17/07/2026
فائلر اور نان فائلر کی تفریق: غریب کے لیے گھر یا کڑی سزا؟
پاکستان میں مکان کی چھت ہر انسان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب اور بنیادی ضرورت ہے۔ ایک غریب دیہاتی مزدور، چھوٹا سرکاری ملازم، کسان یا بیوہ اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی کا ایک ایک روپیہ جوڑ کر عمر کے آخری حصے میں صرف ایک بار 5 یا 10 مرلے کا پلاٹ خریدنے کے قابل ہوتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہ کچہری یا رجسٹری آفس پہنچتے ہیں، انہیں "نان فائلر" کا لیبل لگا کر بھاری اور ڈبل ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے شہری پر، جسے فائلر کے لفظ کا مطلب تک نہیں معلوم، یہ ڈبل ٹیکس لگانا صریحاً زیادتی نہیں ہے؟
۱۔ زمینی حقائق اور معاشی ناانصافی
ایک عام مزدور جو روزانہ دیہاڑی کما کر بمشکل گھر کا چولہا جلاتا ہے، یا ایک بیوہ جو پینشن اور سلائی کڑھائی سے پیسے جوڑتی ہے، ان کا کوئی باقاعدہ کاروباری منافع نہیں ہوتا۔ وہ پہلے ہی آٹے، گھی، چینی، بجلی کے بل اور ادویات پر بھاری "ان ڈائریکٹ ٹیکس" (Indirect Tax) دے رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنی زندگی کی واحد جائیداد خریدتے ہیں، تو ان سے فائلرز کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ٹیکس وصول کرنا معاشی ناانصافی اور ظلم کی انتہا ہے۔
۲۔ قانونِ ٹیکس اور دیہاتی طبقے کی مجبوری
ہماری حکومتیں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے فائلر اور نان فائلر کی اصطلاح استعمال کرتی ہیں، جو کہ بڑے تاجروں اور سرمایہ داروں کے لیے تو شاید درست ہو، لیکن:
شعور کی کمی: دیہات میں رہنے والے کسان یا ان پڑھ مزدور کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ "فائلر" کیسے بنتے ہیں، این ٹی این (NTN) کیا ہوتا ہے اور گوشوارے کیسے جمع کیے جاتے ہیں۔
وکلاء اور کنسلٹنٹ کے اخراجات: اگر وہ فائلر بننا بھی چاہے، تو کسی ٹیکس کنسلٹنٹ یا وکیل کی فیسیں اور ہر سال گوشوارے جمع کرانے کا خرچہ اس غریب کے بجٹ سے باہر ہوتا ہے۔
یکدم بڑا بوجھ: ایک نان فائلر جب پلاٹ لیتا ہے تو رجسٹری کے وقت اس سے لاکھوں روپے اضافی ٹیکس مانگ لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کئی بار وہ سودا منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے یا سود خوروں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔
۳۔ تجویز کردہ حل اور دانشوروں کی رائے
قانون دانوں، ٹیکس ایڈوائزرز اور دانشور حضرات کے مطابق موجودہ نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے:
پہلی جائیداد پر چھوٹ: حکومت کو چاہیے کہ 5 سے 10 مرلہ تک کے چھوٹے رہائشی پلاٹ پر، جو زندگی میں پہلی بار خریدا جا رہا ہو، فائلر اور نان فائلر کی تفریق بالکل ختم کر دی جائے۔
ٹیکس چھوٹ کا سرٹیفکیٹ: بیواؤں، یتیموں اور چھوٹے سرکاری ملازمین (گریڈ 1 سے 16) کے لیے رجسٹری فیس اور دیگر ٹیکسز میں خصوصی رعایت ہونی چاہیے، چاہے وہ فائلر نہ بھی ہوں۔
آسان رجسٹریشن: اگر حکومت انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ہی چاہتی ہے، تو کچہریوں اور پٹوار خانوں میں ہی "موقتی اسیسمنٹ" (On-the-spot Assessment) کا ایسا آسان نظام ہو کہ غریب کو وکیلوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔
گلگت بلتستان پراپرٹی ایڈوائزر