث 447 اور 2812) اور صحیح مسلم (احادیث 2915 اور 2916) میں بھی منقول ہے۔

غزوۂ اُحد کے دوران صحابۂ کرامؓ نے ایک نہایت غیر معمولی اور ایمان افروز منظر دیکھا۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے د...
10/08/2026

غزوۂ اُحد کے دوران صحابۂ کرامؓ نے ایک نہایت غیر معمولی اور ایمان افروز منظر دیکھا۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دائیں اور بائیں دو نورانی اور طاقتور جنگجو سفید لباس میں نظر آئے، جو نہایت بہادری اور عزم کے ساتھ مسلمانوں کی مدد کرتے ہوئے لڑ رہے تھے۔ ابتدائی مسلم روایات میں ان شخصیات کو فرشتے، حضرت جبرائیلؑ اور حضرت میکائیلؑ، قرار دیا گیا ہے جو ایک نازک مرحلے میں رسول اللہ ﷺ اور اہلِ ایمان کی مدد کے لیے آئے تھے۔

روایات کے مطابق ان فرشتوں کی موجودگی نے مسلمانوں کے حوصلے کو تقویت دی۔ ان کی قوت، نظم و ضبط اور بہادری میدانِ جنگ کے ہنگامے میں نمایاں تھی۔ ان کا ظہور صرف ایک غیر معمولی واقعے کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ اور ابتدائی مسلم جماعت کے لیے مدد اور نصرت کی علامت کے طور پر یاد کیا گیا۔

حضرت سعد بن معاذؓ سمیت بعض روایات میں ایسے جنگجوؤں کے بارے میں حیرت کا اظہار ملتا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی ایسے بہادر جنگجو نہیں دیکھے تھے اور نہ بعد میں ان جیسا کوئی دیکھا۔ یہ روایات سیرت اور تاریخی کتابوں میں غزوۂ اُحد کے واقعات اور اس کے اسباق بیان کرتے ہوئے نقل کی گئی ہیں۔

غزوۂ اُحد کا یہ واقعہ ہمیں جنگ کے روحانی پہلو کے ساتھ ساتھ انسانی کمزوری، اطاعت کی اہمیت اور ضرورت سے زیادہ اعتماد کے نقصانات کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ اہلِ ایمان نے ان واقعات میں یہ تسلی محسوس کی کہ مشکلات اور وقتی setbacks کے باوجود اللہ تعالیٰ کی مدد اپنے رسول ﷺ اور اہلِ ایمان کے ساتھ تھی۔

غزوۂ اُحد میں فرشتوں کی مدد کا یہ واقعہ اسلامی روایات میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اسے ایمان کے لیے تسلی، اللہ تعالیٰ کی نصرت کی یاد دہانی اور آزمائش کے وقت ثابت قدم رہنے کی ترغیب کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی مدد مختلف انداز میں ظاہر ہوسکتی ہے، مگر مومن کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ وہ اطاعت، عاجزی اور ثابت قدمی کو ہمیشہ اختیار کرے۔

Address

Quetta
87300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share